New Age Islam
Sat Dec 04 2021, 05:43 PM

Urdu Section ( 26 Oct 2009, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Allama Fazl-e-Haq Khairabadi, they symbol of Knowledge and positive action سراپا فضل، پیکر حق اور مجسّم خیر، مجاہد آزادی نشان علم و عمل علامہ فضل حق خیر آبادی

فاروق ارگلی

آزادی ہند کی تاریخ لاتعداد محبان وطن کی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔ اس کے صفحات بلا لحاظ مذہب وملت لاکھوں ہندوستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ ہندوستان جنت نشان کی جنگ آزادی کے سورماؤں میں ایک نام علامہ فضل خیر آبادیؒ کا بھی ہے جن کے تذکرے کے بغیر 1857 ء کی خونیں تاریخ ہر گز مکمل نہیں ہوسکتی۔ آپ اسلامیان ہند کے ان اکابر علماء وفضلا ء کی صف میں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں جنہوں نے مادروطن کی آزادی کے لئے سرفروشی، عالی حوصلگی اورایثار و قربانی کی لازوال مثالیں قائم کردی ہیں۔ علامہ فضل حق خیر آبادیؒ نے انقلاب 1857 ء سے قبل ملکی صورت حال کو دیکھا اور شدت سے محسوس کیا تھا کہ انگریزوں نے دہلی اور پورے ہندوستان پر اپنی گرفت مضبوط کر لینے کے بعد ہندوستانی عوام کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بے دست و پا بنادینے کے لئے کیسے کیسے شیطانی حربے اپنائے تھے۔ انہوں نے جدید تعلیم کی آڑ میں اپنامذہب او راپنی تہذیب ہندوستانیوں کی نئی نسلوں پر تھوپنے کی منظم کوشش کی اور بطور خاص مسلمانوں کے مذہبی تشخص پر حملہ کرتے ہوئے ان کے دینی مدار س کو ختم کردینے کا عملی سازش کی۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو ختنہ کرنے سے روکنے او رمسلم خواتین کا پردہ ختم کرانے کی مہم بھی جاری کی، انگریزوں نے ہندوستانیوں کو اپنا دست نگر اورمحتاج بنانے کے لئے ملک میں پیدا ہونے والی غذائی اجناس اور دوسری اشیاء کی خرید و سپلائی پر اجارہ داری قائم کرلی، ان کامقصد یہ تھا کہ ہندوستانی عوام اسی طرح برطانوی طاقت کی اطاعت پر مجبور کئے جاسکتے ہیں۔ 1857 ء میں سور اور گائے کی چربی لگے کارتوس ہندوستانی فوجیوں کو دیئے گئے تھے جنہیں دانتوں سے کاٹنا پڑتا تھا۔ علامہ فضل حق خیر آبادیؒ نے محسوس کیا تھا کہ یہ انگریزوں کی طرف سے اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کی کوشش تھی کہ اس طرح ہندو مسلم مذہبی عقائد و رسوم کا خاتمہ کرکے تمام رعایا کو کفر والحاد کی راہ پر لایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے عیسائی مشنریوں کی فوجیں ملک کے گوشے گوشے میں تعینات کردی تھیں جو ہندوستانیوں کواپنے دھرم ومذہب وعقائد سے برگشتہ کرکے دین مسیحی اختیار کرلینے کی جارحانہ تلقین و دعوت میں مصروف تھیں۔ علامہ فضل حق خیر آبادیؒ اس دور پرُ فتن میں خاموش نہ رہ سکے،انہوں نے ”فتنۃ الہند“ میں اعلان کیا:

”نصّ  قرآنی سے ثابت ہے کہ ان کی (نصاریٰ کی) محبت کفر ہے۔ کسی حق پرست انسان کو اس پر شبہ نہیں ہوسکتا۔ نصاریٰ سے محبت کس طرح جائز ہوسکتی ہے جب کہ لوگ اس ذات اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم) دشمن ہیں۔“

