New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 05:48 AM

Urdu Section ( 15 Jun 2020, NewAgeIslam.Com)

Gulzar Dehlavi: Torch Bearer of Delhi's Civilisation گلزار دھلوی۔۔۔ دھلوی تہذیب کاآئینہ دار


فاروق اگلی

14جون، 2020

نوٹ: ذیل مضمون گلزار دہلوی کی زندگی میں ان کو پیش کیا گیاخراج تحسین ہے۔

قرآن کریم اور گیتا کے تقدس کاپرتو،اسلامی آگہی کاعکس، سادھو سنتوں کا پریم گیان، بزرگانِ دین کی عقیدتوں سے منور قدیم ہندو مسلم مشترکہ تمدن کاچمکتا دمکتا اور چہکتا ہوا خوبصورت چہرہ، میر، غالب، ذوق، مومن اور داغ کی فصاحتوں کا جھرجھربہتا ہوا آبشار، کو کوثر و تسنیم اور گنگا جمنا میں دھلے شفاف لب وہ لہجے میں بولتی ہوئی دہلوی تہذیب اور چلتا پھرتا قلعہئ معلی۔۔۔۔۔۔یہ ہیں نازش اردو گلزار خسرو، شاعر قوم، طوطی نظامی،بلبل ہند، مجاہد آزادی اور جانثار اردو پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی۔

راشٹریہ سہارا کے مدیر تدبیر جناب عزیز برنی کا موبائلی ہدایت نامہ صادر ہے کہ فخر ادب گلزار دہلوی صاحب کی سال گرہ پرلکھناہے، قوت فکر معطل اورخامہ انگشت بدنداں ہے کہ کیاکہیے اور کیا لکھئے کہا ں سے شروع کروں، کہاں ختم کروں، جسے ساری دنیاجانتی ہو اس کا تعارف کیونکر کراؤں؟پچھلے40-45 برسوں میں جس طرح اس بلبل ہزار نغمہ کودیکھاسنااور جانا ہے وہ سب بیان کرنے کوتو ایک کتاب بھی کافی نہ ہو، چہ جائیکہ اخبار کا یہ چھوٹاساصفحہ اور یہ مختصر سامضمونچہ۔قارئین بس یہ تصور فرمالیں کہ اردو کی اس مایہئ فخر شخصیت کے تئیں یہ محض ایک مختصر خراجِ محبت ہے۔

پنڈت آنند موہن زتشی کشمیری پنڈتوں کے اس معزز خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے اسلاف اپنے علم وفضل کی بناء پر عہد شاہجہانی میں مغلیہ شہزادوں کے اتالیق ہوئے اور مناصب وجاگیریں پائیں۔فارسی، عربی اور ہندوستانی علوم ان کی میراث بنے، اردو زبان اپنے ارتقائی دور سے ہی ان کا باکمال پنڈتوں سے وابستہ رہی ہے۔ اور اس طرح گلزار دہلوی پشتینی اور خاندانی اور اردو والے ہیں، اردو تہذیب ان کی گھٹی میں پڑی ہے اور دہلویت ان کی رگ وپے میں بسی ہے۔ اس عروس البلاد میں ان کی جڑیں کتنی گہری ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگا یا جاسکتا ہے کہ پرانی دہلی کامشہور محلہ بازار سیتارام ان کے جدِّ اعلیٰ پنڈت سیتارام زتشی کے نام پر آباد ہوا تھا او رگلی کشمیریان اس نام سے یوں مشہور ہوئی کہ وہاں اس خاندان کی حویلیاں تھیں، وہ حویلیاں تو نہ رہیں، وقت نے ہرعظمت پارینہ کو کھنڈروں میں تبدیل کردیا ہے مگر گلزار دہلوی اسی رعایت سے خود کو ”دلّی کاروڑا“ کہتے ہیں۔ انہیں بجا طور پر اپنے وطن دہلی اور اپنی ٹکسالی زبان پر ناز ہے۔

