New Age Islam
Thu Oct 01 2020, 10:09 AM

Urdu Section ( 9 Sept 2014, NewAgeIslam.Com)

Mufti Atiqur Rehman Usmani: A Religious Scholar and Freedom Fighter-Part - 1 (عالم دین اور مجاہد آزادی مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ ( قسط اوّل

 

فاروق ارگلی

30 اگست ، 2014

برطانوی استعمار کے خلاف دوسری اور آخری جنگِ آزادی کی اصل نمائندہ جماعت کانگریس اور اس کے قائدِ اعلیٰ مہاتما گاندھی کی تحریک میں دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء ہند کا اشتراک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ملکی سیاست میں اگر علماء دیوبند کے وطن پرور ایک قومی نظریے کو خود کانگریس کے پردے میں چھپی ہوئی اکثریتی فرقہ وارانہ ذہنیت نے بری طرح نظر انداز نہ کردیا ہوتا تو مسلم لیگ اور جناح صاحب کا دو قومی نظریہ سر اُٹھاسکتا تھا اور نہ انگریزوں کی لاکھ سازشوں کے باوجود ملک کی بدبختانہ تقسیم عمل میں آتی۔ اس تلخ حقیقت کو بھی کسی طرح جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ملک کے بدترین بٹوارے میں مسلم فرقہ پرستی کے ساتھ ہندو فرقہ پرستی بھی برابر کی شریک رہی ہے۔

تقسیم برصغیر کی ایک المناک تاریخ ہے جس کا آخری باب 1947ء میں لاکھوں انسانوں کے خون سے لکھا گیا۔ دو قومی نظریے کی دین پاکستان آزادی کی چھ دہائیاں گزر جانے کے باوجود کن آزمائشوں سے گزر رہا ہے یہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے۔ لیکن جہاں تک نئے ہندستان کا تعلق ہے اس کی تعمیر و ترقی میں اکثریتی فرقہ پرست ذہنیت کی منفی سیاست کے باوجود علماء حق کا ایک قومی نظریہ اپنے تمام تر تعمیری جذبوں کے ساتھ کار فرما ہے۔ یہ وہ عظیم الشان وطنی جذبہ ہے جس نے آزادی سے پہلے ہم وطنوں کے شانے سے شانہ ملاکر قربانیوں کی سنہری تاریخ رقم کی اور آزادی کے بعد ایک مضبوط سیکولر جمہوریہ ہند کو بنانے اور سنوارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ تقسیم کے المیہ کے ساتھ ہی برصغیر میں عمل اور ردِّعمل کی جو سیاست اُبھری تھی وہ عظیم ہندستان کو بھی تنگ نظری کی آگ میں جھونک سکتی تھی اگر کانگریس کے ساتھ مل کر حضرت شیخ الہندؒ ، حضرت شیخ الاسلامؒ ، حضرت مفتیِ اعظمؒ اور حضرت امام الہندؒ وغیر ہم کے قومی مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں ان رہنمائے مؤخرین نے نمایاں کردار نہ ادا کیا ہوتا جن میں مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ، سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلویؒ اور حضرت مولانا محمد میاں صاحبؒ جیسے زعماء عصر کے ساتھ مفکرِ ملت مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ کا نام نامی خاص مقام و مرتبہ کا حامل ہے۔

امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے شاگرد رشید اور حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ کے فرزند مفتی عتیق الرحمن عثمانی ہندستان کی تحریکِ آزادی کے آخری مرحلے میں ان علماء کرام کی صف میں شامل تھے جنھوں نے ملک کی آزادی کو اسلامی نظریۂ حریت کا جواز عطا کرنے کے لیے تاریخ ساز فتاویٰ جاری کرکے مسلمانوں کو قومی دھارے سے جوڑکر فرنگی استعمار کے خلاف سرگرم رکھا۔ مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ گاندھی جی کے نمک ستیا گرہ اور 1930ء کے ڈانڈی مارچ کے زمانہ میں انگریزی قانون کے خلاف اپنا تاریخی فتویٰ دے کر مفتیانِ ولی اللّٰہی کی اس شاندار روایت سے وابستہ ہوگئے، جس نے ملکی تحریکِ آزادی کو مسلمانانِ برصغیر کا مذہبی فریضہ بنائے رکھا۔ مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ کے اس تاریخ ساز فتوے کو خصوصی اہمیت اس لیے بھی حاصل ہے کہ اس سے کانگریس کو غیر معمولی تقویت حاصل ہوئی۔ اس وقت جب سردار پٹیل باردولی ستیا گرہ کی تحریک چلارہے تھے جسے کچل ڈالنے کے لیے برطانوی حکومت نے ہندوستانی مجاہدینِ آزادی پر انسانیت سوز مظالم اور تشدد کے ساتھ بھاری ٹیکس لگادےئے تھے جن کی عدم ادائیگی پر ان کی املاک اور جائدادوں کی ضبطی کاشرمناک سلسلہ شروع کیاتھا، حکومت ان ضبط کی گئی جائدادوں کو نیلام کردیتی تھی۔ ایسے وقت میں دیوبند کے نوجوان مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ سے کسی مسلمان نے نیلام کی جارہی مجاہدینِ آزادی کی جائدادوں کی خرید کے شرعی جواز کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فتویٰ صادر فرمایا: ’’ضبط شدہ جائدادوں کا خریدنا ظلم و زیادتی کی کھلی حمایت ہے، ایسی جائدادوں کو نیلام میں بولی دے کر خریدنا قطعی ناجائز اور حرام ہے۔‘‘

مفتی صاحب کے اس فتوے سے پورے گجرات میں ہلچل مچ گئی۔ ایک مسلم پریس نے اسے لاکھوں کی تعداد میں چھاپ کر عوام میں پھیلادیا۔ انگریزی حکومت بوکھلاگئی، پریس ضبط کرلیا گیا۔ مفتی صاحب کی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہوگیا۔ اتفاق یہ ہوا کہ اسی دوران گاندھی۔ اروِن معاہدہ عمل میں آگیا جس کے تحت جیلوں میں بند ستیاگرہی رِہا ہونے لگے۔ ایسے میں مفتی صاحب گرفتار ہوتے ہوتے رہ گئے لیکن وہ حکومت کی نظر میں ایک خطرناک باغی قرار پاچکے تھے اور سی آئی ڈی ان پر کڑی نظر رکھنے لگی تھی۔

مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ اپنے سینئر علماء کے ساتھ تحریکِ خلافت اور کانگریس کی جدوجہد میں پوری طرح شامل ہوگئے۔ لیکن یہ کوئی وقتی تاثر نہ تھا بلکہ بچپن سے ہی یہ جذبہ ان کے انقلابی مزاج کا حصہ تھا جس کا مظاہرہ اس وقت سے ہونے لگا تھا جب وہ سات آٹھ سال کے تھے۔وہ عام بچوں کی طرح کھیل کود میں وقت ضائع کرنے کے بجائے لکھنے پڑھنے میں مصروف رہتے تھے۔ کھیل کے طور پر دیواری اخبار لکھتے تھے، ان کی معصومانہ بامعنی تحریریں دیوار پر چسپاں اس ’اخبار‘ میں پڑھ کر لوگوں کو اس بچے کی ذہانت پر اس لیے حیرت نہ ہوتی کہ وہ عظیم المرتبت استاذ مفتی اعظم اور مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانیؒ کے صاحبزادے تھے۔ وہ اس خانوادے کے نونہال تھے جس کے جدِّاعلیٰ مولانا فضل الرحمن دارالعلوم کے چاربانیوں میں سے ایک تھے اور جن کا شمار اپنے عہد کے مشائخ میں ہوتا تھا۔ مفتی عتیق الرحمن نے اپنے عظیم والد اور مقتدر اساتذہ کے زیرِ سایہ علوم دینیہ میں غیر معمولی لیاقت حاصل کی۔ سب سے پہلے آپ نے قرآن کریم حفظ کیا، اس کے بعد دارالعلوم کی تعلیمات میں مختلف مراحل طے کرتے ہوئے عربی و فارسی میں خوب مہارت حاصل کی۔ آپ دینی تعلیم کے ہر درجہ میں امتیازی حیثیت سے کامیاب ہوتے رہے۔ علمِ حدیث کا درس آپ نے امام العصر حضرت مولانا انورشاہ کشمیریؒ سے حاصل کیا اور ان کے بہترین تلامذہ میں شمار ہوئے۔ دستارِ فضیلت سے سرفراز ہونے کے بعد آپ دارالعلوم میں ہی معین المدرس کے منصب پر فائزکیے گئے۔ کسی بھی طالب علم کے لیے یہ بہت بڑا اعزاز تھا۔ انھوں نے فتاویٰ نویسی کی لیاقت اپنے عظیم والد کے زیر تربیت حاصل کی تھی اور اس میدان میں ان کی ذہانت اور شرعی علوم کی خداداد بصیرت کو سارے زمانے نے تسلیم کیا۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ مفتی عتیق الرحمنؒ سات آٹھ سال کی عمر سے ہی ملک کی آزادی کے بارے میں سوچنے سمجھنے لگے تھے جس کا اظہارِ دیواری اخبار کے ذریعہ معصومانہ انداز میں کیا کرتے تھے۔ دراصل یہ دیوبند کے دینی اور سیاسی ماحول کا اثر تھا جس میں پروان چڑھنے والے سچے مسلمان اور پکے انقلابی بن جاتے تھے۔ جب وہ بڑے ہوکر مدرس بن گئے تو ملکی اور وطنی شعور پختہ ہوچکا تھا۔ طلبہ کی تنظیم بیداری اور ان کی بہبودی کے قائدانہ جذبات اس طرح ظاہر ہوئے کہ انھوں نے اپنے والد محترم اور اساتذہ کی اجازت لے کر پہلی بار طلباء کی تنظیم بنائی اور اس کی ترجمانی کے لیے ’مہاجر‘ کے نام سے باقاعدہ اخبار جاری کیا۔

’مہاجر‘ کی ادارت انھوں نے اپنے تیز طرار ساتھی حضرت مولانا عبدالوحید صدیقیؒ کے سپرد کی جو آگے چل کر اُردو کے مشہور اور بے باک صحافی کے طور پر مشہورِ زمانہ ہوئے اور محبوب ملت کہلائے۔

نامور شاعر، ادیب اور ناقدپروفیسر عنوان چشتی مرحوم مفتی صاحب کے قریبی اصحاب میں سے تھے۔ انھوں نے مفکر ملت کے حالات اور کارناموں پر مشتمل اپنے نہایت

وقیع مقالے میں لکھا ہے کہ مفتی صاحب نے طلبہ کی جمعیۃ اور اخبار ’مہاجر‘ کے ذریعہ اپنے فکر و عمل کا مظاہرہ کیا۔ ان کے اس اقدام کی اہمیت کا اندازہ اس پس منظر میں ہوسکتا ہے کہ اس دور میں ان کے والدِ محترم مفتی عزیز الرحمن صاحبؒ دارالعلوم کے مفتیِ اعظم اور مہتمم تھے۔ انقلابی ذہن رکھنے والے نوجوان مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ نے دارالعلوم کے انتظام اور مطبخ کے اہتمام نیز دیگر امور میں اپنے بزرگوں اور اربابِ حل و عقد سے اختلاف کیا۔ یہ ایک نوجوان عالم کی ضد نہیں تھی بلکہ ایک اصول پسند حق گو اور راست باز انسان کا اخلاقی اقدام تھا۔ مفتی صاحبؒ کے معین المدرسین مقرر ہونے کے بعد دیوبند کے اکابر کے مابین اختلافات گہرے ہوگئے۔ اختلاف رائے اور مخالفتِ بیجا میں جو نازک فرق ہے اگر اس کو نظر انداز کردیا جائے تو نتیجہ بہت بُرا نکلتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس شکر رنجی کا یہ نتیجہ نکلا کہ اس وقت کے صدرالمدرسین اور شیخ الحدیث حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا انور شاہ کشمیریؒ اور مفتی اعظم مولانا عزیز الرحمن عثمانیؒ کو دارالعلوم کو خیر باد کہنا پڑا۔ انہی کے ساتھ مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ ، مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ اور مولانا بدرعالم میرٹھیؒ بھی باہر نکل آئے۔ اس قافلے نے ڈابھیل (گجرات) کو اپنا مستقر بنایا۔ یہاں تعلیم الدین کے نام سے ایک چھوٹا سا مدرسہ تھا، یہ قافلہ مدرسہ سے اس طرح وابستہ ہوا کہ اس کا نام جامعہ اسلامیہ ہوگیا۔ مفتی صاحب نے کچھ عرصہ تک اس مدرسہ میں مدرس اور مفتی کے فرائض انجام دیئے۔‘‘(دلّی والے جلدچہارم)

