New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 08:49 PM

Urdu Section ( 10 Jan 2018, NewAgeIslam.Com)

The Triple Talaq Bill Is a Textbook Case of Overcriminalisation تین طلاق بل غیر متوازی سزا کی تجویز ات پر مشتمل ہے

 

 

 

 

فیضان مصطفی

29 دسمبر 2017

مونٹسکوئو کا کہنا ہے کہ جس سزا کی بنیاد کسی شدید ضرورت پر نہ ہو وہ ظلم ہے۔ دراصل مجرمانہ قانون کا استعمال صرف ایک "حتمی حیلہ" کی شکل کے طور پر یا "انتہائی سنگین جرم" کی ہی صورت میں کیا جانا چاہئے۔ متعدد مقاصد کے حصول کے لئے مجرمانہ قانون کا شدید استعمال جدید ریاست کی سخت حقیقت سے نمٹنے کا ایک غیر مناسب طریقہ ہے۔ 1977 کے بعد سے اب تک انگلینڈ میں 3000 نئے جرائم اور امریکہ میں تقریبا 3 لاکھ وفاقی جرائم کا اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان کے بارے میں ایسی کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے، لیکن ہماری ریاستی اور مرکزی دونوں حکومتیں نئے مجرمانہ قوانین میں اضافہ کر رہی ہیں۔ تین طلاق کا بل غیر متوازی سزا کی تجویز کی ایک نئی مثال ہے۔ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی کہا تھا کہ تین طلاق کے واقعات معمولی تعداد میں واقع ہوتے ہیں۔ 2 جی گھوٹالے کی طرح اس معاملے میں بھی میڈیا نے غیر متوازن کردار ادا کیا ہے۔ مسلم خواتین کا اصل مسئلہ تعلیم اور روزگار ہے۔

ازدواجی جرائم کے بارے میں دو موجودہ مباحث پر غور کریں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم زنا کی صورت میں ازدواجی معتقدات کی خلاف ورزیوں کو غیرتعزیری عمل قرار دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں؛ اور دوسرا معاملہ یہ ہے کہ اپنی تمام تر ناپسندیدگی کے باوجود ہم اب تک "ازواجی عصمت دری" کو ایک جرم بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ انگلینڈ میں Wolfenden کمیٹی کی رپورٹ کے اندر (1957) میں یہ کہا گیا تھا ، ‘‘جب تک معاشرے کی جانب سے ایک دانستہ کوشش کی جانی باقی ہے قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے ذریعے کسی جرم کو گناہ قرار دینے میں نجی اخلاقیات اور بد اخلاقی کا ایک دائرہ رہنا ضروری ہے جو کہ مختصر اور خام الفاظ میں قانون کا کام نہیں ہے"۔

مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرساد نے بل کو پیش کرتے وقت حیرت انگیز طور پر یہ کہا کہ " سپریم کورٹ نے تین طلاق کو گناہ قرار دیا ہے۔" لہٰذا تعزیراتی قانون کے ذریعہ اس بل کا مقصد مذہبی اخلاقیات کو نافذ کرنا ہے۔ اگر کوئی شئی "گنا" ہے تو گنہگار کو سزا دینا خدا کا کام ہے۔ ایک مہذب قانونی نظام کو مذہبی اخلاقیات کا نفاذ نہیں کرنا چاہئے۔

اسی طرح مسلم ممالک کے حوالے سے ان کی مثالیں بھی درست نہیں ہیں ہے کیونکہ وہ ہماری طرح بالغ تعزیراتی قانون کی سب سے بدترین مثال ہیں۔ ہم اسلامی تعزیراتی قانون کے مکافاتی کردار یا ایک خاص زمانے سے متعلق ارتداد اور توہین کے قوانین کو نہیں اختیار کرسکتے اور نہ ہی سزا کے طور پر رجم اور قطع عضو کا طریقہ اختیار کر سکتے ہیں۔ 1961 کے پاکستان کے آرڈیننس کی مثال پیش کرنا غلط ہے کیونکہ عدالتوں نے ثالثی کونسل کو نوٹس دئے بغیر ہی طلاق کو درست قرار دیا تھا (محمد سرور بمقابلہ اسٹیٹ، پی ایل ڈی 1988 ایف ایس سی 42)۔ چونکہ بڑی سزا بھی اس عمل کو نہیں روکتی ہے، اس بل کو مزاحمت کی بنیاد پر بھی درست نہیں قرار دیا جا سکتا۔ تاہم، مسلم علماء کو مسلم پرسنل لاء میں مثبت ترقیاتی اصلاحات کے لئے سامنے آنا چاہئے۔

