New Age Islam
Sat Oct 31 2020, 06:37 PM

Urdu Section ( 22 Jul 2010, NewAgeIslam.Com)

Exposed faces of terrorism دہشت گردی کے بے نقاب چہرے

Syed Mansoor AghaURL: https://newageislam.com/urdu-section/exposed-faces-of-terrorism--دہشت-گردی-کے-بے-نقاب-چہرے/d/3188

 

سید منصور آغا

‘‘ہندو دہشت گردی’’ کی اصطلاح اتنی ہی نامناسب اور خطرناک ہے جتنی ‘‘اسلامی دہشت گردی’’ کی اصطلاح جس میڈیا نے اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح کو پھیلایا تھا ، اب اسی نے یہ نئی اصطلاح اختر اع کی ہے۔ یہ اصطلاح یوں بھی درست نہیں ہے کہ ہمارے عام ہندو بھائی دہشت گردی تو دور کی چیز ہے جنگجو بھی نہیں ہوتے،بلکہ صدیوں سے صبر وتحمل اور صلح کل ان کا وطیرہ رہا ہے۔ اس لئے میری نظر میں ہندو دہشت گردی کی اصطلاح ہندوؤں کے ساتھ سخت نا انصافی ہے۔ یہ اصطلاح جنہوں نے ایجاد کی ہے، یا تو وہ نادان ہیں یا حددرجہ کے عیار ۔

دوسرے یہ خیال بھی حقیقت حال کے مطابق نہیں کہ دہشت گردی کے وہ چہرے جنہوں نے ‘‘ہندوتوا’’ کا نقاب اوڑھ رکھا تھا، پہلے نا معلوم تھا اوربس ابھی سامنے آیا ہے۔ یہ چہرے تو عرصہ دراز سے پہچانے جارہے تھے، یہ بات دوسری ہے کہ سرکاری مصلحتوں کی وجہ سے قانون کے ہاتھ ان کی گردنوں سے دور تھے۔

آپ سوال کرسکتے ہیں کہ اس دہشت گردی کا پھر سے کیا کہیں جس کو ‘‘ ہندودہشت گردی’’ کہا جارہا ہے ،تو میرا جواب ہے یہ ہندو دہشت گردی نہیں ہے، بلکہ صرف ‘‘سنگھی دہشت گردی’’ ہے اور اس کا آغاز 1925میں اور اس کا پہلا اظہار 1927میں ہوا۔ سنئے کیا کہتے ہیں سنگھ کے ایک سرکردہ لیڈر رد تو پنت ٹھینگڑی جی اپنی تقریر میں جو ‘‘ہندو مانسکتا ’’ کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔‘‘ 1927میں (ناگپور میں ) ہندو۔ مسلم دنگا ہوا۔ ان دنگوں میں ہندوؤں نے اتنا مارا مسلمانوں کو کہ مسلمان سر نہیں اٹھا سکا۔ یہ اسی لیے ممکن ہوسکا کہ 1925میں جو سنگھ کا آغاز ہواتو وہ جوان لوگوں کا گڑھ تھا۔ اسی گڑھ کی بدولت مسلمانوں کو اتنی مار پڑی .......یہ سب جانتے تھے کہ جو ڈاکٹر جی نے اکھاڑا کھڑا کیا تھا، یہ اسی کی بدولت ہوئی ہے تو یہ ڈنکے کی چوٹ پر کہنا چاہئے ،لیکن ڈاکٹر ہیڈ گیو ارجی کہہ رہے ہیں کہ جو وجے ہندوؤں کو ناگپور میں ہوئی، وہ ہندو سماج کے پروگرام کے کارن ہوئی’’۔