اگرچہ دارالعلوم کے ان نہایت اہم اساتذہ کا دیوبند سے باہر جانا ایک تکلیف دِہ واقعہ تھا لیکن اکثر بزرگوں نے اسے ان معنوں میں خوش کن قرار دیا ہے کہ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے نہ صرف گجرات اور مہاراشٹر بلکہ جنوبی ہند تک دینی تعلیم کی روشنی تیزی سے پھیلی، گویا علماء کی اس ہجرت میں اللہ تعالیٰ کی یہ منشا اور رضا شامل تھی کہ دارالعلوم کی ضیائے علم دُور دُور تک پھیلے۔ ڈابھیل میں قیام کے دوران مفتی عتیق الرحمن تحریکِ آزادی میں عملی طور پر شامل ہوئے اور باردولی کے تاریخی فتوے کے بعد پُرجوش مجاہدینِ آزادی میں شمار ہونے لگے۔ وہ جمعیۃ علماء ہند اور کانگریس کی تمام قومی تحریکات میں شریک رہے، اگرچہ انھوں نے جمعیۃ علماء کا کوئی تنظیمی عہدہ قبول نہیں کیا لیکن ایک عام رُکن ہوکر بھی ان کی رائے نہایت اہم مانی جاتی رہی۔ مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، پٹیل، مولانا آزاد اور دوسرے بڑے رہنماؤں سے ان کے نہ صرف قریبی رابطے رہے بلکہ وہ تحریکِ آزادی کی ہر جدوجہد میں ساتھ تھے۔ مولانا آزادؔ سے ان کے تعلقات اس وقت استوار ہوئے جب وہ ڈابھیل سے کلکتہ کے ایک مدرسہ میں استاذ بن کر گئے تھے۔ وہاں کی سیاسی سرگرمیوں کے دوران دونوں حضرات قریب آئے پھر یہ تعلق تا حیات قائم رہا۔

کلکتہ میں ان کا قیام 1933ء سے 1937ء تک رہا۔ اس کے بعد مولانا آزادؒ کے ساتھ دہلی آگئے۔ مفتی صاحب نہ صرف ایک اچھے استاذ اور خطیب تھے بلکہ بے نظیر سیاسی مقرر بھی تھے۔ وہ بڑے بڑے جلسوں پر چھا جایا کرتے تھے۔ مطالعے اور تصنیف و تالیف کا ذوق و شوق بھی تھا۔ کلکتہ میں چار سالہ مشغلۂ تدریس کے دوران آپ نے مطالعہ اور غوروفکر پر خاص توجہ دی تھی۔

