New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:07 AM

Urdu Section ( 17 Apr 2012, NewAgeIslam.Com)

Islam Needs To Regain Its Active and Vibrant Role اسلام کو اپنے فعال اور متحرک کردار کو دوبارہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے


فضل الٰہی

(ترجمہ‑ سمیع الرحمٰن، نیو ایج اسلام)

24 جنوری، 2012

میں نے کچھ دنوں قبل جمہوریت، سیکولرازم اور اسلام کے بارے میں گریٹر کشمیر میں کچھ مضامین پڑھے۔ ایک، ہمیں سیکولرازم اور جمہوریت کے علاقوں کی بہتر تفہیم اور ہم آہنگی  کی طرف دیکھنے کی ترغیب دیتا تھا، اور دوسرے، اس طرح کے کسی بھی خیال کو دل میں جگہ دینے کے بارے میں احتیاط کے الفاظ۔ ایک، ترکی سے سبق حاصل کرنے کے لئے تیار ہیں، اور دوسرے، عقیدے میں گمراہی جیسے خیال کو من میں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

ہم لوگ بطور عام لوگوں کے اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں اور اپنے زمانے اور تاریخ سے سبق لیتے ہیں۔ ہم اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتے ہیں۔ جو کچھ بھی ہو رہا ہے اسے مغرب کی بدکاری کے ردعمل کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اسے وجوہات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے۔ کچھ پوچھوں تو  ان کے پاس بات کرنے کے لئے صرف ایک وجہ ہے: "مسلمانوں نے اپنے کردار کو کھو دیا ہے"، اور مناسب تجزیہ کے لئے کوئی گنجائش چھوڑے بغیر علامہ اقبال کے شعر سے پوری بحث کو ختم کر دیتے ہیں۔ کردار صرف ایک مسئلہ ہو سکتا ہے۔ کئی اور  دوسرے مسائل ہو سکتے ہیں جنہیں ہم نظر انداز کر رہے ہیں۔ لیکن وہ اس سے آگے ایک انچ  بھی سوچ نہیں سکتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ مذہب کو  پیچھے رکھ دینا چاہئے۔ ہمارا مذہب بے لچک نہیں ہے، جو اپنے آس پاس سے  بے ربط ہے۔ یہ ایک ہمہ گیر اور متحرک مذہب ہے نہ کہ جامد، جیسا کہ بعض فقہاء ہمیں یقین کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ ان کا پسندیدہ مقولہ ہے: دنیا تبدیل ہو سکتی ہے لیکن ہمارا مذہب کبھی تبدیل نہیں ہوگا۔ یہ ہم ہر جمعہ کو ہر ایک مسجد کے منبر سے سنتے ہیں۔ یہ متحرک دنیا میں ایک جامد مذہب کو قائم کرنے کی ہی طرح ہے۔ کیا یہ ممکن ہے؟

 اس ذہنیت نے پہلے ہی ہمیں جمودی کیفیت میں ڈال دیا ہے۔ ہم پہلے سے ہی غیر مئوثر رہے ہیں۔ ذرا سوچئے، کیا ہمیں موجودہ مشکل صورت حال سے باہر نکلنے کے اقدامات کا کوئی بھی خیال ہے۔ کیا کسی سمت میں جانے کے لئے  ہم کوشش کر رہے ہیں؟ دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے والے ملکوں کے ذریعہ پھینکے گئے غبار میں ہم پھنس گئے ہیں۔ اس دلدل سے باہر نکلنے کے کسی خیال کو چھوڑ دیجئے، ہم فرقہ وارانہ دشمنی کے دلدل میں پھنس گئے ہیں۔ ہر فرقے کا جنت  پر اپنا دعوی ہے، اور دیگر تمام کو جہنمی کہتے ہیں۔ کسی مذہبی معاملے پر مختلف رائے ہونا کوئی مسئلہ نہیں لیکن کٹر مذہبی عقائد کا دعویٰ اختلاف کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتا ہے۔ ہمیں چینٹی کی طرح صرف ایک ہی لائن پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ قتل ہے، اس طرح کے کٹر مذہبی عقائد کی توثیق  بے ایمان لوگوں کے ذریعہ قرآن کی کچھ آیات سے کیا جاتا ہے۔

