New Age Islam
Wed Oct 20 2021, 02:59 PM

Urdu Section ( 13 Oct 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Real Sufis vs. Fake ‘Sufis’: Spiritual Training Is Missing اصلی صوفی بمقابلہ جعلی 'صوفی': تصوف جو کبھی دانشورانہ عروج کے لیے مشہور تھا آج نفس کشی اور روحانی تربیت سے خالی ہے

غلام غوث صدیقی، نیو ایج اسلام

2 اکتوبر 2021

تصوف کی مذمت کرنے سے پہلے جعلی اور اصلی صوفیوں میں فرق کیا جائے

اہم نکات:

1. تصوف کے راستے پر چلنے سے پہلے حقیقی صوفیوں نے کئی سائنسی اور فکری کامیابیاں حاصل کیں

2. حقیقی صوفیوں کی تحریریں صدیوں سے جہالت کے اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کے لیے کام کر رہی ہیں

3. جعلی صوفیوں کی فکری سطح کو بنیاد بنا کر حقیقی صوفیوں پر بیوقوفی کا الزام لگانا ظلم عظیم ہوگا

4. مذہبی ماہرین نے روحانی تعلیم و تربیت کی عملی ضرورت کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ اسلامی تصوف کے ساتھ ایک بہت بڑا ظلم ہے

 -----

 کچھ نام نہاد دانشور اور نقاد دانشورانہ دنیا پر کنٹرول حاصل کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اپنے اس جنون کی وجہ سے وہ بالعموم صوفیاء کرام اور تصوف کے بارے میں خرافات بکنے سے بالکل نہیں کتراتے، اگر چہ انہیں اس کی کوئی سمجھ بھی نہ ہو۔ سچ کے متلاشیوں کو گمراہ کرنے کے لیے صوفیاء کرام کے خلاف لگایا جانے والا سب سے عام الزام یہ ہے کہ تصوف ان پڑھ اور جاہل لوگوں کا گروہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو لوگ فہم و بصیرت رکھتے ہیں وہ تصوف کے قریب بھی نہیں جاتے۔ اس طرح کے مضحکہ خیز الزامات لگانے سے پہلے ایسے مخالفین کو تصوف کی تاریخ کے بارے میں جان لینا چاہیے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تصوف کی راہ پر گامزن ہونے سے پہلے حقیقی صوفیوں نے متعدد سائنسی اور فکری کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

 امام قشیری، ابو طالب مکی، ابن عربی، امام رازی، امام غزالی، ابن خلدون، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ معین الدین چشتی اجمیری، شہاب الدین سہروردی، حضرت زکریا ملتانی، مجدد الف ثانی، حضرت علی ہجویری، حضرت یحییٰ منیری؛ یہ سب نہ صرف علم تصوف کے سرخیل تھے بلکہ میدان عقل و دانش کے شہسوار بھی تھے۔

کیا کسی میں اتنی ہمت ہے کہ ان ممتاز ماہرین تعلیم اور صوفی علماء پر جہالت کا الزام لگا سکے؟ ان روشن خیال صوفیوں کی تحریریں صدیوں سے جہالت کے اندھیرے کو روشنی میں بدلنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔ پاکپتن کا صوفی شہنشاہ اعلان کرتا تھا کہ جہالت ایک احمق عفریت ہے جس کی آنکھیں سراب اور حقیقت میں امتیاز نہیں کر سکتیں۔ ان کے مطابق بے علم انسان دل اور روح کے امراض کو پہچاننے اور علاج کرنے سے قاصر ہے۔

حضرت نظام الدین اولیاء نے کسی بھی ایسے شخص کو روحانی خلافت عطا نہیں کی جو عالم دین نہ ہو۔ کشف المحجوب کے مطابق تین طرح کے لوگوں سے پرہیز کرنا چاہیے: 1) ناعاقب اندیش علماء، 2) دھوکہ باز فقیر، اور 3) جاہل صوفی۔ علامہ ابن جوزی، جو کہ خود تصوف اور صوفیوں کے ناقدین میں شمار کئے جاتے ہیں، ان کے مطابق صوفی قرآنی علوم، فقہ، حدیث اور تفسیر کے امام تھے۔