1990میں پنجاب میں آر ایس ایس کے ایک کیمپ میں کی گئی یہ تقریر طویل ہے، جس میں سنگھ کی ذہنیت اور کام کرنے کا طریقہ کار کھل کر بیان کیا گیا ہے، جو اس اقتباس سے واضح ہے۔ مقصد مسلمانوں کو مارنا اور پھر ایسے کئے ہوئے گناہ کو قبول کرنے کے بجائے اس کو ‘پوری  ہندو قوم’ کی بہادری پراکرم ،حوصلہ مندی قرار دینا۔ اس ذہنیت کو ‘ قوم پرستی’ اور اس طریقہ کار کو دیش بھگتی کا نام دے کر عوام کو ورغلا نا۔

میں یہ بات نظریاتی طور سے نہیں کہہ رہا ہوں ،بلکہ اس کی شہادتیں موجود ہیں کہ نام نہاد ہندو دہشت گردی کے جتنے بھی گناہ اب تک منظر عام پر ٓائے ہیں وہ سب سنگھ پریوار کے سپوتوں کے کرتوت ہیں۔ ہندوتو ا کی نقاب کے پیچھے ہوئے ان سنگھی چہروں کو آسانی سے پہچانا جاسکتا ہے۔ مہاراشٹر کے سابق آئی جی پولس ایس ایم مُشرِف نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ‘‘کرکرے کا قاتل کون؟’’ میں اس ذہنیت کی قلعی کھول دی ہے اور دلائل کے ساتھ واضح کیا ہے کہ اس کی حکمت عملی یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ہندوؤں کو ورغلا کر ان کو ہندو قومیت کے نام پر اکسا کر ملک میں ایک ایسی فضا بنائی جائے جس میں ہندو توا کے نام پر برہمنی نظام حکومت قائم کیا جاسکے۔ اسی مقصد کے پیش نظر 1927سے 2004تک تسلسل کے ساتھ مسلم کش فسادات کرائے گئے ،جن کا نقطہ عروج 1992میں بابری مسجد کے انہدام اور 2002میں گجرات کی مسلم نسل کشی کی صورت میں سامنے آیا ۔ آر ایس ایس کے اس ایجنڈے کو روبہ عمل لانے میں سنگھی ذہینت کے انٹلی جنس افسران کا بھی اہم رول رہا ہے اور سب سے اہم یہ کہ یکے بعد دیگر ے حکومتوں نے بھی چشم پوشی سے کام لیا۔

2002کے گجرات فسادات کی پوری دنیا میں شدید مذمت ہوئی، سنگھ پریوار پوری طرح بے نقاب ہوگیا۔ چنانچہ فسادات کی حکمت عملی کو بدلنا ضروری ہوگیا۔ اسی اثنا میں ‘‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’’ کے نام پر افغانستان اور عراق پر امریکی فوجی یلغار ہوئی اور صیہونیوں کے زیر کنٹرول عالمی میڈیا نے مسلمانوں کے خلاف نئی فضا بنانی شروع کی، جس سے سنگھیوں نے بھی شہہ پائی ، چنانچہ فسادات کی جگہ اب دہشت گردانہ حملوں کا حربہ اختیار کیا گیا ۔ جگہ جگہ بم دھماکے کئے گئے اور مقامی پولس ،انٹلی جنس ایجنسیوں اور میڈیا کی ملی بھگت سے ان کے لئے مسلمان نام کی تنظیموں اور افراد کے ناموں کی اچھال کر بھولےبھالے ہندوعوام کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جڑوں کو مضبوط کیا گیا۔ اس فضا کو مزید مستحکم کرنے کےلئے متوقع دہشت گرد انہ حملوں کی افواہیں شد ومد کے ساتھ پھیلائی گئیں اور الیکٹرانک میڈیا نے ان خبروں کو اس طرح مشتہر کیا جیسے آنکھوں دیکھی بیان کی جارہی ہو۔ان سب کے پس پشت بس ایک ہی ہاتھ اور ایک ہی دماغ کارفرمارہا ہے اور وہ ہے سنگھی ہاتھ اور سنگھی دماغ۔ اسی لئے میں کہتاہوں کہ اس کو ‘‘ہندودہشت گردی’’ نہیں ، بلکہ ‘‘سنگھی دہشت گردی’’ کہنا چاہئے ‘‘ سنگھی دہشت گردی کی’’ اصطلاح اس لئے استعمال نہیں کی جارہی ہے کہ اس سے ہندو عوام میں سنگھی عناصر کی ساکھ گرجائے گی اور اس کو ہندو دہشت گردی اسی لئے کہا جارہا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو خلیج پیدا کردی گئی ہے وہ کم نہ ہونے پائے۔

