New Age Islam
Tue Sep 22 2020, 01:40 PM

Urdu Section ( 15 Jun 2017, NewAgeIslam.Com)

I’tekaaf (Sitting in Seclusion in the Mosque): Merits and Precepts اعتکاف : فضائل و مسائل

 

 

 

غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

اعتکاف عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنی ’’خود کو روک لینا، بند کر لینا، کسی کی طرف اس قدر توجہ کرنا کہ چہرہ بھی اُس سے نہ ہٹے‘‘  وغیرہ کے ہیں۔(ابن منظور، لسان العرب، 9 : 255)۔  اصطلاح شرع میں اس  سے مراد ہے  انسان کا علائقِ دنیا سے کٹ کر خاص مدت کے لئے عبادت کی نیت سے کسی ایسی  مسجد میں  ٹھہرنا جس میں پانچ وقت نماز ہوتی ہو۔قرآن مجید میں یہ بھی لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے :

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے : ’’اور ہم نے ابراہیم و اسماعیل (علیہما السلام) کو حکم کیا کہ پاک رکھو میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لئے ‘‘۔ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر ۱۲۵)

ایک دوسری آیت میں ہے :

’’اور جب تم مساجد میں اعتکاف کرو تو عورت کے پاس مت جاؤ‘‘۔ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر ۱۸۷)

پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی امتوں میں بھی اعتکاف کو مقام حاصل رہا ہے ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اعلان نبوت سے پہلے بھی عبادت سمجھ کر اعتکاف کیا کرتے تھے۔

وجہ تسمیہ

لفظ اعتکاف عکف سے نکلا ہے، جس کے معنی روکنے او منع کرنے کے ہیں ، کیونکہ معتکف بحالت روزہ تمام دنیوی ضرورتوں اور کاموں اور اغراض نفسانیہ سے اپنے آپ کو بقصد عبادت الہی مسجد میں روک کر در الہی پر گرا دیتا ہے اس لئے اس عمل کا نام اعتکاف ہے۔

روزہ عاشقانہ رنگ میں ایک تصویری زبان کی دعا و الحاح ہے اور اعتکاف عاشق کا دروازہ معشوق پر اپنے آپ کو بحالت تضرع و زاری پیش کرنا ہے۔گویا معتکف اپنے آپ کو رب العزت کی بارگاہ میں اس طرح مقید کرتا ہے جیسے کہ ایک منت و سماجت کرنے والا سائل کسی  کے دروازہ پر بیٹھ جاتا ہے اور اپنی حاجت و مراد حاصل کئے بغیر نہیں اٹھتا۔

یا یہ کہ عاشق زار کی طرح اپنے معشوق کے دروازہ پر بھوکا پیاسا بن کر اور دنیا کی تمام حاجات و اغراض سے فارغ اور بے پرواہ ہو کر محض جلوہ محبوب و معشوق کے لئے اس کے دروازہ پر معتکف ہو جاتا ہے اور جب تک اس کا معشوق اس کو منہ نہ دکھائے، اس کے در سے نہیں ہٹتا اور وہ اس کے شوق میں ساری لذتیں چھوڑ کر اس کے اوپر سر رکھ دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اعتکاف خانہ خدا یعنی مسجد کے بغیر کہیں جائز نہیں کیونکہ عاشق طالب دیدار کو اپنے معشوق کے دروازہ پر گرنا چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ بحالت اعتکاف معتکف کو رات میں بھی اپنی عورت سے مباشرت کرنی جائز نہیں کیونکہ سچا عاشق کو ان باتوں کا کہاں خیال رہتا ہے اور یہ جو ماہ رمضان کے عشرہ آخری میں لیلۃ القدر کا ظہور روایات میں مذکور ہے وہ اسی تجلی الہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ظہور عاشقان الہی پر ہوتا ہے۔