صوفی ازم کے عام نقاد یہ بھول گئے ہیں کہ جب دنیا کے کئی حصوں میں لوگ جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے تو انہیں صوفی علماء نے لوگوں کو اندھیروں سے نکالنے میں ایک تاریخی کردار ادا کیا تھا۔ ایسا ہی تصوف کا ایک درخشندہ ستارہ ابن خلدون تھا جسے فلسفہ اور تاریخ کا امام کہا جاتا ہے۔ تہذیبوں کا عروج و زوال تاریخ دانوں کا ایک پسندیدہ موضوع رہا ہے کیونکہ ابن خلدون نے اس کی بنیاد فراہم کی ہے۔ برطانوی مؤرخ آرنلڈ ٹوینبی کے مطابق ابن خلدون کا مقدمہ "تاریخ کا ایک فلسفہ ہے جو بلاشبہ اپنی نوعیت کا اب تک کا سب سے عظیم کارنامہ ہے۔" اس کے بعد سے مصنفین کی ایک بڑی تعداد نے بشمول ٹوینبی کے، جلدوں کی جلدیں کتابیں لکھیں جن میں انہوں نے اپنی رائے بیان کی کہ قومیں کیسے عروج حاصل کرتی ہیں اور کس طرح زوال کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ابن خلدون کی تمام مغربی فلسفی تعریف کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ابن خلدون نے تصوف میں حالت استغراق کے بارے میں کافی تفصیل سے لکھا ہے۔ق

اسی زمانہ جاہلیت میں تصوف کے آسمان پر ایک اور چمکتا ہوا ستارہ حضرت امام فخر الدین رازی کے نام سے دنیا میں مشہور ہے۔ امام رازی نے دنیاوی علوم و فنون کے حصول کے بعد اپنی حکمت دوسروں تک پہنچائی۔ آپ نے بے شمار موضوعات پر کتابیں لکھیں ، لیکن فلسفہ، علم اور الہیات میں آپ یکتائے روزگار تھے۔ آپ نے عقلی علوم میں قابل رشک شہرت حاصل کی۔ آپ سے پہلے الہیات اور فلسفہ پر لکھی گئی تحریریں مبہم اور پیچیدہ تھیں۔ ان کے خیالات اور نظریات بہت زیادہ مبہم تھے۔ امام غزالی اور امام رازی نے فلسفیانہ علوم کی الجھی ہوئی گتھیوں کو بہت آسانی سے حل کر دیا۔ انہوں نے فلسفے کی گرہیں اس طرح کھول دیں کہ بصیرت اور آگاہی کے پھول کھل اٹھے، اور ان کی خوشبوؤں سے متلاشیان حق کی مشام جاں معطر ہو گئی۔ امام رازی کا کہنا تھا کہ عالم اور جاہل میں اتنا ہی فرق ہے جتنا سونے اور مٹی میں ہے۔ ظاہری علوم کی پیروی کرنے پر اللہ رب العزت نے انہیں بڑی اہمیت و وقار سے نوازا۔ ان کے علم و حکمت کی دنیا بھر میں باتیں ہوئیں۔ وہ جہاں بھی جاتے پورا شہر حتیٰ کہ بادشاہ بھی کھلے بازوؤں سے ان کا استقبال کرتا۔ انہیں امیر اور غریب دونوں پسند کرتے تھے۔ ہر کوئی انہیں دیکھنے کا ایک موقع تلاش کرتا تھا۔

اسلامی فلسفہ کی تاریخ کے مطابق امام غزالی، الکندی، ابن رشد، ابن سینا، ملا صدرہ اور ابن خلدون وغیرہ نے مخصوص علوم کے الگ الگ شعبوں میں کتابیں تحریر کیں جنہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔ تاہم، ابن عربی کی تحریروں کا انداز ان کے پیشروؤں، بعد والوں اور ہم عصروں سے بھی مختلف تھا۔ انہوں نے نتائج تک پہنچنے کے لیے مختلف علوم کو ضم کرنے کی حمایت کی۔ ان کے انداز فکر میں کثرت میں وحدت دیکھنے کی گنجائش تھی۔ ان کے مطابق معرفت کے تمام ذرائع، کائنات کے حقائق کو ایک ساتھ جوڑ کر 'ایک جامعیت' پیدا کرتے ہیں جس میں حق بشکل نور کے ظاہر ہو جاتا ہے۔

