New Age Islam
Mon Nov 29 2021, 04:01 AM

Urdu Section ( 28 Jun 2019, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Necessity of Tasawwuf In the Establishment of Global Peace – Part 1 امن عالم کے قیام میں تصوف کی ضرورت


غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

موجودہ دور انسانی ترقی کے عروج نیز علم وہنر کے صبر آزما مراحل سے گزر رہا ہے ۔دنیاوی ترقی کے باوجود انسانی روح اپنے اعمال زشت کی کثافت سے بری طرح مجروح ہو چکی ہے ۔تمام عالم مادہ پرستی کا میدان بنا ہوا ہے ، لوگ اپنی ذات میں گم اور مطلب ومفاد پرستی میں سر تاپا غرق ہوئے پڑے ہیں۔حق وباطل میں تمییز کرنے کی صلاحیتوں پر گھٹاٹوپ کا پردہ لگا ہوا ہے  ۔انسانیت   ہر وقت خوف ودہشت کی زندگی گزارنے پر مجبور  ہے۔ہر طرف مظلومیت کی چیخ وپکار ہے ، کہیں عورتیں بیوہ ہو رہی ہیں ، کہیں بچے یتیم ہو رہے ہیں، کوئی اپنی آنکھوں کے سامنے اپنوں کو بم دھماکوں میں اڑتا ،پھٹتا دیکھ رہا ہے ۔کہیں دین ومذہب کے نام پر دہشت گردی تو کہیں قرآن وسنت کی غلط تشریحات پیش کرکے امت مسلمہ کو اس کے عقائد ونظریات سے منحرف کرنے کی کوششیں فروغ پا رہی ہیں ، غرض کہ مادہ پرستی نے انسانی معاشرے میں نشاط روح کے آبشاروں تک رسائی کرنے کی سبھی راہیں مسدود کرنے کے ساماں بہم کر دیے ہیں۔ایسے پرفتن ماحول میں تعلیمات تصوف ہی دکھیاری انسانیت کے سروں پر امن وامان کے شامیانے نصب کرنے کا کام کر سکتی ہے ۔

اولا یہ ذہن نشین رہے کہ تصوف کوئی بدعت نہیں بلکہ جب اسلام کا وجود ہوا اسی وقت سے تصوف بھی موجود ہے ۔فرق صرف اتنا ہے کہ شروع میں لفظ تصوف متعارف نہیں تھا  لیکن حقیقت میں اپنے تمام اوصاف وکمالات کے ساتھ موجود تھا۔ تصوف در اصل قرآن  وسنت کی صحیح اتباع کا نام ہے۔تصوف کی سب سے بنیادی تعلیم ہے کہ انسان اپنے خالق ومالک سے قلبی وروحانی رشتہ بنائے اور پھر اسی  کی روشنی میں وہ دنیا کو امن وشانتی ، محبت وبھائی چارگی کا درس  دے۔   

علامہ ابن خلدوں تصوف کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ‘‘تصوف کا معنی عبادت میں ہمیشہ پابندی کرنا، اللہ تعالی کی طرف ہمہ تن متوجہ رہنا ، دنیا کے زیب وزینت کی طرف سے رو گردانی کرنا، لذت مال وجاہ جس کی طرف عام لوگ متوجہ ہوتے ہیں اس سے کنارہ کش ہونا ، یہ طریقہ صحابہ کرام اور سلف صالحین میں عام مروج تھا ’’ (کشف المحجوب ، شیخ سید علی ہجویری ، اردو ترجمہ  از فضل الدین گوہر ، ص۱۱)

راہ تصوف اختیار کرنے والے در اصل قرآن وسنت کے آئینہ دار ہوتے ہیں کیونکہ یہی دو چیزیں تصوف کا سرچشمہ ہیں۔ ابتدائی دور میں تصوف کے لیے ایک اصطلاح ‘‘احسان ’’رائج ہوئی تھی جسے حدیث پاک نے بہت خوبصورت انداز میں بیان کیا کہ ‘‘الاحسان ان تعبد اللہ کانک تراہ فان لم تکن تراہ فانہ یراک’’ یعنی در حقیقت احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو سکے تو کم از کم یہ یقین کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ’’۔ایمان کے ساتھ جب احسان ہوگا تو اخلاص پیدا ہوگا اور ہر جگہ تمہیں ‘‘ھو معکم اینما کنتم (جہاں کہیں بھی رہو اللہ تعالی تمہارے ساتھ ہے )، وفی انفسکم افلا تبصرون (وہ تمہارے نفوس میں ہے کیا تم دیکھتے نہیں ) اور الم یعلم بان اللہ یری (کیا نہیں معلوم کہ اللہ تعالی دیکھ رہا ہے ) کی حقیقت کا مشاہدہ ہوگا  اور یہی تمہارا شب وروز کا حال بن جائے گا ۔

تصوف ہرگز اس بات کی تعلیم نہیں دیتا کہ رہبانیت اختیار کرکے جنگل وبیاں باں کی طرف کوچ کر لیا جائے بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے تعلق باللہ قائم کرنے کے ساتھ  مخلوق خدا کے ساتھ صلہ رحمی  اور بھلائی کا معاملہ استوار کیا جائے ۔

