New Age Islam
Wed Oct 21 2020, 02:35 PM

Urdu Section ( 6 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Problems of the Present Times and the Sufi Message of Peace عہد حاضر کے مسائل اور صوفیہ کا پیام امن


غوث سیوانی

25 دسمبر، 2016

تصوف دنیا کو امن ، عدم تشدد اور محبت و بھائی چارہ کا درس دیتاہے ۔ صوفیہ نے پوری دنیا کو محبت کا پیغام دیا ۔ ان کا اخوت و محبت کا پیغام آج بھی با معنی ہے جو دلوں کو جوڑ نے کا کام کرسکتا ہے ۔ تصوف کی سب سے بنیادی تعلیم ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک سے ایسا روحانی رشتہ جوڑ ے کہ اسے اپنے دل کے آئینے میں ساری دنیا کا عکس نظر آنے لگے ۔ اس طرح دل سے دل کے تار جڑتے چلے جائینگے اور کوئی بھی اس کے لئے غیر نہیں رہ جائے گا۔

پوتھی پڑھ پڑھ جگ موا ، پنڈت بھیا نہ کوئے

ڈھائی آکچھر پریم کے پڑھے تو پنڈت ہوئے

تصوف کہتا ہے کہ خدا ایک ہے۔ اس کی نظر میں اس کے سارے بندے ایک ہیں ۔ اللہ سے محبت ہی انسانی زندگی کا مقصد ہے۔ محبت ہی زندگی کی سب سے بڑی سچائی ہے ۔ جو انسان اس محبت کو پا لیتا ہے اسے کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہ جاتی ۔ صوفیہ نے اپنے پرائے کے دائرے سے باہر نکل کر پوری دنیا کو بھلائی کے لئے انسانیت پر زور دیا۔ انہوں نے کسی بھی تفریق سے اوپر اٹھ کر انسان کے دلوں کو جوڑ نے کا کام کیا۔خدا کو حاصل کرنے کے لئے جوگی بننا ضروری نہیں ہے ۔ گھر گرہستی میں رہ کر بھی خدا سے رشتہ جوڑا جاسکتا ہے۔ بیوی ، بچوں سے محبت ہے تو خدا سے بھی محبت ہوسکتی ہے ۔ پوری دنیا کو اپنا گھر ، خاندان سمجھنے والے صوفیوں نے محبت کی ایک ایسی مشعل روشن کی جس کی روشنی میں آج بھی پوری دنیا اپنا راستہ صاف صاف دیکھ سکتی ہے۔

محبت دو دلوں میں فاصلہ رہنے نہیں دیتی

میں تم سے دور رہ کر بھی تمہیں نزدیک پاتا ہوں

عہد بنو امیہ اور بنو عباسیہ میں جب علوم تفسیر حدیث اور فقہ کی تدوین ہورہی تھی اسی زمانے میں تصوف نے بھی ایک الگ شعبے کے طور پر شناخت بنائی اور اسی دور میں یہ عالم اسلام کے نصاب تعلیم کا سب سے اہم حصہ بن گیا تھا ۔ تصوف نے اسلامی معاشرے کے شہری اور دیہی علاقوں میں اپنی جڑیں جمالیں اور بڑے پیمانے پر سماجی، سیاسی اور ثقافتی اثر ڈالا ۔

