New Age Islam
Fri Oct 30 2020, 12:36 PM

Urdu Section ( 17 Nov 2009, NewAgeIslam.Com)

False Authority of Men over Women: Part 13 عورت اور ان پر مردوں کی جھوٹی فضیلت:قسط 13

حقو ق النسواں مولوی ممتاز علی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب 1898میں لکھی گئی تھی۔ مولوی ممتاز علی علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی سرسید احمد خاں کے ہمعصر تھے۔ حقوق النسواں اسلام میں عورتوں کے حقو ق پہلی مستند تصنیف ہے۔ مولوی ممتاز علی نے نہایت مدلل طریقے سے قرآنی آیات اور مستند  احادیث کی مدد سے یہ ثابت کیا ہے کہ مردوں کی عورتوں پرنام نہاد برتری اور فضیلت اسلام یا قرآن کا تصور نہیں ، بلکہ مفسرین کےذہنی رویہ کا نتیجہ ہے ، جو مرد انہ اشاونیت (Chauvanism)کے شکار تھے۔ اس کتاب کی اشاعت نے آج سے 111سال پہلے ایک نئی بحث کا دروازہ کھول دیا تھا۔ کچھ نے اس کتاب کی سخت مخالفت کی لیکن بہت سے علما نے اس تصنیف کا خیر مقدم کیا اورکچھ نے خاموشی ہی میں بہتری سمجھی روز نامہ ‘‘صحافت’’ ممبئی اسے اس لئے سلسلہ وار شائع کررہا ہے کہ ایک صدی بعد بھی یہ تصنیف اور اس کے مضامین آج کے حالات سے مطابقت رکھتے ہیں، اس لئے بالکل نئے معلوم ہوتے ہیں۔ امید کی یہ مضامین بغور پڑھے جائیں گے اور اس عظیم الشان تصنیف کا شایان شان خیر مقدم کیا جائے گا۔۔۔۔۔ایڈیٹر

 

ایک یونیورسٹی کا سند یافتہ ریل میں سوا رہوتا ہے اور اپنے درجہ میں تین چار اور شخصوں کو پاتا ہے جن میں تین بے علم مہاجن ہیں اور ایک مڈل کلاس کا طالب علم۔ کون شک کرسکتا ہے کہ یہ دنیا مسافر سب سے اول اس طالب علم سے ہی گفتگو کرے گا اور اپنا گھنٹہ دو گھنٹہ سفر اسی گفتگو کے ذریعہ سے جس سے درحقیقت اس کو ایک حرف کا فائدہ علمی نہیں ہے خوش ہوکر گذار ے گا۔ ہم نے کسی شخص کے روبرو ایک شعر پڑھا ۔ وہ نہایت مخطوط ہوا اور دوبارہ پڑھنے کی فرمائش کی۔ بتلاؤ ہمیں کیا فائدہ علمی اس سے حاصل ہوا مگر اس کی صحبت سے خوشی حاصل ہونے میں کچھ شک نہیں ۔ بہت کم تعلیم یافتہ خوش مذاق نوجوان ایسے نکلیں گے جو برابر تین چار گھنٹہ تک جاہل آدمیوں کی لغو گفتگو سننے کا تحمل رکھتے ہوں۔ وہ بہت جلد اس گفتگو سے اکتا جائیں گے  اور اس صحبت سے مخلصی حاصل کرنا چاہیں گے ۔ یہ تکلیف جب شوہر کو زوجہ کی طرف سے ملتی ہوتو بے حد  درد ناک ہوتی ہے ۔ کیو نکہ زوجہ کی معیت لحظ دولحظ کی نہیں ہوتی بلکہ عمر بھر کی۔ اس لئے بجزان لوگوں کے جو شادی کا اصول یہ بیان کرتے ہیں کہ روٹی ٹکڑے کا آرام ہوجائے او رکوئی شخص ایسی بیوی کی صحبت کو سوائے اوقات ضرورت کے گوارا نہیں کرتا ۔ ہم نے بہت سے بد چلن لوگوں سے ان کی بدچلنی و بدوضعی کا آغاز پوچھنے پر معلوم کیا کہ انہوں نے کسی کی صحبت صرف اس وجہ سے اختیار کی کہ اس کا کلام نہایت مودب اور نہایت شستہ تھا اور اپنے کلام کو وہ شعر وسخن سے زینت دیتی تھی۔

