New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 04:29 PM

Urdu Section ( 25 Apr 2018, NewAgeIslam.Com)

Refuting the Jihadist Interpretation of Surah Nisa - Verse 89 انتہا پسندوں کے ذریعے کی گئی سورہ النساء کی آیت ۸۹ کی تشریح کا رد بلیغ

 

 

 

غلام غوث صدیقی

(انگریزی سے ترجمہ : نیو ایج اسلام)

14 اپریل 2018

دہشت گردانہ افعال و اعمال کو انجام دینے کے لیے انتہا پسندوں کی جانب سے چند قرآن کی آیات کا استعمال کیا جاتا ہے  ان میں سےایک سورۃ النساء کی آیت ۸۹ بھی ہے۔ مگر قرآن وسنت کی روشنی میں ہم ان کا جائزہ لیں تو ان کا یہ عمل  خود قرآن کریم کی خلاف ورزی ہے۔ آیت ملاحظہ ہو!

اللہ تعالی فرماتا ہے،

"وہ (منافق) تو یہ چاہتے ہیں کہ کہیں تم بھی کافر ہوجاؤ جیسے وہ کافر ہوئے تو تم سب ایک سے ہو جاؤ ان میں کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں پھر اگر وہ منہ پھیریں تو انہیں پکڑو اور جہاں پاؤ قتل کرو، اور ان میں کسی کو نہ دوست ٹھہراؤ نہ مددگار۔ "(4:89)

یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اپنے دین سے پھر گئے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ مومنین بھی اپنے دین سے پھر جائیں اور وہ ایک دوسرے کی طرح برابر ہو جائیں۔ وہ در حقیقت  اسلام کے غدار تھے جو مومنوں کے خلاف غداری و بغاوت کرنا چاہتے تھے۔ لہذا اس آیت کریمہ میں مومنوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ انہیں اپنا دوست نہ بنائیں یہاں تک کہ وہ اپنی سچائی کو ثابت کرنے کے لئے "اللہ کی راہ میں گھر بار نہ چھوڑیں"۔ آیت کریمہ  کے پہلے نصف حصے میں مومنوں کو منافقوں کو پکڑنے یا انہیں قتل کرنے کا  حکم نہیں دیا گیا ہے۔ لیکن اگر وہ ہجرت کرنے سے باز رہتے ہیں اور مومنوں کے خلاف امن معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور انہیں مشق ستم بناتے ہیں تو اس صورت کے پیش نظر آیت کے نصف دوم میں مومنوں کو حکم ہے کہ وہ حالت جنگ میں جہاں کہیں بھی منافقوں کو پائیں"انہیں پکڑیں اور قتل کریں"۔ یہاں بات قابل غور ہے  اس آیت کا جنگی امور سے ہے اور ان کا اطلاق  جنگ کے علاوہ صورت حال میں کرنا درست نہیں۔

اس لئے کہ اس کے بعد والی آیت (4:90) یہ واضح کرتی ہے کہ اس آیت 4:89 کا اطلاق ان لوگوں پر نہیں کیا جا سکتا جو امن و سلامتی سے رہنے کا معاہدہ کر چکے ہیں ، خواہ وہ منافق ہوں یا کافروں کا کوئی اور گروہ ہو۔ اب آیت 4:90 ملاحظہ کرتے ہیں!

"مگر جو ایسی قوم سے علاقے رکھتے ہیں کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے یا تمہارے پاس یوں آئے کہ ان کے دلوں میں سکت نہ رہی کہ تم سے لڑیں یا اپنی قوم سے لڑیں اور اللہ چاہتا تو ضرور انہیں تم پر قابو دیتا تو وہ بے شک تم سے لڑتے پھر اگر وہ تم سے کنارہ کریں اور نہ لڑیں اور صلح کا پیام ڈالیں تو اللہ نے تمہیں ان پر کوئی راہ نہ رکھی۔ "(4:90)

قرآن مجید کی مذکورہ بالا دونوں آیتوں کو پڑھنے کے بعد جنگ کا اسلامی تصور بہت واضح ہو جاتا ہے۔ جنگ سے متعلق آیتوں کا اطلاق ایسے علاقوں یا ملکوں پر نہیں کیا جا جاسکتا ہے جہاں مسلمان اور غیر مسلم کسی متفقہ قانون یا کسی بھی قسم کے امن معاہدے یا آئین کے تحت امن کے ساتھ رہتے ہیں۔ قرآن کی اس دلیل کی بڑے بڑے  فقہائے اسلام نے مکمل طور پیروی کی ہے اور فقہی احکام میں انہوں نے اسے بیان بھی کیا ہے۔ میں درج ذیل میں ان میں سے صرف چند کا حوالہ پیش کر رہا ہوں؛

معاہدے کی خلاف ورزی جائز نہیں ہے

"اگر اس قرار کے ساتھ کوئی پرامن معاہدہ انجام پاتا ہے کہ دو فریقوں کے درمیان ایک سال تک یا ایک متعینہ مدت تک کوئی جنگ نہیں ہو گی تو اس کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی۔ معاہدے کو توڑتے ہوئے اس مدت مقررہ کے اندر جنگ کے لئے نکلنا ناجائز ہے "( مجمع الانحار ، بہار شریعت ،جلد: 9 ، ص -137)

قرآن کے اندر ایک اور ایسی آیت 8:72 ہے جس میں مومنوں کو معاہدے کی پاسداری کی واضح ہدایت دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو معاہدے کی پاسداری ہر حال میں کرنی چاہئے اور یہ ایک آفاقی پیغام ہے۔ اگر آج کے مسلمانوں نے کسی بھی آئین کے مطابق رہنے پر اتفاق کیا ہے، تو انہیں اپنا وعدہ برقرار رکھنا ہوگا۔ اللہ تعالی فرماتا ہے، "اور عہد پورا کرو بیشک عہد سے سوال ہونا ہے"(17:34)۔

