New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 07:50 PM

Urdu Section ( 10 Nov 2015, NewAgeIslam.Com)

What Is Our Expectation of a Mosque’s Role ہمارے پڑوس میں مسجد کے کردار سے ہماری امید کیا ہے؟

 

 

 

 فہد بن جلید

10نومبر 2015

اب مسجد کی امامت کے پیشے کو ایک کل وقتی سرکاری ملازمت کی حیثیت عطا کرنا ضروری ہو چکا ہے، جس میں وزارت برائے سول سروس کے قواعد و ضوابط نافظ کیے جائیں گے۔ اسے وزارت برائے اسلامی امور، اوقاف اور دعوت و تبلیغ کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ اور اس ملازمت کو کمیشن فار پرموشن آف ورچیو اینڈ پریوینشن آف وائز کے مبلغین، واعظین، جج اور اہلکاروں کی حیثیت دی جائے۔

ہمارے پڑوس میں مسجد کے کردار سے ہماری امید کیا ہے؟ کیا ہم ایک متعین رقم کے بدلے جمع میں خطبہ دینے اور جز وقتی طور پر نماز کی امامت کرنے میں امام کے موجودہ کردار سے مطمئن ہیں، جس کے بعد وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے دیگر ملازمتوں میں مشغول ہو جاتے ہیں؟ جز وقتی امام، خطیب یا موذن کی تنخواہ متعین ہوتی ہے اور اس میں کوئی سالانہ اضافہ نہیں ہوتا ہے۔ انہیں کوئی دوسری مالی اعانت یا چھٹی یہاں تک کہ کوئی ریٹائرمنٹ الاؤنس بھی نہیں ملتا ہے۔

ہم اس طرح کی جز وقتی ملازم سے کس طرح کوئی ٹھوس نتائج کی توقع کر سکتے ہیں؟ اس کے بجائے مکمل طور پر مسجد سے متعلق معاملات میں مصروف عمل اس طرح کے امام بہت سی دوسری چیزوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور استاد، قاضی نکاح، صدقہ و زکوٰۃ کی وصولی میں نگراں، چیریٹی سوسائٹی کے ممبر، تجارتی منصوبے جیسے دیگر کئی ملازمتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ تر وقت مسجد سے دور رہتے ہیں، اور صرف اپنے وقت پر نماز پڑھانے کے لئے آتے ہیں اور فرض نماز کی ادائیگی کے بعد فورا چلے جاتے ہیں۔ اور اس طرح انہیں ان لوگوں کے بارے میں جاننے کا کوئی وقت نہیں ملتا جو مسجد کے اندر نماز میں ان کی اقتدا کرتے ہیں۔

اس کا مطلب ہے یہ کہ ہم نے ان لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے حوالے سے کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ لیکن، اس کے ساتھ ہی ہم غلط اور گمراہ کن نظریات کا مقابلہ کرنے اور معاشرے کے افراد کے درمیان دانشورانہ سلامتی کو یقینی بنانے میں مساجد کے اہم کردار کی ضرورت پر بھی زور ڈالتے ہیں۔

اس عہدے کے لائق ایسے بہت سارے افراد ہیں جو یا تو ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں یا اب بھی بے روزگار ہیں یا اسلامی علوم میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حکومت ان افراد کو مساجد میں ائمہ، خطباء یا موذن کے طور پر کل وقتی ملازمت دے سکتی ہے۔ اس کے بعد وہ ایک مؤثر طریقہ سے معاشرے کی رہنمائی اور قیادت میں ایک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے کے لیے ایک مؤثر طریقہ کار ہونا چاہیے اور شاندار نتائج حاصل کرنے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جانی چاہیے۔

ایک مسجد کے امام کا پیشہ عظیم اور باوقار ہے۔ امام کے لیے ضروری ہے کہ وہ مکمل دلجمعی اور اخلاص کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو انجام دے۔ اسی لیے امام کل وقتی ہونا چاہیے۔ یہ مسجد میں جمع ہونے والے معاشرے کے افراد کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔

امام کو پڑوس کے عبادت گزاروں کے معاملات کی دیکھ بھال کرنی چاہیے اور ان کے مسائل کو حل کرنے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہیں صرف مذہبی معاملات میں ہی ان کے شکوک و شبہات کو دور کرنے میں ماہر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے سماجی، اخلاقی، اور مذہبی زندگی کو بہتر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر کے ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں بھی ماہر ہونا چاہیے۔

ماخذ:

goo.gl/FTTvwt

URL for English article:  http://www.newageislam.com/islamic-society/fahd-bin-jleid/what-is-our-expectation-of-a-mosque’s-role-in-the-respective-neighbourhood?/d/105228

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/fahd-bin-jleid,-tr-new-age-islam/what-is-our-expectation-of-a-mosque’s-role---ہمارے-پڑوس-میں-مسجد-کے-کردار-سے-ہماری-امید-کیا-ہے؟/d/105234

 

Loading..

Loading..