New Age Islam
Sat Oct 16 2021, 11:18 PM

Urdu Section ( 26 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Violent Takfirism Greatly Violates Islam (تکفیری گروپ اسلامی تعلیمات کے خونخوار دشمن اور طالبانی میگزین ‘نوائے افغان جہاد’ کے مضمون ‘ کفر و ارتداد کا مجاہدین اسلام کے خلاف اتحاد’ کی سخت تردید ۔ (حصہ۔ 2

 

 

غلام غوث، نیو ایج اسلام

20 اکتوبر، 2014

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اس وقت تک کسی بھی مسلمان کی تکفیر کرنا اسلام میں ناجائز و حرام ہےجب تک وہ خود علیٰ الاعلان اپنے کفر کا اقرار نہ کر لے۔ تاہم طالبان کے نظریہ ساز جناب کاشف علی الخیری نے "نوائے افغان جہاد" میگزین کے جولائی 2014 کے شمارے میں پورے زور و شور کے ساتھ ان پاکستانی علماء پر 'کفر' و 'الحاد' کا الزام لگایا جنہوں نے آپریشن ضرب عضب کی حمایت کی اور اسے دہشت گردوں کے خلاف ایک جہاد قرار دیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے پاکستان کے ان تمام 'کفار' اور 'مرتدین' کو قتل کرنے کے لیے خود ساختہ قانونی جواز پیش کیا ہے۔ اور اس طرح انہوں نے نہ صرف یہ کہ پوری بے غیرتی کے ساتھ قرآن و حدیث اور ان کے معانی کا غلط استعمال کیا ہے بلکہ انہوں نے چاروں اسلامی فقہی مذاہب کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔

طالبانی نظریہ ساز جناب کاشف علی الخیری کے بیانات سے مرکزی دھارے میں شامل صوفی مسلمانوں کو مستقبل میں حملوں کا خطرہ شدید ہو گیا ہے جن کے بارے میں ان کا ماننا ہے کہ یہ "مشرکوں کی جماعت" ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی ایس آئی ایل، تحریک طالبان، القاعدہ وغیرہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کا نام نہاد جہاد صوفی مسلمانوں کو قتل کرنے اور اسلامی ثقافتی ورثے (مزاروں، قبروں اور مقدس مقامات) کو تباہ کرنے کے لیے ہے۔ اور وہ یہ کام تکفیرازم کے جھوٹے بہانے کے تحت کرتے ہیں جس کا نتیجہ تشدد اور قتل و غارت گری ہے۔

جناب کاشف کے مطابق تقریبا تمام پاکستانی مسلمانوں کو قتل کرنا بالکل جائز ہے اس لیے کہ وہ 'کافر' اور 'مرتد' ہیں۔ صوفی مسلمانوں کو کافر قرار دینے اور ان کے قتل کا جواز پیش کرنے کا ان کا جذبہ اسلامی تعلیمات کی سخت خلاف ورزی ہے۔ عام مسلمانوں یا صوفی مسلمانوں کی تو بات ہی چھوڑدیں غیر مسلموں کو بھی قتل کرنا اسلام میں ناجائز و حرام ہے۔

کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہےکہ طالبان جیسی دہشت گرد تنظیمیں پاکستان، عراق، افغانستان، تیونس، لیبیا، مصر، مالی، شام اور ترکی وغیرہ میں غیر وہابی یا صوفی مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کیو ں کر رہے ہیں۔ اس کے جواب کو بہتر طریقے سے مندرجہ ذیل مندرجہ سطور میں سمجھا جا سکتا ہے۔

ابن عبد الوہاب کی تعلیمات طالبانی دہشت گردی کی بنیاد ہیں

مکہ مکرمہ کے مفتی اعظم مولانا شیخ الاسلام احمد زینی دہلانی رضی اللہ عنہ، (متوفی 1886) اپنے مضمون "فتنۃ الوہابیہ" میں لکھتے ہیں:

"ابن عبد الوہاب کے والد، بھائی او مشائخ نے اس کے بارے میں جو جو قیاس آرائیاں کیں وہ سب سچ ثابت ہوئیں۔ ابن عبد الوہاب نے غلط اور گمراہ کن معتقدات و معمولات اختراع کیا اور کچھ جاہل لوگ سے اپنی اطاعت کروانے میں کامیاب ہو گیا۔ غلط اور گمراہ کن معتقدات و معمولات علماء اسلام کے اقوال سے مختلف تھے۔ ان کے غلط اور گمراہ کن معتقدات و معمولات کی وجہ سے مومنوں پر کفر و الحاد کے الزامات لگائے جانے لگے! اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی قبر پر حاضری اور توسل کو شرک قرار دیا۔ اس کے علاوہ اس نے دیگر انبیاء اور صالحین کی قبروں پر حاضری اور ان سے توسل کو بھی شرک قرار دیا۔ اس نے کہا کہ، "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے توسل کرنا شرک ہے۔" اس نے ان لوگوں کو بھی مشرک کہا جو دیگر انبیاء اور صالحین سے توسل کرتے ہیں۔