دس پشت سے پالا ہے مرے آبانے

اردو کی حسیں طرز و طرح ڈالی ہے

اردو کے بگڑتے ہوئے ماحول میں بھی

جولفظ زباں پر ہے وہ ٹکسالی ہے

گلزار دہلوی نے 7جولائی1926کو دہلی کے نامور شاعر پنڈت تربھون ناتھ زتشیز ار دہلوی کے گھر میں جنم لیا۔خار صاحب فصیح الملک نواب مرزاخاں داغ دہلوی کے عزیز شاگرد تھے۔ آپ اردو، فارسی، عربی، سنسکرت،انگریزی زبان و ادب کے علاوہ ریاضی، اسلامیات اور ویدانت کے بھی جیّد عالم تھے، انہوں نے اورینٹل کالج لاہور میں مولانامحمد حسین آزاد سے اکتساب علم کیا تھا۔ گلزار صاحب کی والدہ محترمہ برج رانی صاحبہ بھی قادر الکلام شاعر ہ تھیں اور بیزار دہلوی کہلاتی تھیں۔ انہیں یادگار داغ نواب سائل دہلوی سے شرف تلمذ حاصل تھا۔ گلزار دہلوی کے ماموں پنڈت گردھاری لعل کول عاشق بھی مشہور شاعرتھے۔ ایسے گھرانے میں ہوش سنبھالنے والے بچے پر شعر وسخن کااثر پڑنا فطری امر تھا۔گلزار صاحب کو پیدائشی اور نجیب الطرفین شاعر کہا جاناحق بجانب ہے، یہ صرف 8 سال کی عمر سے شعر کہنے لگے تھے۔ سن شعور کو پہنچنے کے بعد نواب سائل دہلوی اور حالی کے شاگرد پنڈت برجموہن دتاتر یہ کیفی دہلوی کے شاگرد ہوئے۔پنڈت امرناتھ مدن ساحر دہلوی زائر غالب اور بابائے اردو مولوی عبدالحق سے فیضان علم و فن کے مواقع انہیں نصیب ہوئے۔ اردو زبان و تہذیب سے والہانہ اور مجنوعانہ عشق کی وراثت بزرگوں سے ملی۔ انہیں اعظم ہند مولاناکفایت اللہ، مولانااحمد سعید دہلوی، خواجہ حسن نظامی، مفتی عتیق الرحمن عثمانی، علامہ راشد الخیری، مولاناسعید اکبر آبادی، مولانا حسین احمد مدنی، جیسی عظیم المرتب ہستیوں کی بابرکت قربتوں نے علم و آگہی دولتوں سے مالامال کردیا۔قدرت نے ذہانت و فطانت کا خزانہ ودیعت کیا تھا۔ بحیثیت شاعر 1938 سے یعنی دس سال کی عمر سے ہی معروف ہونے لگے تھے لیکن مشق سخن کے ساتھ ساتھ تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ انہوں نے دلّی یونیورسٹی سے بی اے اور ایل ایل بی اور پنجاب یونیورسٹی سے ادیب فاضل ومنشی فاضل کے امتحانات پاس کیے۔ گلزار صاحب نے اپنے بزرگوں کی طرح اپنے کیریر کا آغاز درس وتدریس سے کیا تھا، وہ دلّی کے مختلف اسکولوں کالجوں میں جزوقتی طور پر اردو اور فارسی پڑھاتے تھے۔ بعد میں وہ دہلی کلاتھ ملز کے ویلفیئر ٹرست میں لالہ سرشنکر لعل کے تعلیمی و ثقافتی مشیر بھیرہے مگر 1952 میں مولانا ابوالکلام آزاد کی نظرو ں میں آئے جو مرکزی وزیر تعلیم و سائنسی امور تھے، مولاناکے دو وزارت میں ہی کاؤنسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) کا محکمہ قائم ہوا تھا۔ گلزار صاحب اس ادارے کے اشاعتی ڈائریکٹوریٹ سے وابستہ ہوئے۔ یہاں تک کہ 1990 میں انہوں نے اسی محکمے کے تحت اردو ادب و صحافت کی تاریخ کا منفرد کارنامہ انجام دیا۔ گلزار صاحب نے اردو زبان کو سائنس سے جوڑنے کے لیے اس محکمے کی جانب سے رسالہ ’سائنس‘ کی دنیا جاری کیا اور 12برسوں تک اس کے مدیر رہے۔ سائنسی علوم کو اردو زبان میں عام کرنے میں ان کا سائنسی مزاج اور غیر معمولی ذہن کار فرما تھا۔ ان کی یہ کوشش تاریخ کاحصہ بن گئی۔ انہیں ”سائنسی شاعر“ بھی کہا جاتا ہے۔

گلزار صاحب کی پوری زندگی غیر معمولی مصروفیوں اور ہمہ جہت سرگرمیوں میں گزری ہے۔ شعر و شاعری، تعلیم و تعلّم آزادی کی جد وجہد،سرکاری ملازمت او رآزادی وطن کے بعدایک مخصوص اردو دشمن ذہنیت سے مسلسل معرکہ آرائی، قومی یکجہتی اور ہندو مسلم اتحاد کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش کرناان کی زندگی کا مقصد بن گیا۔ تقسیم کے بعد جب ہندوستان میں اردو کامستقبل اندھیرے میں ڈوب رہا تھا، گلزار دہلوی انجمن تعمیر اردو کے ذریعہ 1947 کی لٹی پٹی دہلی میں اردو کے چراغ روشن کررہے تھے۔ نئے ہندوستان میں اردو کی نئے دروبام تعمیر کرنے کی یہ کوشش ناقابل فراموش رہی، ان کی انجمن کے پروگراموں میں اس عہد کے تقریباً تمام ہی مشاہیر نے حصہ لیا ہے۔ انجمن تعمیر اردوکے معمار کی حیثیت سے گلزار صاحب کی علمی، ادبی، تنظیمی اور تہذیبی خدمات گزشتہ نصف صدی سے، حالات و ماحول کے تغیر وتبدل کے باوجود اب بھی کسی نہ کسی نہج سے جاری ہیں۔

