New Age Islam
Sun Dec 05 2021, 10:00 AM

Urdu Section ( 12 March 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Gift of Shab-e-Meraj شب معراج کا تحفہ یہی ہے کہ پوری انسانیت کے لئے سراپا امن بن جائیں

ڈاکٹر طاہرالقادری

12 مارچ 2021

سورۃ الطور اور سورۃ النجم کا باہمی تعلق

جس طرح سورہ بنی اسرائیل کی پہلی دو آیات میں معنوی ربط ہے کہ ایک میں معراجِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہے اور دوسری میں معراجِ موسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ ہے، اسی طرح سورۃ الطور اور سورۃ النجم میں بھی معنوی ربط ہے۔ دونوں سورتوں کی ابتدا میں بھی ربط ہے اور آخر کا بھی ربط ہے۔ ابتداء اور انتہا دونوں مربوط ہیں۔ پہلے دونوں سورتوں کے انتہاء کا ربط دیکھتے ہیں۔ سورۃ الطور کی آخری آیت میں فرمایا:

اور (اے حبیبِ مکرّم! اِن کی باتوں سے غمزدہ نہ ہوں) آپ اپنے رب کے حکم کی خاطر صبر جاری رکھئے، بے شک آپ (ہر وقت) ہماری آنکھوں کے سامنے (رہتے) ہیں اور آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے جب بھی آپ کھڑے  ہوں۔‘‘ (الطور:۴۸)

حضرت ابو طالب  اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی یکے بعد دیگرے وفات کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مصائب و آلام کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ دفاع کرنے والا ظاہر میں کوئی نہ رہا۔ حملے تھے، گالیاں تھیں، تہمتیں تھیں، الزامات تھے، تکالیف تھیں، مصائب تھے، مشکلات تھیں، حملوں کی ایک بارش تھی، پتھروں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زخمی کیا گیا، تیر برسائے گئے، لہو لہان کیا گیا۔ پہلے جب کبھی ایسی کیفیت ہوتی اور آقا علیہ السلام دکھی دل کے ساتھ گھر آتے تو غم کو دور کرنے کے لئے حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا موجود ہوتیں۔ کبھی دفاع کے لئے حضرت ابی طالب آجاتے۔ اب یہ دونوں، دُنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔ مصائب و مشکلات اور مظالم کی انتہا تھی، اُس وقت دلجوئی کی ضرورت تھی کہ کوئی اپنا ہو جو ہمت بندھائے، ساتھ دے، حوصلہ افزائی کرے اور مظالم کی انتہا کے مقابلے میں دلجوئی بھی بدرجہ ٔ اتم ہو۔ ان حالات میں جب مظالم انتہا کو پہنچ گئے تو خدا کی محبت، شفقت و دلجوئی بھی انتہا پر جا پہنچی۔ فرمایا: اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! صبر جاری رکھئے، اگر ان سب نے آنکھیں پھیر لی ہیں تو کیا ہوا، ہم تو ہر وقت تم ہی کو تکتے رہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر وقت ہماری آنکھوں میں رہتے ہیں اور یہ نگاہ، نگاہِ حفاظت بھی ہے اور نگاہِ محبت بھی۔ پھر فرمایا:

’’اور آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے جب بھی آپ کھڑے ہوں۔ اور رات کے اوقات میں بھی اس کی تسبیح کیجئے۔‘‘

اب سورۃ الطور کا آخری لفظ سننے والا ہے۔ارشاد فرمایا:

یعنی میرے محبوب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! رات کے پچھلے پہر بھی تسبیح کریں، جب ستارے چھپ جاتے ہیں۔

ادھر آیت اِدْبَارَ النُّجُوْمِ کے الفاظ پر ختم ہوئی تو ساتھ ہی ’’سورۃ النجم‘‘ کی پہلی آیت شروع ہوئی، ارشاد فرمایا:

’’قسم ہے روشن ستارے (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جب وہ (چشم زدن میں شب ِمعراج اوپر جا کر) نیچے اترے۔‘‘

یعنی ایک طرف یہ رات کے ستارے ہیں جو پچھلے پہر چھپ جاتے ہیں اور دوسری طرف ’’النجم‘‘ ایسا ستارہ ہے جو کبھی چھپتا ہی نہیں۔ ایک طرف دنیا کے ستارے ہیں جو رات بھر چمک  دمک کے بعد پچھلے پہر چھپ جاتے ہیں۔ مگر لوگو! میرے ستارے کو دیکھو کہ وہ چمک اٹھا ہے اور ایسا چمکا ہے کہ یہ کبھی نہ چھپے گا۔ اب اسی کا ستارہ قیامت تک اور بعد از قیامت چمکے گا۔