پس اگر عورتوں میں ہم مذاق علمی پیدا کریں تو گو وہ کیسے ہی ادنیٰ درجہ کا ہوتب بھی وہ ان کو اس سطح پر لا کر جس پر اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اشخاص ہیں مردوں کی خوشی اور مسرت کا عمدہ ذریعہ بنا دے گا اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے خالی اوقات کو صرف کرنے کے لئے بجائے اس کے کہ دوستوں یا اور غیر لوگوں کے مکانات کی مجالس دل لگی ڈھونڈتے پھر یں یا آوار گی اختیار کریں اپنی لکھی پڑھی بیبیوں کو سب اچھا ذریعہ اپنے دل بہلانے اور اپنی اور اپنے سب عزیزوں کی خوشی بڑھانے کا پاویں گے ۔ جب ہمارا خیال غرض تعلیم نسواں کی نسبت معلوم ہوگیا تو ظاہر ہے کہ ہم ایسے علوم کی تعلیم کے موید ہوں گے ۔ جن سے معمولی نوشت و خواند کے علاوہ عام طور پر ہر قسم کے مضامین پر آگاہی حاصل ہو اور اگر کسی مجلس میں کوئی علمی تذکرہ ہوتو لڑکیوں کی جہالت موجب تکدر خاطر اہل مجلس نہ ہو۔ اس غرض کے حصول کے لئے سوائے معمولی اردو فارسی کی کتابوں کے لڑکیوں کو علم طبیعات اور جغرافیہ طبعی اور کمیسٹری اور ہیئت کے موٹے موٹے مسائل سلیس اردو زبان میں سکھانے چاہئیں ۔ اس قسم کے اکثر مسائل بنات النعش میں بیان کئے گئے ہیں۔مگر ہم چاہتے ہیں کہ کس قدر اور تفصیل سے ان کو تین علحدہ علحدہ رسالوں میں بیان کیا جائے ۔ اور وہ ابتدائی رسالے علم طبعی ۔جغرافیہ طبعی ۔علم ہئیت کے کہلائیں ۔

جو مظاہرقدر ت ہر وقت ہمارے گردپیش رہتے ہیں ان کی نسبت گفتگوکا چھڑ جانا ایک معمولی بات ہے بارش ہوتے وقت اس کے اسباب پر گفتگو ہونی ۔ بادلوں کو دیکھ کر ان کے سیاہ سفید ارغوانی رنگ کی نسبت بات چیت ہونی۔ چاند کو بدر بلال دیکھ کر اس کی وجہ کا سوال پیدا ہونا ۔ گاہے گاہے بھونچال آنے یا گرہن ہونے کے وقت ان کے اسباب پر مختصر بحث ہونی دنیا کے عام مضامین ہیں جو اکثر گھروں کی مجالس میں مذکورہ کئے جاتے ہیں ۔ تعلیم یافتہ اشخاص کے گھروں میں اکثر تھرما میٹر یا بیرو میٹر ہوتے ہیں۔ گھڑیاں ہوتی ہیں یا بجلی کی کلیں ہوتی ہیں جن کی مختصر کیفیت لڑکیوں کے لئے باعث آگاہی اور ان کی آگاہی مردوں کے لئے باعث تفریح خاطر ہوسکتی ہے۔

عورتوں کے طریقہ تعلیم کا مسئلہ نہایت اہم مسئلہ ہے اور جب تک قوم اس کو اپنے ہاتھ میں نہ لے گی گورنمنٹ کی خیرات سے گذارہ ہونا اور ہماری ضرورتیں پوری ہونی ناممکن ہیں۔ عورتوں کی تعلیم فرد افردا کوشش کرنے اور اپنا اپنا جداطریقہ تعلیم وضع کرنے سے ہر گز نہ ہوگی۔ اس کے لئے دو امرکی ضرورت ہے اول کتب درسیہ کا کافی ذخیرہ جمع کرنا دو م طریق تعلیم تجویز کرنا۔

جو کتابیں اس وقت لڑکیوں کی تعلیم کے لئے موجود ہیں یا کام میں آتی ہیں وہ بہت ہی ناکافی ہیں اور ان کے ناکافی ہونے کی وجہ سے جو اور کتابیں جو اس کام کے لئے موضوع نہیں ہیں کام میں آتی ہیں وہ نہایت مضر اور تعلیم نسواں کو بدنام کرنے والی ہیں ۔ اگر وہ کتابیں لڑکیوں کے پڑھنے میں نہ آتیں تو لوگ تعلیم سے اس قدر خائف نہ ہوتے۔ آج سے تین برس پہلے لڑکیوں کو جن کتابوں میں تعلیم دی جایا کرتی تھی جہاں تک ہم کو معلوم ہے وہ یہ تھیں نثر میں راہ نجات،بعد حمد۔ صبح کا ستارہ۔ مفتاح الجنۃ ۔قیامت نامہ۔ ہزاری مسئلہ۔ تحفۃ الزوجین۔ خیر النجات ۔مولود شریف۔ وہ مخزن ۔تقریر الشہادتیں ۔ترجمہ مشکوٰۃ ۔نظم میں کنز المصلی ۔رسالہ بے نماز اں ۔وفات نامہ ۔نصیحت نامہ۔ بست رسائل مشتمل معراج نامہ ۔ لوری نامہ۔ قصہ دائی حلیمہ ۔ قصہ بلال ۔ نور نامہ وغیرہ قصہ شاہ روم۔ قصہ شاہ یمن ۔قصہ اہل بیت۔ دیوان لطف ۔تفسیر سورہ یوسف ۔مثنوی گلزار نسیم۔ (جاری)

بشکریہ :۔ روز نامہ صحافت ،ممبئی

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/false-authority-of-men-over-women--part-13--عورت-اور-ان-پر-مردوں-کی-جھوٹی-فضیلت-قسط-13/d/2112


 

Loading..

Loading..