علامہ فضل حق خیر آبادیؒ کی ولادت 1797 ء میں قصبہ خیر آباد،ضلع سیتا پور یوپی میں ہوئی۔ اگر چہ کچھ تذکروں میں مقام ولادت دہلی کو بھی بتایاگیا ہے، یہ قیاس اس بنا پر بھی ہے کہ ان کے والد حضرت مولانافضل امام خیرآبادیؒ جو اس دور کے علماء میں نہایت ممتاز او رعلوم عقلیہ کے نامور عالم تھے اور دہلی کے صدر الصدور کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے۔ شہر دہلی کے عوام و خواص او رقلعہ معلی میں آپ کی شخصیت نہایت محترم سمجھی  جاتی تھی۔جس زمانہ میں حضرت شاہ عبدالعزیز اور حضرت شاہ عبدالقادرؒ کے علم و فضل کی روشنی پھیلی ہوئی تھی دہلی اور اطراف میں مولانا فضل امامؒ کے عالمانہ چراغ میں روشن تھے۔ سرسید احمد خاں نے مولانا فضل امامؒ کو آثار الصنادید میں موسس اساس ملت ودیں، بانی مبانی انصاف، جامع صفات جلال و جمال، سند اکابر روزگار، مرجع اعلیٰ و ادنیٰ ہردیار، مورد فیض ازل وابد، زبدہئ کرام، اسوہئ عظام، مقتدائے انام مولانا، مخدومنا مولوی فضل امامؒ کے محترم القابات کے ساتھ یاد کیاہے۔ مولانا فضل امامؒ کے متعددشاگرد تھے، جن میں ان کے بعد صدر الصدور دہلی کا عہدہ سنبھالنے والے مفتی صدر الدین آزردہ اور صاحبزادہ فضل حق خیر آبادیؒ مشہور و معروف ہوئے۔ علامہ فضل حق خیر آبادیؒ کی تعلیم و تربیت کے زمانہ میں دہلی کا ملین عصر کا مرکز تھا۔ اپنے والد کے علاوہ انہوں نے حضرت شاہ عبدالقادر محدث دہلویؒ اور حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ سے بھی فیضان علم و عرفان حاصل کیا۔ مفتی صدر الدین آزردہ ہم عمر او رہم سبق تھے۔ علامہ فضل حق کو اپنے ان استاد بھائی سے بے حد محبت تھی۔ علامہ فضل حق خیر آبادیؒ غیر معمولی ذہانت وفطافت کے مالک تھے۔ 13 سال کی عمر میں ہی ان کا شمار وقت کے ہونہار علماء میں ہونے لگاتھا۔ جن طلبا کو ان کے والد درس دیتے تھے، والد کی عدم موجودگی میں آپ انہیں پڑھایا کرتے تھے۔ وہ اکبر شاہ ثانی کا زمانہ تھا۔ دہلی میں انگریز ریزیڈنٹ کا دفتر تھا جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوستانی مختلف ذمہ داریاں سنبھالتے تھے۔ انگریزوں سے سخت نفرت کے باوجود وقت کی رفتار کو دیکھتے ہوئے بہت سے شرفا نے انگریزوں کی ملازمت قبول کرلی تھی۔ 1815 ء میں علامہؒ نے اپنے والد کے زور دینے پر کمپنی کی حکومت میں سررشتہ دار کی حیثیت سے ملازمت کرلی۔ آپ نے انگریزوں کو نوکری کا کڑوا گھونٹ اپنے والد کے حکم کی تعمیل میں طوعاً و کرہاً حلق سے اتارا تھا۔ کئی برسوں تک دہلی میں سرکاری خدمات انجام دینے کے دوران علامہ فضل حق خیر آبادیؒ عمائدین شہر میں ایک نہایت محترم او رمحبوب شخصیت کے طور پر بھی مشہور رہے۔ بہادر شاہ ظفر، ذوق، مومن، صہبائی، آزردہ اور غالب کے ساتھ نہایت قریبی دوستانہ او ربے تکلفانہ رشتے تھے۔ اس دور کی دہلی میں غالب، علامہ فضل حق ؒ اور مفتی آزردہ کی دوستی مشہور تھی۔ آزردہ غالب کی مشکل پسندی کے خلاف تھے مگر غالب ان کی پروا نہیں کرتے تھے لیکن علامہ فضل حقؒ نے مرزا کو آسان گوئی کی طرف راغب کیا۔’آب حیات‘ میں مولانا محمد حسین آزاد نے لکھا ہے کہ:

”مولوی فضل حقؒ صاحب فاضل بے عدیل تھے، ایک زمانہ میں دہلی میں سر رشتہ دار تھے، اس عہد میں مرزا خاں کو توال تھے، مرزا قتیل کے شاگرد تھے، نظم و نثر فارسی اچھی لکھتے تھے، غرض کہ دونوں باکمال مرزا کے دلی دوست تھے، ہمیشہ باہم دوستانہ جلسہ اور شعر وسخن کے چرچے رہتے تھے۔ انہوں نے اکثر غزلوں کو سنا اور دیوان کو دیکھا تو مرزا صاحب کو سمجھا یا کہ یہ اشعار عام لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں گے۔ مرزا نے کہا جو کچھ کرچکا اس کاتدارک کیا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیر ہوا سو ہوا، انتخاب کرو اورمشکل شعر نکال ڈالو،مرزا صاحب نے دیوان حوالے کردیا،دونوں صاحبان نے دیکھ کر انتخاب کیا، یہی وہ دیوان ہے جو آج عینک کی طرح لوگ آنکھوں سے لگائے پھرتے ہیں۔“