اعتکاف کی حقیقت

اعتکاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر طرف سے یکسو اور سب سے منقطع ہو کر بس اللہ سے لو لگا کے اس کے در پہ  یعنی کسی مسجد کے کونے میں پڑ جائے، اور سب سے الگ تنہائی میں اس کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر میں مشغول رہے۔

نزول قرآن سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت مبارک میں سب سے یکسو او ر الگ ہو کر تنہائی میں اللہ تعالی کی عبادت اور اس کے ذکر و فکر کا جو بیتابانہ جذبہ پیدا ہوا تھا ، جس کے نتیجے میں آپ مسلسل کئی مہینے غار حرا میں خلوت گزینی کرتے رہے، یہ گویا  آپ کا پہلا اعتکاف تھا اور اس اعتکاف ہی میں آپ کی روحانیت اس مقام تک پہنچ گئی تھی کہ آپ پر قرآن مجید کا نزول شروع ہو جائے۔

چنانچہ حرا کے اس اعتکاف کے آخری ایام ہی میں اللہ تعالی کے حامل وحی فرشتے جبرائیل علیہ السلام سورہ اقرا کی ابتدائی آیتیں لے کر نازل ہوئے۔ تحقیق یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ اور اس کا آخری عشرہ تھا اور رات شب قدر تھی۔ 

اعتکاف کی روح

اعتکاف کی روح دل کا اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا ہے اور مخلوقات سے الگ ہوکر صرف ایک خدا کی یاد میں مشغول و منہمک ہو جا نا ہے۔ اسی کی سوچ وفکر ، اسی کے تذکرے، اسی کی بات چیت یہاں تک کہ انسان کے دل و دماغ پر اللہ رب العزت کا ہی تصور چھا جائے اور اسی کی یاد دل میں سما جائے اور بجائے مخلوق کے خالق ہی سے دل لگ جائے۔

اعتکاف کی فضیلت

اعتکاف بیٹھنے کی فضیلت پر بے شمار  احادیث مبارکہ وارد ہوئی ہیں۔ اِن میں سے بعض درج ذیل ہیں :

 حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معتکف کے بارے میں ارشاد فرمایا :  ‘‘وہ (یعنی معتکف) گناہوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور اُسے عملاً نیک اعمال کرنیوالے کی مثل پوری پوری نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔’’ (ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب فی ثواب الاعتکاف)

 حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ہی ایک اور حدیث مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

مَنِ اعْتَکَفَ يَوْمًا ابْتغَاءَ وَجْهِ اﷲ جَعَلَ  اﷲُ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ النَّارِ ثَلَاثَ خَنَادِقَ، کُلُّ خَنْدَقٍ أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ. ترجمہ:   ‘‘جو شخص اﷲ کی رضا کے لئے ایک دن اعتکاف کرتا ہے، اﷲ تبارک و تعالیٰ اس کے اور دوزخ کے درمیان تین خندقوں کا فاصلہ کردیتا ہے۔ ہر خندق مشرق سے مغرب کے درمیانی فاصلے سے زیادہ لمبی ہے۔’’ (طبرانی، المعجم الاوسط ،  بيهقی، شعب الإيمان، هيثمی، مجمع الزوائد)

حضرت علی (زین العابدین) بن حسین اپنے والد امام حسین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

مَنِ اعْتَکَفَ عَشْرًا فِی رَمَضَانَ کَانَ کَحَجَّتَيْنِ وَ عُمْرَتَيْنِ. ترجمہ : ‘‘جس شخص نے رمضان المبارک میں دس دن کا اعتکاف کیا، اس کا ثواب دو حج اور دو عمرہ کے برابر ہے۔ (دیکھئے:  بيهقی، شعب الإيمان، باب الاعتکاف)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معتکف کے بارے میں فرمایا:

‘‘وہ گناہوں سے محفوظ رہتا ہے اور اس کے لئے اتنی ہی نیکیوں کا ثواب جاری رہتا ہے جتنا ان نیکیوں کے کرنے والے کے لئے ہوتا ہے’’۔(ابن ماجہ ، مشکوۃ شریف ، باب الاعتکاف ، تیسری فصل)

