New Age Islam
Fri Oct 30 2020, 07:05 AM

Urdu Section ( 3 March 2015, NewAgeIslam.Com)

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part- 18 (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن ( حصہ ۔ 18

 

 

 

 

 

  

 

ڈاکٹر راشد شاز ۔ دہلی

اب دیکھئے خدا اور اس کے فرشتوں کی پشت پناہی یصلون یعنی نصرت و حمایت تک ہے جب کہ مومنین  سے ونصرت و حمایت یعنی صلواعلیہ کے علاوہ سلموا تسلیما یعنی  اتباع کا مل کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ اب قرآن کے اس سیدھے سےمفہوم پر روایت نے کچھ اس طرح پردہ ڈالا کہ اس کا مفہوم مسخ بلکہ بےمعنی  ہوکر رہ گیا ۔

اس روایت کی شان نزول یہ بتائی گئی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو بعض  صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ہمیں خدا نے آپ پر صلوٰۃ سلام بھیجنے  کاحکم دیا ہے۔ بتائیے کہ ہم یہ کیسے کریں؟ راوی  کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اس سوال پر کچھ دیر خاموش رہے پھر انہوں نے ہمیں دعا  ئے ابراہیمی  کی تعلیم دی۔ اب اگر آپ اس قصہ پر ایمان لے آئیں تو اس آیت کا بنیادی  پیغام اور مومنین سے خدا کا یہ مطالبہ محو ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس آیت کی تفہیم  میں بڑی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ اگر خدا کا مطالبہ  مومنین سے محض زبانی صلوٰۃ و سلام کا پڑھنا ہے تو کوئی بتائے کہ خدا کی صلوٰۃ کاکیا مفہوم ہے۔ کیا خدا بھی اپنے رسول پر اللھم صلی علی محمد پڑھتا ہے۔ہے نا یہ ایک لغوسی بات؟ لیکن اکثر لوگ جوشِ عشق رسول میں ان باتوں پر غور نہیں کرتے اور ان قصےکہانیوں پر ایمان لے آتے ہیں جن کا مقصد رسول اللہ اور ان کے مشن کی عملی حمایت اور نصرت کے بجائے لوگوں کو زبانی جمع خرچ کے عمل میں مبتلا کرنا ہے۔ اب آپ لاکھ درود لکھی پڑھتےرہیں، اس عمل میں آپ کو اپنی نجات یا دنیا میں مال و دولت سمیٹنے کی ترکیب تو نظر آسکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کی نصرت و حمایت کا کوئی سامان پیدا نہیں ہوتا۔

مصطفیٰ اوغلو کی یہ باتیں میرے لیے انکشاف کا درجہ رکھتی تھیں ۔ ان باتوں میں وزن تھا ۔ میں نے سوچا کہ جب ذکر چھِڑ ہی گیا ہےتو کیو ں نہ ان کی تاریخی معلومات سے فائدہ اٹھایا جائے کہ ابتدائی صدیوں کی مسلم دانشوری پر ان کی گہری نظر ہے۔ میں نے ان کی تحقیق کو فی الفور قبول کرنے کے بجائے ان سے پوچھا کہ اچھا یہ بتائیے ، کیا ابتدائی صدیوں میں درود ابراہیمی ہماری نماز کا حصہ نہ تھا ؟

بولے: تاریخی مصادر اس بات پر شاہد ہیں کہ کم از کم ابتدائی دو صدیوں میں مسلمان تشہد کے بعد کوئی اور دعا پڑھتے یا بس یوں ہی اٹھ جاتے ۔ روایات  و آثار کی متداول کتابوں میں بھی عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں تعلیم دی کہ اگر نماز کے درمیان  میں ہوتو تشہد سےفارغ ہوتے ہی کھڑے ہوجاؤ اور اگر نماز کے آخر میں ہوتو تشہد کے بعد جو دعا چاہو مانگو پھر سلام پھیر لو: ان کان فی وسط الصلوۃ نھض حین یضرغ من تشھدہ و ان کان فی آخر ھا دعا بعد تشھد بما شاء اللہ ان ید عو ثم یسلم ۔بعض دوسری روایتوں میں الفاظ یوں آئے ہیں : و یستخیر احد کم من الدعاء اعجبہ الیہ فلید ع اللہ عزو جل یعنی  پھر اختیار کر لو کوئی دعا جو تمہیں پسند ہو اور مانگو اللہ عز و جل سے۔

آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایک منضبط نظریے کی حیثیت سے دعوت فاطمی کی کامیابی کےبعد سامنے آیا ۔ وہا ں بھی  سارا زور آل فاطمہ رضی اللہ عنہ پر تھا البتہ  رسول اللہ کے وہ اقارب جو قرابت داری کے حوالے سے خلافت پر اپنا حق سمجھتے وہ اپنے آپ کو اہلِ بیت  کی وسیع اصطلاح سے مزین کرتے۔ اس میں عباسی بھی تھے اور علوی بھی، حضرت علی کی فاطمی اولاد بھی تھی اورغیر فاطمی بھی ۔ اسلام کی ابتدائی ڈھائی صدیوں میں مولود نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور عید ِ فاطمہ جیسی چیزیں متشکل نہ ہوئی تھیں ۔ فاطمی خلافت کے قیام کے بعد سرکاری سطح پر اہل بیت اطہار کی فضیلت کے پر شور چرچے ہوئے۔ آنے والے دنوں میں آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل بیت کے تصور کو مذہبی اور تقدیسی حیثیت مل گئی، اور جب آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ وسلام بھیجنا جزوِ دین بن گیا تو پھر ان کی روحانی سیادت کو کون چیلنج کرسکتاتھا ۔ لہٰذا عالم اسلام کے مختلف حصوں میں سادات  کی وہ فراوانی  ہوئی کہ مت پوچھئے ۔ صلوٰۃ سلام کا یہ سلسلہ اس حد تک وسیع ہوا کہ ہر شخص نے درود و وظائف کا ایک مجموعہ تیار کر ڈالا۔

پیروں نے اپنے مریدوں کو قرآن مجید کے بجائے قصیدہ بردہ، دلائل الخیرات اور حزب البحر جیسی کتابوں کی تلاوت کی تلقین کی ۔ یہ تمام قصائد دراصل درود ہی کا توسیعہ تھے، ہر درود ، ہر قصیدے اور ہر دعا سے کثیر فوائد کاحصول یقینی بتایا جاتا تھا ۔ ان دعاؤں اور قصائد میں رسول اللہ سے استعانت طلب کی جاتی ۔ بعض سمجھ دار لوگ اس پر ناک بھوں چڑھاتے ۔ لیکن سکہ بند علماء  نے ان کتابوں کو سند بخش رکھی تھی، ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے بزرگوں  کو ان کتابوں سے اشتعال کرتے دیکھا ہے ۔ درودوں کے یہ مجموعے اور قصائد و ظائف کے یہ دفاتر آج بھی امت کے خواص و عوام میں یکساں مقبول ہیں ۔ سویہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم نے درود ایجاد کیا، رسول کو خدا کے برابر رکھ دیا، یہ دعویٰ صداقت سےخالی نہیں ۔

تو کیا آپ اور ادو وظائف کے مجموعوں کے پیچھے بھی کسی باضابطہ اسکیم کی کار فرمائی دیکھتے ہیں؟ میں نے اپنی مداخلت جاری رکھی ۔

بولے! فاطمی تحریک سے لے کر آج تک جب اہل بیت کے حوالے سے امت کےنظری اور فکری سرمائے پر شب خون مارنے کا سلسلہ جاری ہو تو اس امکان سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ اور ادود ظائف اور شعر و قصائد کا یہ سارا دفتر میرے نزدیک اسی درودی اسلام کا توسیعہ ہے جس میں استعانت طلبی  کے لیے خدا کے ساتھ ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو بھی شامل کیا گیا ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شمولیت بھی اس خیال سےہوئی تاکہ آل رسول کے حوالے سے سادات کا روحانی اقتدار مستحکم ہوسکے۔