خواجہ الطاف حسین حالی نے بھی ”یادگار غالب“ میں لکھا ہے کہ:

”مولوی فضل حقؒ کی تحریک سے انہوں نے اپنے اردو کلام میں سے جو اس وقت موجود تھا بہت سے مشکل الفاظ حذف کردیے“۔

غالب اور علامہ فضل حق خیرآبادیؒ کے تعلق سے ایک لطیفہ اردو ادب کی تاریخ کاحصہ بن گیا ہے۔ یہ دراصل ایک دلچسپ سچاواقعہ ہے۔ علامہ فضل حقؒ اگرچہ اپنے عہد کے جید عالم تھے لیکن چونکہ وہ ان کی اوائل عمری کا زمانہ تھا۔ شہزادوں کی صحبت اور امیر انہ ٹھاٹ کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔ اس زمانہ میں ازراہ وضع داری ارباب نشاط سے بھی ان کی رسم وراہ تھی۔ ایک بار مرزا غالب علامہؒ سے ملنے ان کے مکان پر گئے، علامہ کی عادت تھی کہ جب کوئی ان سے ملنے آتا تو ”خالق باری“ کا یہ مصرعہ پڑھ کر خیر مقدم کرتے تھے۔”بیابر ادر آؤ رے بھائی“ اس دن بھی مرزا کو دیکھتے ہی انہوں نے حسب عادت یہ مصرعہ پڑھا اور مرزاکی تعظیم کیلئے کھڑے ہوگئے۔ غالب ابھی بیٹھے ہی تھے کہ شہر کی ایک گانے والی وہاں پہنچ گئی۔ اسے دیکھتے ہی مرزا نے علامہ سے کہا ”مولانا اب دوسرامصرعہ بھی فرما دیجئے ”بنشیں مادر، بیٹھ ری مائی“ علامہ مسکراکر خاموش رہ گئے۔

علامہ فضل حق خیر آبادیؒ نے اپنے والد کے انتقال کے بعد 1831ء میں انگریزوں کی ملازمت چھوڑ دی او رجھجھر کے نواب فیض محمد خاں کی ملازمت اختیار کرلی لیکن جب تک دہلی میں ان کا قیام رہا وہ غالب، صہبائی، مومن، آزردہ او راس وقت کے دہلی کے نامور علمی اور ادبی ہستیوں کے جھرمٹ میں خورشید درخشاں کی طرح جگمگا تے رہے۔ جھجھر میں وہ زیادہ عرصہ تک نہیں رہے اور دربار رامپور سے وابستہ ہوئے۔ اس کے بعد وہ حکومت اودھ کے تحت لکھنؤ کے صدر الصدور ہوگئے لیکن کچھ عرصہ بعد لکھنؤ کے انتہائی باثر لوگوں سے علامہ کا نزاع ہوگیا جس میں سید مظہر نبی اور نوراحمد کی پہنچ اونچی تھی۔ نتیجے میں علامہ کو گرفتار کرلیا گیا او رانہیں کئی سال قید خانے میں گزارنے پڑے۔