اس نے مذہب کے نام پر جاری ہر قسم کی منافرت کے خلاف آواز اٹھائی۔ عہد وسطیٰ ، جس میں سیاسی پاگل پن پوری شدت سے موجود تھا، اس زمانے میں لوگوں کو اخلاقیات کا سبق پڑھایا اور دنیا میں امن وہم آہنگی کے قیام میں بڑا کار نامہ انجام دیا ۔ تصوف کا سب سے اہم کردار یہ ہے کہ اس نے وسط ایشیا سے بر صغیر ہندو پاک تک سماج کو جوڑنے کا کام کیا ۔ آج ایک بار پھر دنیا اس کی ضرورت محسوس کررہی ہے اور ایک بار پھر تصوف کی جانب رخ کررہی ہے۔ آج عالمی سطح پر اس کا چرچا ہے۔ تصوف ہمیں باہمی محبت اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ دوستی اور خیر سگالی کا یہ پیغام مسلسل دنیا کے ہر کونے میں پہنچتا رہے ، اس کو یقینی بنایا جانا چاہئے ۔ تصوف محض مذہب نہیں ، بلکہ دماغ کی اعلیٰ کیفیت کا نام ہے۔ تصوف ایک دوسرے کو ملانے والی اہم طاقت ہے۔ یہ کبھی نہ ختم ہونے والا ترانہ ہے جس نے پوری دنیا پر جادو کر رکھا ہے ۔ اب جب کہ دنیا اسلامی تعلیمات کی روح یعنی تصوف کی جانب واپس لوٹنے کے لئے بے قرار ہے او راس کے دامن میں امن و شانتی کا پیغام اور اپنے مسائل کا حل ڈھونڈرہی ہے تو ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ کتابوں میں دفن صوفیوں کی تعلیمات کو عام کریں اور اسے دنیا تک پہنچا ئیں ۔ یقین جانیئے جس دن دنیا نے اس پیغاموں سے آگہی حاصل کرلی اسی دن اس دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوجائے گا اور امن کا قیام بھی ممکن ہوجائے گا ، کیونکہ جو لوگ بھی آج دہشت گردی میں ملوث ہیں اور دنیا میں امن کے دشمن بنے بیٹھے ہیں ، یہ وہی لوگ ہیں جو اہل تصوف کی تعلیمات میں ہے۔ اس پر عمل کئے بغیر دہشت گردی کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ صوفیوں نے امن او ربھائی چارے کا پیغام دیا ۔ آج کچھ قوتیں نوجوانوں کو بہلا پھسلا کر تشدد کے راستے پر لے جانا چاہتی ہیں، اگر آنے والی نسل کو تشدد اور دہشت گردی سے روکنا ہے تو انہیں صوفیہ کی تعلیمات سے قریب کرنا ہوگا۔ داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات سے دنیا کو رو برو کرنا ہوگا، خواجہ معین الدین چشتی کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانا ہوگا ، حضرت نظام الدین اولیا ء کے امن کے سبق سے لوگوں کو آشنا کرنا ہوگا۔

شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے

دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے

انسانی سماج اور جنگل راج میں یہ واضح فرق ہے کہ انسانی سماج کا ایک دستور ہوتا ہے جب کہ جنگل میں کوئی قانون نہیں چلتا ہے۔ ہر طاقتور جانور کمزور جانورو کو کھا جاتا ہے ۔ مگر انسانی معاشرہ میں ایسا نہیں چل سکتا ۔ انسان کو بقائے باہم کے دستور پر چلنا پڑتا ہے اور ’’ جیو اور جینے دو‘‘ کے مطابق زندگی گزارنا پڑتا ہے۔ یہ حق پورے دنیا مہذب سماج کا ہے۔ اس کے بغیر کوئی انسانی معاشرہ وجود میں نہیں آسکتا ۔ بقائے باہم کا اصول اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ حقوق کا حصہ ہے۔ویسے بھی اگر انسان ، خون انسانی کا احترام کرنا بند کردے تو یہ دنیا باقی نہیں بچے گی او رسب کچھ تہس نہس ہوجائے گا۔ بقائے باہم کے اصول کو توڑنا ہی بنیادی طور پر دہشت گردی ہے۔ یہ جرم کوئی ایک انسان کرے، پوری جماعت کرے یا کوئی ملک کرے،بہر حال غلط ہے۔جو انسان ایسی حرکت کا ارتکاب کرتا ہے ، وہی دہشت گرد ہے اور وہ اس سماج میں رہنے کے لائق نہیں ۔ ملکی قوانین انسان کو دہشت گردی سے روکنے کا کام کرتے ہیں اور قانون کے خوف سے لوگ جرائم سے رک جاتے ہیں مگر صوفیہ کی تعلیمات میں دہشت گردی اور تشدد سے بچاؤ کا ایک مختلف راستہ اپنا یا جاتا ہے ۔ وہ انسان کو انسان کا احترام سکھاتا ہے ۔ تصوف بتاتا ہے کہ اللہ ہر وقت ، ہر جگہ انسان کی نگرانی کررہا ہے، اس لئے اسے کبھی بھی قدرت کے قانون کے خلاف نہیں جانا چاہئے ۔ اللہ ، انسان کے دلوں کے بھید سے بھی واقف ہے لہٰذا دل کے اندر بھی ایسا خیال نہ لایا جائے ۔ تصوف انسان کی ایسی تربیت کرتا ہے کہ وہ اس قسم کے ظالمانہ کاموں کی طرف مائل ہی نہ ہو۔ یہاں آدمی کی سوچ کو مثبت بنایا جاتا ہے۔

25 دسمبر، 2016، بشکریہ: روز نامہ پرتاپ ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/ghaus-siwani/problems-of-the-present-times-and-the-sufi-message-of-peace--عہد-حاضر-کے-مسائل-اور-صوفیہ-کا-پیام-امن/d/109628

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..