اعتکاف کے بعض ضروری مسائل

اعتکاف کی اقسام : اعتکاف کی تین قسمیں ہیں :

۱۔ واجب جو منت اور نذر کی وجہ سے ہوتا ہے، مثلا کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں اس بیمار سے ٹھیک اور تندرست ہو گیا یا میرا فلاں کام ہو گیا تو میں اتنے دنوں کا اعتکاف کروں گا یا بغیر کسی شرط کے یہ کہے کہ میں اپنے اوپر اتنے دنوں کا اعتکاف لازم کرتا ہوں،ان تمام صورتوں میں جتنے دنوں کی نیت کی ہے، اتنے دن روزے رکھ کر اعتکاف کرنا لازم اور ضروری ہو جائے گا۔

۲۔ دوسری قسم سنت مؤکدہ ہے جو رمضان شریف کے آخری عشرہ یعنی آخری دنوں میں ہوتا ہے اس کا وقت رمضان المبارک کی بیس تاریخ کے غروب آفتاب سے لے کر عید کا چاند نظر آنے تک ہے۔  چاند چاہے انتیس تاریخ کا ہو یا تیس کا، دونوں صورتوں میں سنت ادا ہوجائے گی۔ حضور علیہ السلام ان ایام میں ہر سال پابندی کے ساتھ اعتکاف فرماتے تھے جیساکہ حسب ذیل روایات سے ثابت ہے۔

حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے : ‘‘أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ يَعْتَکِفُ الْعَشْرَ الاوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ’’۔  ترجمہ:  ‘‘حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھا کرتے تھے’’۔ (ابن ماجه، السنن، کتاب الصيام، باب فی المعتکف يلزم مکانًا من المسجد)

فقیہ الامت علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمتہ(متوفی1252ھ) لکھتے ہیں کہ: ”رمضان المبارک کے آخری عشرے کااعتکاف ہرچندکہ سنت مؤکدہ ہے،لیکن شروع کرنے سے لازم ہو جاتاہے۔اگرکوئی شخص ایک دن کا اعتکاف فاسدکردے تو امام ابویوسف کے نزدیک اس پر پورے دس کی قضاءلازم ہے،جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ اورامام محمدبن حسن شیبانی رحمة اللہ علیہماکے نزدیک اس پرصرف اسی ایک دن کی قضاءلازم ہے۔(ردالمحتار:131/2)

۳۔ تیسری قسم اعتکاف نفل ہے۔ اس میں نہ تو کسی وقت کی شرط ہے نہ کسی دن کی قید، بلکہ انسان جس وقت اور جس روز چاہے مسجد میں داخل ہوتے وقت اعتکاف کی نیت کر لے۔ جب تک مسجد میں رہے گا اعتکاف کا ثواب ملتا رہے گا۔

یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ اعتکاف واجب اور اعتکاف مسنون کے لئے روزہ شرط ہے۔ روزے کے بغیر یہ اعتکاف اد انہیں ہوتے ، لیکن نفلی اعتکاف کے لئے ضروری نہیں ، اس لئے ہر شخص کو اس کا خیال اور اہتمام کرنا چاہئے کہ جب بھی مسجد میں آئے اگر چہ دس یا پانچ منٹ کے لئے ہو ، اعتکاف کی نیت کر لیا کرے۔ ادھر نماز پڑھتا رہے گا اور ساتھ ہی ساتھ اعتکاف کا ثواب بھی ملتا رہے گا۔ اس طرح اگر ہم ذرا سی توجہ کر لیا کریں تو روزانہ بغیر کسی محنت و مشقت کے مفت میں کتنے اعتکافوں کا ثواب  ہو سکتا ہے۔

اعتکاف کی نیت

رمضان شریف کے اعتکاف کی نیت اس طرح کریں، ’’میں اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے سنت اعتکاف کی نیت کرتا/ کرتی ہوں‘‘