بحیثیت شاعر گلزار دہلوی ایک خاص لب ولہجہ کے حامل ہیں، ان کے کلام میں اردو ئے معلی کی لطافت او ران کی مخصوص جمالیاتی فکر کے پرتو کے ساتھ ساتھ عصری حسیّت، قومی یکجہتی او رمحبوبہئ اردو سے مجنونانہ عشق کے جذبات پوری شدت سے نمایاں ہیں۔ حمدیہ، نعتیہ اور منقبتی کلام میں عقیدتوں کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے وہ عالمگیر سطح پر مشاعرو ں مذاکروں اور ادبی محفلوں کی جان بنے ہوئے ہیں۔ ان کی مرصع گفتگو اور پڑھنے کا جوشیلا انداز سامعین کو اسلاف کی یاد دلاتا ہے۔

گلزار دہلوی سیاسی طور پر جمعیۃ العلماء اور کانگریس کے سرگرم کارکن رہے ہیں۔ 1945 میں وہ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے وابستہ ہوئے تھے۔ ان کے بعد رئیس الاحرار مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ؒ کے انتقال تک جمعیۃ سے ان کا رشتہ مسلسل قائم رہا۔ گلزار دہلوی سے مولانا مدنی ؒ اتنے متاثر تھے کہ ایران ترکی اور سعودی عرب وغیرہ کے سربراہان جب ہندوستان تشریف لاتے تو ان کی شان میں سپا سنا مے اور خیر مقدمی نظمیں انہی سے پڑھواتے تھے۔

پنڈت جواہر لعل نہرو سے ان کا خاص تعلق رہا۔1958 میں پنڈت جی او رمولاناابوالکلام آزاد کی قیادت میں دہلی میں جو تاریخی اردو کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس کے گلزار صاحب سیکریٹری تھے۔ انہوں نے اردو زبان اور تہذیب و ثقافت کی ترویج و ترقی کے لیے لالہ مہیشور دیال، جمنا داس اور سیدسجاد ظہیر جیسے مشاہیر کے ساتھ یادگار اجتماعات منعقد کیے۔ گلزار صاحب نے اپنی شعلہ بار جذباتی تقریروں اور دلوں کو جھنجھوڑ دینے والی نظموں سے مسلسل آدھی صدی تک اردو عوا م کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ آزاد ہندوستان میں اردو زبان کے لیے عوامی اور بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنے والوں میں گلزار دہلوی کی ذات گرامی سب سے نمایاں ہے۔ وہ بیک وقت ایک نامور شاعر، ادیب اور صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ اردو کے عالمی سفیر اور سب سے بڑے وکیل بھی ہیں۔ ان کی شہر ت او رمقبولیت برصغیر کی سرحدوں سے باہر 40سے زائد ممالک میں پھیلی ہوئی ہے۔انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے ’نشان پاکستان‘ سے سرفراز کیا جاچکا ہے۔

گلزار دہلوی صاحب مصور فطرت حضرت خواجہ حسن نظامی ؒ کے زمانے سے ہی درگاہ محبوب الہٰی حضرت نظام الدین اولیاؒ اور حضرت امیر خسروؒ سے عملی اور روحانی طور پر وابستہ ہیں، وہ گزشتہ نصف صدی میں محافل اعراس، طریقت و تصوف کے مذاکرات اور دیگر متبرک اجتماعات میں سجاد گان، صاحبزادگان اور پیرزدگان کے ہمدوش سرگرم نظر آتے رہے ہیں۔آپ 1945 سے ادارہ نظامیہ ٹرسٹ سے وابستہ ہیں۔

