New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 09:54 AM

Urdu Section ( 12 Oct 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Babri Masjid Case: Accused's Acquittal Tarnishes CBI Image بابری مسجد کیس: ملزم کا بَر ی ہونا سی بی آئی پر بدنما داغ

فیضان مصطفیٰ اور ایمن محمد

4 اکتوبر ، 2020

لوگوں کے ذہنوں میں ایک بارپھر ہندی فلم ’نوون کلڈ جیسیکا‘ (جیسکا کو کسی نے قتل نہیں کیا) کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے کیس کی سماعت جلد مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے اور آرٹیکل ۱۴۲؍ کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے نیزاس کیس کی تکنیکی خرابی کو دور کرتے ہوئے ۲۰۱۷ء میں سپریم کورٹ نے کہاتھا کہ ’’انصاف ہونا چاہئے بھلے ہی آسمان ٹوٹ پڑے۔‘‘ اس نے اپنے مشاہدہ میں یہ بھی کہاتھا کہ ’’موجودہ کیس میں ہندوستان کے سیکولر تانےبانے کو متزلزل کردینے والے جرم کا ارتکاب تقریباً ۲۵؍ سال پہلے ہواتھا۔‘‘ گزشتہ سال بابری مسجد ملکیت کیس کا تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے بھی سپریم کورٹ نے مسجد کی شہادت کو ’انتہائی غلط‘ قرار دیا تھامگر ایسے سنگین جرم  کے ۴۹؍ ملزمین  میں  سے اس وقت  بقید حیات  ۳۲؍ ملزمین میں سے کسی ایک کو بھی مجرم نہیں پایاگیا ہے۔


ملزمین پرتعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت  الزامات  عائد کئے گئے تھے ۔ ان میں اشتعال انگیزی سے لے کر تشدد تک ( سیکشن ۱۵۳؍اے، ۱۵۳؍بی)، سازش (سیکشن ۱۲۰؍ بی) اور غیر قانونی بھیڑ( سیکشن۱۴۹)  تک کی دفعات شامل تھیں۔ ان تمام الزامات   کے عائد کئے جانے کا لب لباب یہ تھا کہ ملزمین کے درمیان یہ  اتفاق رائے تھی کہ بابری مسجد کو ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کو ڈھا دیا جائےگا۔مجرمانہ سازش کے معاملے میں محض متفق ہونا قابل تعزیر  ہے جبکہ غیر قانونی اجتماع کے معاملے میں کسی کو جوابدہ بنانے کیلئے  وہاں صرف اس موجودگی ہی کافی ہے۔اس میں کسی شک کی گنجائش ہی نہیں ہے کہ ایل کے اڈوانی اور دیگر غیر قانونی اجتماع (بھیڑ) کا حصہ تھے۔

سی بی آئی کو یہ ثابت کرناتھا کہ ملزمین نے مشترکہ مقصد کے تحت مشترکہ ہدف کے حصول کیلئے ساتھ مل کر کام کیا۔ تعزیرات ہند کے تحت کسی بھیڑ کے غیر قانونی قرار دینے کیلئے کورٹ صرف یہ نتیجہ اخذکرتا ہے کہ کیا کوئی مشرکہ مقصد تھا جو بھیڑ کے کسی عمل کا سبب بنا۔یہ نتیجہ ہتھیار کے استعمال،  واقعہ سے قبل، واقعہ کے وقت اور واقعہ کے بعد ملزم کے رویے سے متعلق معلومات سے اخذ کیاجاتاہے۔   (اس معاملے میں  انہدام کیلئے استعمال ہونے والے آلات،  بیلچے  اور  رسی کا واضح ریکارڈ موجود  ہے۔ ملزمین کے رویے کےمعاملے میں  یہ  ریکارڈ کیا جاچکاہے کہ کچھ ملزمین مسجد کے انہدام کے بعد آپس میں مٹھائیاں تقسیم کررہے تھے جبکہ دیگر کارسیوکوں کی حوصلہ افزائی کررہے تھے) اسی طرح  مسجد کے انہدام  سے قبل  کےاڈوانی اور جوشی کے رویے بھی کلیدی ثبوت کی حیثیت رکھتے ہیں۔


