New Age Islam
Wed Apr 14 2021, 06:34 PM

Urdu Section ( 1 May 2017, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Urdu Courses and Madrasas اردو نصاب اور مدارس ( حصہ:2)






ڈاکٹر توقیر راہی

28اپریل،2017

اس طرح اردو نصاب آزاد و غیر ملحقہ مدارس میں بھی داخل ہے۔ اور سب سے بڑی خدمت ان مدارس کی اردو کے تعلق سے یہ ہے ذریعہ عموماًاردو ہے جس سے اردو زبان کو کافی فروغ حاصل ہورہا ہے ۔ اس تعلق سے مشیر الحق کا خیال ہے کہ :

’’ دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت کے علاوہ اردو زبان کو بھی بر صغیر کے کونے کونے تک پھیلانے میں عربی مدارس کابہت بڑا ہاتھ ہے۔ مدرسوں کے اس پہلو پر ابھی تک کسی نے باقاعدہ نظر نہیں ڈالی ہے، لیکن یہ موضوع اتنا اہم ہے کہ اس پرپوری تحقیق ہونی چاہیے ۔ باوجود یہ کہ نصابی کتابیں تقریباً سب کی سب عربی زبان میں ہوتی ہیں لیکن ہندوستان کے مذہبی مدرسوں میں اعلیٰ تعلیم اردو ہی میں دی جاتی ہے، خواہ یہ مدرسے شمال میں ہوں یا جنوب میں ، مشرق میں ہوں یا مغرب میں ۔ اس کانتیجہ یہ نکلا ہے کہ مدرسے کے طالب علموں کی راہ میں ملک کی جغرافیائی ، لسانی، او رتہذیبی حد بندیاں رکاوٹ نہیں بنتیں۔بغیر کسی مبالغہ کے یہ کہاجاسکتا ہے کہ بر صغیر کے اس کونے سے اس کونے تک جہاں کہیں بھی کوئی عالم ملے گا ، وہ اردو ضرور جانتا ہوگا۔

ہندوستان ، خصوصاً شمالی ہندوستان کے بعض مدارس عالمی شہرت رکھتے ہیں ۔ ان مدارس میں صرف مختلف ہندوستانی ریاستوں کے طلبہ ہی ایک ساتھ تعلیم نہیں پاتے، بلکہ غیر ممالک کے طلبہ بھی جو علم دین کے حصول کے لیے یہاں آتے ہیں، برسہا برس تک ہندوستانیوں کے ساتھ اپنا وقت گزراتے ہیں ۔ چونکہ ان غیر ملکی طلبہ کوبھی دیر یا سویر اردو زبان میں ہی اسباق حاصل کرنے ہوتے ہیں ۔ اس لیے یہ بھی جلد از جلد روز مرہ کی اردو سیکھ لیتے ہیں ۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو برصغیر کے باہر بھی اردو کا تعارف کرانے میں مدارس کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔

مدارس میں اردو طریقۂ تدریس

مدرسوں میں اردو تدریس کے طریقۂ کار پر بحث کرنے سے قبل بہتر ہوگا کہ طریقہ تدریس کے کچھ اصولوں پر روشنی ڈالی جائے تاکہ آگے کی گفتگو آسان و سہل ہوسکے ۔ تعلیم کو موثر و دلچسپ او ربا مقصد بنانے کے لیے جو اقدامات نا گزیر ہیں ان میں تدریس کے مقاصد کاتعین ، نفس مضمون کا انتخاب اور اس کی تدریس کے مقاصد کا تعین، نفس مضمون اور اس کی تدریس کے لیے اساتذہ کی سطح پر تیاری نیزاندازۂ قدر (Evaluation) اورطریقہ تدریس شامل ہیں ۔

انسان کسی بھی کام کو انجام دینے سے قبل غور و فکر کرتا ہے اور مقصد کو پیش نظر رکھتا ہے۔ ویسے بھی مقصد کے تعین کے بغیر نہ کوئی کام آسانی سے ہو پاتا ہے او رنہ ہی اس کی تکمیل کے لئے دشواریوں کا اندازہ ہو پاتاہے ، جس کی وجہ سے منزل مقصود تک انسان کی رسائی ممکن نہیں ہو پاتی ۔ بلکہ اسے پست ہمتی اور مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ تعلیم کاعمل بھی ایک ایسا ہی عمل ہے جس کے اغراض و مقاصد کا تعین کرنانہایت ہی ضروری ہے ۔ یہ مقاصد یا تو فرد کی ضروریات زندگی کے تحت متعین ہوتے ہیں یا زندگی کے کسی اور شعبہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ۔لہٰذا ان مقاصد کا تعین کرتے وقت زندگی کے تقاضوں ، تعلیمی نظریوں اور نفسیاتی اصولوں کاسہارا لینا پڑتا ہے۔