علامہ فضل حقؒ کے دل میں انگریزوں سے انتہائی نفرت او رملک کی آزادی کا شدید جذبہ شروع سے ہی جاگزیں تھا۔ 1855 ء میں ہنومان گڑھی(ایودھیا) کی شہادت کاا لمناک سانحہ پیش آیا جس میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے تھے۔ مولوی امیر علی امیٹھوی کی قیادت میں مسلمانوں نے جو جہاد کیا تھا اس کو آپ کی مکمل حمایت حاصل تھی لیکن مجاہدین پر نواب واجد علی شاہ کی فوجوں نے غلبہ پایا امیر علی امیٹھوی کو توپ سے اڑا دیا گیا۔ اسلام کی اس بے عزتی او ر واجد علی شاہ کی عیش کوشی نے علامہ کو بے حد رنجیدہ کردیا او رآپ صدر الصدور کا عہدہ چھوڑ کر الور چلے گئے۔ 4 فروری 1856 ء کو انگریزوں نے واجد علی شاہ کو معزول کرکے اودھ پر قبضہ کرلیا۔ علامہ اس وقت الور میں تھے او ر وہاں انگریزوں کے خلاف جہاد کی تیاریاں کررہے تھے۔ انہوں نے الور، میوات اور دہلی میں دھواں دھار تقریریں کرکے جہاد کا ماحول پیداکردیا۔ سینکڑوں افراد وطن کی آزادی کے لئے آپ کی قیادت میں جمع ہوگئے۔ اس دوران اودھ میں مولوی احمد اللہ شاہ او ربیگم حضرت محل نے جہاد کا پرچم بلند کیا جب کہ واجد علی شاہ کو مٹیا برج (کلکتہ) لے جاکر نظر بند کردیا گیا۔ پھر مئی 1857 ء میں میرٹھ چھاؤنی کے فوجیوں کی بغاوت دہلی پہنچ کر طویل جدوجہد میں تبدیل ہوگئی۔16 اگست 1857ء کو علامہ اپنے لشکر مجاہدین کو لے کر دہلی پہنچے، لال قلعہ میں بہادر شاہ ظفر سے ملاقات کی۔ بادشاہ علامہ کی لیاقت و بصیرت کے پہلے سے ہی قائل تھے انہوں نے جنرل بخت خاں اور علامہ پر مشتمل مشاورتی کونسل اپنی قیادت قائم کی۔ جنرل بخت خاں مجاہدین آزادی کی کمان کر رہے تھے، اس وقت جب دہلی جنگ کامیدان بن چکی تھی او ربہادر شاہ ظفر وسائل کی کمی اور آزادی کے لئے لڑنے والے فوجیوں کو تنخواہ نہ دے پانے کی وجہ سے شکستہ تھے۔ اس وقت علامہ فضل حق خیرآبادیؒ نے بہترین قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ حکومت اورانتظامیہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں اور اپنے خاص اشخاص اور صاحبزادے کو گڑگاؤں اور دوسرے علاقوں سے رقوم کی تحصیل کے مناسب اہتمام پر مامور کیا۔

علامہ نے جنرل بخت خاں کے مشورے سے عوام میں انگریزوں کے خلاف جہاد کا تاریخی فتویٰ جاری کیا جس کی جامع مسجد دہلی میں تین سو سے زائد علما کے اجتماع نے حمایت کی۔ اس تاریخی فتویٰ جہاد کے ذریعہ انگریزوں کے خلاف جنگ کا مذہبی جواز پیدا ہوگیا۔ فتوے کے شائع ہوتے ہی جہاد آزادی میں جان پڑ گئی۔دہلی میں ایک لاکھ کے قریب مجاہدین جمع ہوگئے،جنگ 1857ء کی روداد ہندوستان کی سب سے زیادہ المناک داستان ہے۔ اس جنگ میں جب دہلی میں انسانی خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں، جنرل بخت خاں اور شہزادہ مرزا مغل کے مابین زبردست اختلاف پیدا ہوا۔ انگریزوں کے جاسوس اور غدار ہندوستانی اپنی سازشوں میں مصروف تھے۔ خود بہاد ر شاہ ظفر کی بیگم زینت محل، مرزا الٰہی بخش او رکچھ خاص لوگ اپنی مصلحتوں او رمفادات کی حفاظت میں مصروف تھے ایسے حالات میں آزادی کیلئے لڑنے والے ہزاروں لوگ مرزا مغل کی حمایت میں جنرل بخت خاں کے خلاف ہوگئے۔ اس صورت حال کانتیجہ یہ نکلا 19 ستمبر 1857ء کو انگریز دہلی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ دہلی شہر کو لاشوں کا جنگل بنا دیا گیا۔خاص طور پر مسلمان شرفا اور بااثر گھرانوں کو نیست و بابود کردیا گیا۔ بہادر شاہ ظفر گرفتار کرلیے گئے، شہزادوں کو قتل کرکے ان کے لاشے خونی دروازے پر لٹکا دیے گئے۔ دہلی پر قبضہ ہونے کے بعد علامہ اپنے اہل خاندان کے ساتھ خیر آباد روانہ ہوگئے۔ گھروالوں کو خیر آباد پہنچانے کے بعد علامہ فضل حقؒ اودھ کی جنگ آز ادی میں مولوی احمداللہ شاہؒ اور شہزادہ فیروز شاہ کے لشکر میں شامل ہوگئے۔ علم و فضل کا یہ شہ سوار میدان جہاد کا بہادر سپاہی بن گیا۔ مولوی احمد اللہ شاہ ؒ کی شہادت او ربیگم حضرت محل کے نیپال کی طرف ہجرت کرجانے کے بعد اودھ پر بھی انگریزی سامراج کا قبضہ ہوگیا۔ علامہ فضل حق کو انگریزی فوج تلاش کرتی رہی لیکن وہ روپوش ہوگئے۔ دہلی اور اودھ میں انگریز ہندوستانیوں کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کرتے، برائے نام مقدمہ چلتا پھر پھانسی پر لٹکا دئے جاتے یا کالا پانی بھجوا دئے جاتے۔1858ء میں ملکہ وکٹوریہ نے عام معافی کا اعلان کیا تب علامہ نے انگریز کرنل کلارک سے ملاقات کی، انہیں توقع تھی کہ ان کے خلاف اب کوئی اقدام برطانوی حکومت نہیں کرے گی لیکن انہیں گرفتار کرکے لکھنؤ بھیج دیا گیا جہاں ان پر بغاوت کا مقدمہ قائم ہوا۔ مقدمے کی کارروائی کے درمیان ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے کہ علامہ صاف بڑی ہوسکتے تھے کیونکہ رپورٹ میں کسی اورفضل حق کی کہی ہوئی باتیں شامل ہوگئیں تھیں۔ کہتے ہیں انگریز جج بھی علامہ سے متاثر تھا اور انہیں شک کا فائدہ دیناچاہتا تھا لیکن ایک سچے مسلمان مجاہدین کی طرف علامہ نے برسرعدالت اعلان کیاکہ وہ دل سے انگریزوں کے دشمن ہیں جنہوں نے ہندوستان کو غلام بنانے کی کوشش کی ہے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ انہوں نے ہی جاری کرایا۔اور یہ کہ غلامی کی زندگی سے آزادی کی موت کو بہتر سمجھتے ہیں۔ چند دن کی رسمی اور سرسری سماعت کے بعد علامہ کو کالا پانی کی  سزا ہوگئی اور انہیں انڈمان بھیج دیا گیا۔

