New Age Islam
Sat Sep 25 2021, 03:17 PM

Urdu Section ( 30 Jul 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Refutation of ISIS-the Quranic verse 9:5 –Part 3 آیت 9:5 سے متعلق ظاہر اور نص کے اصول سے داعش کا رد جسے 21 ویں صدی میں تشدد کے جواز میں پیش کیا جاتا ہے

غلام غوث، نیو ایج اسلام

حصہ 3

26 اکتوبر 2019

تردید کا یہ حصہ ظاہر اور نص کے فقہی اصول پر مبنی ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ جب ان دونوں کا آپس میں تصادم ہو تو ترجیح نص کو دی جاتی ہے۔

آگے بڑھنے سے قبل ہم ظاہر اور نص کی تعریف جان لیتے ہیں۔ لغت میں ظاہر کا معنی روشن، کھلا ہوا، عیاں ہے۔ اصطلاح میں اصولیین کے مطابق ظاہر ہر وہ کلام ہے جس کی مراد سامع کو بلا غور و فکر محض کلام سنتے ہی معلوم ہو جائے، یا امام بزدوی کے الفاظ میں "ظاہر ہر اس کلام کا نام ہے جس کا مقصد سننے والوں کو اس کے الفاظ سے ظاہر ہو جاتا ہے"، جبکہ امام سرخسی ظاہر کی تعریف اس طرح کرتے ہیں کہ "ظاہر وہ ہے جو خالص سماعت سے، غور و فکر کیے بغیر ہی سمجھ میں آ سکے۔ ظاہر کا معنی واضح ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں گنجائش ہوتی ہے کہ وہ ایک متبادل تشریح بھی قبول کر سکے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کا ظاہری معنی ہمیشہ اس سیاق و سباق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں جس میں اس کا نزول ہوا ہے، دوسرے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ کبھی کبھی ظاہر اور نص میں تضاد ہو تا ہے۔

نص اس چیز کو کہتے ہیں جس کے لیے کلام کو لایا گیا ہو یعنی کلام کو لانے کا جو مقصود ہو اسے نص کہا جاتا ہے۔ نص ایک واضح عبارت کی نشاندہی کرتا ہے جس سے کلام کے وارد ہونے کا سبب واضح ہوتا ہے۔ نص سے قائل کا مقصد ظاہر ہوتا ہے جبکہ کبھی ظاہر  کا معنی قائل کا مقصود نہیں ہوتا۔

اسے ایک مثال سے یوں سمجھیے کہ  جب کچھ مشرکین مکہ نے یہ دعویٰ کیا کہ ’بیع‘ اور ’ربا‘ دونوں ایک ہی جیسے ہیں۔ قرآن ان کے اس دعوے کا حوالہ یو ں پیش کرتا ہے، ’’انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے‘‘، (2:275)۔

ان لوگوں کے جواب میں اور بیع اور ربا کے درمیان فرق پیدا کرنے کے لئے اللہ نے یہ آیت نازل کی ’’اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیا سود‘‘(2:275)۔

یہ آیت نص ہے ان دونوں اصطلاحات ‘بیع ’ اور ‘سود’ کے درمیان فرق ظاہر کرنے میں اس لئے کہ دونوں ایک نہیں ہے۔ اور یہ آیت ظاہر ہے اپنے اس معنی میں کہ تجارت حلال ہے اور سود حرام ہے۔

ظاہر اور نص کا حکم یہ ہے کہ ان دونوں پر عمل کیا جائے گا۔ تاہم، اگر ان دونوں کے مابین کوئی تنازعہ ہو جائے تو نص کو ظاہر پر ترجیح دی جائے گی۔

اب ہم آیت 9:5 ’’مشرکوں کو مارو جہاں پا ؤ‘‘ سے متعلق ظاہر اور نص پر غور کرتے ہیں۔ یہ آیت مومنین کو مشرکین جہاں کہیں بھی پائے جائیں مار ڈالنے کا حکم دینے میں ظاہر ہے جبکہ یہ آیت جنگ کی حالت میں مذہبی استحصال کرنے والوں اور صلح کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف لڑنے کا حکم دینے میں نص ہے۔ اس آیت کے نزول کا مقصد جنگ کی حالت میں مذہبی استحصال کرنے والوں اور عسکریت پسندوں کے قتل کی اجازت دینا ہے۔ کیونکہ وہ "مرو یا مار ڈالو" کی سی صورتحال تھی۔ اگر جنگ سے متعلق تمام آیتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو اس مقصد کو آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے، مثلا آیت “اور اے محبوب اگر کوئی مشرک تم سے پناہ مانگے تو اسے پناہ دو کہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس لیے کہ وہ نادان لوگ ہیں"(9:6)،"اور اللہ کی راہ میں لڑو ان سے جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے نہ بڑھو اللہ پسند نہیں رکھتا حد سے بڑھنے والوں کو"(2:190)۔