"اپنی بدعات کو معتبر بنانے کے لیے ابن عبد الوہاب نے انہیں اسلامی مصادر و ماخذ سے بھی مزین کیا اور اس نے ان حوالہ جات کو اپنی بدعات کے ثبوت میں نقل کیا جن کا استعمال کسی دوسرے مسائل کے اثبات میں کیا جاتا ہے۔ اس نے جھوٹے بیانات پیش کیے اور انہیں خوبصورتی کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی یہاں تک کہ لوگ ان پر عمل پیرا ہو گئے۔اور اس نے مضامین اور مقالات لکھ لکھ کر شائع کیے یہاں تک کہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ ماضی کے اکثر موحد (خدا کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے) کافر تھے۔ "

اس کے نظریات ایسے تھے جن سے مسلمانوں میں زبردست تقسیم اور تفرقہ پیدا ہو گیا۔ اور اس وجہ سے انتہا پسندی، بنیاد پرستی اور تمام ممکنہ تشدد آمیز طریقے دنیا بھر میں پھیلنے شروع ہو گئے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ ابن عبد الوہاب نے تمام غیر وہابی مسلمانوں کو مشرک کہا اور تمام غیر وہابی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے خلاف اپنے پیروکاروں کو 'جہاد' کرنے کا بھی حکم یا۔

ابن عبد الوہاب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے طالبانی نظریہ ساز جناب کاشف علی نے بھی صوفی اور غیر وہابی مسلمانوں کو 'کفار' کہا ہے اور ان کے قتل کا نام نہاد اور بے بنیاد جواز پیش کیا ہے۔ اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ جیسے صوفی علماء کرام نے ابن عبد الوہاب نجدی اور اسماعیل دہلوی جیسے جھوٹے نظریہ سازوں کی تردید کی ہے جنہوں نے عام مسلمانوں کو 'مشرک' قرار دیا تھا۔ لہٰذا مسلمانوں کی اکثریت اب بھی مسلمان ہے۔ چنانچہ انہیں 'کفار' کہنا اب بھی اسلام کی خلاف ورزی ہے۔ جہاں تک ان کے قتل کی بات ہے تو یہ اسلام کی اور بھی بڑی خلاف ورزی ہے۔

جب ہم اسلام کے مصادر و ماخذ قرآن اور احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ایسی بے شمار آیتیں اور حدیثیں ملتی ہیں جن میں مسلمانوکے قتل کی سختی کے ساتھ ممانعت وارد ہوئی ہے۔

قرآن مجید مومن کےقتل کی ممانعت کرتاہے

اللہ کا فرمان ہے:

"اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا دیں بغیر کسی جرم کے جو ان سے سرزد ہوا ہو، وه (بڑے ہی) بہتان اور صریح گناه کا بوجھ اٹھاتے ہیں"۔ (33:58)

" جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وه کسی کا قاتل ہو یا زمین میں فساد مچانے وا ہو، قتل کر ڈالے تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا، اور جو شخص کسی ایک کی جان بچا لے، اس نے گویا تمام لوگوں کو زنده کردیا" (5: 32)

اس آیت میں لفظ 'نفس' کا استعمال یکساں طور پر مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کے لیے کیا گیا ہے۔ لہٰذا کسی بھی انسان کا ظلماً خون کرنا اسلام میں ناجائز و حرام ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ اس کا مذہب کیا ہے۔ لہذا، کسی بھی غیر وہابی مسلم کا خون کرنا اتنا ہی سخت گناہ جتنا کہ پوری انسانیت کا قتل کرنا ہے۔

قرآن کا فرمان ہے:

"اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ ان کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو"۔ (6:151)

اللہ نے ایک قوم کو دوسری قوم کا مذاق اڑانے سے منع کیا فرمایا ہے:

"اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہو اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے یہ ان سے بہتر ہوں ۔"(49:11)

مسلمانوں کے جان کی حرمت احادیث میں:

اب ہم مندرجہ ذیل احادیث پر غور کرتے ہیں:

"کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے مارنا کفر ہے۔" (صحیح بخاری جلد 9، کتاب 88، حدیث نمبر 197)

اسلام نے ایک مومن کی زندگی کو کتنا قیمتی بنایا  ہے اس کا اندازہ اس بات سے بآسانی  لگایا جا سکتا ہے کہ انسان کے خون کی حرمت کعبہ کی حرمت سے بھی زیادہ ہے۔ کیا طالبانی عسکریت پسندوں کی نظر سے یہ حدیث نہیں گزری؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:

"تم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی کی طرف ہتھیار نہ اٹھاے اس لیے کہ وہ یہ نہیں جاناتا کہ شیطان اس ہتھیار سے کسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے جس کی وجہ سے جہنم اس کا مقدر بن سکتا ہے" (صحیح مسلم، کتاب الفضائل ، (کتاب البر والصلوٰۃ والادب) امام حاکم نے اس حدیث کو المستدرک، بیہقی السنن الکبری میں روایت کی ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ: "جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار اٹھاتا ہے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں اگر چہ وہ اس کا اپنا بھائی ہی کیوں نہ ہو اور اس وقت تک لعنت بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ ہتھیار رکھ نہ دے۔ (صحیح مسلم، امام ترمذی بھی یہی حدیث السنن میں روایت کرتے ہیں، امام حاکم المستدرک میں اسے رایت کرتے ہیں، امام بیہقی اس حدیث کو سنن الکبریٰ میں روایت کرتے ہیں)

یہاں تک کہ ڈرامے میں بھی کسی مسلمان کی طرف چاقو، خنجر، تلوار، یا بندوق جیسے کسی ہتھیار سے اشارہ کرنا اسلام میں حرام ہے۔ غیر ضروری طور پر کسی مسلمان کو خوفزدہ کرنا ایک مسلمان کے لئے سخت ممنوع ہے۔ ابھی ہمیں حدیث سے یہ سبق حاصل ہوا کہ جو شخص کسی مسلمان پر ہتھیار اٹھاتا ہے اللہ کے فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔

امام بیہقی نے سنن الکبری، سنن ابن ماجہ اور امام الرابعی نے اپنی مسند میں مندرجہ ذیل حدیث نقل کی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ باتوں سے بھی کسی مسلمان کو مارنے میں مدد کرناممنوع ہے:

"جو شخص کسی مسلمان کو الفاظ کے ذریعہ بھی قتل کرنے میں مدد کرتا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں پیش کیا جائے گا کہ اس کی آنکھوں کے درمیان وہ الفاظ لکھے ہوئے ہوں گے اور وہ اللہ کی رحمت سے مایوس ہوگا۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ: "ایک سچا مسلمان وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے تمام مسلمان محفوظ ہوں؛ ایک سچا مسلمان وہ ہے کہ جس سے لوگوں کی زندگی اور مال و دولت محفوظ ہو؛ اور ایک سچا مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو اور اسے خدا کی اطاعت پر مجبور کرتا ہو، اور ایک سچا مہاجر وہ ہے جو ان تمام چیزوں کو ترک کر دے جسے اللہ نے ممنوع قرار دیا ہے۔ اس پروردگار کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے وہ شخص کبھی جنت میں نہیں جائے گا جس کا پڑوسی اس کے ظلم و زیادتی سے محفوظ نہ ہو۔ (یہی حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ بخاری شریف، مسلم شریف، ترمذی، نسائی، ابو داؤد، احمد بن حنبل، دارمی، ابن حبان، بیہقی، نسائی سنن الکبری، ابن ابی شیبہ، عبد الرزاق، ابو یعلی اور حمیدی میں بھی مروی ہے۔)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور جو ہم سے بددیانتی کرے وہ بھی ہم میں سے نہیں ہے" (مسلم شریف جلد۔I، صفحہ۔58)

مذکورہ بالا تمام آیات قرآنیہ اور احادیث سے مسلمانوں کو قتل کرنے کی ممانعت سختی کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔ لہٰذا  طالبانی دہشت گردوں کے پاس مسلم بھائیوں کو قتل کرنے کے لیے کوئی شرعی بنیاد نہیں ہے۔ ان کے پاس خود کو اسلام، قرآن، حدیث، شریعت، جہاد یا کسی بھی اسلامی اصطلاح سے وابستہ کرنے کا کوئی مذہبی جواز نہیں ہے  بلکہ یہ تو وہ  لوگ  ہیں جو  مظلوموں  اور بے گناہوں   کا قتل کرکے  اسلام اور مسلمانوں کو   دنیا  بھر  میں  بدنام  کر رہے ہیں۔ کیا ایسے دہشت گردانہ عمل کے ذریعہ  بھلا اسلام لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتا ہے ؟  نہیں ، ہرگز نہیں  ۔

(جاری ۔۔۔۔)

URLfor English article:

http://www.newageislam.com/islamic-ideology/ghulam-ghaus,-new-age-islam/violent-takfirism-greatly-violates-islam--refutation-of-talibani-magazine-nawa-e-afghan-jihad’s-article-titled-“kufr-and-apostasy-united-against-islamic-mujahedeen”-part-2/d/99625

URL for this article:

http://newageislam.com/urdu-section/ghulam-ghaus,-new-age-islam/violent-takfirism-greatly-violates-islam--(تکفیری-گروپ--اسلامی-تعلیمات-کے-خونخوار--دشمن--اور-طالبانی-میگزین-‘نوائے-افغان-جہاد’-کے--مضمون--‘-کفر-و-ارتداد-کا-مجاہدین-اسلام-کے-خلاف-اتحاد’-کی-سخت--تردید-۔-(حصہ۔-2/d/100205

 

Loading..

Loading..