New Age Islam
Thu May 06 2021, 08:08 PM

Urdu Section ( 16 Aug 2011, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Freedom –A priceless gift آزادی ایک بیش قیمت تحفہ

By Zafar Agha

Thanks to almighty God, that we Muslims have also right to vote as Hindus and it is this right that had made us independent. We are free, to elect our sarpanch, also we are free to change our prime minister. There is no doubt that there are loopholes in democratic system but we breathe in free environment and have the right to change our government. This right is not available to Muslims of other parts of the world.

URL: https://newageislam.com/urdu-section/freedom-–a-priceless-gift--آزادی-ایک-بیش-قیمت-تحفہ/d/5268

ظفر آغا

ملک میں پینسٹھوا جشن آزادی منالیا گیا۔ جہاں ‘‘جن گن کی دھن’’ کے درمیان قومی جھنڈا بھی سربلند ہوگیا۔ کم از کم سرکاری سطح پر جشن کا ماحول رہا۔ عام ہندستانیوں نے کہیں پتنگیں اڑا کر تو کہیں پکنک منا کر تو کہیں آپس میں دعوتیں دے کر جشن آزادی کا لطف اٹھایا، لیکن یوم آزادی پر یہ جشن کیوں، یہ خوشیاں کیوں؟ وہ نسل جس نے ملک میں آزادی کے بعد آنکھیں کھولیں اور جس نے غلامی دیکھی ہی نہیں ان کو تو آزادی کی وہ خوشی ہو نہیں سکتی جو ایسے افراد کو ہوتی ہے ، جنہوں نے انگریزوں کی غلامی دیکھی ۔ وہ نسل تو عنقاہوتی جارہی ہے، جس نے غلامی دیکھی اس لئے نہیں دیکھی اور آزادی کے دور میں ہی آنکھیں کھولیں تو وہ بھلے جشن آزادی منالیں ، لیکن ان کو دل سے وہ خوشی تو نہیں ہوسکتی ، جو ایسی نسل کو ہوتی ہے، جنہوں نے دور غلامی دیکھا تھا ، لیکن کسی ملک کا یوم آزادی نہ صرف ایک تاریخی سنگ میل ہوتا ہے، بلکہ ہر کسی کے لئے ایک جشن کا بھی موقع ہوتا ہے ۔ چنانچہ میں نے بہت سوچا کہ آخر آزادی کی اہمیت کیا ہے اور اس کا جشن کیوں منانا چاہئے تو اس یوم آزادی پر مجھ کو یوم آزادی کی اہمیت اور اس موقع پر خوشی منانے کا سبب سمجھ میں آگیا۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جس نے کبھی غلامی نہیں دیکھی اس کو آزادی کی قدرومنزلت کا صحیح اندازہ نہیں ہوسکتا ہے۔ میں ایک ایسی نسل سے تعلق رکھتا ہوں ، جس نے آزادی کے بعد آنکھ کھولی اور اب ہندوستان کی اکثریت ایسی ہی نسل سے تعلق رکھتی ہے، تو آخر وہ آزادی کی اہمیت کیسے سمجھے! اس سوال کا جواب مجھ کو اس وقت مل گیا جب میں نے مڑ کر اپنے پڑوس پاکستان اور دیگر عرب اسلامی ممالک کے سیاسی حالات پر نظر ڈالی ۔ ذار تصور کیجئے کہ آپ پاکستان میں پیدا ہوئے ہوتے تو آپ وہاں کن حالت سے گزر رہے ہوتے ۔ سب سے پہلے تو تمام پاکستانیوں کی طرح آپ کے دل میں یہ خوف سمایا ہوتا کہ نہ جانے کب کسی فوجی عامر کا ملک پر راج قائم ہوجائے اور شاید آپ بحیثیت ایک پاکستانی شہری یہ دعا مانگ رہے ہوتے کہ فوجی عامر جنرل ضیاء الحق جیسا نہ ہو، کیونکہ ان کے جیسا جنرل تو نظام مصطفی سے تو بات کرتا نہیں اور پاکستانی نظام مصطفی میں ہر وقت یہ ڈر رہتا ہے کہ پتہ نہیں کس سزا میں کوئی جلاد کوڑے مار کر پیٹھ کی کھال ادھیڑدے ۔ کب ہاتھ کٹ جائیں اور نہ جانے کب کون سنگسار کرجائے ۔ چلئے اب جنرل ضیاء الحق تو مرحوم ہوئے ان کے نظام مصطفی کا دور تو ممکن نہیں ، لیکن اب طالبانی پاکستانیوں کا خوف سرپر منڈرہے ۔ اللہ ہر کسی کو بچائے طالبانی پاکستان سے ۔ طالبانی پاکستان میں تو یہ نہیں معلوم کہ کس مسجد میں کون نماز پرھنے میں گولیوں کا نشانہ بن جائے ۔ اسی طرح کوئی عقیدت مند کسی مزار پر گلہائے عقیدت چڑھا کر دعا مانگ کر نکل رہا ہو تو نہ جانے کو ن سا بم اس کو دبوچے ۔ اس سے بھی بچ جائے اور بازار میں خرید وفروخت کے لئے کوئی جائے تو کب کون خود کش بم رکتنوں کو چشم زدن میں لقمہ اجل بنادے۔