علامہ ایک خوشحال خاندان کے فرد تھے ان کی زندگی آرام و آسائش میں گزری تھی لیکن وطن کی آز ادی کے لئے جہاد کے جرم میں انہیں ناقابل بیان مصائب اور شدید عقوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ علامہ نے حالت قید میں اپنی تکلیفوں کا حال اپنی شہرہئ آفاق کتاب ”الشورۃ الہند یہ“ (باغی ہندوستان) میں بیان کیا ہے:

”مکر و تلسبیس نصاریٰ نے جب مجھے قید کرلیا تو ایک قید خانے سے دوسرے قید خانے او رایک سخت زمین سے دوسری سخت زمین میں منتقل کرنا شروع کیا۔ مصیبت پر مصیبت او رغم پرغم پہنچایا، میرا جوتا او رلباس اتار کر موٹے اور سخت کپڑے پہنادئے، نرم و بہتر بستر چھین کر خراب سخت اور تکلیف دہ بچھونا حوالہ کردیا گیا۔ گویا اس پر کانٹے بچھا دئے گئے یا دہکتی ہوئی چنگایاں ڈال دی گئیں، میرے پاس لوٹا، پیالہ او رکوئی برتن نہ چھوڑا۔بخل سے ماش کی دال کھلائی او رگرم پانی پلایا، پھر ترش رودشمن کے ظلم نے مجھے دریائے شور کے کنارے (جزیرہئ انڈمان) ایک بلند و مضبوط نامواقف آب وہوا والے پہاڑ پر پہنچا دیا۔ جہاں سورج ہمیشہ سر پر رہتاتھا۔ اس میں دشوارگزار گھاٹیاں او رراہیں تھیں، جنہیں دریائے شور کی موجیں ڈھانپ لیتی تھیں۔ اس کی نسیم صبح بھی گرم و تیز ہوا سے زیادہ سخت اور اس کی نعمت زہر ہلاہل سے زیادہ مضر تھی، اس کی غذا حنظل سے زیادہ کڑوی، اس کا پانی سانپوں کے زہر سے زیادہ ضرر رساں، اس کا آسمان غموں کی بارش کرنے والاہے، اس کابادل رنج وغم برسانے والا ہے، اس کی زمین آبلہ دار، اس کے سنگریزے بدن کی پھنسیاں او راس کی ہوا ذلت خواری کی وجہ سے ٹیڑھی چلنے والی، ہر کوٹھری پر چھید تھا، جس میں رنج ومرض بھرا ہوا تھا۔ میری آنکھوں کی طرح ان کی چھتیں ٹپکتی رہتی تھیں۔ ہوا بدبودار او ربیماریوں کا مخزن تھی، مرض سستا اور دوا گرداں، بیماری بے شمار، خارش اورقوباء، (وہ مرض جس میں کھال پھٹنے اورچھلنے لگتی ہے) عام تھی۔ بیمار کے علاج میں تندرستی،بقائے صحت اورزخم کے اندمال کی کوئی صورت نہ تھی۔ بخار موت کا پیغام، نصرانی ماہر طبیب مریضوں کی آنتوں کو تنور کی طرح جلا تا اور مریض کی حفاظت نہ کرتے ہوئے آگ کاقبہ اس کے اوپر بناتا ہے۔ مرض نہ پہچانتے ہوئے دوا پلاکر موت کے قریب پہنچا دیتا ہے، جب کوئی ان میں (قیدیوں میں سے) مرجاتا ہے تو نجس و ناپاک خاکروب جو درحقیقت شیطان خنا س ہوتاہے، اس کی ٹانگ پکڑ کر کھینچتا ہوا غسل و کفن کے بغیر اس کے کپڑے اتار کر ریگ کے تودے میں دبا دیتا ہے، نہ قبر کھودی جاتی ہے نہ نماز جنازہ پڑھی جاتی ہے“۔