جہاں تک تعلیمی مقاصد کی بات سامنے آتی ہے۔ یہ تووہ گوہر مقصود ہے جو کسی سوچے سمجھے طریقۂ عمل سے ہی حاصل کیا سکتا ہے ۔ دراصل تعلیمی مقاصد سے مراد وہ تبدیلیاں ہیں جو ایک مخصوص نصاب اور متعین طریقہ تدریس کے ذریعے فرد میں لانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ تبدیلیاں یقینی طور پر فرد کے خیال وعمل کو متاثر کرتی ہیں ۔

تعلیمی مقاصد بہت کچھ ان قوانین سے بھی متاثر ہوتے ہیں ، جن کا تعلق فرد کی پختگی ،نشو و نما اور انسانی رشتوں سے ہے۔ جماعت کے کمرے کے اندر انسانی رشتوں کا خصوصیت کے ساتھ لحاظ رکھا جاتا ہے اور اس کی روسے یہ سمجھا جاتا ہے کہ جماعت کا ہر فرد ( طالب علم ) دوسرے ہم جماعت سے نہ صرف مختلف ہوتا ہے بلکہ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے منفرد بھی ہوتا ہے ۔ ایک طرف اس کی حیثیت جہاں جماعتی ہوتی ہے تو دوسری جانب اس کی ایک انفرادی حیثیت بھی ہوتی ہے۔ اس لیے تدریسی مقاصد ایسے ہونے چاہئیں جو طالب علموں میں بیک وقت جماعتی احساس پیدا کریں ساتھ ہی انفرادی تقاضوں کی تکمیل میں بھی معاون و مددگار ثابت ہوسکیں ۔1؂

ماہرین تعلیم نے طریقہ تدریس کی خصوصیات کچھ اس طرح بیان کی ہیں:

پہلے سے متعینہ مقاصد کی تکمیل اور حصول میں معاون ہو۔

منظم اورقابل استعمال ہو اور استاد اس پر عمل کرسکے ۔

تعلیمی تجربات اور اقدامات کو آسان سے مشکل کی طرف لے جانے والے نظریے کے تحت تدریسی مواد کو درجہ میں پیش کرے۔

طلبہ میں جملہ صلاحیتیں پیدا کرنے میں معاون ہو۔

مضمون کے بارے میں مکمل معلومات مہیا کرا سکے ۔

طلبہ میں خود سیکھنے کاشوق پیدا کرے۔

تجس کے جذبے کو ابھارے اور طلبہ کو تعلیم کے عمل میں شرکت کے لیے ہمت افزائی کرے۔

غور و فکر کی صلاحیت کو ابھارے نیز قوت استدلال ،قوت فیصلہ اور تجربہ کی صلاحیت کے فروغ میں معاون ہو۔

طلبہ کے ذاتی رجحان کے مطابق ہر طالب علم کی ذاتی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے مواقع فراہم کرے، اور جس کے مطابق استاد کو ہر قدم بچے کو مرکز مان کر اٹھے ۔

غرض یہ کہ محض بچے کونفس مضمون یا اس کے معانی و مطالب سے واقف کرا دینا ہی تعلیم کامقصد نہیں ہے۔ بلکہ اصل مقصد ہے بچے کی شخصیت کی ہمہ جہتی نشو و نما، تاکہ بچہ تعلیم سے فراغت کے بعدجو کچھ بھی کرے وہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب انسان ثابت ہو۔

ان مقاصد کے حصول کے لیے طریقۂ کار تدریس کی دو قسمیں کی گئی ہیں :

1۔ روایتی طریقۂ ہائے تدریس

2۔ جدید طریقۂ ہائے تدریس

ان دونوں طریقۂ تدریس کو چارٹ کے ذریعے کچھ اس طرح پیش کیا جاسکتا ہے:

