New Age Islam
Wed Oct 21 2020, 02:58 PM

Urdu Section ( 10 Apr 2018, NewAgeIslam.Com)

Letters of Khawja Gharib Nawaz to Hadrat Qutubuddin Bakhtiyar Kaki- Secrets of Holy Kalima- Part 1 سلطان الہند کے خطوط سلطان دہلی کے نام (پہلی قسط) کلمہ طیبہ کی حقیقت

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

سلطان الہند حضو رخواجہ غریب نواز ہیں اور حضور خواجہ قطب الدین بختیا رکاکی دہلی کے سلطان ہیں ۔یہ دونوں ہندوستان کے مشہور ترین اولیا میں سے ہیں جو محتاج تعارف نہیں ۔حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی حضرت خواجہ غریب نواز کے خلیفہ ہیں جن کا مزار شریف مہرولی شریف دہلی میں واقع ہے ۔اس قسط وار مضمون کا اصل مقصد قارئین کی خدمت میں حضور خواجہ غریب نواز کے خطوط کو پیش کرنا ہے جو انہوں نے اپنے خلیفہ خاص حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کے نام صادر فرمایا ۔یہ خطوط فارسی زبان میں لکھے گئے تھے ، جن کا اردو ترجمہ ‘‘ اسرار حقیقی ’’ کے نام سے کتابی شکل میں منظر عام پر بہت پہلے آچکا ہے ۔ اس کتاب کا نسخہ جو میرے پاس ہے اس کے اردو مترجم کا نام تو کتاب میں درج نہیں ہے لیکن اس کے ناشر کا نام محمد اکبر قادری عطاری ہے اور اس کی اشاعت اکبر بک سیلرز کے ذریعہ ستمبر سن ۲۰۰۴ میں ہوئی ۔ہم ان کے شکریہ کے ساتھ ان خطوط کو پیش کر رہے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور قارئین کو ان خطوط سے فیضیاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم ۔

ان خطوط کو پیش کرنے سے قبل حضرت خواجہ غریب نواز اور حضرت خواجہ قطب الدین بختیار رضی اللہ عنہما کے متعلق چند باتیں کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں اولیا اللہ ہیں اور اولیا اللہ یقینا اللہ کے دوست ہوتے ہیں ۔ولی کے معنی ہی دوست ہیں۔جو اللہ رب العزت کا ولی ہوگا وہ ہر حال میں اللہ سے محبت کرے گا۔اولیا اللہ نے اللہ سے محبت کی ۔ان کی اللہ سے محبت کی یہ دلیل تھی کہ انہوں نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی اطاعت و فرماں برداری کی ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرماں برداری ہی اللہ تعالی سے محبت کرنے کی دلیل ہے ، کیونکہ اللہ تعالی سے محبت اللہ پاک کے کلام واحکام پر عمل کرنے کا نام ہے ۔اور اللہ پاک کا کلام حضور علیہ السلام کے ذریعہ ہی ہم تک پہنچا ۔اللہ کے ان دونوں ولیوں نے اس حققیت اور اس کے اسرار و رموز کو بخوبی پہچانا اس لیے وہ اللہ کے دوست کہلائے ۔قرآن کریم نے بہت خوبصورت اور واضح انداز میں اس حقیقت کو بیان فرما یا :  

قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (۳:۳۱) یعنی : اے محبوب (صلی اللہ علیہ وسلم ) تم فرمادو کہ لوگو! اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرماں بردار ہو جاو ، اللہ تمہیں دوست رکھے گا ۔(ترجمہ قرآن ،کنز الایمان)