پرامن معاہدوں کی تاکید

"مسلمانوں کے لئے کوئی پرامن معاہدہ کرنا جائز ہے ، بشرطیکہ یہ ان کے حق میں ہو۔ اگر ضرورت ہو تو معاہدہ کچھ دولت دے کر بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ اور کسی ضرورت کے پیش نظر معاہدہ توڑا بھی جا سکتا ہے۔ لیکن دشمنوں کو اس پر مطلع کیا جانا چاہئے اور معاہدہ توڑنے پر انہیں مطلع کرنے کے بعد فوراً جنگ شروع نہیں کی جانی چاہئے۔ ان کے اتحادیوں کو اس سے خبردار ہونے کے لئے انہیں کافی وقفہ دیا جائے۔ یہ حکم صرف اس صورت میں ہے کہ جب معاہدہ وقت مقررہ کے ختم ہونے سے پہلے توڑ دیا گیا ہو۔ "(در مختار، رد المحتار ، بہار شریعت ، جلد : 9 ، ص 173)

مشرکوں کو تحفظ فراہم کرنے سے متعلق حکم

"اگر کوئی آزاد مسلمان مرد یا عورت مشرکین کی ایک جماعت یا کسی مخصوص شہر کے مشرکوں کو پناہ دیتا ہے تو ان کی زندگی کی حفاظت اس مسلمان کے ذمہ ہے۔ ان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے، خواہ پناہ دینے والا شخص ظالم، نابینا یا عمر دراز ہی کیوں نہ ہو"۔ (در مختار، عالمگیری، بہار شریعت)

جنگ کے دوران بھی کمزوروں کوتحفظ فراہم کرنے سے متعلق حکم

یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ جنگ کے دوران ثانوی نقصان بھی جائز نہیں ہے۔ اسلام کا حکم ہے کہ جنگ کے دوران خواتین، بچے، پاگل، عمردراز ، نابینا ، معذور ، پادریوں، راہبوں، عبادت گاہوں میں پناہ لینے والوں اور انہیں بھی قتل کرنا سخت ممنوع ہے جن کے داہنے ہاتھ یا تو کاٹ دئے گئے ہوں یا سوکھے کی وجہ سے وہ اپنے داہنے ہاتھ سے معذور ہوں ، بشرطیکہ وہ دشمنوں کی مدد کے لئے نہ آئیں۔ ( در مختار ، بہار شریعت ، جلد : 9 ، ص -137)۔ اسلامی فقہاء کے یہ نظریات مندرجہ ذیل احادیث پر مبنی ہیں ؛

(1) "کسی بھی بچے ، کسی عورت ، یا کسی بڑے یا بیمار شخص کو نہ مارو۔" (سنن ابو داؤد)

(2) "غداری یا مثلہ مت کرو۔ (موطا امام مالک)

(3) "گاؤں اور شہروں کو تباہ نہ کرو، کھیتوں اور باغوں کو ویران نہ کرو اور مویشیوں کو قتل نہ کرو۔" (صحیح بخاری ؛ سنن ابو داؤد)

(4) "پادریوں اور راہبوں کو نہ مارو ، اور انہیں بھی قتل نہ کرو جو عبادت گاہوں میں پناہ لیں۔ (مسند احمد بن حنبل )

(5) "پیڑ پودھوں یا پھلدار درختوں کو نہ کاٹو اور نہ ہی انہیں نذر آتش کرو۔ (الموطا)

(6) "دشمن کے ساتھ نبردآزمائی کی خواہش نہ کرو؛ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے؛ لیکن اگر تم ان کے ساتھ لڑنے پر مجبور ہو ہی جاؤ تو صبر سے کام لو۔ "( صحیح مسلم)

(7) "آگ میں جلا کر صرف اللہ ہی سزا دے سکتا ہے۔" ( سنن ابو داؤد )۔

المختصر ، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جنگ سے متعلقہ آیات صرف جنگوں تک ہی محدود ہیں۔ صرف ایک ریاست یا ملک کی حکومت ہی جنگی قوانین وضع کر سکتی ہے۔ عام افراد یا شہریوں کو کسی بھی گروہ کے خلاف اعلان جنگ کرنے یا قانون اپنے ہاتھوں میں لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، جنگ سے متعلق آیتوں کا اطلاق ان ممالک پر نہیں کیا جا سکتا ہے جہاں مسلم اور غیر مسلم اپنے متفقہ قانون یا کسی قسم کے امن معاہدے یا آئین کے تحت امن کے ساتھ رہتے ہیں۔ لہذا، انتہاپسند کسی بھی طرح اپنی کارستانیوں کو جواز فراہم کرنے کے لئے آیت 4:89 نقل نہیں کر سکتے۔ اپنے  جرم کو صحیح ثابت کرنے کے لیے  اسی طرح وہ دیگر قرآن کی آیات کا حوالہ پیش کرتے ہیں ، یہ محض افترا ہے اور شریعت پر جھوٹ باندھنا ہے ۔

URL for English article: http://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/refuting-the-jihadist-interpretation-of-surah-nisa---verse-89/d/114936

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/refuting-the-jihadist-interpretation-of-surah-nisa---verse-89--انتہا-پسندوں-کے-ذریعے-کی-گئی-سورہ-النساء-کی-آیت-۸۹-کی-تشریح-کا-رد-بلیغ/d/115046

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..