"اس طرح ہمیں معلوم ہوا کہ آیت 9:5 ایک ایسا نص ہے جس میں متعدد نکات شامل ہیں، مثلاً۔ 1) لڑائی مذہبی عقیدے کی بنیاد پر نہیں ظلم و ستم کی بنیاد پر ہونی چاہئے، 2) جنگ امن معاہدہ ختم ہونے اور اعلان جنگ کے بعد ہی لڑی جانی چاہئے ، 3) قتل جنگ کی حالت میں ہی ہونی چاہئے۔ اس آیت کے نزول کا بنیادی مقصد یہ تین نکات تھے۔ اس کے برعکس، اس آیت کا ظاہر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ چونکہ اس آیت میں لفظ مشرکین مذکور ہے اور وہ جمع ہے لفظ مشرک کا، لہذا اس کے تمام افراد جہاں پائے جائیں انہیں قتل کردیا جائے۔ تاہم ، نص (اس آیت کے نزول کا مقصد) اس آیت کے ظاہر کے خلاف ہے۔ اور یہ ایک مشہور و معروف اصول ہے جو مدارس اسلامیہ کے نصاب میں بھی پڑھائی جاتی ہے کہ جب نص اور ظاہر میں تعارض ہو جائے ہے تو ہمیشہ نص کو ہی ترجیح دی جائے گی۔

’’بہ الفاظ دیگر، میں پھر یہی بات کہتا ہوں کہ مشرکین عرب کے خلاف لڑنے کا حکم اس لئے نازل ہوا تھا کہ انہوں نے مسلمانوں پر ظلم ڈھائے تھے اور امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی، نہ کہ محض اس وجہ سے کہ انہوں نے شرک یا کفر کا ارتکاب کیا تھا۔ اور اسی معنی میں یہ آیت نص ہے۔ جہاں تک اس آیت کے ظاہر کا معاملہ ہے تو یہ اس آیت کے نص کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے اور علمائے سلف میں اس پر اتفاق رائے ہے کہ جب نص اور ظاہر میں تعارض ہو جائے ہے تو ہمیشہ نص کو ہی ترجیح دی جائے گی۔ تاکہ قرآن کی بہتر تفہیم حاصل ہو۔

ظاہر اور نص کے اصول کے تحت آیت 9:5 کو سمجھنے کے بعد اس آیت سے داعش یا اس جیسی دیگر دہشتگرد جماعتوں کے لئے 21 ویں صدی کے تناظر میں مشرکین کے قتل کا قانون اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کیوں کہ یہ صدی اوائل اسلام کی صدیوں سے بالکل مختلف ہے۔

----------

Related Article:

Refutation of ISIS That Uses the Verse, ‘Kill the Mushrikin Wherever You Find Them’ To Justify Terrorism in 21st Century: Linguistic Analysis of the Word ‘Mushrikin’ Part-1 قرآنی آیت ۹:۵ اور داعش کا رد : لفظ مشرکین کا لغوی تجزیہ

Refutation of ISIS: Linguistic Analysis of the Word ‘Mushrikin’ Part-1 कुरआन की आयत : और आईएसआईएस का रद्द: मुशरेकीन शब्द का शाब्दिक विश्लेषण

Refutation of ISIS That Uses the Verse, ‘Kill the Mushrikin Wherever You Find Them’ To Justify Terrorism in 21st Century: Linguistic Analysis of the Word ‘Mushrikin’ Part-1

Refutation of ISIS: Who Are The Mushrikin Mentioned In The Quranic Verse 9:5? - Part 2

Refutation of ISIS Through the Principle of Zahir and Nass Related to the Quranic verse 9:5 Quoted To Justify Acts of Violence In 21st Century-Part 3

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/refutation-isis-quranic-part-3/d/125154

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..