اعتکاف کی نیت کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ نیت دل کے ارادے کو کہتے ہیں، اگر دل ہی میں آپ نے ارادہ کرلیا کہ میں سنت اعتکاف کی نیت کرتا ہوں تو یہی کافی ہے۔ زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بہتر ہے۔ اپنی مادری زبان میں بھی نیت ہوسکتی ہے۔ اگر عربی زبان میں نیت آتی ہو تو بہتر و مناسب ہے۔

اعتکاف کی نیت عربی میں یہ ہے۔

نویت سنت الاعتکاف ﷲ تعالیٰ ۔ترجمہ: میں نے اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے سنت اعتکاف کی نیت کی۔

مسئلہ: مسجد کے اندر کھانے، پینے اور سونے کی اجازت نہیں ہوتی، مگر اعتکاف کی نیت کرنے کے بعد اب ضمناً کھانے، پینے اور سونے کی بھی اجازت ہوجاتی ہے، لہذا معتکف دن رات مسجد میں ہی رہے، وہیں کھائے، پیئے اور سوئے اور اگر ان کاموں کے لئے مسجد سے باہر ہوگا تو اعتکاف ٹوٹ جائے گا۔

اعتکاف بیٹھنے کی شرائط

اعتکاف بیٹھنے کی شرائط یہ  ہیں : 1۔ مسلمان ہونا۔ 2۔ اعتکاف کی نیت کرنا۔ 3۔ حدث اکبر (یعنی جنابت) اور حیض و نفاس سے پاک ہونا۔ 4۔ عاقل ہونا۔ 5۔ مسجد میں اعتکاف کرنا۔ 6۔ اعتکاف واجب (نذر) کے لئے روزہ بھی شرط ہے۔

خواتین کا اعتکاف

جی ہاں! خواتین بھی اعتکاف بیٹھ سکتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَزواجِ مطہرات بھی اعتکاف بیٹھا کرتی تھیں جیسا کہ حدیث مبارکہ سے ثابت ہے :

’’اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ اﷲ تعالیٰ کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال مبارک ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا ہے۔‘‘

 بخاری، الصحيح، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الاواخر والاعتکاف فی المساجد، 2 :  713، رقم :  1922

عورت  کو مسجد میں اعتکاف مکروہ ہے ، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اس نے نماز پڑھنے کے لئے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجد بیت کہتے ہیں اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیےکوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کر لے۔بلکہ مرد کو بھی چاہیے کہ نوافل کے لیے گھر میں کوئی جگہ مقرر کر لے کہ نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے ۔ اگر عورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت  یعنی جب کہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے ۔(بہار شریعت ج ۵  اعتکاف کا بیان ، در مختار، رد المحتار ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، ج ۳ ص۴۹۴)

معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں۔

ایک حاجت طبعی کہ مسجد میں پوری نہ ہو سکے جیسے پاخانہ ، پیشاب ، استنجا، وضو اور غسل کی ضرورت ہو تو غسل ، مگر غسل و وضو میں یہ شرط ہے کہ مسجد میں نہ ہو سکیں یعنی کوئی ایسی چیز نہ ہو جس میں وضو و غسل کا پانی لے سکے اس طرح کہ مسجد میں پانی کی کوئی بوند نہ گرے کہ وضو و غسل کا پانی مسجد میں گرانا ناجائز ہے اور لگن وغیرہ موجود ہو کہ اس میں وضو اس طرح کر سکتا ہے کوئی چھینٹ مسجد میں نہ گرے تو وضو کے لیے مسجد سے نکلنا جائز نہیں ، نکلے گا تو اعتکاف جاتا رہے گا۔یوہیں اگر مسجد میں وضو و غسل کے لیے جگہ بنی ہو یا حوض ہو تو باہر جانے ک اب اجازت نہیں۔

دوسرا حاجت  شرعی مثلا عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں ۔(درمختار ، رد المحتار ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، ج ۳ ، ص ۵۰۱) 