ایک اور زاویہ سے بھی تین طلاق کو تعزیراتی شکل دینا ایک منفرد معاملہ ہے جہاں قدامت پسند حنفی مسلم خواتین کو یہ قانون ایک ایسے ازدواجی تعلق کو برقرار رکھنے کی اجازت دیتا ہے جسے وہ "گناہ" سمجھتی ہیں۔ اس صورت حال میں جنسی تعلقات کے تسلسل کو جاری رکھنے پر مجبور کرنا "انفرادی فیصلہ اور خودمختاری" کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ہم ایک طرف ‘‘لَو جہاد’’ کا مسئلہ اٹھاتے ہیں جس سے "اپنی پسند سے شادی کرنے کی آزادی" پر زد پڑتی ہے ، جبکہ دوسری طرف یہ مسلم خواتین کو اسی بدسلوک شوہر کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور کرنا ہے جنہوں نے انہیں فوری طور پر ایک نشست مین تین طلاق دیا ہے۔ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ تین طلاق کو کالعدم قرار دے سکتی ہے، لیکن وہ اپنی بیویوں کے ساتھ ایک محبت بھری زندگی گزارنے پر شوہر کو مجبور نہیں کرسکتے ہیں۔ مثالی طور پر ان صورتوں میں انتخاب خواتین پر ہی چھوڑ دینا چاہئے۔

بدقسمتی سے، "جرائم" حکومت کی پالیسی میں پیدا ہوتے ہیں، لہذا، تعزیراتی قانون سے "انصاف" کے بجائے "طاقت" کا نظریہ ظاہر ہوتا ہے۔ حکومت کسی بھی معاملے کو تعزیراتی اور غیر تعزیراتی قرار دینے کا فیصلہ کر سکتی ہے ، یہاں تک کہ اس کا محرک برسر اقتدار پارٹی کی انتخابی ضروریات بھی ہو سکتا ہے۔ پارلیمنٹ میں بحث میں شرکت کرتے ہوئے بی جے پی کے ایم پی میناکشی لیکھی نے کہا کہ "جب نریندر بھائی مودی ان کے بھائی ہیں تو انہیں (مسلم خواتین) کسی کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے"۔ رومن شہنشاہ کلاڈیوس جو اپنے بھائی کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا تھا، اس نے زنا بالمحرم کے جرم میں ترمیم کیا جس کی بنیاد پر چچا اور بھتیجی کے درمیان شادی کا جواز پیدا ہو گیا ، اور اس نے قانون کے اس پہلو پر کوئی توجہ نہیں دی کہ دیگر چچاؤں اور بھتیجیوں اور پھوپھیوں اور بھتیجوں کے درمیان شادی کی صورت میں قانون کیا کہتا ہے، جسے اب بھی حرام سمجھا جاتا ہے۔

جیرمی بینتھم نے بجا طور پر یہ کہا ہے کہ ہمیں ان تین معاملات میں تعزیراتی قانون کا استعمال نہیں کرنا چاہئے: اگر اس عمل میں کوئی برائی نہیں ہو جسے مقننہ روکنے کی کوشش کرتی ہے ، جس میں سزا غیر مفید ہو، جس میں سزا بے سود ہو، اور اس کی صورت یہ ہے کہ سزا کی برائی عمل کی برائی سے بڑی ہو۔ تعزیراتی قانون کا مقصد ایسے طرزعمل کو روکنا ہے جو بےجا طور پر اور بغیر کسی عذر کے انفرادی یا عوامی مفادات پر کوئی بھاری زد پڑتی ہو۔ چونکہ سپریم کورٹ نے تین طلاق کے معاملے کو برطرف کر دیا ہے ، اب یہ عقد نکاح کو فسخ نہیں کرتی یا یہ معاشرے کی سلامتی اور خوشحالی کے لئے کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔

ریاست کو کسی بھی عمل کو تعزیری قرار دینے کے لئے "شدید ریاستی مفاد" ثابت کرنا ضروری ہے۔ بالفاظ دیگر قانون کو تعزیراتی شکل دینے کا مقصد انتہائی بنیادی ہونا چاہئے، اور مجوزہ قانون میں اس کے حصول کی روکاوٹوں کا کم از کم ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح کسی مقصد کا جواز نہیں حاصل کیا جا سکتا اگر دیگر وسائل سے اس کا حصول ممکن ہو۔ مثال کے طور پر بچوں تک فحش نگاری کی رسائی کو روکنے میں حکومت ایک جائز مقصد رکھتی ہے۔ لیکن فلٹر اس مقصد کو حاصل کرنے میں یکساں طور پر مؤثر ہے لہذا تعزیراتی قانون کا استعمال اس میں بے سود ہوگا۔