مولانا روم فرماتے ہیں :

چیست دنیا از خدا غافل بدن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔نے قماش ونقرہ وفرزندوزن

(یعنی دنیا اللہ تعالی سے غافل ہونے کا نام ہے نہ کہ دنیاوی اسباب ، مال وزر اور اہل وعیال کو اختیار کرنے کا )۔

کمال بات تو فراغت قلبی اور تعلق باللہ ہے۔آپ فرماتے ہیں : بگیر رسم تعلق دلا از مرغابی ۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اوز آب چوبر خاست خشک پر برخاست

یعنی اے دل تجھے تعلق کی رسم وریت اگر سیکھنا ہے تو مرغابی سے سیکھ کہ وہ پانی میں رہنے کے باوجود جب اس سے باہر آتی ہے تو اس کے پروں پر پانی کا مطلق اثر نہیں ہوتا ۔

 کمال تو اس میں ہے کہ دنیا میں رہ کر ، دنیا کے پر کشش خواہشات کو ترک کرکے مالک حقیقی سے دل لگایا جائے ، رضائے الہی کے حصول کی خاطر تمام اوامر ونواہی کی پیروی کی جائے اور پھر صالحین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنا نام ان نفوس قدسیہ میں رجسٹر کرائے جن کے بارے  میں رب سبحانہ تعالی کا فرمان ہے ‘‘یریدون وجھہ’’’ یعنی وہ وجہ رب  کے طالب ہیں اور ‘‘يريدون وجه الله واولئك هم المفلحون ’’ یعنی وہ وجہ اللہ چاہتے ہیں اور وہی در حقیقت کامیاب ہیں  (سورہ روم :۳۸)

من نہ شادی خواہم ونے خسروی ۔۔۔۔۔آنچہ  می خواہم من از توہم توئی

یعنی: نہ مجھے خوشی چاہیے ، نہ بادشاہت ۔۔۔۔تجھ سے جو چیز مجھے چاہیے وہ صرف تو ہے

مولانا جامی فرماتے ہیں:

از زندگیم بندگی تست ہوس ۔۔برزندہ دلاں بے تو حرام است نفس

خواجہ ز تو مقصود دل خود ہر کس ۔۔جامی زتو ہمیں ترامی خواہد بس

یعنی : اپنی زندگی سے میری آرزو صرف تیری بندگی ہے ۔ زندہ دل لوگوں پر تیرے بغیر سانس لینا بھی حرام ہے ۔خواجہ تجھ سے صرف ہر شخص اپنا مقصود مطلوب چاہتا ہے ، مگر جامی تجھ سے صرف تجھ ہی کو چاہتا ہے  اور بس

تصوف کوئی بدعت نہیں جیساکہ بعض مخالفین تصوف پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں ۔ تصوف در اصل شریعت کے بتائے ہوئے اصولوں پر اللہ تعالی سے تعلق کرنے کا نام ہے ۔تصوف دل کی نگہبانی کا دوسرا نام ہے کیونکہ انسان بظاہر جسم اور نفس کا نام ہے مگر در حقیقت ، دل کا نام ہے اوراگر دل مسلمان نہ ہو سکا تو رکوع وسجود یا زبان سے خدا کا اقرار ، دونوں بے معنی ہیں ۔

تعلیمات تصوف کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تصوف اپنی ماہیت کے اعتبار سے اس شوق کا نام ہے جو ارباب تصوف کے دل ودماغ میں وصال الہی کے لیے اس شدت کے ساتھ موجزن ہوتا ہے کہ یہ شوق ان کی پوری عقلی وجذباتی زندگی پر غالب ہو جاتا ہے اور پھر وہ تقرب الہی کو مقصود حیات بنا لیتے ہیں ۔جب یہ نفوس قدسیہ گفتگو کرتے ہیں تو اسی خدا کی ، خیال کرتے ہیں تو اسی کی، یاد کرتے ہیں تو اسی کو، کلمہ پڑھتے ہیں تو اسی کا، دریا کی روانی میں ، تاروں کی چمک میں ، صحرا کی وسعت میں ، باغ کی شادابی میں ، غرض کہ تمام مظاہر فطرت اور مناظر قدرت میں اسے خدا ہی کا جلوہ نظر آتا ہے ۔۔۔۔سمایا ہے تو جب سے نظروں میں میری ۔۔۔جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے۔

اور پھر اسی  خدا کے جلوہ کی برکت سے وہ امن وامان کی حقیقی منزل کو پا لیتا ہے ، جہاں صرف محبت ہوتی ہے اور پھر اس کا پیغام ، پیغام محبت بن جاتا ہے ، اس کا درس ، بھائی چارگی کا ہو جاتا ہے ، اس کا کام اسی محبت کی تار سے لوگوں کے دلوں کو جوڑنے کا ہوتا ہے اس طرح کہ دنیا کا کوئی شخص اس سے جدا نہ رہے ۔

 (جاری)

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/necessity-tasawwuf-establishment-global-peace-part-1/d/119023

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..