آخر ی مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر نے دہلی کی تاریخی رام لیلا شروع کی تھی جو آج بھی ہر سال بڑے تزک و احتشام سے منعقد ہوتی ہے۔ گلزار صاحب 35برسوں سے اس مذہبی ادارے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ رام لیلا کمیٹی کے تشکیل کردہ حفاظتی رضا کار دستہ کے کمانڈر بھی ہیں۔ ان کی قیادت میں جو حفاظتی دستہ کام کرتا ہے۔ اس میں ہندوؤں کے ساتھ مسلم نوجوان بھی خاصی تعداد میں شامل ہوتے ہیں۔ جناب گلزار دہلوی نے اس طرح شہر دہلی میں ہندو مسلم اتحاد کامؤثر راستہ نکالا ہے۔ ان کے تربیت یافتہ رضا کاروں کا یہ دستہ جس میں ہندو نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، حضرت نظام الدین اولیاؒ کے عرس شریف میں بھی زائرین کی خدمت انجام دیتا ہے۔گلزار صاحب کی کوششوں سے بھرت ملاپ کے موقع پر ایک ایسے جلسے کا انعقاد بھی شروع ہوا جس میں ہندو صاحبان کے ساتھ ہی مسلم عمائد ین بھی حصہ لیتے ہیں، 1947 کے بعد دہلی میں ہندو مسلم اتحاد کا یہ نیا دور گلزار صاحب کی بدولت ہی شروع ہوا۔

میرے ناقص خیال میں گلزار دہلوی سوا سو کروڑ کی آبادی والے ہندوستان میں ایسے سچے ہندو ہیں جن کی شخصیت اس ملک کی تاریخ ساز مذہبی رواداری اور سماجی ہم آہنگی کی روشن روایات کا مجسم نمونہ ہے۔

گلزار صاحب اب 82سالہ بزرگ ہیں لیکن نوجوانوں کی طرح شوخ و شنگ،پھر تیلے اور سرگرم نظر آتے ہیں،تحریر و تقریر میں وہی جوش و خروش ہے جو 60 سالہ پہلے تھا، اردو دشمنوں کے لیے آج بھی وہ شمشیر برہنہ ہیں اور محبوں کے لیے شجر سایہ دار۔1992 میں بابری مسجد کی شہادت کا انہیں اس قدر صدمہ ہوا کہ کانگریس پارٹی اور سیاست سے ہمیشہ کے لیے کنارہ کش ہوگئے۔ گلزار صاحب نے ایک شاندار اور افعال ہنگامہ خیز زندگی گزاری ہے۔ان کے صاحبزادے ایم بی اے ہیں اور ممبئی کے ایک بڑی کمپنی کے منیجنگ ڈائرکٹر ہیں۔ ان کی صاحبزادی پنڈت نہرو اور سرتیج بہادر سپرو کے خاندان میں بیاہی ہیں، جواپنے شوہر کے ساتھ امریکہ میں مقیم ہیں، لطف کی بات ہے کہ دونوں ہی اردو زبان اور شعر و شاعری کے دلدادہ ہیں۔ ان کے بڑے بھائی پنڈت رتن موہن ناتھ خار دہلوی معروف شاعر ہیں۔ ان کے دو چھوٹے بھائیوں نے لکھنؤ میں رہائش اختیار کی ہے۔ ان کے سب سے بڑے بھائی کے پوتے راج زتشی کی شادی فلم اسٹار عامر خان کی بہن سے ہوئی ہے۔ پورا خاندان کے فضل سے خوشحال اور معزز ہے۔ گلزار صاحب کو اگر کوئی غم ہے تو وہ اردو تہذیب کے زوال اور اردو والوں میں اپنی زبان و روایات کے تئیں عدم بیداری و بے عملی کاغم ہے۔

بحیثیت مجموعی گلزار صاحب کی شخصیت اتنی پہلو دار ہے کہ یہ کہنامبالغہ نہ ہوگا کہ اگر اردو میں لسانی، تہذیبی، حسّیاتی، محاکاتی اور جذباتی عصری عجوبوں کی کوئی گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ یا”عالمی بیاض تمثال“ مرتب ہوتی تو سرفہرست یہی نام ہوتا، پنڈت گلزار دہلوی۔ اردو زبان،احترامِ آدمیت، روایتی وضع داری اورسیکولر اقدار کے تئیں استواری کی ہر شرط پرکھری اترنے والی ان کی وفاداری دیکھ کر تو میں اکثر سوچنے لگتا ہوں کہ غالب کے سامنے گلزار صاحب جیساکوئی برہمن ضرور رہا ہوگا جس کو انہوں نے بت خانے میں مرنے کے باوجود کعبہ میں گاڑے جانے کے لائق سمجھا تھا۔

14 جون،2020، بشکریہ: چٹان، سری نگر

URL: https://newageislam.com/urdu-section/farooq-argali/gulzar-dehlavi--torch-bearer-of-delhi-s-civilisation--گلزار-دھلوی۔۔۔-دھلوی-تہذیب-کاآئینہ-دار/d/122129


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..