New Age Islam
Sun May 09 2021, 07:12 AM

Urdu Section ( 2 Apr 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Enlightening Commentary on the War Related Quranic Verses- Part 3 (جنگ سے متعلق القرآنی آیات کی چشم کشا تفسیر-حصہ( 3

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

14 مارچ 2018

اس دنیا میں اگر ہم کسی چیز کو دہشت گردی کا سب سے بڑا مصدر و ماخذ قرار دے سکتے ہیں تو وہ قرآن و سنت میں جنگی امور  سے متعلقہ آیات و واقعات کا غلط استعمال ہےکیونکہ یہ صرف بےقصور شہریوں کے قتل کا باعث نہیں بنتا بلکہ نوجوانوں کو دہشت گرد بننے اور اسلام کی توہین و تذلیل کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔ لہذا، علمائے اسلام کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان آیات کی تعبیر و تشریح جدید تناظر میں کریں اور اس امر کی وضاحت بھی کریں کہ یہ دہشت گرد کس طرح اسلام، مسلمانوں، غیر مسلموں، ان کے ملکوں اور ان کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ میں خود کو ' عالم ' نہیں سمجھتا ، لیکن اسلام کے ایک طالب علم اور ادنی خادہونے کی حیثیت سے  اصول تفسیر کی بنیاد پر جنگی امور سے متعلقہ قرآنی آیات کی چشم کشا تفسیر پیش کرنے کی سعادت حاصل  کر رہا ہوں۔ سابقہ دو حصوں میں ہم نے دو آیات 2:190 اور 22:39 پر غور کیا تھا۔ اس حصے میں ہم سورہ النساء کی آیت 4:89 پر گفتگو کریں گے جسے نوجوانوں کی منفی ذہن سازی کرنے اور دہشت گردانہ جرائم کا ارتکاب کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے انتہا پسند جماعتیں اکثر غلط طریقے سے پیش کرتی ہیں۔

اللہ تعالی کا فرمان ہے،

4:89: "وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار۔

اس آیت کی بہتر تفہیم حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلے ان لوگوں کی شناخت ضروری ہے جن کا حوالہ اس آیت میں ہے۔ قرآن نے ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم کیوں دیا؟ اور یکساں طور پر یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ قرآن کریم کس طرح غیر منصفانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے حالانکہ یہ مومنوں کو کافروں کی جانب سے امن کی تجویز کو قبول کرنے [8:61]، صرف ظالموں کے خلاف جنگ کرنے [42:42] انصاف اور رحمت و محبت کا رویہ اختیار کرنے [16:90] ، اور انتقام کے بجائے بخشش و درگزر کو ترجیح دینے کا حکم دیتا ہے [42:40/128-16:126] اور کسی ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے [5:32]؟ آگے بڑھنے سے قبل اس طرح کے سوالات کو ذہن رکھنے کی ضرورت ہے۔

آیت 4:89 کے سیاق و سباق کو مکمل طور پر سمجھنے کے لئے اب ہم اس آیت کا مطالعہ اس سے ماقبل اور مابعد والی آیت کے ساتھ ملا کر کرتے ہیں ، تبھی جاکرہمیں مذکورہ بالا تمام سوالات کے جوابات مل سکتے ہیں۔ اللہ کا فرمان ہے،

4:88: ‘‘تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا’’۔

4:89: ‘‘وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار’’۔

4:90: ‘‘مگر جو ایسی قوم سے علاقے رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی’’۔