اس آیت سے واضح ہوا کہ اللہ سے سچی محبت کا تقاضا اور دلیل یہ کہ اللہ کے محبوب حضور علیہ الصلوۃ السلام سے بھی محبت کی جائے ، اور ان سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ ان کی سنتوں پر عمل کی جائے ، ان کے بتائے گئے طریقوں پر چلا جائے ۔لہذا جو اللہ کا ولی اور دوست ہوگا وہ ضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرے گا ۔سرکار خواجہ غریب اور حضور خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رضی اللہ عنہما تو متفقہ طور پر اللہ کے ولی اور دوست تھے ۔خواجہ غریب نواز کی شان محبوبی کا یہ عالم تھا کہ جب آپ نے وصال فرمایا تو آپ کی پیشانی پر قلم قدرت سے لکھا ہوا تھا : حبیب اللہ مات فی حب اللہ ۔یعنی یہ اللہ کا حبیب ہے جو اللہ کی محبت میں جاں بحق ہوا ہے ۔ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری کا انعام ہی ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کو اتنا بڑا مقام و مرتبہ ملا ۔اگر وہ اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ترک کر دیتے تو اس مقام پر فائز نہ ہوتے ، کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : لو ترکتم سنۃ نبیکم لضللتم (مشکوۃ) یعنی اگر تم اپنے نبی کی سنت چھوڑ دو گے تو گمراہ ہو جاو گے ۔حضر شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے اس سلسلے میں خوب فرمایا ہے :

خلاف پیمبر کسے راہ گزید /  کہ ہر گز بمنزل نہ خواہد رسید

ترجمہ : خلاف پیمبر جو چلے گا وہ ہرگز منزل مقصود کو نہیں پہنچ سکتا ۔

حضور خواجہ غریب نواز رضی اللہ تعالی عنہ ایمان اور سنت رسول کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

قیامت کے روز پچاس مختلف مقامات پر مختلف سوالات کیے جائیں گے ۔پہلے مقام پر ایمان اور اس کے شرائط و صفات معرفت باری تعالی سے متعلق سوال ہوگا ۔اگر اس سلسلے میں بال بھر بیان نہ کر سکے تو وہیں سے سیدھا جہنم بھیج دیا جائے گا ۔دوسرے مقام پر نماز اور دیگر فرائض کی بابت سوالات ہوں گے ، اگر عہدہ بر آمد ہو گیا، ٹھیک ٹھیک جواب دے دیا تو بہتر ، ورنہ وہیں سے دوزخ بھیج دیا جائے گا (اور جس قدر اللہ تعالی چاہے گا ، دوزخ میں بطور سزا رہے گا ، یہ بے عمل مومن کا انجام ہے )۔پھر تیسرے مقام پر سنت نبویہ کی بابت سوالات ہوں گے۔اگر ان سے عہدہ بر آ ہو گیا تو رہائی مل جائے گی ورنہ موکلوں کے ہاتھوں ، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجاجائے گا کہ یہ شخص آپ کی امت سے ہے لیکن سنت ادا کرنے میں کوتاہی کی ہے۔

جب خواجہ صاحب ان فوائد کو بیان کر چکے تو زار زار رونے لگے اور یہ الفاظ زبان مبارک سے ارشاد فرمایا: افسوس ہے اس شخص پر جو قیامت کے دن پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شرمندہ ہوگا جو ان کی بارگاہ میں شرمندہ ہوگا وہ بھلا کہاں جائے گا ۔(دلیل العارفین : ص ۹، ۱۰، مترجم ، ایضا : حضرت خواجہ غریب نواز رضی اللہ عنہ اور اتباع سنت از مولانا عبد المبین نعمانی )

حضور خواجہ غریب نواز نے اپنے مکتوب ، جو اپنے خلیفہ ارشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی جانب ارقام فرمایا ، میں کلمہ طیبہ ، ایمان ، نماز اور دیگر فرائض کے حقائق و معارف اور ان کے بعض رموز و اسرار کو بخوبی بیان کیا ہے۔ اس طرح حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی علیہ الرحمہ نے حضور خواجہ غریب نواز سے علم و معرفت کا فیض حاصل کیا اور پھر آپ خواجہ غریب نواز کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ولایت کے کمال پر پہونچے ۔