اعتکاف کے دوران معتکف عیادتِ مریض یا نمازِ جنازہ کے لئے نہیں جاسکتا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں :

’’اعتکاف کرنے والے کے لئے سنت ہے کہ وہ کسی مریض کی عیادت نہ کرے، نہ کسی جنازے کے ساتھ جائے، نہ اپنی بیوی کو چھوئے اور نہ اس سے مباشرت کرے اور غیر ضروری حاجت کے علاوہ اعتکاف گاہ سے نہ نکلے۔‘‘ (ابو داؤد، السنن، کتاب الصوم، باب المعتکف يعود المريض)

ہاں اگر گزرتے گزرتے بلا توقف بیمار کی عیادت کر لی جائے تو جائز ہے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں :

کَانَ النَبِیَّ صلی الله عليه وآله وسلم يمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَکِفٌ، فَيمُرُّ کَمَا هوَ وَلَا يعَرِّجُ يساَلُ عَنْه. وَقَالَ بنُ عِيسَی :  قَالَتْ :  أَن کَانَ النَّبِیُّ صلی الله عليه وآله وسلم يعُوْدُ الْمَرِيضَ، وَهوَ مُعْتَکِفٌ.

’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حالتِ اعتکاف میں مریض کے پاس سے گزرتے تو توقف کیے بغیر چلتے چلتے اُس کا حال دریافت فرما لیتے۔ ابنِ عیسیٰ راوی کہتے ہیں :  سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرما رہی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بحالتِ اعتکاف مریض کی عیادت فرمایا کرتے تھے۔‘‘ (ابو داؤد، السنن، کتاب الصوم، باب المعتکف يعود المريض)

معلوم ہوا کہ معتکف کا جنازے اور بیمار پُرسی کے لئے بالالتزام جانا جائز نہیں۔ اس غرض سے وہ مسجد سے باہر نکلا تو اس کا اعتکاف فاسد جائے گا۔ لیکن اگر  منت  مانتے وقت یہ شرط کر لی کہ مریض کی عیادت اور نماز جنازہ اور مجلس علم میں حاضر ہوگا تو یہ شرط جائز ہے۔ اب اگر ان کاموں کے لیے جائے تو اعتکاف فاسد نہ ہوگا۔مگر سنت اعتکاف حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے ثابت شدہ طریقے سے ہی ادا ہوگا اور آپ علیہ الصلو ۃ والسلام سے اعتکاف کے دوران اس قسم کی حاجت کے لیے نکلنا ثابت نہیں لہذا ظاہر یہی ہے کہ سنت اعتکاف میں اس طرح کی شرط لگائے گا تو یہ اعتکاف نفلی ہو جائے گا۔(جد الممتار ، کتاب الصوم ، باب الاعتکاف ، ج ۳ ، ص ۲۹۵، ملخصا)۔ مگر خالی دل میں نیت کرلینا کافی نہیں بلکہ زبان سے کہہ لینا ضروری ہے۔ (الفتاوی الھندیہ ، کتاب الصوم ، الباب السابع فی الاعتکاف ، ج ۱ ، ص ۲۱۲)

(افادات از: حضرت صدر الشریعہ علامہ امجد علی ، بہار شریعت ، ج ۵، اعتکاف کا بیان، ناشر مکتبہ المدینہ ، محمد نعیم اللہ خان قادری ، رسائل رمضان،مکتبہ اہل سنت ، نظامیہ کتاب گھر، مکتبہ قادریہ دربار مارکیٹ لاہور)  

غلام غوث صدیقی دہلوی  عالم و فاضل  ،  ڈبل ایم اے (عربک)  اور  ( انگریزی)،عربی ، انگریزی، اردو  اور ہندی زبانوں کے مترجم اور نیو ایج اسلام کے ریگولر کالم نگار ہیں۔ ای میل:ghlmghaus@gmail.com

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/i’tekaaf-(sitting-in-seclusion-in-the-mosque)---merits-and-precepts--اعتکاف-----فضائل-و-مسائل/d/111556

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..