قصیدہ بردہ ، دلائل الخیرات اور حزب البحر جیسی کتابیں نے شمار فضائل کی حامل بتائی گئیں ۔ گو یا یہ کتابیں نہ ہوں بلکہ ثواب تیار کرنے کے سریح الحرکت کا رخانے ہوں جہاں مومنین  کو ایک ہی جست میں بے شمار مالی فوائد اور اخروی نجات کی بشارت دی گئی ۔ مثال کے طور پر بصیری کو لیجئے ، کہا جاتاہے کہ اس قصیدے سےخوش ہو کر رسول اللہ نے خواب میں ان کے مفلوج جسم کو چادر سے ڈھک دیا ۔ صبح جب یہ اٹھے تو ان کی بیماری جاتی رہی۔ جزولی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بار ایک کنویں کی منڈ یر پر وضو کےلیے گئے ۔ پانی کی سطح کافی نیچے تھی ۔ مایوس لوٹنے لگے تو ایک  نو عمر لڑکی نے انہیں یہ طعنہ دیا کہ جس شخص کے زہد و تقویٰ کا اتنا شہرہ ہو اسے کنویں سے پانی نہ ملے اور یہ  کہتے ہوئے اس نے کنویں میں تھوک دیا۔ اس لڑکی کا تھوکنا تھا کہ کنویں کا پانی ابلتا ہوا منڈیر تک آگیا۔ جزولی نے وضو کیا اور پوچھا کہ تیری اس کرامت کا راز کیا ہے۔ بولی اس کا سبب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ میں رسول اللہ پر بےشمار درود بھیجتی ہوں۔ تبھی جزولی نے طے کیا کہ وہ درود کا ایک بے مثل مجموعہ مرتب کریں گے ۔ دلائل الخیرات جو مراقش کے ایک چھوٹے سےگاؤں میں ایک غیر معروف صوفی کے ہاتھوں مرتب ہوا، زیر زمین صوفی تنظیم کے ذریعہ دیکھتے دیکھتے بڑے پیمانے پر شائع  اور مقبول ہوگیا ۔ حکمرانوں  نے اس کے قیمتی منقش نسخے تیار کروائے اور اسےاپنے پاس رکھنا باعث خیر و برکت سمجھا ۔ عوام و خواص کا بیشتر وقت ان جیسی کتابوں سے اشتعال کی نذر ہوا۔ اور خدا کی منزّل وحی طاق نسیاں کی زینت بن گئی ۔

مصطفیٰ اوغلو کا بیان جاری تھا اور میں محو حیرت تھا کہ بات کہاں سے کہاں  جاپہنچی ۔ مجھے ہمہ تن متوجہ اور خاموش دیکھ کر بولے! معاف کیجئے گا میں تو تقریر کرنے لگا۔

میں نے کہا : آپ نے بڑے اہم مسائل چھیڑ دیئے ہیں ۔ ہماری پوری مذہبی ثقافت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دیکھئے بڑا نازک اور حساس معاملہ ہے۔ رسول اللہ کی محبت ہمارے ایمان  کا حصہ ہے ۔ اسےروحانیوں نے جس طرح Patent  کر رکھا ہے اور اس پر اپنے فریب اور عزائم کا جس خوبصورتی کے ساتھ پردہ ڈال رکھا ہے اسے ہٹانا بڑی احتیاط کا طالب ہے۔

انہوں نے میری بات سے اتفاق کیا۔ بولے! آپ کا اندیشہ بجاء ہے ۔ آج عام مسلمان تو کجا بڑے بڑے اہل فکر کے لئےبھی اس بات کا اندازہ کرنامشکل ہے کہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ سماجی مظاہر، جنہیں ہم مذہبی سرگرمیوں پر محمول کرتے ہیں، رسول اللہ کے مشن سے مغائر بلکہ ان کی معطّلی پردال ہیں ۔ بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کی مذہبی زندگی روبہ  عروج ہے۔ میلاد کی مجلسیں ،عرس کے ہنگامے، چلّے ، گشت، نعت، منقبت، قوالی، نوحے، اجتماعات .......... گو یا مذہبی زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاری ہے۔ شعر و نغمہ کی اثر انگیز ی کا یہ حال یہ ہے کہ سماع کی محفلیں  اب بلاد مغرب کے باسیوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کررہی ہیں ۔ بعض  دینی تنظیموں کے اجتماعات میں اژ دہام کا یہ عالم ہے کہ اب اس پر حج کے عالمی اجتماع  کا گمان ہوتاہے۔ لیکن یہ تمام مظاہر ایک فریب نظر کے علاوہ کچھ نہیں ۔ یہ دُرُوُدِی اسلام کے مظاہر ہےہیں ۔ روحانیوں کا تراشیدہ اسلام ..... جس کے پید ا کردہ التباسات کی دھند میں اصل اسلام کی بازیافت اب کچھ آسان نہیں ۔