علامہ پر بغاوت کے جرم میں سزا سنانے کے بعد انگریزی حکومت نے خیر آباد کی شاندار محل سراضبط کرکے اپنے ایک وفادار او روطن کے غدار شخص محمد ہاشم کو بخش کو دی، یہ جائیداد ایک اور شخص نے خود کو علامہ کابیٹا بتا کرواگزار کروالی، اصل وارث مولانا کے فرزند مولوی شمس الحق کو جب اس بے ایمانی کا پتہ چلا تو کوئی اقدام کرنے کے بجائے خاموشی اختیاکرلی۔علامہ کے بیٹوں اور دوستوں نے علامہ کی سزا کے خلاف والایت میں اپیل دائر کی۔ مقدمہ کافی دنوں تک جاری رہا۔

انڈمان کی ناموافق آب و ہوا اور جسمانی و روحانی اذیتوں نے علامہ کو قبل از وقت ضعیف اور دائم المریض بنادیا۔ تذکروں میں درج ہے کہ علامہ ہر رنج و اذیت پر ثابت قدم اور صابر رہے۔ کبھی شکوہ و ناشکری کا کلمہ ان کی زبان پر نہیں آیا۔ آپ نے ال ثورۃ الہندیہ اور قصائد فتنۃ الہند جیسی عظیم تخلیقات سے بزبان عربی تصنیف کیں۔ ان کی یہ کاوشیں عربی زبان وادب کاشاہکار ہیں۔ جن میں جنگ آزادی اور اس کے بعد کالا پانی کی سزا کے دوران پیش آنے والے روح فرسا حالات کی عالمانہ اور فنکارانہ تصویر کشی کی گئی ہے۔ بحالت اسیری بھی آپ کا علمی ذوق وشوق برقرار رہا ہے۔ آپ کی تبحر علمی او رغیر معمولی ذہانت کے ضمن میں انڈمان جیل کا ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ ان دنوں انڈمان جیل کا سپرنٹنڈنٹ ایک شریف انگریز تھا جو علوم شرقیہ کا ماہر تھا۔ خاص طور پرعلم ہئیت اس کا پسندیدہ موضوع تھا، اس کے چارج میں ایک ہزار سے زائد اہل علم قیدی تھے جن سے وہ اکثر علمی معاملات میں استفادہ کیا کرتا تھا۔ اس نے علم و ہیئت کی ایک قلمی فارسی کتاب کئی علماء کو دکھائی تھی کہ اس کی غلطیاں درست کردیں لیکن یہ ممکن نہ ہوا تھا۔ جب اس انگریز نے وہ کتاب علامہ کو دی تو انہوں نے نہ صرف اس کتاب کے مصنف کی غلطیاں پکڑلیں بلکہ کتاب کے حاشیے پر نامور مصنّفین کے حوالے بھی بطور سند درج کردیے۔ انگریز مستشرق کو اس پر بے حد حیرانی ہوئی کہ جن کتابوں کے حوالے علامہ نے دیئے تھے ان میں سے ایک بھی وہاں موجود نہ تھی۔

ایک طویل قانونی جدوجہد کے بعد بالآخر 1861 ء میں علامہ کے صاحبزادے مولوی شمس الحق علامہ کی سزا موقوف کرانے میں کامیاب ہوگئے۔ رہائی کا پروانہ لے کر وہ انڈمان پہنچے،جہاز سے اتر کر جیل کی جانب بڑھے تو ایک جم غفیر دکھائی پڑا جو ایک جنازے کے ساتھ چل رہا تھا۔ دریافت کرنے پرمعلوم ہواکہ مادر ہند کے عظیم سپوت علامہ فضل حق خیر آبادی کا انتقال ہوگیا ہے او رلوگ انہیں سپرد خاک کرنے لے جارہے ہیں۔

علامہؒ نے آخری وقت میں یہ وصیت کی تھی کہ جب انگریز ہندوستان سے دفع ہوں تو میری قبر پر خبر کردی جائے۔ 15اگست 1947 کو مولانا نجم الحسن رضوی خیر آبادی نے علامہؒ کے مزار پر حاضر ہوکر فاتحہ خوانی کی اور ہندوستان سے انگریز ی سلطنت کے خاتمہ کی خبر سنا کر ان کی وصیت پوری کی۔