اب آئیے حسب ذیل حضرت خواجہ معین الدین چشتی قدس اللہ سرہ کے پہلے مکتوب کا مطالعہ کریں جسے حضور علیہ الرحمہ نے اپنے خلیفہ ارشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رحمۃ اللہ علیہ کی جانب ارقام فرمایا۔ اس مکتوب میں کلمہ طیبہ کی حقیقت، نماز کی حقیقت ، روزہ کی حقیقت اور حج کی حقیقت کو بہت دلکش انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔

مکتوب (اول )

محبت ہم راز اہل یقین برادرم خواجہ قطب الدین دہلوی ! رب العالمین ہر کام میں تمہاری رہنمائی فرمادے ۔از جانب فقیر معین الدین چشتی

کلمہ طیبہ کی حقیقت

واضح ہو کہ توحید کے چند نکتے اور ہدایت کے چند رموز و آثار بارگاہ رسالت حضور احمد مجتبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے خاکسار کو بطور فیض روحانی حاصل ہوئے ہیں، جن پر میرا کلی اعتماد اور پورا پورا اعتقاد ہے ۔انہیں گوش ہوش سے سنو۔

ایک روز کا واقعہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر ، حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت امام حسن، حضرت امام حسین، حضرت ابو ہریرہ،حضرت انس، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت خالد ،حضرت بلال و دیگر اصحاب کبار رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے خطاب فرماکر رموز و اسرار حقیقت او رحقائق ودقائق معرفت بیان فرما رہے تھے۔لیکن امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس مجلس شریف میں حاضر نہ تھے۔ابھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت و معرفت کے اسرار و رموز بیان فرماہی رہے تھے کہ اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی مجلس مقدس میں آن حاضر ہوئے۔پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک کو مخاطب کرکے فرمایا کہ اے زبان ! اب بس کردے۔بعض صحابہ کو تعجب ہوا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ حقائق و معارف بتانا نہیں چاہتے۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ و حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر بعض مقربین بارگاہ نے حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کی کہ حضور! یہ کیا ماجرا ہے ؟ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے حقائق و معارف الہی دیگر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے بیان فرما دئیے لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وہ رموز حقائق آپ نے چھپا لیے ہیں۔

حضور سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سےمخاطب ہو کر فرمایا کہ میں نے عمر رضی اللہ سے رموز و اسرار باطنی کو چھپایا نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ شیر خوار بچے کو اگر مرغن حلوا اور گوشت وغیرہ ثقیل غذا کھلائی جائے تو اسے مضر پڑتی ہے لیکن جب بچہ بالغ ہو جاتا ہے تو کھانے پینے کی کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچاتی ۔

حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی باطنی استعداد و قابلیت کے موافق ان سے دیگر اسرار و معرفت بیان فرمانے لگے ۔چنانچہ منزل جبروت و لاہوت کےحقائق و دقائق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تلقین فرمائے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے عمر ! من عرف اللہ لا یقول اللہ ومن یقول اللہ ما عرف اللہ۔یعنی جس شخص کو معرفت الہی حاصل ہو جاتی ہے اس کو منہ سے اللہ اللہ کہنے کی ضرورت نہیں رہتی اور جو منہ سے اللہ اللہ کہتا ہے تو سمجھ لو کہ ابھی اسے معرفت الہی نصیب نہیں ہوئی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ حضرت یہ کیسی معرفت ہے کہ بندہ اپنے مالک کا نام ہی نہ لے اور اس کی یاد کو ترک کر بیٹھے۔سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ارشاد خداوندی ہے : وھو معکم اینما کنتم ۔یعنی جہاں کہیں تم ہو وہیں خدا ئے تعالی تمہارے ہمراہ ہے ۔

پس اے عمر (رضی اللہ عنہ) ! جو شخص ہر وقت ہمراہ ہو اور کسی وقت نظر سے اوجھل نہ ہو ، اس کا یاد کرنا کیونکر ضروری ہے ؟

