New Age Islam
Wed Oct 20 2021, 04:20 PM

Urdu Section ( 17 Sept 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Simplicity and a Simple Lifestyle Are Of Fundamental Importance in Islamic Culture and Society اسلامی ثقافت اور طرزِ معاشرت میں سادگی اور سادہ طرزِ زندگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے

ڈاکٹر سید عطا ء اللہ شاہ بخاری

17 ستمبر،2021

آج معاشرے میں ڈپریشن، بے اطمینانی اور مسائل کا انبار صرف اس لئے ہے کہ ہماری تمنائیں اور خواہشیں لامحدود ہیں۔ قناعت پسندی کا جذبہ سفقود ہے عہدہ و منصب او رمال و دولت کی حرص و ہوس نے آدمی کو خواہشات کا غلام بنا دیا ہے، لیکن راحت اور سکون کو سوں دور ہے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے اور وہ ہے ”سادگی اور سادہ طرز زندگی“ سے گریز۔

معاشرے میں ایک دوسرے پر بڑائی کا اظہار کرنے،زیادہ سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے، دولت و ثروت کے انبار لگانے، حرص و ہوس اور بے جا تمناؤں کو پورا کرنے کا سودا قابل مذمت عمل ہے۔ جو معاشرے میں بے اطمینانی،اعلیٰ انسانی اقدار اور مثالی تہذیبی اور اخلاقی روایات کے زوال کا باعث بنتا اور نفرت وعداوت کو پروان چڑھاتاہے، درحقیقت یہی وہ مکروہ جذبہ ہے، جو چوری،ڈکیتی، وغارت گری او رمعاشرے میں دیگر جرائم کا باعث بنتا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا:

”حرص و طمع سے بچو کہ اس تم سے پہلو ں کو برباد کیا، اسی نے انہیں آمادہ کیا کہ انہوں نے خون بہایا(قتل و غارت گری کی) اور حلال کو حرام سمجھا۔“ (صحیح مسلم) جب کہ ایک اور روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”حرص سے بچو، کیونکہ اسی نے اگلو ں کو اس پر آمادہ کیا کہ انہوں نے (بے گناہوں کا) خون بہایا۔ اس نے انہیں ا س بات پر آمادہ کیا کہ انہوں نے حرام کو حلال جانا۔“(حاکم۔المستدرک)

شیطان جن راستوں سے انسان کو غلط راہ پر ڈالتا اور گمراہی کی طرف لے جاتاہے، ان میں حرص و ہو س، بے جا تمنائیں اور خواہشات کی پیروی بھی شامل ہیں۔ قرآن کریم میں شیطان کے عہد کا یہ نقشہ کھینچا گیا ہے:

”اور اس (شیطان) نے کہا تھا کہ میں تیرے بندوں سے ایک حصہ لے کر رہوں گا اور میں انہیں آرزوؤں اور تمناؤں میں الجھا کر رکھ دو ں گا۔“(سورۃ النساء) اللہ تعالیٰ نے بنی نوع آدم کو شیطان کے مکر و فریب سے ان الفاظ میں متنبہ کیا ہے ”یہ شیطان انہیں (بنی نوع آدم کو) وعدوں کے سبز باغ دکھائے گا، انہیں تمناؤں اور آرزوؤں میں گرفتار کرے گا، مگر شیطان کے یہ تمام وعدے دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔“(سورۃ النساء)

اسلام سادگی اور سادہ طرز زندگی کا دین ہے، اسلامی ثقافت اور اسلامی معاشرت میں سادگی اور سادہ طرز زندگی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو اُسوہئ حسنہ ہمارے سامنے ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پینے،اوڑھنے، اٹھنے، بیٹھنے کسی چیز میں تکلیف نہ تھا۔ کھانے میں جو حلال اور پاکیزہ رزق سامنے آتا،تناول فرماتے، پہننے کو جو سادہ لباس مل جاتا پہن لیتے۔زمین پر، چٹائی پر فرش زمین پر جہاں جگہ ملتی،بیٹھ جاتے۔(شمائل ترمذمی،باب ماجاء فی تواضع رسول صلی اللہ علیہ ولم) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے تھے کہ ”اے اللہ، مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ او رمسکینی کی حالت میں اٹھا او رمسکینوں کے گروہ میں میرا حشرفرما“۔(ترمذی)

حضرت ابن مسعود ؓ بیان فرماتے ہیں، ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چٹائی پر آرام کیا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر کچھ نشانات آگئے، ابن مسعودؓ سے رہا نہ گیا وہ بول پڑے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اجازت دیں تو میں نرم چٹائی بچھا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے دنیا کی کیا ضرورت؟ میری اور دنیا کی مثال اس مسافروں کی طرح ہے جو کسی منزل پر سفر کر رہا ہو، اس نے تھوڑی دیر کے لئے درخت کے سائے میں آرام کیا او رچل دیا۔ (مشکوٰۃ) نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر کی کیفیت حضرت عائشہؓ یوں بیان فرماتی ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر چمڑے کا تھا، جس میں کھجور کے پتے بھردیئے جاتے تھے۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ نے ابوبردہؓ کو ایک موٹا سا جبہ او رایک موٹا سا ازار نکال کر بتایا او راس بات کی نشاندہی کردی کہ یہی وہ دونوں کپڑے ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے پردہ فرماگئے۔ (الوفاء باحو ال المصطفیٰ) ایک مرتبہ ایک صحابیؓ نے ایک عمدہ لباس عطا کیا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور نماز کے بعد فوراً اسے اتار ا اور لوٹا دیا،دوسرا سادہ لباس زیب تن فرمایا اور ارشاد فرمایا: لے جاؤ اس سے میری نماز میں خلل واقع ہوا۔(الوفاء:564)

ظاہری طور پر جسم انسانی کی بقاء کا ذریعہ غذا ہے، لیکن وہی غذا انسان کے لئے مفید ہے، جو اسے بندگی پر قائم رکھنے کا سبب بنے، اس لئے کہ مقصود اصلی اطاعت و بندگی ہے، جب مقصود اصلی سے صرف نظر کرکے غذا کے لئے دوڑ دھوپ ہوگی توظاہر ہے اس میں حرمت و حلّت کے پہلو کو بھی نظر انداز کیا جائے گا، یہ غذا انسان کے لئے مفید ہونے کے بجائے مضر ہوگی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں انتہائی سادہ غذا اختیار کرتے تھے۔ اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے جوَ کی روٹی سے بھی دو دن متواتر پیٹ نہیں بھرا۔ یہاں تک کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے پردہ فرماگئے“۔(صحیح بخاری، مسلم)

حضرت عبداللہ ابن عباسؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طعام کی کیفیت کا تذکرہ اس طرح فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموماً جو َ کی روٹی اور سرکہ استعمال کرتے۔(الوفا ء باحوال المصطفیٰ 598/2) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرماتے: اللَّهمَّ اجعل رِزقَ آلِ محمَّدٍ قوتًا ۔”اے اللہ، آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رزق کو بقدر زیست بنا۔(مشکوٰۃ: 440) جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پہاڑوں کو سونا بنانے کی پیشکش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے میرے رب، میں تو یہ پسند کرتا ہوں کہ ایک دن پیٹ بھر کھاؤں او رایک دن بھوکا رہوں،تاکہ جب کھاؤں تو تیرا شکر ادا کروں، اور جب بھوکا رہوں تو آپ کی جانب گریہ وزاری میں لگا رہوں۔(مشکوٰۃ:442)

17 ستمبر،2021، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/simplicity-islamic-culture-society/d/125380

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..