New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 06:07 AM

Urdu Section ( 23 Apr 2017, NewAgeIslam.Com)

Triple Talaq and Halala طلاق ثلاثہ او رحلالہ


فرحین خان

20اپریل، 2017

اس میں دو رائے نہیں کہ اسلام کا بنیادی نظام زندگی ہر ترمیم و تبدل سے پاک و صاف ہے،بشرطیکہ اس کے مزاج و منشا کابہر صورت لحاظ رکھا جائے ۔ پیدائش سے تدفین تک ہر ہر مرحلے میں اسلامی نظام انسانوں کی کامل رہنمائی کرتا ہے۔تعلیم و تربیت کا مرحلہ ہو ، شادی بیاہ کا معاملہ ہو، معاشرتی تعمیر کا معاملہ ہو ، ملکی اتحاد و یگانگت کا معاملہ ہو، ان تمام مشکل مواقع پر بھی نظام اسلام کی روشنی میں ایک ایسی زندگی گزر بسر کی جاسکتی ہے جس کی ضرورت کم و بیش آج ہر انسان کو ہے، لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب نظام اسلام اپنے اندر اس قدر خوبیاں اور وسعت و آفاقیت رکھتا ہے پھر اس کے بعض نظام پر لوگ انگلی کیوں اٹھاتے ہیں؟ جب نظام اسلام پوری انسانیت کے لیے ہدایت و رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہے ( ھدَی للناسِ) پھر بعض وہ لوگ جو نظام اسلام کے مطابق اپنی زندگی بسر کررہے ہیں ، اس نظام کے بعد جزئیات سے مطمئن کیوں نہیں ہیں؟ کیوں انہیں لگتا ہے کہ اس پر کچھ غور کرنے کی ضرورت ہے؟ تو اس سلسلے میں اولاً عرض ہے کہ ہم یہ کہہ کر اپناہاتھ نہیں اٹھا سکتے کہ ایسا کرنے والے آزاد خیال لوگ ہیں، یا اسلام دشمن ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں بعض لوگ بڑے ذی علم، ہوشمند او رمذہبی اعتبار سے زندگی بسر کرنے میں یقین بھی رکھتے ہیں ، پھر بھی وہ کسی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر بڑے کشمکش میں پڑ جاتے ہیں اور یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ وہ کیا کریں اور کیا نہیں ۔ ایسے مواقع پر کچھ افراد کسی طرح گنجائش نکال لیتے ہیں ،لیکن کچھ افراد گنجائش نکالنے کی قوت نہیں رکھ پاتے او رضلالت وبے دینی کے دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں ،جس کے پردے میں اسلام دشمن طاقتیں انہیں اپنا مہرہ بنا لیتی ہیں اور اسلام کے نظام پر سوال کھڑا کر دیتی ہیں ۔ چنانچہ آج اس کی مثالیں یکساں سول کوڈ ، تین طلاق ، حلالہ وغیرہ پر اعتراض کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہیں ۔

اس سلسلے میں دوسرے اسباب کے ساتھ ہم او رہمارا معاشرہ بھی ذمہ دار ہے، اس میں شک نہیں کہ مسلم پرسنل لا، تین طلاق اور حلالہ کے شرعی مفہوم سے سمجھوتہ کسی اعتبار سے ممکن نہیں ، لیکن تین طلاق او رحلالہ کے معاملے میں کوئی ایسی صورت نکالنا ناگزیر ہوگیا ہے جس سے نہ نظام اسلام پر کوئی آنچ آنے پائے ،نہ طلاق و حلالہ کے نام پر کوئی برُائی میں ملوث ہونے پائے، او رنہ ہی کوئی اسلام کے نظام زندگی کا مذاق اڑانے پائے،اور اس کے لئے سب سے پہلے ان وجوہات کو سامنے رکھنا ہوگا جن وجوہات کی بنا پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیا او رپھر امیرالمومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کوتین طلاق قرار دیا۔ یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مسئلے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی؟ تو یہ ایک شیطانی وسوسہ ہے،کیوں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری سنت او رخلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو۔ (ابوداود،باب لزومالنسۃ) اسی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ محسوس کرچکے تھے کہ بوقت حاجت و حکمت میرے اصحاب کی جانب سے کچھ ایسے اعمال اور فیصلے ہوں گے جو بظاہر میری سنت کے خلاف معلوم ہوں گے لیکن حقیقت میں وہ میرے فرمودات او رمزاج و منشا کی تعبیر و تشریح ہوں گے، اس طرح کے مواقع خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سامنے آچکے تھے، مثلاً ایک سفر میں عصر کی نمازقضا ہونے کے خوف سے کچھ صحابہ کرام نے راستے میں عصر ادا کرلی اور کچھ صحابہ کرام نے فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نماز عصرمنزل مقصود پر پہنچنے کے بعدادا کی۔ جب یہ معاملہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ تک پہنچا تو آپ نے دونوں کو صحیح قرار دیا۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو خلفائے راشدین کا کوئی بھی عمل اللہ اور اس کے رسول کے خلاف نہیں ۔