عربی و فارسی زبان و ادب اور اسلامی علوم میں آپ یکتائے زمانہ تھے۔ درس نظامی کے منتہی طلبا کو پڑھائی جانے والی اعلیٰ ترین کتاب، سلم العلوم، کے سب سے اہم شارح قاضی مبارک گوپامؤی کی شرح پر فاضلانہ حاشیہ تحریر کرکے علامہ علمائے عصر میں ممتاز ہوئے۔ علامہ نے مسائل خمسہ یعنی علم،وجود، جعل، کلی، طبعی اور تشکیک جیسے علما کے زیر فکر ونظر موضوعات پر سیر حاصل بحث قلم بند کی جس سے اسلامیات کے طلبا او رعلمائے کرام آج بھی استفادہ کررہے ہیں۔ آپ کی معرکتہ الآراء تصنیف الہدیۃً السعیدیہ نہ صرف برصغیر بلکہ عالم اسلام کی تمام درس گاہوں میں داخل نصاب ہے۔ المروض المجود فی تحقیق حقیقیۃ الوجود، نظریہ وحدۃ الوجود کے اثبات میں علامہ کی شاہکار تالیف ہے۔ علاوہ ازیں آپ کی تالیفات تحقیق الفتویٰ فی ابطال الطغویٰ،رسالہ فاطیغور یاس، رسالہ علم و معلوم، حاشیہ افق المبین، شرح تہذیب الکلام، حواشی تلخیص الشفاء، رسالہ فی تحقیق حقیقیۃ الاجسام او ررسالہ تشکیک فی الماہیات (فارسی) ادبیات اسلامی گراں قدر مطبوعات میں شامل ہیں۔

علامہ فضل حق خیر آبادیؒ خوش عقیدہ سنی المسلک مسلمان تھے انہوں نے شاہ اسماعیل شہیدؒ کی متنازعہ فیہ کتاب تقویۃً الایمان سے سخت اختلاف ظاہر کیا او راس کا جواب بھی لکھا۔ دراصل آپ نے مسلمانوں میں اس کتاب کے ذریعہ رونما ہونے والے فتنے کو اسی وقت ختم کرنے کی عملی کوشش کی تھی۔حضرت شاہ اسماعیل شہیدؒ کی اس کتاب سے اگرچہ اس دور کے عامتہ المسلمین، علماء اور فقہا کی اکثریت اتفاق نہیں رکھتی تھی لیکن پھر بھی دومکاتب فکر کے محاذ قائم ہوگئے یہ امت مسلمہ کا ایک عظیم المیہ ہے کہ یہ بحث آج تک نفاق بین المسالک کی وجہ بنی ہوئی ہے۔ ملت اسلامیہ کا ایک طبقہ شاکی ہے کہ اسی نزاع کے باعث عظیم مجاہد آزادی او ربے مثل عالم دین علامہ فضل حق خیر آبادیؒ کی شخصیت، عظمت او ران کی دینی، علمی اور سیاسی خدمات کی تاریخ کو عمداً دھندلا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن یہ بحث راقم السطور کا موضوع نہیں اور نہ ہی اس پر لب کشائی و قلم آرائی اس کامنصب، اس موضوع پرجانبین کی مستند کتابیں موجود ہیں جن سے ہر باشعور قاری مثبت نتائج اخذ کرسکتا ہے۔

(خصوصی ماخذ: باغی ہندوستان وسوانح علامہ فضل حق خیرآباد، از مولانا عبدالشاہد شروانی،)