آیت 4:89 کی شان نزول

اس آیت کا شان نزول پڑھنے کے بعد اسے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ تفسیر کی ایک مشہور و معروف اور بڑے پیمانے پر مروج کتاب ‘‘روح البیان’’ کے مطابق یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل کی گئی ہے جن کے لئے مدینہ کے اندر حالات ساز گار نہیں تھے لیکن وہ جنگ بدر میں حصہ لینے کے لئے حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکل پڑے ۔ لیکن راستے میں انہوں نے مسلمانوں کو دغا دیکر مشرکین کی صفوں میں شامل ہونے کے لئے مکہ کا رخ کر لیا۔ اس گروہ کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا کہ آیا وہ منافق ہیں یا بالکل کافر و مرتد ہو چکے ہیں ، اور کیا انہیں مناسب موقع پر [جنگ کے دوران] ان کی غداری کے لئے قتل کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اس سوال کے جواب میں مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی۔ لہذا اس آیت کے احکام کے سلسلے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ (تفسیر روح البیان)

تفسیر کی ایک کتاب "روح المعانی"، کی ایک روایت کے مطابق یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل کی گئی ہے جو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ گئے اور اس کے بعد مرتد ہو گئے۔ انہوں نے مکہ واپس ہونے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تاکہ وہ اپنے اسباب تجارت جمع کر کے اپنے کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔ مسلمانوں کے درمیان ان لوگوں کے بارے میں اختلاف رائے ہو گیا۔ بعض نے انہیں منافق کہا جبکہ دوسروں نے انہیں مسلمان ہی سمجھا۔ ان کے درمیان اس تنازع کو حل کرنے کے لئے اللہ نے مذکورہ بالا آیتوں کو نازل کیا جن میں ان کی منافقت کا اعلان کیا گیا اور ان سے قتال کا حکم دیا گیا۔

حضرت ضحاک کے مطابق اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جو مکہ میں رہ گے تھے۔ ایمان کا دعوی کرنے کے باوجود انہوں نے ہجرت نہیں کی۔ اس کے نتیجے میں ان کے حوالے سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف رائے ہو گیا۔ بعضوں نے انہیں منافق سمجھا اور ان کے ساتھ تمام تعلقات کو منقطع کر لیا۔ جب کہ کچھ لوگوں نے اب بھی ان کے ساتھ اپنے مراسم و تعلقات کو برقرار رکھا۔ یہ آیت ان تنازعات کے تصفیہ کے لئے نازل کی گئی جس میں مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی کہ وہ ان کے ساتھ اپنے تمام مراسم و تعلقات کو منقطع کر لیں حتیٰ کہ وہ ہجرت کر کے مدینہ چلے آئیں۔

ان دو روایتوں کو نقل کرنے کے بعد 'روح المعانی' کے مصنف حسب ذیل روایت نقل کرتے ہیں جسے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور احمد نے نقل کیا ہے۔ مروی ہے کہ جب مسلمان احد کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے تو اس وقت منافقوں کا ایک گروپ واپس مڑ کر چلا گیا۔ مسلمانوں کے درمیان ان کے حوالے سے نزاع ہو گیا۔ کچھ چاہتے تھے کہ انہیں قتل کیا جائے جبکہ کچھ لوگ ان کے قتل کے حق میں نہیں تھے۔ اس موقع پر مندرجہ بالا آیت نازل کی گئی جس میں اللہ تعالی نے فرمایا، ‘‘تو تمہیں کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہوگئے اور اللہ نے انہیں اوندھا کردیا ان کے کوتکوں (کرتوتوں) کے سبب کیا یہ چاہتے ہیں کہ اسے راہ دکھاؤ جسے اللہ نے گمراہ کیا اور جسے اللہ گمراہ کرے تو ہرگز اس کے لئے راہ نہ پائے گا۔’’ (4:88)

اس کے بعد اللہ نے منافقوں کے برے منصوبوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے فرمایا ، ‘‘وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار’’۔(4:89)

......... ‘‘جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو......."جب ان تینوں آیتوں کو ایک ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو یہ بات یہ واضح ہوجاتی ہے کہ مذکورہ آیات میں ان تینوں قسموں کے منافق مراد ہیں جن کا ذکر مذکورہ بالا روایتوں میں گزر چکا۔ تاہم قتل کا حکم ان سب پر نافذ نہیں کیا گیا کیونکہ مدینہ کے منافقین قتل نہیں کئے گئے تھے۔