اسی کے ساتھ دہشت گردی کے نام پر فرضی انکاؤنٹر میں مسلمانوں کو مارے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور پھر بم دھماکوں اور انکاؤنٹر وں کے حوالے سے میڈیا کے ذریعہ ،جس پرپہلے ہی سنگھی ذہنیت کا قبضہ ہے، ایسی فرضی کہانیاں پھیلائی گئیں جس سے ہندو عوام کے دلوں میں ‘‘مسلم دہشت گردی’’ کا ہوا کھڑا کیا گیا۔ گجرات سے ایک ایس ایم ایس مہم شروع ہوئی۔Every Muslim is not a terrorist but every terrorist is a Muslim ‘‘ہر مسلمان تو  دہشت گرد نہیں ہے، لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ضرور ہے’’ اور اس جھوٹ کو پھیلانے میں بی جے پی کے رہنما راج ناتھ سنگھ ،لال کرشن اڈوانی اور نریندر مودی بھی پیش پیش تھے۔ گزشتہ پالیمانی الیکشن سے قبل بنگلور میں پارٹی کے اجلاس میں (ستمبر 2008) اس وقت کے صدر راج ناتھ سنگھ نے بڑے طمطراق کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ پارٹی اقتدار میں آئی تودہشت گردی کو جڑسے اکھاڑ پھینکے گی ۔ اشاروں اشاروں میں انہوں نے ان تمام بم دھماکوں کا حوالہ دیا تھا جن میں ‘‘تحقیقاتی ایجنسیوں ’’ نے بغیر کسی جانچ پڑتال محض گمان کی بنیاد پر مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا ۔ان نعروں کا مقصد مسلم مخالف فضا سازی کے ذریعہ بھولے بھالے ہندو عوام کا ووٹ حاصل کرنا تھا۔ آج جب ہم ہندو دہشت گردی کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس سے بھی مقصد سنگھ پریوار کا ہی پورا ہورہا ہے۔ اسی لئے میں کہتا ہوں کہ اس کو صرف اور صرف ‘‘ سنگھی دہشت گردی’’ ہی کہنا چاہئے۔

دہشت گردی کے وہ واقعات جن میں حال ہی میں کچھ گرفتاریاں ہوئی ہیں، کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ ہوئی اس حقیقت کو آشکار ا کررہے ہیں کہ یہ خالص سنگھی دہشت گردی ہے۔ ابھی چند روز پہلے ‘میل ٹوڈے’ نے دہشت گردی میں ماخوذ افراد کے خاکے شائع کئے ہیں ۔ میں یہاں صرف وہ نام گنواتا ہوں جو اب تک بم دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں میں منظر عام آچکے ہیں۔ ان میں ایک نام ایسا نہیں جس کا تعلق سنگھ پریوار اور سنگھ آئیڈ یالوجی سے نہ رہا ہو ۔ ان میں سرفہرست تو نام اندریش کمار عرف اندریش جی کا ہے،جو سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت کے قریبی معتمد ،سنگھ کے پالیسی ساز او رمجلس عاملہ کےرکن ہیں۔ ان کے ایک خاص سنگھ کے کارکن دیویندر گپتا اجمیر کی درگاہ شریف ، حیدر آباد کی مکہ مسجد کے دھماکوں میں ماخوذ ہیں، تفتیشی ایجنسیاں سنیل جوشی سے بھی ان کے رشتوں کی جانچ پڑتا ل کررہی ہیں۔ جوشی بھی آر ایس ایس کے پرچارک تھے اور مکہ مسجد اور درگاہ شریف سمیت کئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد قتل کردیئے گئے ۔ دیویندر گپتا بھی آر ایس ایس کا پرچارک ہے۔ اس کے ساتھ ہی آر ایس ایس کے رام چندر کال سنگرا کا نام بھی آتا ہے، جو مکہ مسجد اور مالیگاؤں کے دھماکوں میں ماخوذ ہے۔ ان کا تعلق ‘ابھینو بھارت’ نام کی تنظیم سے بھی ہے، جس سے سادھوں پرگیہ سنگھ ٹھاکر ، کرنل پرساد پروہت اور سوامی دیانند پانڈے کے نام وابستہ ہیں۔ یہ سب مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں ملزم ہیں اور جیل میں ہیں۔

