New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 07:45 AM

Urdu Section ( 1 Feb 2017, NewAgeIslam.Com)

Are ISIS, Taliban and Al-Qaeda Kahrijite Organisations? (Part-2) کیا داعش ،طالبان اور ا لقاعدہ خوارج صفت تنظیمیں ہیں؟ قسط ۲




غلام غوث صدیقی ، نیو ایج اسلام

خوارج کون ہیں؟

قبل اس کے کہ احادیث کریمہ کی روشنی میں خوارج کی علامات اور عقائد و نظریات کا جائزہ لیا جائے، خوارج کی چند واضح تعریفات درج کی جا رہی ہیں تاکہ ابتداء میں ہی واضح ہوجائے کہ خوارج کسے کہا جاتا ہے۔

خوارج کی لغوی تعریف : خوارج خارج کی جمع ہے جوخروج سے مشتق ہے ،کیونکہ ان کایہ نام ان کے خروج کی وجہ سے پڑاہے ، چاہے دین سے نکل جانے کے سبب سے یا مولی علی رضی اللہ عنہ کیخلاف خروج کے سبب سے خواہ مسلمانوں کے خلاف خروج کی وجہ سے (دیکھئے : تاج العروس :۳۰/۲ ، تہذیب اللغۃ :۵۰/۷ ،اورفرق معاصرہ :۶۶/۱)

خوارج کی اصطلاحی تعریف : خوارج کی تعریف کے سلسلے میں علمائے کرام نے کئی باتیں لکھی ہیں :

امام شہرستانی لکھتے ہیں :"۱۳۲؍۱)" ترجمہ: ہروہ شخص جواہل سنت والجماعت کے متفقہ امام کیخلاف خروج کرے اسے خارجی کہاجاتا ہے، یہ خروج صحابہ کرام کے زمانے میں ہو ، خلفاء راشدین کیخلاف ہو، ان کے بعد تابعین کیخلاف ہو خواہ ہرزمانے میں ائمہ کیخلاف"۔

تقریبا اسی طرح کی تعریف امام ابن حزم نے بھی کی ہے۔ (دیکھئے : الفصل فی الملل والنحل :۱۱۳؍۲)

امام ابوالحسن اشعری نے خوارج کااطلاق ان لوگوں پرکیاہے جنہوں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیاتھا۔(المقالات : ۲۰۷؍۲)

امام نووی فرماتے ہیں : "الخوارج : صنف من المبتدعۃ یعتقدون أن من فعل کبیرۃ کفر، وخلد فی النار، ویطعنون لذلک فی الأئمۃ ولا یحضرون معھم الجمعات والجماعات"(روضۃ الطالبین: ۵۱: ۱۰) ترجمہ: ’’خوارج بدعتیوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ لوگ گناہ کبیرہ کے مرتکب کے کافر اور دائمی دوزخی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے مسلم امراء و حکام پر طعن زنی کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جمعہ اور عیدین وغیرہ کے اجتماعات میں شریک نہیں ہوتے۔‘‘

حافظ ابن حجر عسقلانی فتح الباری میں فرماتے ہیں : ’’الخوارج :فھم جمع خارجۃ أی طائفۃ، وھم قوم مبتدعون سموا بذلک لخروجھم عن الدین، وخروجھم علی خیار المسلمین.‘‘ (فتح الباری، ۲۸۳؍۱۲) ترجمہ: ’’خوارج، خارجۃ کی جمع ہے جس کا مطلب ہے : ’’گروہ‘‘۔ وہ ایسے لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے۔ ان کو (اپنے نظریہ، عمل اور اقدام کے باعث) دین اسلام سے نکل جانے اور خیار امت کے خلاف (مسلح جنگ اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے یہ نام دیا گیا۔‘‘

امام بدر الدین عینی عمدۃ القاری میں لکھتے ہیں : طائفۃ خرجوا عن الدین وھم قوم مبتدعون سموا بذلک لأنھم خرجوا علی خیار المسلمین.(عمدۃ القاری: ۸۴؍۲۴) ترجمہ: ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو دین سے خارِج ہوگئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو بدعات کا ارتکاب کرتے تھے (یعنی وہ اْمور جو دین میں شامل نہ تھے ان کو دین میں شامل کرتے تھے)۔ (دین اسلام سے نکل جانے اور) بہترین مسلمانوں کے خلاف (مسلح بغاوت اور دہشت گردی کی) کارروائیاں کرنے کی وجہ سے اْنہیں خوارج کا نام دیا گیا۔‘‘

علامہ ابنِ نجیم حنفی، خوارج کی تعریف یوں کرتے ہیں: ’’الخوارج: قوم لھم منعۃ وحمیۃ خرجوا علیہ بتأویل یرون أنہ علی باطل کفر أو معصیۃ توجب قتالہ بتأویلھم یستحلون دماء المسلمین وأموالھم. (ابن نجیم، البحر الرائق: ۱۲؍۲۳۴) ترجمہ: ’’خوارج سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے پاس طاقت اور (نام نہاد دینی) حمیت ہو اور وہ حکومت کے خلاف بغاوت کریں۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ وہ کفر یا نافرمانی کے ایسے باطل طریق پر ہے جو ان کی خود ساختہ تاویل کی بنا پر حکومت کے ساتھ قتال کو واجب کرتی ہے۔ وہ مسلمانوں کے قتل اور ان کے اموال کو لوٹنا جائز سمجھتے ہیں۔‘‘