قتل اور قطع تعلق کا حکم تمام منافقوں پر نافذ ہوتا ہے "سوائے ان کے جو کسی ایسے گروہ میں شامل ہو جائیں کہ ان کے اور تمہارے درمیان امن کا معاہدہ ہے۔" [انوار البیان]

قتل کے حکم سے خارج ہونے والے افراد میں وہ بھی شامل ہیں کہ "جو تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی"۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس صورت میں مسلمانوں کو ان سے لڑنے کی اجازت نہیں ہے’’۔

مندرجہ بالا تین آیتوں میں دور اوائل کے عرب مسلمانوں کو عرب منافقوں کے بارے میں دو گروہوں میں منقسم نہ ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ اپنی غلط کاریوں کی وجہ سے یہ منافقین ہدایت کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے منافقانہ طور پر اسلام کے پیروکار ہونے اور مسلمانوں کے دوست ہونے کا دعوی کیا لیکن اندرونی طور پر وہ ان سے نفرت کرتے تھے اور ان کی خواہش تھی کہ مسلمان اپنے ایمان سے پھر جائیں۔ ان میں سے بعض منافقیں مسلمانوں کے خلاف جنگ اور پروپیگنڈے میں عرب کے ظالموں کی مدد کرتے تھے۔ لہذا، ان کے حالت جنگ میں پائے جانے پر اس طرح کے خطرناک منافقوں سے لڑنے اور انہیں قتل کرنے کا حکم اللہ نے مسلمانوں کو دیا۔ جنگ کی اجازت ان منافقوں کے خلاف دی گئی تھی جو مکہ کے ظالموں کی حمایت کر کے خود ظالم بن چکے تھے نہ کہ ان منافقوں کے خلاف تھی جو اس جماعت کے ساتھ جا ملے جن کے ساتھ مسلمانوں کا امن معاہدہ تھا اور جو جنگ سے باز رہے۔

آج کے تناظر میں جب کہ مسلمان اور غیر مسلم اور منافقین سب امن کے ساتھ رہتے ہیں ، اس آیات (90-4:88) کا عمل  نہیں کیا جا سکتا۔ کون لوگ منافق ہیں اس کا فیصلہ کرنا کسی  دہشت گرد تنظیم کا کام نہیں ہے۔ حتی کہ اگر ہم آج بعض علمائے کرام کو کسی کو 'منافق' قرار دیتے ہوئے سنیں تو بھی کس طرح اس کے قتل کو جائز قرار دے سکتے ہیں، جبکہ وہ امن یا امن معاہدے کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے؟ انتہا پسند گروہوں کی پہلی غلطی یہ ہے کہ وہ آج کے پر امن ماحول کے اندر جنگ سے متعلق آیت 4:89 کا اطلاق ان لوگوں کو قتل کرنے کے لئے کرتے ہیں جو ان کی نظر میں غیر مسلم یا ‘‘منافق مسلمان’’ ہیں، جبکہ ان کی دوسری غلطی عمداً اس کی اگلی آیت 4:90 کو نظر انداز کرنا ہے جس میں اللہ کا فرمان ہے، "مگر جو ایسی قوم سے علاقے رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں....." انہیں قتل نہیں کیا جانا چاہئے۔ اسی آیت کے آخری حصہ میں دوبارہ تاکید کے ساتھ اللہ کا فرمان ہے ، "پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی[4:90 ]"۔المختصر ، جنگ سے متعلق آیت 4:89 کا دہشت گرد نظریہ سازوں کی جانب سے غلط استعمال کیا جانا واضح طور پر ایک جرم عظیم ہے، جس کا حساب قیامت کے دن انہیں دینا ہوگا۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/the-enlightening-commentary-on-the-war-related-quranic-verses--part-3-on-4-89/d/114590

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/the-enlightening-commentary-on-the-war-related-quranic-verses--part-3--(جنگ-سے-متعلق-القرآنی-آیات-کی-چشم-کشا-تفسیر-حصہ(-3/d/114797

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..