طریقہ تدریس

روایتی اور جدید: درسی کتاب کے ذریعے ، کئی درسی کتب کے ذریعے ، لکچر کے ذریعے، سورس میتھڈ ، زیر نگراں طریقہ ، سروے کا طریقہ ، لیبا ریٹری طریقہ، اکائی طریقہ ، مسئلہ کو حل کر کے ، پروجیکٹ طریقہ، بحث و مباحثہ کا طریقہ

مذکورہ بالا طریقوں میں سے کسی ایک یا کئی طریقوں کو ملا جلا کر پڑھانے کاعمل ا س حالت میں کامیاب ثابت ہوسکتا ہے جب بچے کو قدرتی ماحول میں کسی ڈر ، خوف یا دباؤ کے بغیر پڑھ کر ، دیکھ کر ، سن کر ، تجربہ اور مشاہدہ کرکے، کسی مسئلے کو حل کر کے یا مسئلے کے حل کرنے کے عمل میں ذاتی شرکت کر کے عمل کرکے، بحث و مباحثہ کے ذریعے یا استدلال کے ذریعے سیکھنے کاموقع فراہم کیا جائے ۔ بلاشبہ اس میں استاد کا رول غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔2؂

عام طور پر طریقۂ تدریس کے سلسلے میں دو طرح کے نظریات ہیں ۔ ایک نظریے کے مطابق ہر استاد کو مختلف تدریس کے طریقوں سے کما حقہ واقف ہونا چاہئے ۔ ساتھ ہی اصول تعلیم اور نفسیات سے آگاہی بھی ضروری ہے ، ورنہ تدریسی فرائض کو بخوبی انجام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ دوسرے نظریے کے مطابق استاد کونفس مضمون سے گہری واقفیت کافی ہے۔ ایسی صورت میں اسے کوئی طریقۂ تدریس جاننے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ استاد ان دونوں نظریات کا حامل ہو اور دونوں کو مشترک کر کے تدریس فرائض کی تکمیل کرے ،تاکہ بچوں کی انفرادی ضرورت ، ان کی افتاد طبع اور دیگر عوامل کو پیش نظر رکھ کران میں خود کام کرنے او راپنی مشکلات خود حل کرنے اور خود کر کے سیکھنے کی صلاحیت پیدا کی جاسکے اور استاد کی اعلیٰ سیرت نیز اس کے قول و عمل میں مطابقت ، اس کی تدریس بچے کی تعمیر ی سیرت میں جان ڈا ل دے اور طلبہ میں عالم گیر اتحاد کا احساس، مشترک انسانی اقدار کا احترام اور انسانی ہمدردی کا اعلیٰ ترین جذبہ پیدا کرسکے ۔ اور ان میں جرأت، دیانتداری ، غور و فکرکی قوت ، قوت عمل ، اعلیٰ بصیرت، تدبر، معاملہ فہمی ، فراست ، فکر ونظر کی وسعت دلکش اور مدلل انداز میں اپنی بات کہنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ احساس ذمے داری ، انسان دوستی اور خودداری پروان چڑھے ۔ دوران تعلیم تجسس کا جذبہ بیدا رہو۔ غرض یہ کہ استاد طلبہ کی عمر، ذہنی ا ستعداد کے مطابق ان کے سامنے عملی محرکات مہیا کرے تاکہ وہ اعلیٰ نمونہ بن سکیں۔

یہ بات محلوظ رہے کہ وہ ان تدریس یا تدریس کے بعد بحث و مباحثہ پر پابندی عائد کرنا ، تعلیم کو فرسودہ اور دراز کار مسائل اور خیالات تک محدود رکھنا ، موجودہ مسائل کی طرف سے بے اعتنائی پرتنا، طلبہ کے معالعے اور خیالات کے اظہار پر غیر ضروری پابندی لگانا، کسی فرد یاطبقے کے خلاف منفی طرز فکر کو فروغ دینا نہ صرف روحِ تعلیم اور طریقۂ تدریس کے اصولوں کے منافی ہے،بلکہ ان کے بچے کی اٹھان اورترقی میں غیر معمولی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ نتیجے کے طور پر طلبہ میں قدامت پسندی ، تنگ نظری اور خود غرضی پیدا ہوتی ہے ،نیز نئی ایجادات ،افکار اور خیالات سے اجتناب پروان چڑھتا ہے،جو بالآخر ہمہ جہتی شخصیت کی تعمیر وترقی میں خود ان ہی کے لیے ضرر رساں ثابت ہوتی ہیں۔