سورۃ الطور کا آخر اور سورۃ النجم کی ابتداء کے درمیان یہ معنوی ربط ہے کہ سب ستارے چھپنے والے تھے مگر وجودِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صورت میں رب کا ستارہ ایسا ستارہ ہے جو چھپتا ہی نہیں ہے۔

سورۃ الطور اور النجم کی ابتدائی آیات کا ربط

جس طرح سورۃ النجم کی ابتدائی ۱۸؍ آیات میں واقعہ ٔ  معراج تفصیل سے مذکور ہے، اسی طرح سورۃ الطور کی ابتدائی آیات میں بھی واقعہ ٔمعراج ہی کو بیان کیا گیا ہے اور اس امر کا اظہار اِس سورۃ کی آیات کے معنوی ربط سے ہوتا ہے۔ مسجد اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ کے سفر کے روٹ کا بیان سورۃ الطور کی ابتدائی آیات میں بیان ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا:

’’(کوہِ) طور کی قَسم، اور لکھی ہوئی کتاب کی قسم،  (جو) کھلے صحیفہ میں (ہے)، اور (فرشتوں سے) آباد گھر (یعنی آسمانی کعبہ) کی قسم ،اور اونچی چھت (یعنی بلند آسمان یا عرشِ معلی) کی قسم، اور اُبلتے ہوئے سمندر کی قسم۔‘‘

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے درج ذیل پانچ چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں:

  وَالطُّوْرِ سے مراد وجودِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔

 کِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ سے مراد قرآن، کتاب مصطفیٰ ہے۔

    وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ سے مراد فرشتوں کا کعبہ ہے جو آسمانی دنیا پر ہے۔ حدیث ِمعراج میں آتا ہے کہ حضور علیہ السلام جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو وہاں بیت المعمور تھا اور ابراہیم علیہ السلام اس کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ طور معراجِ موسیٰ علیہ السلام کا مقام تھا اور بیت المعمور معراجِ ابراہیم علیہ السلام کا مقام تھا۔

    وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوْعِ سے مراد عرشِ معلی ہے۔

  وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ کے بارے حدیث میں آتا ہے جسے حضرت علی شیر خدا رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ:

هو بحر تحت العرش.

وہ عرش کے نیچے نور کا سمندر ہے۔

گویا اللہ رب العزت نے ان پانچ قسموں کے ذریعے معراج کے دوسرے سفر کے مراحل بیان کر دئیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت المعمور اور سقف المرفوع سے ہوتے ہوئے البحر المسجور تک جا پہنچے۔

قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی.

اس مرحلہ ٔمعراج کو عبور کرنے کے بعد فوق السدرۃ وہ مقام تھا جس کے بارے میں سورۃ النجم میں ارشاد فرمایا:

’’پھر وہ (ربّ العزت اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) قریب ہوا پھر اور زیادہ قریب ہوگیا، پھر (جلوۂِ حق اور حبیب ِ مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں صِرف) دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا (انتہائے قرب میں) اس سے بھی کم (ہوگیا)۔‘‘(النجم:۸۔۹)

بعض ائمہ تفسیر کہتے ہیں کہ دو کمانوں سے مراد ایک ہی کمان ہے اور یہ تمثیل ہے کہ عرب قبائل جب آپس میں اتحاد کرتے تو وہ دو کمانوں کو اکٹھا جوڑ لیتے اور دو کمانوں سے ایک تیر نکال کر پھینکتے تا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ اب ہم دو نہیں رہے بلکہ ایک ہو گئے ہیں۔ مراد یہ کہ ایک سے لڑائی اب دوسرے سے بھی لڑائی متصور ہوگی۔ ایک کا دوست اب دوسرے کا بھی دوست ہو گا۔

اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو محمد تھا… خدا تو خدا تھا… خالق تو خالق تھا… مخلوق تو مخلوق تھی… محبوب تو محبوب تھا… اور عبد تو عبد ِ مقرب تھا… مگر اب یہ دونوں دو کمانوں کی طرح متحد ہوئے اور ایک تیرِ محبت چلا اور دنیا کو بتا دیا کہ دیکھنے میں تو یہ دو ذاتیں ہیں۔ یہ غیریت اس لئے ہے کہ خالق و مخلوق کا فرق رہے۔ عبد و معبود کا فرق رہے، بندے اور خدا کا فرق رہے۔ مگر سن لو!