نریندر مودی کی حکومت مسلم خواتین کے لئے ایک بہت بڑا نقصان کرنے جا رہی ہے کیونکہ جیل سے واپسی پر کوئی بھی شوہر اس بیوی کے ساتھ رہنا چاہے گا جس کی شکایت پر وہ جیل کی ہوا کھا چکا ہے؟ اس بل کے نتیجے میں زیادہ طلاقیں واقع ہوں گی۔ اور اس طرح تین طلاق سے نمٹنے کا طریقہ اس بیماری سے کہیں زیادہ بدتر ہے۔ نیز یہ بل تین برسوں کی غیر معمولی اور غیر متناسب سزا فراہم کر کے "بڑے" اور "چھوٹے" جرائم کے درمیان فرق کو بھی ختم کر دیتا۔

روی شنکر پرساد نے لوک سبھا میں کہا کہ حکومت شریعت میں مداخلت کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ اگر ایسا ہے تو تین طلاق کے واقعات کو کم کرنے کے لئے شریعت کے اندر ہی موجود بہترین تجویزات کو بھی آزمانہ چاہئے۔ اس بل میں نکاح نامہ کے اندر طلاق نہ دینے کی شرط لازمی طور پر شامل کرنے کی تجویز بھی ہونی چاہئے۔ ایک معاہدے کی شکل میں مسلم شادی کے اندر شوہر اس کے پابند رہیں گے۔ ہم نکاح نامہ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں مہر کی رقم پانچ گنا تک بڑھا دی جائے گی یا بیوی کو تعزیراتی نقصانات کا حق حاصل ہو گا۔

متعلقہ مضامین:

1. Triple Talaq Must Be Invalidated Constitutionally and Criminalized – Inclusion of Prohibitive Clause in Nikahnama Could Allow Its Perpetuation by Defaulters

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/muhammad-yunus,-new-age-islam/triple-talaq-must-be-invalidated-constitutionally-and-criminalized-–-inclusion-of-prohibitive-clause-in-nikahnama-could-allow-its-perpetuation-by-defaulters/d/111139

2. AIMPLB Advocates Of Instant Triple Talaq Are Gender Terrorists And Traitors Of Islam And May Be Sued For Human Rights Violation Under Cover Of Religion

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/muhammad-yunus,-new-age-islam/advocates-of-instant-triple-talaq-are-gender-terrorists-and-traitors-of-islam-and-may-be-sued-for-human-rights-violation-under-cover-of-religion/d/110871

3. The Process for Divorce in the Quran

http://www.newageislam.com/debating-islam/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-process-for-divorce-in-the-quran/d/104516

4. Sultan Shahin Raises Triple Talaq Issue at UNHRC, Asks Muslims to Engage In Serious Rethinking Of Islamic Theology and Bring It In Line With the Needs of 21st Century

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/sultan-shahin-raises-triple-talaq-issue-at-unhrc,-asks-muslims-to-engage-in-serious-rethinking-of-islamic-theology-and-bring-it-in-line-with-the-needs-of-21st-century/d/108677

5. The Triple Talaq Case: The Unjust Muslim Men and Their Unjust Leaders

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/naseer-ahmed,-new-age-islam/the-triple-talaq-case--the-unjust-muslim-men-and-their-unjust-leaders/d/112343

6.  Instant Triple Talaq Judgment and After

http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/arshad-alam,-new-age-islam/instant-triple-talaq-judgment-and-after/d/112358

Faizan Mustafa is vice-chancellor of NALSAR University of Law, Hyderabad.

Source: indianexpress.com/article/opinion/columns/triple-talaq-bill-passed-parliament-lok-sabha-legal-excess-5002913/

URL for English article: http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/faizan-mustafa/the-triple-talaq-bill-is-a-textbook-case-of-overcriminalisation/d/113740

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/the-triple-talaq-bill-is-a-textbook-case-of-overcriminalisation--تین-طلاق-بل-غیر-متوازی-سزا-کی-تجویز-ات-پر-مشتمل-ہے/d/113888

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..