لہٰذا جب یہ ثابت ہوگیا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ اور امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فیصلہ ایک دوسرے کے فیصلے کے خلاف نہیں ، بلکہ بوقت حاجت شریعت کے عین مطابق ہے،تو اب اس بات پر غور کرناانتہائی لازم ہوجاتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاق کو ایک طلاق کیوں قرار دیا، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاق کو تین طلاق کیوں قرار دیا؟

چنانچہ عہد نبوی او رعہد خلافت کا جائزہ لینے سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بالعموم لوگ ہر معاملے میں زیادہ ایماندار اور دیانتدار تھے۔ طلاق کو انتہائی غلیظ او ر سخت برُاسمجھتے تھے، طلاق کا چلن عام نہ تھا او رنہ ہی طلاق کی کثرت تھی، پھر اس وقت عرف عام میں ایک سے زائد لفظ طلاق بولنے سے دو تین یا طلاق مراد نہیں لیا جاتا تھا بلکہ ایک سے زائد لفظ طلاق تاکید کے لئے بولا جاتا تھا۔ اس لیے عہدنبوی میں لوگوں کو انچاہی دشواریوں سے بچانے کیلئے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کو ایک طلاق قرار دیا گیا۔ لیکن خلافت فاروقی کا زمانہ آتے آتے طلاق کی کثرت ہونے لگی، طلاق کے معاملے میں لوگ بے احتیاطیاں کرنے لگے، پھر عرف عام بھی بدلنے لگا اور ایک سے زائد لفظ طلاق بولنا لوگ تاکید کیلئے نہیں رہ گیا بلکہ لوگ تین بار طلاق بولنے کے ساتھ افسوس بھی کرنے لگے۔ اس کا واضح مطلب تھا کہ ایک سے زائد بار طلاق بولناایک سے زائدبار طلاق واقع ہونے کی نیت کے باعث تھا ۔ اسی وجہ سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں دی گئی تین طلاق کو تین طلاق قرار دیا ،تاکہ لوگ غلیظ طلاق کے شر سے محفوظ رہیں، او ربیوی سے علاحدگی کے خوف سے تین طلاق دینا ترک کردیں کہ کہیں اسے اپنی من پسند شریک حیات سے محروم نہ ہونا پڑ جائے۔ غرض کہ معاشرے کو غلیظ عمل ( تین طلاق) کی کثرت سے محفوظ رکھنے کے لیے حضرت عمرنے ایساکیا ۔ پھر تاریخ سے یہ پتا چلتا ہے کہ ان کے عہد میں تین طلاق کے مر تکبین کو تعزیراً کچھ سزا ئیں بھی دی جاتی تھیں۔