فتنہ خوارج کا آغاز اسلام کی پہلی صدی میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ذو الخویصرہ تمیمی نامی گستاخ کی گستاخی سے ہوا۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی آیا اور کہنے لگا: "اے اللہ کے رسول! انصاف سے کام لیجیے۔" آپ نے فرمایا: "تمہاری خرابی! اگر میں انصاف نہ کروں گا تو اور کون کرے گا؟" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "مجھے اجازت دیجیے کہ اس کی گردن اڑا دوں۔" آپ نے فرمایا: "اسے چھوڑ دیجیے۔ اس کے ایسے ساتھی ہیں کہ آپ میں سے کوئی شخص، ان کی نماز کے مقابلے میں اپنی نماز کو حقیر سمجھے گا اور اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں حقیر سمجھے گا۔ یہ لوگ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور اس کے پروں کو دیکھا جائے تو کچھ معلوم نہیں ہوتا ہے۔ پھر اس (تیر کے) پھل کو دیکھا جائے تو معلوم نہیں ہوتا ہے (کہ یہ شکار کے اندر سے گزرا ہے) حالانکہ وہ خون اور گوبر سے ہو کر گزرا ہے۔ ان کی نشانی یہ ہو گی کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کا ایک ہاتھ یا ایک چھاتی، عورت کی چھاتی کی طرح ہو گی۔ یا فرمایا کہ گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگی اور ہلتی ہوگی۔ یہ لوگوں میں خانہ جنگی کے وقت نکلیں گے۔" ابو سعید کہتے ہیں: "میں گواہی دیتا ہوں کہ جب حضرت علی نے ان لوگوں کو قتل کیا تو میں ان کے پاس تھا۔ اس وقت (ان کے سامنے) ایک شخص اسی صورت کا لایا گیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔ انہی کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : "ان میں سے بعض لوگ وہ ہیں جو آپ پر صدقات کے بارے میں طعنہ زنی کرتے ہیں۔" (صحیح بخاری: کتاب استتابۃ المرتدین: ۶۵۳۲، ۶۵۳۴ ، صحیح مسلم: باب ذکر الخوارج و صفاتھم، رقم: ۱۰۶۴)

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ خوارج کے فتنہ کا آغاز عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں ہی ہو گیا تھا۔ عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی کی خصوصیت یہ تھی کہ یہ بہت زیادہ عبادات کیا کرتا تھا اور اس بنا پر ایک نوعیت کے تکبر کا شکار ہو گیا۔ یہ خود کو اتنا حق پرست سمجھنے لگا کہ اپنے مقابلے میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی معاذ اللہ ناانصافی کرنے والا سمجھ بیٹھا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ اسی ذوالخویصرہ تمیمی کا ہم خیال گروہ ہی بعد میں خوارج کی شکل میں ظاہر ہوا۔ (دیکھئے : الاصابہ فی تمییز الصحابہ ۲: ۴۹)۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں خوارج زیادہ کھل کر سامنے آئے اور امام علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں خوارج ایک باقاعدہ دہشت گرد گروہ کی شکل میں ظاہر ہوا۔ خوارج معاذ اللہ مولا علی رضی اللہ عنہ کو ’’کافر‘‘ کہنے لگے اور نام نہاد جہاد کے نام پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور امت مسلمہ کے خلاف بغاوت کر بیٹھے۔ اپنی بغاوت میں انہوں نے یہ نعرہ لگایا ’’ لا حکم الا للہ‘‘ یعنی اللہ کے سوا کسی کا حکم (قبول) نہیں۔ جب خوارج کا یہ نعرہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سنا تو فرمایا : ’’کلمۃ حق ارید بھا باطل ‘‘ یعنی ’’بات تو حق ہے لیکن اسکا اطلاق و مقصود باطل ہے‘‘۔ (صحیح مسلم)۔ اور اس طرح خوارج فساد فی الارض یعنی زمین پر فساد پھیلانے والے مجرموں میں سے ہو گئے۔

URL to read its short version in English: http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ghulam-ghaus,-new-age-islam/isis,-taliban,-al-qaeda-and-other-islamist-terrorists-are-kharijites?-an-analysis-of-40-major-characteristics-of-kharijites/d/106173

(بقیہ آئندہ)

غلام غوث صدیقی دہلوی اسلامی صحافی ، انگریزی،عربی ،اردو زبانوں کے مترجم اور نیو ایج اسلام کے ریگولر کالم نگار ہیں۔ ای میل:ghlmghaus@gmail.com

URL for Part 1: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/are-isis,-taliban-and-al-qaeda-kahrijite-organisations?-(part-1)-کیا-داعش-،طالبان-اور-ا-لقاعدہ-خوارج-صفت-تنظیمیں-ہیں؟-قسط-۱/d/109905

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus-siddiqi,-new-age-islam/are-isis,-taliban-and-al-qaeda-kahrijite-organisations?-(part-2)-کیا-داعش-،طالبان-اور-ا-لقاعدہ-خوارج-صفت-تنظیمیں-ہیں؟-قسط-۲/d/109918

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..