۔۔۔۔۔

''ایک انقلاب دہر وہ تھا کہ دہلی او ربریلی و بدایوں و مرادآباد و لکھنؤ و شاہجاں پور وغیرہ کے ہر محاذ پر ہندوستانیوں او ربالفاظ دیگر مسلمانوں کی شکست و پسپائی کے بعد انگریز ڈھونڈ ڈھونڈ کر علما و امرا کو قید وجلاوطنی و قتل وغارت گری کی انسانیت سو ز اور وحشت ناک سزاؤں سے دوچار کیا کرتے تھے او ر ان کی آتش انتقام اس وقت سرد ہوئی جب ان کے سامنے سرنگوں ہوکراہل ہندنے ان کی محکومی وغلامی کو عملاً قبول کرلیا او رکسی کے اندر یہ جرأت و جسارت باقی نہ رہ گئی کہ ان کے اقتدارہ حکومت چیلنج کرنے کا خیال بھی ظاہر کرسکے۔ دوسرا دور اس وقت شروع ہو ا جب انگریز ہندوستان کی زیر زمین مزاحمت او ربین الاقو امی حالات (جنگ عظیم اول) کے پیش نظر ہندوستان سے اپنا رخت سفر باندھ کر اپنے وطن برطانیہ کے لئے کوچ کی تیاری میں لگ گئے او ریہاں ہندوستانیوں کی اپنی حکومت قائم کرنے کی خواہش ان کے دل میں انگڑائیاں لینے لگیں۔ یہ دور اس بات کا متقاضی تھا کہ اپنے ان محسنوں او رجاں بازوں کو یاد کرے جنہوں نے بے پناہ مصائب و آلام جھیل کر انگریزوں کے پنجہ استبداد سے استخلاص وطن اور آزاد ی ہند کی راہ میں اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوسکا اور علماء و قائدین انقلاب 1857 کی خدمات اور قربانیوں کی صحیح او رجامع و مکمل تاریخ آج تک مرتب و مدون نہ کی جاسکی۔ حالات کی ستم ظریفی اور وقت کا المیہ ہے کہ ہندوستان سے پاکستان تک ایسے ہزاروں مخطوطات مؤرخین و محقیقین کی نگاہ توجہ سے محروم ہوکر اس حد تک بوسید گی و کہنگی کے شکار ہوچکے ہیں کہ اب ان کے بیشتر اوراق کامطالعہ اور ان کا تحفظ بھی طر ح طرح کی مشکلات کا باعث ہے۔ تیسرا زمانہ وہ آیا کہ 1920 ء کے بعد کچھ سست رفتاری اور 1947 کے بعد بڑی سرعت و تیز گامی کے ساتھ ایسی تاریخ لکھی او رپیش کی جانے لگی جس میں کچھ حقائق کے پہلو بہ پہلو ا ذیب واباطیل کی آمیزش نہایت چابک دستی سے کی جانے لگی او رجابہ جافرضی تاریخ نویسی کا ناخوشگوار فریضہ انجام دیتے ہوئے ایسے ہوائی قلعے تعمیر کئے جانے لگے جن کی حیثیت ریت کے محل سے زیادہ نہیں اور بیشہئ تحقیق و تنقید کی ضرب سے وہ چند لمحات ہی میں بکھر کر اپنا وجود کھو بیٹھتے ہیں۔ صفحات تاریخ میں جن علما و قائدین کو نمایاں جگہ ملنی چاہئے تھی او رجنہیں مسندِ اعزاز و افتخار پہ بٹھایا جانا چاہئے تھا ان کا ذکر سرسری اور ضمنی طور پر کیا گیا اورجن کا سر سری و ضمنی ذکر ہونا چاہئے تھا کہ ان کا کوئی سرگرم کردار یا بالکل ہی کوئی کردار او رکوئی حصہ نہیں تھا انہیں جلی سرخیوں او رافسانوی کرداروں کے ساتھ پیش کیا گیا جسے ایک تاریخی المیہ کے سوا او رکیا کہا جاسکتا ہے؟۔ حیرت بالائے حیرت یہ ہے کہ بعد کے بہت سے مسلم وغیر مسلم مؤرخین نے اس مسخ شدہ تاریخ و بلا تحقیق و تنقید کے آنکھ بند کرکے قبول کرلیا او راسی بنیاد پر مبنی تاریخ کی عمارت کھڑی کرتے چلے گئے جس کا حال یہ ہے کہ اس کے مآخذ و سراجع کے مشتملات ہی جب مشکوک او رساقط الاعتبار ہیں تو ان کا حشر ہر صاحب فکر و شعور پر خود ہی نمایاں ہے اور زبان حال سے وہ خود گویا ہے او رسننے سمجھنے والے اچھی طرح یہ حقیقت سمجھ رہے ہیں کہ۔۔۔ ”کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا“تاریخ انقلاب 1857 میں مفتی صدالدین آزردہ دہلوی (متوفی 1258ھ 1868 ء) و علامہ فضل حق خیر آبادیؒ (متوفی 1278ھ 1861ء) و مولانا احمداللہ شاہ مدراسی (متوفی 1274ھ1858ء) و مولانا فیض احمد عثمانی بدایونی (متوفی نا معلوم) مولانا سید کفایت علی کافی مرادآبادی (متوفی 1279ھ1863ء) جیسے مشاہیر علماء قائدین کا جس عظمت و اہمیت کے ساتھ ذکر ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوسکا او رانہیں جس طرح خراج عقیدت پیش کیا جانا چاہئے تھا وہ فریضہ ہمارے عہد کے علماء محققین و مؤرخین نہ ادا کرسکے“۔

مولانا یٰسین اختر مصباحی

(مقدمہ کتاب ’علامہ فضل حق او رانقلاب 1857‘)

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/allama-fazl-e-haq-khairabadi,-they-symbol-of-knowledge-and-positive-action/d/1999



Loading..

Loading..