آج جب ہم اپنے آس پاس کے معاشرے پر نظر کرتے ہیں تو پاتے ہیں کہ اس عہد میں شرح طلاق حضرت عمر کے زمانے کی بہ نسبت اربوں کھربوں گنا زیادہ بڑھ گئی ہے ، اور اگر اسی پر بس ہوتا تو بھی مقام شکر تھا، لیکن حد تو یہ ہے کہ حلالہ کے نام پر عجیب و غریب بد عملی کے چور دوازے کھول لیے گئے ہیں ۔ایمانداری کی بات کی جائے تو حلالہ نے درحقیقت نکاح موقت کی شکل اختیار کرلیاہے، جب کہ نکاح موقت چاروں امام ( امام اعظم، امام شافعی، امام مالک، امام حنبل ) کے نزدیک حرام ہے۔ آج کل حلالہ کے لیے بالعموم جو نکاح عمل میں آتا ہے ، وہ قبل از نکاح اس فیصلے پر مبنی ہوتا ہے کہ صحبت کے بعددونوں ایک دوسرے سے علاحدگی اختیار کرلیں گے ، اور عورت اپنے شوہر کے پاس لوٹ جائے گی، جب کہ اصل نکاح میں دوام کی نیت شرط ہے۔

مثال کے طور پر کسی بھی اسلامی معاشرے میں عقد نکاح منعقد ہوتا ہے تو بالعموم دولہا۔دولہن کی نیت یہ ہوتی ہے کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ چکے ہیں اور ہمارا یہ ازد واجی بندھن زندگی بھر کے لئے ہوا ہے، نہ کہ ایک رات کیلئے، جب کہ حلالہ کی غرض سے منعقد ہونے والے تمام نکاحوں میں یہ نیت ہوتی ہے کہ ایک شب ، ایک ملاقات کے بعد عقد نکاح ختم ہوجائے گا۔ بلکہ بعض جگہوں پر حلالہ سینٹر قائم ہے جہاں ایک خطیر رقم دے کر حلالہ کروایا جاتا ہے۔ گویا حلالہ نہ ہوا ، ایک طرح سے خواہشات نفس پوری کرنے کا ذریعہ ہوگیا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ طوائف کے پاس مرد جاتے ہیں اور اپنی مراد پاتے ہیں، او رحلالہ کے نام پر عورتیں مر د کے پاس جاتی ہیں اور اپنی مراد پاتی ہیں۔

ان تمام باتوں کے پیش نظر تمام مفتیان کرام اور قاضیان اسلام کواس پہلو پر سنجیدگی سے غور فکر کرانے کی سخت ضرورت ہے، تاکہ غیر شرعی تین طلاق کے چلن کو روکا جاسکے ۔ میرے خیال میں اگر کوئی ایسی صورت نکلتی ہو جس سے ایک ہی مجلس میں دی گئی تین طلاقوں پر بندش لگ سکے او راس غلیظ عمل کے مرتکبین کے لئے کوئی تعزیری سزا متعین ہوسکے تو اس پر بھی غور کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آج کل جو تین طلاقیں دی جاتی ہیں ان میں سے زیادہ تر طلاقیں اس بات پر ہوتی ہیں کہ بیوی نے شوہر کی بات نہیں مانی، شوہر کے کسی رشتے دار کے ساتھ بدتمیزی کردی، سالن میں نمک زیادہ رکھ دیا، بیوی بے وجہ مشکوک ہوگئی ، یا پھر بیوی ، شوہر کی بدعملی سے نالاں ہے وغیرہ۔ جب کہ ان میں سے کوئی بھی عمل شرعی طور پر ایک طلاق کی بھی اجازت نہیں دیتا، پھر تین طلاق تو دور کی بات ہے، لیکن پھر بھی تین طلاقیں بڑے پیمانے پر دی جارہی ہیں ۔ چنانچہ ایک ہی مجلس میں تین طلاق دینے والوں کو شرع کا پاس و لحاظ نہ رکھنے کا مجرم مانا جائے او رایک مجلس میں تین طلاق دینے والوں کے لیے تعزیراً کچھ سزائیں مقرر کردی جائیں، مثلاً قید و بند ، سوشل بائیکاٹ وغیرہ۔ تاکہ لوگ تین طلاق دینے کے اس غیر شرعی عمل سے باز آجائیں ، او رحلالے کی نوبت نہ آنے پائے، نیز عورتوں کے حقوق کی حفاظت بھی ہوسکے۔

20اپریل،2017 بشکریہ: روز نامہ ہندوستان ایکسپریس، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/farheen-khan/triple-talaq-and-halala--طلاق-ثلاثہ-او-رحلالہ/d/110877

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..