چارج شیٹ میں ۵؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کو ونئے کٹیار کے گھر پر ہونےوالی میٹنگ کا ریکارڈ بھی موجود ہے جس میں اڈوانی بھی موجود تھے اور مبینہ طورپر  بابری مسجد کو منہدم کرنے کافیصلہ کیا گیا تھا۔ الزام ہے کہ کلیان سنگھ نے ایک ملزم سے کہاتھا کہ ’’روک تعمیر پر لگی ہے، توڑنے پر نہیں۔‘‘سازش کو ثابت کرنے کیلئے جو ضرورت  ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ۲؍ یا ۲؍ سے زائد افراد کےبیچ جرم کے ارتکاب کے تعلق سے اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ الگ الگ یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ملزم  نے مذکورہ مقصد کے حصول کیلئے کھلم کھلا کوئی عمل کیا ہے۔ سازشیں ہمیشہ واقعاتی شواہد کے ذریعہ ہی ثابت کی جاتی ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر کسی کو ملک کے عدالتی نظام پر بھروسہ ہونا چاہئےمگر کچھ وقت ایسے ہوتے ہیں جب کورٹ خود آزمائش سے گزر رہے ہوتے ہیں۔یہ وہ معاملات ہوتے ہیں جب امیدیں بہت زیادہ وابستہ ہوں جیسا کہ سپریم کورٹ نے ذکر کیاتھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ضابطہ فوجداری کا یہ سنہری اصول ہے کہ جب تک جرم ثابت نہ ہوجائے ملزم کو بے قصور تصور کیا  جاتا ہے۔اس میں کوئی  شک نہیں ہے کہ نظام انصاف میں اس اصول سے زیادہ ا ہم کوئی اور اصول نہیں ہے جو استغاثہ سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ملزم کا جرم اس طرح ثابت کردے کہ شبہ کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہ جائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ نظام انصاف میں ہلکے سے شبہ کا فائدہ بھی ملزم ہی کو ملنا چاہئے۔اس کے بعد بھی سی بی آئی اس معاملے میں  قابل اعتماد ثبوت پیش نہیں کرسکی، خاص طورسے مجرمانہ سازش کے الزام  کے تعلق سے۔یہ فیصلہ متنازع ہے کیوں کہ کورٹ نے تمام ۳۲؍ ملزمین کو بری  کر دیاہے اور فیصلہ سنایا ہے کہ (مسجد کا ) انہدام فوری عمل تھا،جس کیلئے نامعلوم سماج دشمن عناصر کے علاوہ کوئی بھی ذمہ دار نہیں ہے۔ کورٹ  نے اس واقعہ کے ۱۰۰؍ سے زائد ویڈیو ٹیپ تسلیم نہیں کئے، ان کی آواز صاف نہیں تھی مگر  زیادہ ترمجرمانہ معاملات میں  زبانی اور دستاویزی شواہد کی بنیاد پر ہی جرم ثابت ہونے کا فیصلہ سنایا جاتا ہے۔(بابری مسجد انہدام کیس میں) ۳۵۱؍ افراد نے گواہی دی ہے  اور ۸۰۰ ؍ سے زائد دستاویزات پیش کئے گئے ہیں۔اس کے بعد بھی سی بی آئی جج کو مطمئن نہیں کرسکی ہے۔

بابری مسجد کا مقدمہ بھلےہی وہ ملکیت کا مقدمہ رہا ہو یا مجرمانہ سازش کا رہا ہو، اپنے آپ میں منفرد اور بے نظیر رہا ہے۔ ملکیت کا معاملہ ا س لئے عجیب وغریب تھا کہ ہائی کورٹ  نے پہلے مرحلے کی عدالت کے طور پر کام کیا جبکہ سپریم کورٹ نے  جوں کی توں صورتحال کےاحکام کو  باربارملتوی کرنے،  نئے نئے فریقین کو شامل کرنے،دعویٰ ثابت کرنے کیلئے مختلف فریقین پر ذمہ داری عائد کرنے اورمحکمہ آثار قدیمہ کے ذریعہ کھدائی  کے فیصلے کے ذریعہ پہلی اور آخری اپیل کی عدالت کے طور پر کام کیا۔ ملکیت کے کیس کی طرح ہی انہدام کیس بھی ضوابط سے متعلق  کوتاہیوں ، قانون کی ظاہری خلاف ورزیوںاورمختلف حکومتوں  کی سیاسی مداخلت کا شکارہوگیا۔کسی اور فوجداری معاملہ میں شاید محض ۱۰؍ منٹ کے وقفے سے ایک ہی معاملے کی ۲؍ ایف آئی آر مختلف دفعات کےتحت  درج نہیں ہوئیں۔ دوسری ایف آئی آر میں سازش  کے جرم کا ذکر ہی نہیں ہے اور مقدمہ دوعدالتوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس طرح  جو مقدمہ پہلے لکھنؤ میں شروع ہواتھا وہ دو حصوں میں رائے بریلی اورلکھنؤ کی عدالتوں میں تقسیم ہوگیا۔

یہ تسلیم کہ فوجداری سےمتعلق قوانین اختیارات کے سمندر میں فنی باریکیوں کا ایک جزیرہ ہے اور ملزمین کو ان ہی فنی باریکیوں کافائدہ ملاہے۔پولیس کو گرفتاری اور تفتیش کا خصوصی اختیارہے، حکومت کو  مقدمے کی اجازت دینے کاخصوصی اختیار حاصل ہے، استغاثہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ مقدمہ چلایا جائے یا نہیں اور اگر مقدمہ چلتا ہے تو کس جرم کے تحت۔ جج کو ڈسچارج کرنے، مجرم قرار دینے اور سزاسنانےکااختیار حاصل ہے۔

تمام ملزمین کا بری ہوجانا، سی بی آئی کی شبیہ کیلئے دھکا ہے۔ سپریم کورٹ خود ہی اسے ’پنجرے میں قید طوطا ‘قرار دے چکا ہے۔ اب وقت آگیاہےکہ اسے سیاسی شکنجے سے آزاد کیا جائے۔  ہندوستان کا ضابطہ فوجداری کا نظام انصاف اس وقت تک سدھرنہیں سکتا جب تک کہ استغاثہ اور تفتیش  کے اختیارات کو  علاحدہ  علاحدہ نہیں کردیا جاتا۔اس تعلق سے ضابطہ فوجداری  میں اصلاحات سے متعلق کمیٹی کو سفارشات کرنی چاہئیں۔

4 اکتوبر ، 2020 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/babri-masjid-case-accused-acquittal/d/123120


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..