New Age Islam
Mon Nov 29 2021, 03:36 AM

Urdu Section ( 2 Aug 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Remembrance of Rabbul-Alamin, Rahmatul-lil-Alamin and Errors of Deobandi Ulema رب العالمین اور رحمۃ للعالمین کا تذکرہ اور علمائے دیوبند کی خطائیں

  غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام 

قرآن پاک کی پہلی آیت ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ ہے یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے جو سارے جہان کا رب ہے۔ دوسری جگہ سورہ انبیا کی آیت ۱۰۷ میں اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ یعنی ’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے‘‘۔ اس کائنات کی کوئی چیز ’’العالمین‘‘ سے باہر نہیں، تو اللہ عز و جل جن چیزوں کا رب ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے رحمت فرمانے والے ہیں۔

ان دونوں آیتوں میں لفظ’عالمین‘ کا ذکر ہے جو عالم کی جمع ہے ، جس کا معنیٰ ہے’’جہان،کائنات‘‘ تو ’’عالمین‘‘ کے معنی ہوئے ’’سارے جہان ‘‘ یا ’’تمام عالم یا تمام کائنات‘‘۔ اﷲ عز و جل نے بے شمار جہانوں کو پید افرمایاہے اوراﷲ تعالیٰ کے سوا ہر چیز’ عالم‘ میں شمار ہوتی ہے مثلاً عالَمِ ارواح،عالَمِ دنیا،عالَمِ برزخ،عالَمِ نباتات،عالَمِ جمادات،عالَمِ جبروت،عالَمِ لاہوت،عالَمِ رویا وغیرہ وغیرہ۔

اﷲ رب العزت نے قرآن مجید میں اپنی صفت ’’ربّ العالمین‘‘ بیان فرمائی اور اپنے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت ’’رحمۃ للعالمین‘‘ بیان فرمائی۔ یعنی جس طرح اﷲ تعالی کی’’ ربوبیت‘‘ تمام جہانوں کے لیے عام ہے، اسی طرح اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت بھی تمام جہانوں کے لیے عام ہے ۔

ان دونوں آیتوں میں ’’عالمین ‘‘ کا اطلاق عام ہے ، اس لئے اس لفظ کا ترجمہ کرتے وقت اسے کسی ایک عالم یا ایک جہان کے لئے مقید کرنا درست نہیں ۔یہ کہنا کہ اللہ تعالی صرف مسلمانوں کا رب ہے یا صرف عالم انسان کا رب ہے بالکل بھی درست نہیں بلکہ یہ تو اللہ تعالی کی آیت کے معنی و مفہوم کا انکار ہے۔اسی طرح یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسلمانوں کے لئے رحمت ہیں یا صرف عالم انسان کے لئے رحمت ہیں، ہرگز ہرگز درست نہیں ہے ۔

یہ بات بالکل مسلم ہے کہ قرآن کریم کی ہر آیت قطعی الثبوت ہوتی ہے ، کیونکہ قرآن کریم سے ثابت ہونے کے بعد کسی مسئلہ میں کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا۔رہی بات قطعی الدلالۃ کی تو کبھی بعض آیتیں اپنے معنی کی دلالت پر قطعی ہوتی ہیں اور کبھی ظنی ہوتی ہیں ، جن کی مثالیں کتب فقہ میں کثرت سے ملتی ہیں ۔مذکورہ بالا دونوں آیتیں جن کے ایک میں رب العالمین اور دوسرے میں رحمۃ للعالمین کا تذکرہ ہے ، وہ قرآن کریم کی آیتیں ہونے کے سبب قطعی الثبوت ہیں لیکن اگر ان کے معنی کی دلالت پر غور کریں تو قطعی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ وہ قطعی الدلالۃ بھی ہیں ، یعنی اللہ تعالی تمام جہانوں کا رب ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں ۔

ان دونوں آیتوں کے الفاظ ’’ رب العالمین‘‘ اور’’ رحمۃ للعالمین‘‘ میں لفظ ’’عالمین‘‘ کی دلالت سارے جہانوں پر مطلق ہے ، اس لیے  بلا نص اس کی تقیید کرنا جائز نہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ عز وجل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تشریحی حاکمیت کا اختیار دیا ہے ۔یعنی قرآن کریم کے مجمل احکام کی تفصیل ، مطلق کی تقیید ، عام کی تخصیص اور مشکل کی توضیح وغیرہ کا اختیار عطا کیا ہے جیساکہ قرآن کریم میں ہے :

