New Age Islam
Sat Sep 19 2020, 05:57 AM

Urdu Section ( 13 Apr 2018, NewAgeIslam.Com)

Letters of Khawja Gharib Nawaz to Hadrat Qutubuddin Bakhtiyar Kaki- Secrets of Obligatory Charity (Zakah) - Part 4 سلطان الہند کے خطوط سلطان دہلی کے نام ( قسط-4) زکوۃ کی حقیقت

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

اپنے مکتوب اول میں کلمہ طیبہ کی حقیقت ،نماز کی حقیقت  اور روزہ کی حقیقت بیان  کرنے کے بعد حضور سلطان الہند  خواجہ معین الدین چشتی اجمیری قدس اللہ سرہ  اپنے خلیفہ ارشد حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ  کو زکوۃ  کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

زکوۃ کی حقیقت

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : اے عمر (رضی اللہ عنہ)! سنو، از روئے شریعت دو سو دینار میں سے پانچ دینار زکوۃ ادا کرنا فرض ہے  اور اہل طریقت کے نزدیک دو سو دینار میں سے پانچ دینار اپنے پاس رکھنی چاہیے ، باقی سب کے سب  زکوۃ میں صرف کردینے لازم ہیں۔لیکن یاد رہے، زکوۃ آزاد پر فرض ہے ، غلام پر فرض نہیں ۔جب تک بندہ  نفس کی بندگی سے نجات نہ پائے ، اس وقت تک آزادوں کے زمرے میں داخل نہیں ہو سکتا اور جب آزاد ہی نہ ہوا تو اس پر زکوۃ کیونکر فرض ہو سکتی ہے ۔

 نفس کے بندے  کو سب سے پہلے نفس کی بندگی سے آزادی حاصل کرنی چاہیے تاکہ وہ زکوۃ حقیقی ادا کرنے کے قابل ہو جائے۔

نیز زکوۃ عاقل و بالغ پر فرض ہے ،دیوانہ و نابالغ پر فرض نہیں ہے ۔پس جس شخص پر غفلت و نفسانیت کا دیو سوار ہو اور وہ ہمہ تن نفس و شیطان کے پنچہ میں گرفتار ہو ۔ عارفان الہی کے نزدیک وہ عاقل و بالغ نہیں ہو سکتا ، بلکہ وہ ایک نابالغ شیر خوار بچے کی مانند ہے اور اہل معرفت کے نزدیک وہ کالعدم سمجھا جاتا ہے ۔اس پر زکوۃ حقیقی کیونکر فرض ہو سکتی ہے ۔پس سب سے پہلے یہ لازم ہے کہ بندہ نفس کی بے شعوری سے نجات حاصل کرے تاکہ وہ معرفت الہی کی آزادی اورعقل سے سرفراز ہو کر حقیقی  زکوۃ ادا کرنے کے قابل بن جائے۔

زکوۃ ظاہری جو شرعا مال  دنیوی پر فرض ہوتی ہے ، اس  میں محض یہ حکمت ہے کہ امیر لوگ  زکوۃ کے بہانے سے غریبوں اور مفلسوں کی مدد کر سکیں اور غربا اپنے خورد و نوش کا انتظام سہولت و آسانی سے کر سکیں ۔

اے عمر (رضی اللہ عنہ)! گنج حقیقی کی بجز عارفان الہی کے کسی کو خبر نہیں ۔گنج حقیقی در اصل سر ربوبیت ہے اور عارفین کے دل اس سر ربوبیت کے گنجینے ہوتے ہیں۔ان عرفا پر فرض ہے کہ وہ اپنے گنجینہ حقیقی میں سے اسرار الہی کی زکوۃ گمراہوں اور نادانوں کو عطا فرمادیں اور گم گشتگان ہادیہ ضلالت کی راہنمائی فرمادیں ، کیونکہ مستحق کو اس کا حق دینا عین زکوۃ ہے ۔

گمنامی ہماری ہے یہ نام ہمارا/ آغاز ہمارا ہے نہ انجام ہمارا

سامان توکل ہے سر انجام ہمارا /تکلیف ہماری بھی ہے آرام ہمارا

بے کار و معطل ہوئے ہم کار جہاں سے /خود آپ خدا کرتا ہے بس کام ہمارا

ہم عشق کے بندے ہیں سنو شیخ برہمن / کیا تم سے کہیں کفر ہے سلام ہمارا

صحرا میں رہیں ہم باغ میں کاہے کو جائیں /گلشن میں نہ ہو جب کہ گلفام ہمارا

بخت اپنا تو فرخندہ ہے روز ازل سے / کیا کر سکے اب گردش ایام ہمارا

اسلام قوی ہوگا اسی وقت میں خاموش / جس وقت کہ بن جائے گا دل رام (یعنی مطیع و فرماں بردار)  ہمارا

(ماخوذ  از  اسرار حقیقی ، اردو رترجمہ مکتوب حضرت سلطان الہند رحمۃ اللہ علیہ ، اکبر بک سیلرز ، ستمبر ۲۰۰۴ ) -سلطان-الہند-کے-خطوط-سلطان-دہلی-کے-نام-(پہلی-قسط)-کلمہ-طیبہ-کی-حقیقت/-سلطان-الہند-کے-خطوط-سلطان-دہلی-کے-نام-(دوسری--قسط)-نماز-کی-حقیقت/--سلطان-الہند-کے-خطوط-سلطان-دہلی-کے-نام-(تیسری-قسط)-روزہ-کی-حقیقت/New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..