1938ء میں اپنے محترم دوست مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ کے مشورے سے قرولباغ، نئی دہلی میں ’ندوۃ المصنفین‘ کے نام سے اپنا اشاعتی ادارہ قائم کیا، جس میں مولانا سیوہارویؒ کے علاوہ مولانا سعید احمد اکبرآبادیؒ اور دوسرے مقتدر علماء کی مشاورت اور تعاون حاصل تھا۔ انھوں نے اسی سال مشہورِ عالم ماہنامہ ’برہان‘ بھی جاری کیا جس کی ادارت کا منصب مولانا سعید احمد اکبرآبادی نے سنبھالا۔ دارالمصنفین کے ترجمان معارف کی طرح ’برہان‘ برِّصغیر کے اعلیٰ ترین جرائد میں شمار ہوا۔ مفتی صاحب نے علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن الجوزی کی بعض اہم کتابوں کا اُردو ترجمہ کیا اور اپنے ادارے سے شائع کیا، مفتی صاحب کے ادارے نے متعدد شاہکارکتابیں شائع کیں جس میں مدیر برہان مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی ’صدیق اکبر‘ اور علامہ شبلی کی ’الفاروق‘ لافانی شہرت اور مقبولیت کی حامل ہیں۔ 1947ء کے ہنگاموں میں پاکستان سے ترکِ وطن کرکے آنے والے ہندو اور سکھ پناہ گزینوں نے دہلی شہر کی بیرونی آبادیوں قرولباغ، پہاڑ گنج اور سبزی منڈی وغیرہ جیسے مسلم آبادی والے محلوں کو تباہ و برباد کردیا، ہزاروں مسلمانوں کو قتل کردیا اور ان کی املاک پر قبضہ کرلیا، اس تباہی کی زد سے مفتی صاحب کا ادارہ ندوۃ المصنّفین بھی نہ بچ سکا۔ بعد میں مفتی صاحب جامع مسجد کے کٹرہ نظام الملک میں قیام پذیر ہوئے اور وہیں ندوۃ المصنّفین کا دفتر بھی قائم کیا۔

مجاہدِ آزادی اور مفکر ملّت مولانا مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ اپنے اسلاف کی طرح تقسیمِ وطن کے سخت مخالف تھے۔ تحریکِ خلافت میں انھوں نے دل و جان سے کام کیا تھا۔ گاندھی جی کے ملک گیر ستیا گرہ پروگرام میں پوری طرح شریک رہے تھے۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو مسلم لیگ اور مسٹر جناح کی دو قومی پالیسی کی قدم قدم پر مخالفت کی تھی لیکن ملک تقسیم ہوکرہی رہا۔

1947 ء کے طوفان کے ساتھ ہندوستان میں مفتی صاحب کی ملّی، قومی اور سیاسی زندگی کا ہنگامی دور شروع ہوا۔ وہ بیحد نازک وقت تھا جب بقول پروفیسر عنوان چشتی: ’’قومی زندگی کا عجیب عالم تھا، زندگی کے افق پر سینکڑوں رنگ ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے گزررہے تھے۔ ملک آزاد تھا، ذہنیت غلام تھی۔ کچھ ہمارے تساہل اور خود غرضی نے ملکی سیاست کو بازیچۂ اطفال بنا دیا تھا۔ خوشحالی کے خواب کو افلاس نے جھٹلا دیا تھا، تعصب اورفرقہ پرستی نے قومی ردا تار تار کردی تھی، تاریکی کو روشنی ڈس رہی تھی، جہل علم کو نگل رہا تھا۔ چاروں طرف خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی۔ انسانیت سربگریباں تھی۔ ہندوستانی مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد خون کا دریا پارکر کے سرحد پار جاچکی تھی۔ پاکستان کے مظلوم ہندو اگنی پریکشا دے کر ہمارے یہاں شرنارتھی بن چکے تھے۔ ایسی صورتِ حال میں ہندوستانیت اور انسانیت، تہذیب اور شرافت سینکڑوں خنجروں کی زد پر پڑی ہوئی تڑپ رہی تھی۔ اس عالم میں کسی مفکر اور دانشور کا خاموش رہنا ممکن نہ تھا۔ لہٰذا مفتی صاحب نے قومی و ملّی مسائل کو اوڑھنا بچھونا بنالیا۔‘‘