سنگھی دہشت گردوں میں ایک اہم نام میجر رمیش پانڈے کا ہے۔ فوج سے 1988میں ریٹائر ہونے کے بعد وہ بمبئی میں بی جے پی کے سابق فوجیوں کی تنظیم کا سربراہ رہا ہے۔اس کے جو ٹیپ مہاراشٹر ا اے ٹی ایس کوملے ہیں، ان میں وہ ‘‘خالص ہندو راشٹر ’’ کے قیام کی وکالت کرتا ہوا سنا جاسکتا ہے۔

مالیگاؤں بم دھماکے کی اصل ملزمہ سادھوں پرگیہ سنگھ ٹھاکر بھی بی جے پی کی طلبا تنظیم اور خواتین تنظیم سے وابستہ رہی ہیں۔جتن چٹرجی عرف سوامی اسیم آنند کا بھی آر ایس ایس کے محترم لیڈروں میں شمار ہوتا ہے۔ وہ کئی بم دھماکوں کا اصل محرک اور اصل دماغ سمجھا جاتا ہے، گجرات کے ضلع ڈانگ میں روپوش ہے او رمودی کی پولس اس کی گرفتاری پر آمادہ نہیں ۔ رام چندر کال سانگرا ،سندیپ ڈانگے بھی بم دھماکوں میں مطلوب ہیں۔ یہ بھی آر ایس ایس وابستہ ہیں۔

حال ہی میں دوبڑے نام اشوک وار شنے اور اشوک بیری کے سامنے آئے ہیں۔ وار شنے جھارکھنڈ ریاست پرانت پر چارک تھے اور بیری مرکزی عاملہ کے رکن ہیں، ان دونوں پر دھماکوں میں معاونت او رملزموں کو پناہ دینے کا قومی شک ہے۔ ان دونوں سے سی بی آئی نے طویل پوچھ تاچھ کی ہے اور ان کے نام خبروں میں آنے کے بعد سنگھ پریوار کے لوگوں نے ‘‘آج تک’’ کے دفتر پر دلّی میں پرُ تشدد مظاہرہ کیا تھا۔ جس کو آر ایس ایس او ربی جے پی نے حق بہ جانب ٹھہرایا اور دلیل یہ دی کہ آر ایس ایس ایک ‘‘قوم پرست’’ تنظیم ہے، اس کے کارکنوں کے بارے میں اس کی طرح کی خبریں نشر کرنا ہندوستان کی توہین ہے۔ راکیش دھواڑے اور اشوک کنتے بم سازی میں ملوث پائے گئے ہیں اور دونوں آر ایس ایس کے فدائی ہیں۔ اجمیر شریف بم دھماکے کا ملزم راکیش بھی سنگھی ہے۔