یہاں یہ واضح کرنابھی ضروری ہے کہ طریقۂ تدریس کوئی بندھا ٹکا ایسا پیمانہ نہیں ہے جسے استعمال کر کے ہر استاد کسی بھی مضمون کی تدریس کو مؤثر بنادے، بلکہ بقول ڈاکٹر قمر الدین ، اس کا تعلق ہے:

1۔ استاد کے نفس مضمون کے گہرے اور عمیق مطالعے او رفہم سے

2۔ سیکھنے کے عمل میں بچے کی فعال شرکت سے

3۔ استاد کی بچوں کی نفسیات اور تعلیمی نفسیات اور اصول تعلیم سے گہری واقفیت سے

4۔ تدریس کے فن سے گہری دلچسپی اور اس فن میں باقاعدہ تربیت سے ظاہر ہے کہ بچے کو غیر فعال فرد یعنی Passive Listener نہیں تصور کیا جاسکتا ، بلکہ وہ ایک جیتا جاگتا فرد ہے جسے تدریسی عمل شروع کرنے سے پہلے سیکھنے کے لیے تیار کرنا ضروری ہے اور تدریس کے عمل کو اس طر ح انجام دینے کی ضرورت ہے کہ بچہ سیکھنے کے عمل میں دلچسپی لے اور فعال شرکت کرے تاکہ اس کی جملہ ذہنی جذباتی اور دیگر صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں اور اس کی شخصیت کا ہمہ جہتی ارتقا ہوسکے ۔

5۔ دوران تدریس جملہ امدادی سامان کے استعمال سے ۔ تاکہ ان کے ذریعے تدریس کو دلچسپ بنایا جاسکے اور خشک سے خشک مضمون او رموضوع میں بچوں کے لیے جاذبیت پیدا کی جاسکے ۔

6۔ مختلف مضامین کے لیے مختلف طریقۂ کار تدریس اختیار کرنا بچوں کی عمروں کے حساب سے ۔ مثال کے طور پر ہر زبان کی تدریس کاطریقۂ سماجی علوم کی تدریس کے طریقہ جغرافیہ سے الگ ہوگا۔ اسی طرح پرائمری درجات کے لیے تاریخ پڑھانے کا طریقہ ثانوی درجات سے مختلف ہوگا او راعلیٰ درجات کے لیے الگ۔ بہر حال ، یہ مواقع انفرادی طریقۂ تدریس کی تفصیل میں جانے کا نہیں ہے۔ محض یہ عرض کردینا کافی ہوگا کہ ماہرین تعلیم نے طریقۂ تدریس کے جن پہلوؤں پر زور دیا ہے ان میں بچے کو تدریس میں مرکزی حیثیت دینا (Child Centre) آسان سے مشکل کی طرف چلنا ، ہر بچے پر انفرادی توجہ دینا، مواد تدریس کو نہایت دلچسپ انداز میں پیش کرنا، رٹنے کی بجائے تفہیم اور غور و فکر کی صلاحیت پیدا کرنے پر زور دینا اور اندازۂ قدر ( Evaluation) کو پوری تعلیمی مدت میں ایک اہم اور ناگریزجز کی حیثیت سے استعمال کرنا وغیرہ شامل ہیں ۔ ساتھ ہی ایک پہلو جو بہت اہمیت کا حامل ہے، وہ ہے دوران تدریس یا تعلیم سے متعلق اوقات میں جسمانی سزا اور سختی سے گریز ۔ ابن خلدون اور دیگر ماہرین تعلیم کا خیال ہے کہ ’’سختی‘‘ نہ صرف بچے میں ضد کا جذبہ پیدا کرتی ہے ، بلکہ اس کی صلاحیتوں میں زنگ لگادیتی ہے اور بچے کی شخصیت میں اعلیٰ انسانی صفات کو فروغ نہیں مل پاتا ، بلکہ اس کے بر خلاف سیکھنے کے عمل کومؤثر بنانے میں بچے کی ’’ ہمت افزائی ‘‘ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ (جاری)

28اپریل، 2017بشکریہ : ہفت روزہ مسلم دنیا، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-tauqeer-rahi/urdu-courses-and-madrasas--اردو-نصاب-اور-مدارس-(-حصہ-2)/d/110982

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..