ملّی سیاست کو اوڑھنا بچھونا بنالینا کوئی سیدھا سادا سیاسی مشغلہ نہیں تھا، بلکہ ہندوستان کی تاریخ کے اس بدترین دَور میں خاص طور پر تقسیم کے زخم خوردہ اور اکثریتی عصبیت کا شکار ہوکرہندوستانی مسلمان مایوسی اور احساسِ کمتری کی زندگی جی رہے تھے۔ وقت کا تقاضہ تھا کہ ملت اسلامیہ کو آزاد ہندوستان میں عزت و وقار سے زندہ رہنے کا حوصلہ دیا جائے۔ قوم پرور علمائے کرام نے اس تقاضے کو بھرپور قیادت سے پورا کیا۔ ان قائدین میں مفتی عتیق الرحمن خاصے نمایاں تھے۔ انھوں نے جمعیۃ علماء کے پلیٹ فارم سے اپنے ساتھی رہنماؤں کے ساتھ مسلمانوں کی حفاظت کا فریضہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر بھی ادا کیا،مفتی صاحب نے حتی الامکان مسلمانوں کو پاکستان جانے سے روکنے کی کوشش بھی کی۔ قیامِ امن کے بعد کے حالات میں مسلمانوں کو سنبھالنے کے لیے جو عظیم الشان خدمت جمعیۃ علماء ہند نے انجام دی مفتی صاحب اس کے روح رواں تھے۔ مفتی صاحب اگرچہ عہدہ و منصب اور دنیوی مفادات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے لیکن 1950ء کے بعد انھوں نے محسوس کیا کہ حکومتی انتظامیہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کی زبوں حالی کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ لہٰذا انھوں نے مرکزی حج کمیٹی کے صدر کا عہدہ قبول کیا اور مسلمانانِ ہند کے لیے فریضۂ حج کی ادائیگی کو آسان بنانے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ آزاد ہندوستان کی پہلی مرکزی حج کمیٹی کے صدر تھے۔ ان کے دورِ صدارت میں جو اصلاحات اور بہتر اصول نافذ ہوئے تھے وہ اب تک قائم ہیں۔ اس کے بعد آپ دلّی وقف بورڈ کے صدر مقرر ہوئے۔ انھوں نے مسلم اوقاف کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے۔ سینٹرل وقف کونسل کے ممبر کی حیثیت سے مفتی صاحب نے مرکزی وزیر اوقاف حافظ ابراہیم صاحب کے دورانِ کار میں مرکزی وقف قانون پاس کرایا جس کے بعد وقف کی املاک کے تحفظ میں آسانیاں پیدا ہوگئیں۔ اس دَور میں مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ کا نہایت اہم کارنامہ یہ ہے کہ ان کی کوششوں سے ہی بہادرشاہ ظفر مارگ پر واقع قدیم مسجد عبدالنبی اور اس سے ملحقہ اراضی پر جمعیۃ علماء ہند کا قبضہ ممکن ہوا۔ آج یہاں جمعیۃ علماء ہند کا شاندار ہیڈکوارٹر قائم ہے جو معزز مدنی خاندان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکزہے۔ یہ مسجد اور عمارت آج مسلمانانِ ہند کی عزت و وقار کی علامت ہے لیکن یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ آزادی کے بعد حکومت ہند اور دوسرے عناصرنے جس طرح ملک کی لاکھوں وقف جائدادیں ہڑپ کرلیں اسی طرح راجدھانی کے دل میں واقع اس مقام پر بھی اغیارکا قبضہ تھا جسے مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ صاحب کی کوششوں سے ہی واگزار کرایا جاسکا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ آزادی کے بعد جمعیۃ علماء کے جن تین رہنماؤں کو سب سے زیادہ اہمیت اور مرکزیت حاصل تھی وہ مولانا حفظ الرحمنؒ ، مولانا محمد میاںؒ اور مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ تھے۔

30 اگست، 2014  بشکریہ : روز نامہ عزیز الہند، نئی  دہلی

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/faruque-argali/mufti-atiqur-rehman-usmani--a-religious-scholar-and-freedom-fighter-part---1--(عالم-دین-اور-مجاہد-آزادی-مفتی-عتیق-الرحمن-عثمانیؒ-(-قسط-اوّل/d/98990

 

Loading..

Loading..