الغرض اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے والدین سے 1947میں پاکستان منتقل ہونے کی غلطی سرزد نہیں ہوئی۔ 1947کے ہنگامہ کے دور میں بھی ان کو آزادی کے ساتھ ساتھ ایک جمہوری نظام کی اہمیت کا اندا زہ تھا۔ آج ہر ہندوستانی کھلی فضا میں سانس لیتا ہے ۔ اس ملک کا ہر باشندہ خواہ ہندو ہو یا مسلمان یا کسی اور عقیدے سے تعلق رکھتا ہو، اس کو ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہے۔ پنچایت سے لے کر پرائم منسٹر تک تمام نمائندوں کو ہندوستانی شہری مل کر منتخب کرتے ہیں۔ اس کو کہتے ہیں آزادی ۔ یہ اختیار پاکستانیوں کو اس طرح حاصل ہے،جیسا ہر ہندوستانیوں کو حاصل ہے ؟ اس حق کی اہمیت ہندوستانی مسلمان سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے ۔1992میں کلیان سنگھ کی بی جے پی حکومت نے بابری مسجد کو گرا دی اور 1993کے اتر پردیش اسمبلی چناؤ میں یوپی کے مسلمانوں نے اپنی قوت جھونک کرکلیان سنگھ کو اقتدار میں آنے سے روک دیا ۔ اس طرح 2002میں نریندرمودی نے گجرات میں مسلم نسل کشی کروائی ۔ ہندوستانی مسلمان نے 2004اور 2009میں اپنے ووٹ کی قوت سے دوبارہ بی جے پی کو مرکزی اقتدار میں آنے سے روک دیا۔ بس اس کے بعد مسلم ووٹ بینک سے تمام سیاسی پارٹیاں اتنا خائف ہیں کہ اب مودی سمیت کسی کو یہ جرأت نہیں ہوتی کہ وہ ملک میں کوئی بڑا فساد برپا کروادے۔

اب آپ کو سمجھ میں آیا آزادی کے معنی کیا ہوتے ہیں ، ووٹ کی قوت کیا ہوتی ہے؟ کیونکہ ووٹ ہی ایک ایسی طاقت ہے جو ایک عام شہری کو اپنا نمائندہ خود چننے کا اختیار دیتی ہے اور یہ اختیار ایک شہری کو محض جمہوری نظام میں حاصل ہوتا ہے۔ ہندوستان دنیا کی ایک ایسی جمہوریت ہے، جہاں اس ملک کے عام باشندے کو کچھ حاصل ہو یا نہ ہو ، لیکن یہ اختیار ضرور حاصل ہے کہ وہ جب چاہیں چناؤ کے وقت وزیر اعظم سے لے کر پنچایت کے مکھیا ،جس کو چاہئے اقتدار سے بے دخل کردیں، ہندوستانی جمہوری نظام میں پاکستان کی طرح کوئی عامر کسی شہر ی کو جب چاہے کوڑے نہیں لگوا سکتا ہے، تب ہی تو تمام ہندوستانیوں کو جو آزادی حاصل ہے اور ہم جس کھلی فضا میں سانس لیتے ہیں ، یہ آزادی اور یہ کھلا پن دنیا بھر میں کہیں اور مسلمانوں کو نصیب نہیں ہے، اگر دیگر اسلامی ممالک مسلمان ہماری طرح کھلی فضا میں سانس لے رہا ہوتا تو آج عرب ممالک میں عامروں اور شاہوں کے خلاف جوہنگامہ بپا ہے وہ ہنگامہ نہ ہوگا۔ مصر جیسے ملک میں لاکھوں افراد آئے دن تحریر اسکوائرپر ‘آزادی ،آزادی’ کے نعرے بلندکررہے ہیں تو یمن ، شام ،لیبیا اور بحرین جیسے مسلم ممالک میں لوگ عامروں کے خلاف جان دے رہے ہیں۔ عرب مسلمان آخر اپنے ہی ملک میں اپنے ہی حاکموں کے خلاف کیوں جان دے رہا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ خود کو غلام محسوس کرتا ہے، اس کو اپنا حاکم چننے کا اختیار تو درکنا کسی قسم کا کوئی سیاسی اختیار بھی حاصل نہیں۔ پوری عرب دنیا میں کہیں کوئی بھی شخص کسی حکومت کے خلاف زبان کھول دے تو وہاں کی سیکورٹی اس کو اٹھا کرکہاں لے جاتی ہے اس کا پتہ گھروالوں کو تادم حیات نہیں لگتا ۔ افسوس کہ پاکستان سے تیونس تک اور لیبیا سے سعودی عرب تک تمام اہل اسلام عامروں اور بادشاہوں کے زیر سایہ غلامی کی زندگی میں جی رہے ہیں۔ اس اکسویں صدی میں بھلا کسی کے لئے اس سے زیادہ بدنصیبی اور کچھ ہوسکتی ہے کہ اس کو ووٹ دینے کا بھی حق نہ ہو۔

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ووٹ کی نعمت ہم ہندوستانی مسلمانو کو اتنی ہی حاصل ہے، جتنی ہندوں کو اور اسی قوت نے ہم کو آزاد بنارکھا ہے۔ ہم آزاد ہیں ، اپناسرپنچ چننے کے لئے ہم آزاد ہیں اپنا وزیر اعظم بدلنے کے لئے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جمہوری نظام میں بہت سی کمزوریاں بھی ہیں ،لیکن ہم جس کھلی فضا میں سانس لیتے ہیں اور جس طور سے حکومتیں بدل سکتے ہیں ، یہ اختیار یہ آزادی دنیا کے دوسرے مسلمانوں کو نہیں حاصل ہے ۔ یہی سبب ہے کہ آزادی ایک ایسا قیمتی تحفہ ہے جس کا جشن ہر سال منانا ضروری ہے، اس لئے ہم ہندوستانی ہر سال یہ جشن مناتے ہیں اور صدایہ جشن مناتے رہیں گے۔

zafa_agha@yahoo.co.in

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/freedom-–a-priceless-gift--آزادی-ایک-بیش-قیمت-تحفہ/d/5268

 

Loading..

Loading..