شیخ ابن عربی سے متعدد علوم پر سینکڑوں کتابیں منسوب ہیں جن میں سے بیشتر غیر مطبوعہ ہیں یا مخطوطات کی شکل میں دنیا بھر کی بڑی بڑی لائبریریوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ شیخ اکبر کی عربی کتابوں کا انگریزی، فرانسیسی، ہسپانوی، اطالوی اور جرمن جیسی انتہائی ترقی یافتہ زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے، اور حالیہ برسوں میں ان کی کافی تفسیری اور سوانحی تحریریں سامنے آئی ہے کیونکہ مغرب نے ان پر خاص توجہ دی ہے۔ جب صوفیاء کرام کی زندگیوں کا معروضی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان میں سے بعض محدث، عظیم مفسر، قابل اعتماد فقہاء، شاندار فلسفی اور اپنے دور کے مفکر تھے۔

آج کے جعلی صوفیوں کی فکری سطح کو بنیاد بنا کر حقیقی صوفیوں پر بیوقوفی کا الزام لگانا ظلم عظیم ہوگا۔ تصوف جو کبھی اپنے روحانی طریقہ تربیت کے لیے مشہور تھا، بدقسمتی سے آج کے جعلی صوفیوں کے معمولات کی وجہ سے، توہم پرستی کا شکار بن چکا ہے۔ تصوف اب مٹھی بھر رسومات کا نام بن کر گیا ہے۔ نام نہاد صوفیوں نے آج اس صداقت کو ختم کر دیا ہے جس پر تصوف کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ جعلی صوفیوں نے پورے طریقت کے عمل کو محض تعویذ، دم درود اور عرس کے تہواروں تک محدود کر دیا ہے۔

تصوف اور طریقت نے کئی رسومات کی بنیادیں رکھی ہے جس میں شیخ سے بیعت کرنا بھی شامل ہے۔ بدقسمتی سے اس طریقہ کار کے نتیجے میں نہ تو شیخ اور نہ ہی ان کا مرید ایک دوسرے کی موجودہ صورتحال سے واقف ہیں۔

مذہبی ماہرین نے روحانی تعلیم و تربیت کی عملی ضرورت کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ہے جو کہ اسلامی تصوف کے ساتھ ایک بہت بڑا ظلم ہے۔ نام نہاد تصوف میں دوسری بڑی خامی یہ ہے کہ قرآن و سنت کے علوم کو طبقہ مولویت تک ہی محدود کر دیا گیا۔ نام نہاد پیر اور دھوکے باز مفاد پرست دنیاوی صوفیوں نے عوام کو دھوکہ دینے کے لیے یہ سوچ قائم کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ قرآن ، حدیث اور فقہ کی تعلیم دینا صوفی سنتوں کا نہیں بلکہ مولویوں کا کام ہے۔ اس طرح ان اسلامی علوم کی نفی کی جا رہی جن سے سچے صوفیوں کو تحریک عمل حاصل ہوئی، اور لوگوں کو اس بات کا قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طریقت، روحانیت، حکمت، ولایت، سچائی اور عقل فکر کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس صورت حال میں مسلمانوں کو نام نہاد صوفیوں کو پہچاننا اور ان سے آگاہ ہونا ضروری ہے، نیز حضرت غوث اعظم اور حضرت خواجہ غریب نواز کے نقش قدم پر چلنے کے لئے قرآن و سنت پر مبنی علوم تصوف حاصل کرنا بھی لازمی ہے۔

English Article: Real Sufis vs. Fake ‘Sufis': Sufism Once Known For Intellectual Progress, Self-Sacrifice and Spiritual Training Is Missing

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/intellectual-sufism-spiritual/d/125570

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..