آج کے بعد جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہیں وہ خدا کا نہیں … جو اِس (رسولؐ) کی اطاعت وہ اُس (اللہ) کی اطاعت …   جو اس (رسولؐ) کی محبت وہ اُس (اللہ) کی محبت…  جو اس (رسولؐ) کی قربت وہ اُس (اللہ) کی قربت… جو اس (رسولؐ) کی حرمت وہ اُس (اللہ) کی حرمت… جو اس (رسولؐ) کی بیعت کرے گا، اُس نے خدا کی بیعت کر لی… اور جو مصطفیٰؐ سے پھر گیا وہ خدا سے پھر گیا۔

قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰی کا یہی پیغام تھا جو امت تک واقعہ ٔ معراج کے ذریعے پہنچایا گیا۔ یہ آقا علیہ السلام کی معراج کا تیسرا حصہ تھا جس میں آپﷺ کو بلا حجاب دیدار ہوا۔ مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی کی شان آپ کو عطا کر دی گئی اور جلوئہ حق بلا حجاب عطا کیا گیا… یہ وہ مقام تھا کہ جب جلوئہ حق سامنے تھا اور حضورؐ اُسے بلا حجاب تک رہے تھے۔

 اللہ اور مصطفیٰ  ﷺ کا اُمت کیلئے تحفہ

اللہ رب العزت کی بارگاہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا کہ مولا!التحياتُ للّٰه والصلٰوة والطيبات۔ میں اپنی بندگی اور نیازمندی تیری بارگاہ میں لایا ہوں۔ اللہ نے جواب دیا:

السلام عليک أيها النبي ورحمة ﷲ وبرکاته! باقی مومنین پر اللہ جنت میں سلام کرے گا مگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے شب ِمعراج میں سلام کہا۔ ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جنتی جنت میں اچانک آواز سنیں گے: السلام عليکم يا أهل الجنة‘‘۔ (اے اہل جنت تم پر سلام ہو)۔ جنت والے چونک اٹھیں گے کہ کون سلام کر رہا ہے؟ کہا جائے گا کہ تمہارا رب تمہارے اوپر سلام بھیج رہا ہے۔ یہ قرآن مجید کے اس فرمان کی تفسیر ہے جس میں اللہ رب العزت نے فرمایا:

سَلٰمٌ  قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ.’’(تم پر) سلام ہو، (یہ) ربِّ رحیم کی طرف سے فرمایا جائے گا۔‘‘ (یٰسین:۵۸)

جب رب سلام بھیجے گا تو پردہ ہٹ چکا ہوگا اور: فينظر إليهم وينظرون إليه۔ رب کے عاشق اُس کو دیکھ رہے ہوں گے اور وہ اپنے عاشقوں کو دیکھ رہا ہوگا۔ اِن دیکھنے والوں اور دکھائی دینے والے کے درمیان کوئی پردہ حائل نہ ہو گا۔ وہ مقام جو عاشقوں اور مومنوں کو جنت میں ملے گا کہ اللہ ان کو سلام کرے گا اور وہ اللہ کا دیدار کریں گے، وہ مقام اللہ تعالیٰ نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شب ِ معراج میں عطا کر دیا۔

جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام اور سلامتی کا تحفہ دیا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرض کیا: السلام علينا وعلٰی عباد ﷲ الصالحين.مولیٰ! آیا تو تنہا ہوں مگر تحفہ تنہا نہیں لیتا، امت کو بھی اس سلام میں شریک کرتا ہوں۔

پس شبِ معراج میں اُمت کیلئے  اللہ کا تحفہ نماز ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تحفہ سلام ہے۔ لہٰذا نماز بھی پڑھا کریں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھی پڑھا کریں (اللھم صلی علیٰ سیدنا و مولانا.... الخ)۔  زندگی ہمیشہ سلامتی کے ساتھ گزاریں۔ شب معراج کا تحفہ یہی ہے کہ پوری انسانیت کے لئے سراپا امن بن جائیں۔ جتنی سلامتی بڑھتی جائے گی اور آپ پیکر ِسلامتی بنتے جائیں گے، چنانچہ اتنا ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قرب نصیب ہوتا چلا جائے گا۔

12 مارچ 2021،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

Part: 1- The Journey of the Holy Prophet from Al-Aqsa To Sidra Al-Muntaha نبی کریم کا مسجد ِ اقصیٰ سے سدرۃ المنتہیٰ تک کا سفر اور قرآنی آیات کا ربط

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/gift-shab-e-meraj-/d/124527


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..