آیات کے عقلی اور منطقی فیصلہ کو  طے کرنےکے درمیان ایک بڑی خلاٗہے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر صورتحال اور مسئلہ کو صحیفے کی نظر  سے تشریح کرتے ہیں، اور انہیں حد سے زیادہ بڑا کر کے پیش کرتے ہیں۔ آیات کا مطلب تب ہے جب انہیں ویسے ہی حالات میں سمجھا جائے جن میں وہ نازل ہوٗے تھے، وقت اور جگہ  سے محروم ہونے پر ان کی کوئی تشریح نہیں ہوگی۔ آیات ابدی سے دنیاوی میں آہستہ سے آشکار ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک ہی آیت کی مختلف زمانے میں تشریح الگ الگ  ہوں گے، یہ بتاتا ہے کہ ایک ہی آیت کے مختلف معنی اور اس کا استعمال ممکن ہے۔

جیسا کہ کچھ لوگ دعویی کرتے ہیں کہ  اسلام کی مکمل طور پر  ترمیم نہ ہونے کی خصوصیت نے اسے طاقتور بنایا بلکہ اس کے تحرک اور لچک نے اسے ہر زمانے کے لئے موزوں بنایا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات تو ٹھیک ہیں لیکن بدلتے ہوئے مقامات پر کیا کہنا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ اسے ایک وقت میں جغرافیائی تبدیلیوں کے ساتھ بھی فٹ ہونا چاہئے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہر صورت حال میں اسلام کو موزوں بنانا چاہئے؟ یا ہر صورت حال کو اسلام کے موزوں ہونے کے لئے بنایا جا سکتا ہے؟ ہم بعد والے کو بغیر کامیابی کے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اسلام کو اس کے تحرک کو برقرار رکھنے  کی اجازت دیں اور اسے زمان و مکاں سے متعلق حرکیات کے مطابق رہنے دیں۔

کتاب کو سمجھنے کے لئے قابل فقہاء اور سماجی و قدرتی سائنس کے میدان میں محققین کی ضرورت ہے۔ یہ ایک آدمی کا کام نہیں ہے، مفسّرین کا ایک پینل ہونا ضروری ہے۔ اور مزید برآں، اس کا اکثر جائزہ مذہبی طول و عرض کے لئے اتنا نہیں، اگرچہ یہ بھی ضروری ہے، لیکن دنیاوی طول و عرض کو تبدیل کرنے کے لئے زیادہ لیا جانا چاہئے۔ مجھے لگتا ہے کہ ایک شخص کی تفسیر، ماضی کی بات ہے۔

کسی بھی "نظریہ" کو ایک آیت کی غلط تشریح  کی وجہ سے کوڑےدان میں نہیں پھینکا جا سکتا ہے، بلکہ وسیع تر نقطہ نظر اور تحقیق بہتر تفہیم کے لئے راہ ہموار کرے گا۔ ایک اور بات: قرآن انفرادی اخلاقیات کو سمجھنے کے لئے آسان ہے، لیکن سماجی اور وسیع طور پر استعمال کے لئے  باعلم لوگوں کے وسیع تر اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ ایک شخص کا فیصلہ انفرادی ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ غیر معقول ہو۔ اپنا خود کا جائزہ لینے کے لئے یہ  آپ کو ایک فرشتے کی سطح پر  لے جاتا ہے، اور یہاں پر موضوعیت اہم ہوتی ہے۔ باہری دنیا کو جانے بغیر  معروضیت اہم ہوتی ہے۔ ہماری مصیبت یہ رہی ہے کہ ہم  معروضی دنیا میں موضوعیت کا استعمال کرتے ہیں۔

  مصنف گورنمنٹ  کالج آف سری نگر میں پڑھاتے ہیں۔

بشکریہ: گریٹر کشمیر

URL for English article:

http://www.newageislam.com/ijtihad,-rethinking-islam/islam-needs-to-regain-its-vibrant-and-dynamic-character/d/6461

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/islam-needs-to-regain-its-active-and-vibrant-role--اسلام-کو-اپنے-فعال-اور-متحرک-کردار-کو-دوبارہ-حاصل-کرنے-کی-ضرورت-ہے/d/7094

 

Loading..

Loading..