’’وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم ولعلھم یتفکرون‘‘ ترجمہ: (اے نبی مکرم ) ہم نے آپ کی طرف ذکر عظیم (قرآن ) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لئے (اس کے پیغام و احکام کو) خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں۔(سورہ النحل ، ۴۴:۱۶)

قرآن کریم کی اس آیت کریمہ پر غور کرنے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلق کی تقیید کرنے کا اختیار عطا کیا گیا ہے ۔جب اس قاعدہ کو ذہن میں رکھ کر کتب حدیث کا مطالعہ کریں گے تو کہیں بھی  کوئی ایسی حدیث نہیں ملے گی جس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت کسی خاص عالم یا کسی خاص گروہ یا صرف حیوان ناطق (انسان) پر مقید ہو جائے۔

مذکورہ بالا تمام باتوں کو ذہن میں رکھ لینے کے بعد آئیے ہم علمائے دیوبند کے چند مشہور پیشوا کے ذریعہ کئے گئے ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ‘‘ کے ترجموں کا جائزہ لیں۔

 شیخ محمود الحسن دیوبندی متوفی ۱۳۳۹ ھ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں : ’’اور تجھ کو جو ہم نے بھیجا، سو مہربانی کرکر جہان کے لوگوں پر۔‘‘

اس ترجمہ میں شیخ محمود الحسن دیوبندی نے بلانص ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کے مطلق معنی ’’سارے جہان کے لئے رحمت ‘‘ کی تقیید محض ’’جہان کے لوگوں ‘‘ کے ساتھ کر دی ہے ، جو کہ قرآن کریم کے مراد و مفہوم کی خلاف ورزی ہے۔

قرآن کریم کی مطلق آیت کی بلا نص تقیید کرنا ایک ایسی خطا ہے جس کا ارتکاب نہ صرف شیخ محمود الحسن نے کیا ہے بلکہ شیخ احمد لاہوری اور شیخ اشرف علی تھانوی صاحبان نے بھی کیا ہے۔

 شیخ احمد لاہوری ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ‘‘ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں ’’او رہم نے توتمہیں تمام جہان کے لوگوں کے حق میں رحمت بنا کر بھیجا ہے (ترجمہ قرآن کریم، شخن احمد علی لاہوری ،زیر آیت ۲۱:۱۰۷)

دیوبندی مکتبہ فکر کے مشہور عالم شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ۱۳۶۴ ھ اس آیت کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :

اور ہم نے آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا مگر دنیا جہان کے لوگوں پر مہربانی کرنے کے لیے، پھر اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں یعنی مکلفین پر مہربانی کرنے کے لیے۔ (بیان القرآن ج ۲ ص ۶۵۱ ، مطبوعہ تاج کمپنی لاہور)

شیخ تھانوی صاحب نے اپنے ترجمہ و تفسیر میں دو بڑی اعتقادی غلطیاں کی ہے ۔ایک تو یہ کہ انہوں نے بھی  بلانص ’’رحمۃ للعالمین‘‘ کے مطلق معنی ’’سارے جہان کے لئے رحمت ‘‘ کی تقیید محض’’جہان کے لوگوں ‘‘ کے ساتھ کر دی ہے، اور دوسری اور بڑی یہ کہ انہوں نےسارے جہان سے مراد جہان کے صرف’’مکلفین ‘‘ کے ساتھ مخصوص کیا ہے ۔

اور بھی کئی صاحبان ہیں جنہوں نے ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کے ترجمہ میں اعتقادی غلطی کی ہے مگر ہم نے صرف ان تین مشاہیر پر ہی اکتفا کیا ہے۔

مذکورہ بالا تمام باتوں سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ ’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین ‘‘ کے لفظ ’’عالمین‘‘ کے مطلق معنی و مفہوم کی تقیید و تخصیص جائز نہیں۔

’’وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کا بہترین ترجمہ و تفسیر وہی ہو سکتا ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے جہان یا تمام جہانوں کے لیے رحمت مانا گیا ہو، جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ۱۳۴۰ اس کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

’’اور ہم نے تمہیں نہ بھجا مگر رحمت سارے جہان کے لیے‘‘۔ (کنز الایمان ترجمہ قرآن کریم)

صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مرادآبادی متوفی ۱۳۶۷ ھ’’ رحمۃ للعالمین‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں: کوئی ہو جن ہو یا انس مومن ہو یا کافر۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضور کا رحمت ہونا عام ہے ایمان والے کے لئے بھی اور اس کے لئے بھی جو ایمان نہ لایا۔ مومن کے لئے تو آپ دنیا و آخرت دونوں میں رحمت ہیں اور جو ایمان نہ لایا اس کے لئے آپ دنیا میں رحمت ہیں کہ آپ کی بدولت تاخیر عذاب ہوئی اور خسف، مسخ اور استیصال کے عذاب اٹھا دئے گئے۔ تفسیر روح البیان میں اس آیت کی تفسیر میں اکابر کا یہ قول نقل کیا ہے کہ آیت کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر رحمت مطلقہ تامہ کاملہ عامہ شاملہ جامعہ محیطہ پر جمیع مقیدات رحمت غیبیہ و شہادت علمیہ و عینیہ و وجودیہ و شہودیہ و سابقہ و لاحقہ و غیر ذالک تمام جہانوں کے لئے عالم ارواح ہوں یا عالم اجسام ذوی العقول ہوں یا غیر ذوی العقول اور جو تمام عالموں کے لئے رحمت ہو لازم ہے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہو۔ (دیکھئے حاشیہ بر کنزالایمان للامام احمد رضا ، ص ۵۳۱)

کنز الایمان کے ترجمہ اور اس پر لکھے گئے صدر الافاضل کی تفسیرسے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیضانِ رحمت سے کافر بھی محروم نہیں رہے ۔پہلی امتیں جب اﷲ کی نافرمانی کرتی تھیں تو ان پر اجتماعی صور ت میں عذاب نازل ہوتا رہا ۔حضرت نوح علیہ السلام کی امت پر طوفان آیا ۔۔۔حضرت لوط علیہ السلام کی امت پر عذاب آیا تو پوری کی پوری بستی تہہ وبالا کردی گئی ۔قومِ عاد پر تیز آندھی کا طوفان آیا جس نے ہر چیز کوالٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ۔۔۔فرعون اور اس کے پیروکاروں کودریائے قلزم میں ڈبو دیا گیا وغیرہ ۔ لیکن نبیٔ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے قریش مکہ کے مطالبہ عذاب کے باوجود اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنتَ فِیْہِمْ۔

ترجمہ:’’ اور اﷲ ان پر عذاب نازل نہیں فرمائے گا جب تک کہ آپ ان میں موجود ہیں‘‘۔ (سورۃ الانفال:33)

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے اور برکت سے اِس امت کے کفار ومشرکین بھی اجتماعی عذاب اور ہلاکت سے محفوظ ہیں ۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپ کے اصحاب پرظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے۔طائف کے سفرمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھروں سے لہولہان کیاگیا۔ایک مرتبہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مشرکین کے لیے بددعا کریں ۔اس پر آپ نے فرمایا : ’’میں لعنت کرنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا بلکہ میں تو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں ‘‘۔

 غزوۂ احد میں دندانِ مبارک شہید ہوگئے اور آپ کا چہرہ خون سے تر تھا،لیکن اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر دعائیہ کلمات جاری تھے ۔ ’’اے اﷲ ! میری قوم کو ہدایت فرما کیونکہ یہ میرے مقام سے ناآشنا ہیں ‘‘۔

خلاصہ کلام یہ کہ اللہ تعالی رب العالمین ہے یعنی سارے جہانوں کا رب ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحمۃ للعالین ہیں یعنی سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں ۔اس لیے یہ کہنا کہ اللہ پاک صرف مسلمانوں یا محض انسانوں کا رب ہے ہرگز جائز نہیں ۔اسی طرح یہ کہنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف لوگوں کے لیے رحمت یا صرف مکلفین یا صرف مسلمانوں کے لیے رحمت ہیں ، ہرگز جائز نہیں ، بلکہ وہ سارے جہانوں کے لیے رحمت ہیں ، جن و انس ، چرند و پرند، حیوانات و جمادات ، مسلمان ہو یا کافر، مکلف ہو یا غیر مکلف وغیرہ وغیرہ تمام کے لیے رحمت ہیں ۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/remembrance-rabbul-alamin-rahmatul-lil/d/112064

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..