احمد آباد بم دھماکوں کے تار بھی انہی لوگوں سے جڑے ہیں، جن کا تعلق اسی پریوار سے ہے۔ دھماکوں کے دیگر واقعات میں سنگھ پریوار کی تنظیموں بجرنگ دل او رمختلف سیناؤں کے کارکنوں کے نام بھی آتے ہیں۔ کانپور میں 18اگست 2008کو بجرنگ دل کے ایک سرگرم کارکن کے گھر میں دھماکہ ہوا، جس میں دوبجرنگی بھوپندر چوپڑہ اور راجیو مشرا مارے گئے ۔گھر سے بم سازی کا بہت سا سامان بھی نکلا ۔ اس سے قبل 26مئی 2006کو ناندیڑ میں لکشمی گنڈیا کے گھر کے اندر بم پھٹا ،جس سے گنڈیا کالڑکا نریش اور اس کا ساتھی ہمانشو پانسے ہلاک اور چارافراد ماروتی واگھ ،یوگیش دیش پانڈے ، گوروراج ٹوپٹے اور راہل پانڈے زخمی ہوگئے ۔ یہ سب بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے سرگرم کارکن ہیں اور بم سازی میں مصروف تھے۔ انہی ملزم نے محمدیہ مسجد پر بھنی (نومبر 2003) قادریہ مسجد جالنہ (اگست 2004) اور معراج العلوم مدرسہ ومسجد پورنہ ضلع پربھنی (اگست 2004) کے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا اقرار کیا۔ مگر پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ میں دلچسپی نہیں لی،جب کہ سنگھیوں نے عدالتوں ،وکیلوں اور انتظامیہ پر اپنا اثر ورسوخ استعمال کرکے تمام ملزمان کو ضمانت پر رہا کرالیا۔اسی طرح دیگر بم دھماکوں میں بھی اسی پریوار کے کارکن مشتبہ ہیں، غرض یہ ہے کہ ہندوستان میں دہشت گرد انہ بم دھماکوں کے سارے سلسلے اسی سنگھی پریوار سے جاکر مل جاتے ہیں۔

یہ باتیں کچھ پردۂ راز میں نہیں ،بلکہ وقتاً فوقتاً میڈیا میں آتی رہی ہیں، تفتیشی ایجنسیوں اور حکومتوں کے ذمہ داروں کے علم میں رہی ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ یہ سنگھی ذہنیت ہمارے قومی نظام میں دورتک سرایت کر چکی ہے۔ اسی لئے اصل مجرموں پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے تھوک میں مسلمانوں کو گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔

ان سارے کالے کرتوتوں کا مقصد ہندوستان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا ، ہندوؤں او رمسلمانوں کے درمیان خلیج کو وسیع کرنا اور عام ہندو بھائیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف خوف ونفرت کے جذبات کو پروان چڑھا کر ایسا ماحول تیار کرنا ہے جس سے وہ مخصوص ذہنیت جس کی پرورش 1925سے آر ایس ایس کررہی ہے ملک پر پوری طرح حاوی ہوجائے اور ہندوستان میں ویسی ہی برہمی آمریت قائم ہوجائے ، جیسی ہٹلر نے جرمنی میں ، مسولینی نے اٹلی میں ، اسٹالن نے روس میں قائم کی تھی اور جیسی صیہونیوں نے اسرائیل میں قائم کررکھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا باشعور طبقہ ان کا آلہ کار بن جائے گا اور دہشت گردی کو خاص اس ٹولے سے وابستہ کرنے کے بجائے جو اس کے لئے اصل ذمہ دار ہے کبھی ‘‘مسلم دہشت گرد’’ اور کبھی ‘‘ ہندو دہشت گردی’’ کے نام سے موسوم کر کے ہندو مسلم خلیج کوبڑھانے میں معاون بنے گا؟

حرف آخر : ملک میں اب تک ہونے والے تمام بم دھماکوں کی مشترکہ جانچ قومی سطح کی سازش کےطور پر کی جانی چاہئے اور تمام ملزمان پر درحقیقت آئینی طور سے قائم حکومت کے خلاف سازش اور قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے جرم میں غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہئے ،تاکہ ان کے چہروں پر پڑی ہوئی قوم پرستی اور وطن پرستی کی نقاب اتر جائے اور ان کے اصل چہرے سامنے آجائیں۔

(بشکریہ روزنامہ راشٹریہ سہارا ،نئی دہلی)

URL for this article:

https://newageislam.com/urdu-section/exposed-faces-of-terrorism--دہشت-گردی-کے-بے-نقاب-چہرے/d/3188

 

Loading..

Loading..