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالی ہمارے ہمراہ کہاں ہے ؟ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نےجواب میں ارشاد فرمایا کہ بندہ کے دل میں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ بندہ کا دل کہاں ہے ؟

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قالب انسان میں۔ لیکن یاد رہے کہ دل دو قسم کا ہوتا ہے ۔ایک دل مجازی اور دوسرا دل حقیقی ۔ اے عمر ! حقیقی دل وہ ہے جو نہ داہنی جانب ہے نہ بائیں جانب ، نہ اوپر کی طرف ہے نہ نیچے کی طرف، نہ دور ہے نہ نزدیک ہے لیکن اس حقیقی دل کی شناخت کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ یہ محفل ان مقربان الہی کا حصہ ہے جو حضور الہی میں ہمیشہ مستغرق رہتے ہیں ، کیونکہ مومن کامل در حقیقت عرش ہی ہوتا ہے ۔قلب المومن عرش اللہ تعالی ۔

حدیث دل اگر گویم امید دفتر نمی گنجد  /  کمال وصف دل ہرگز بہ بحر و بر و نمی گنجد

بیا اے طالب صادق بحال خویش خوش بنگر / کہ او درعا لمے آمد کے پائے سرنمی گنجد

صاحب دل کا یہ مرتبہ ہے :

دل چہ جنیدمی جنباتد عرش دا /  عرش رادل فرش ساز وزیر پاد

اور یہ قرب و حضور بجز صحبت مرشد کامل کے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ کامل لوگ اور طالبان سوال و جواب نہین کیا کرتے ۔ بلکہ وہ خاموش اور با ادب رہتے ہیں ۔

چنانچہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قلب المومن حاضرۃ من ذکر الخفی قصو ای ان مقامی ذکر الخفی فھو میت ۔ترجمہ : مومن کے دل میں ذکر خفی ہر وقت موجود رہتا ہے ، لہذا اسے حیات جادوانی حاصل ہوتی ہے اور مسلم کا دل خفی ذکر سے چونکہ غافل ہوتا ہے اس لیے وہ در حقیقت مردہ شمار ہوتا ہے ۔

دل کہ از ہمرار خدا غافل است / دل بناید گفت کو مشت گل است

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ! مومن اور مسلم میں کیا فرق ہے ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ مومن عارف الہی ہوتا ہے اور عارف میں یہ وصف ہوتا ہے کہ وہ خاموشی اور غمگینی کی حالت میں رہتا ہے اور مسلم زاہد اور خشک ہوتا ہے ۔

اس کے بعد جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لیس المومن یجتمعون فی المساجد ویقولون لا الہ الا اللہ ، یعنی مومن وہ نہیں جو مسجد میں جمع ہوتے اور زبانی طور پر لا الہ الا اللہ کہتے ہیں ۔اے عمر (رضی اللہ عنہ) ! ایسے کلمہ گو کوچہ حقیقت سے بے بہرہ اور بے خبر ہیں ،یہ مومن نہیں ،بلکہ منافق ہیں کیونکہ زبان سے تو کلمہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرتے ہیں لیکن کلمہ کے اصل معنی سے ناواقف ہیں۔انہیں خاک بھی پتہ نہیں ہے کہ کلمہ سے اصل مقصود کیا چیز ہے ؟ یعنی لا الہ الا اللہ تو کہہ لیتے ہیں لیکن ان کو کیا خبر کہ نیست سے کیا مراد ہے اور ہست سے کیا ؟ ایسا شکی طور پر کلمہ کہنا شرک ہے اور شرک و شک عین کفر ہے ۔ایسے کلمہ گو کافر کہلاتے ہیں کیونکہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ کلمہ میں کس کی نفی مراد ہے اور کس کا اثبات ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ پھر کلمہ طیبہ کا اصل مقصد کیا ہے ؟

حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کلمہ کے معنی یہ ہیں کہ سوائے ذات وحدہ لا شریک کے دنیا میں کوئی موجود نہیں ہے اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم مظہر خدا ہے ،پس طالب الہی کو چاہئے کہ اپنے دل میں غیر اللہ کا خیال تک بھی نہ آنے دے اور ذات خداوندی کو ہی ہر جگہ موجود سمجھے۔چنانچہ ارشاد الہی ہے : فاینما تولوا فثم وجہ اللہ ، ترجمہ: یعنی جدھر دیکھو خداوند تعالی کا ظہور ہے ۔

تجلی تیری ذات کی سو بسو ہے  /  جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے

اے عمر (رضی اللہ عنہ) ! جب سالک اپنی تمام صفات کو معدوم سمجھے اور صرف ذات الہی کو ہی موجود سمجھے اس وقت وہ سالک مرتبہ کمال کو پہنچ جاتا ہے۔اس مرتبے میں سالک کی حالت حدیث : من عرف ربہ فقد کل لسانہ وقطع ارجلہ : کا صحیح مصداق بن جاتی ہے ، یعنی جس شخص کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہو گئی وہ گونگا اور لنگڑا ہو گیا ۔

اسم اللہ ذوق بخشید باوصال  /  بے زباں گوید سخن بس قیل و قال

مطلب یہ ہے کہ عارف کامل پر سکوت و سکون کی حالت طاری ہو جاتی ہے ، کیونکہ آہ و وزاری اور حرکات اضطرابی اسی وقت تک دامن گیر رہتے ہیں جب تک کہ مطلوب کا وصال حاصل نہیں ہوتا ۔جب طالب کو مطلوب مل جائے تو لازمی امر ہے کہ جو آہ و فعال اور حرکات مضطربانہ طلب کی حالت میں اسے دامن گیر رہتے تھے ، ان سب کا سلسلہ ختم ہو کر اس کی حالت دگر گون ہو جائے اور بجائے آہ و بکا اور قلق و اضطراب کے اسے نہایت دل جمعی اور سکوت و سکون حاصل ہو جائے ۔جبھی تو عارف کامل صحیح معنوں میں شہنشاہ ہو جاتا ہے ، اسے بجز ذات خداوندی کے نہ کسی سے امید ہوتی ہے نہ کسی کا ڈر ۔ ایسے ہی لوگوں کے حق میں ارشاد باری ہے : لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون ، یعنی اولیا اللہ کو نہ کسی کا خوف ہوتا ہے نہ کسی کا غم (مترجم)

عارف کامل کی حالت یاد الہی سے بھی گزر جاتی ہے ۔اے عمر ! یقین جانو کہ جب تک سالک غیر اللہ کا وجود تک بھی اپنے دل سے نہ نکال دے ، تب تک ایک قدم بھی منزل عرفان کی راہ پر نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی عارف کامل بن سکتا ہے ۔کیونکہ یاد بھی ایک قسم کی دوئی ہے اور دوئی عارفین کے نزدیک عین کفر ہے ۔یہ ہے کلمہ طیبہ کی حقیقت ۔

اہل فنا کو نام سے ہستی کے ننگ ہے  /  لوح مزار پر مری چھاتی پہ سنگ ہے

فارغ ہو بیٹھ فکر سے دونوں جہاں کی  /  خطرہ جو ہے سو آئینہ دل پہ زنگ ہے

جب تک اس حقیقت تک نہ پہنچے اس وقت تک طالب سچا موحد نہیں بن سکتا اور اپنے دعوی موحدیت میں سراسر جھوٹا ہے (مترجم)

(جاری )

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/letters-of-khawja-gharib-nawaz-to-hadrat-qutubuddin-bakhtiyar-kaki--secrets-of-holy-kalima--part-1-سلطان-الہند-کے-خطوط-سلطان-دہلی-کے-نام-(پہلی-قسط)-کلمہ-طیبہ-کی-حقیقت/d/114894

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


 

Loading..

Loading..