مصطفیٰ اوغلو آج موڈ میں تھے ۔ ان کا بیان ایک آبشار کی طرح جاری تھا ۔ جی تو چاہتا تھا کہ وہ اسی طرح بولتے رہیں اور میں سنتا رہوں ،لیکن ہمارا سفینہ اب Yenikapi  پہنچ چکا تھا ۔ ہمیں ہوٹل پہنچنے کی  جلدی تھی، واپسی  کے لیے سامان سفر درست کرنا تھا ۔ مصطفیٰ اوغلو کو یہ فکر ستارہی تھی کہ قدیم عربی کتابوں کا وہ تحفہ جو مکتبہ الحقیقہ کی طرف میرے لیے موصول ہوا تھا وہ یہیں  استنبول میں نہ رہ جائے ۔ Yenikapi  سے میں سیدھا ہوٹل پہنچا اور وہ کتابوں کے ساتھ ایئر پورٹ پر ملنے کا وعدہ کر کے رخصت ہوگئے ۔ ائیر پورٹ جاتے ہوئے راستہ بھر خیالات کا ہجوم رہا۔ استنبول میں گزرے ہوئے وہ پچھلے گیارہ دن ،جن میں پچھلی گیارہ صدیوں کے جیتے جاگتے تہذیبی اور فکری منظر ناموں کی جھلک نظر آتی تھی ۔ اب ایسا لگ رہاتھا جیسے ان کی حقیقت  گیارہ ساعت سے زیادہ نہ رہی ہو۔ کسےمعلوم تھا کہ پلک جھپکتے یہ گیارہ دن اس طرح گزر جائیں گے۔

آخری اعلان ۔29

ٹرکش ایئر لائنز کے کاؤنٹر پر مصطفیٰ اوغلو کو کتابوں کے پیکٹ کے ساتھ اپنا منتظر پایا۔ جیسے تیسے چیک اِن کی رسمی کارروائی سے فارغ ہوئے۔ بوجھل دل اور نم آنکھوں کےساتھ اپنے میزبان سے رخصت لی۔ امیگریشن کی کارروائی سے فارغ ہوکر متعلقہ جہاز کی انتظار گاہ میں آیا ۔جلدی جلدی کتابوں کا پیکٹ کھولا ۔ بعض نادر عربی کتابوں کے نئے ایڈیشن پاکر یک گونہ خوشی ہوئی ۔ کتاب مواقیت الصلوٰۃ الٹ پلٹ کر دیکھنے لگا۔ اس کتاب میں ریاضی کے بعض دقیق مسائل، مثلث کردی کے حل اور مختلف پیچیدہ دائرہ کے ڈایا گرام دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی ۔ اوقات صلوٰۃ کے تعین کا یہ باریک بین اور پیچیدہ چارٹ جو آج ہماری مسجدوں میں کرم خوردہ دفتی پر قدامت کی علامات کے طور پر آویزاں رہتا ہے، مسلمان ریاضی دانوں نے اس کی  ترتیب و تشکیل میں کتنی مشقتیں جھلیں، کتنی ایکو ئیشنز ایجاد کیں، تب کہیں جاکر قطب کے  گرِ مدارِ شمس کا صحیح انداز ہ ہوا اور ا س طرح اطراف و اکناف سے قبلہ کا تعین ممکن ہوسکا۔ ایک قدیم عربی کتاب جس سے کبھی  ہماری مسجدوں کے موقّیت اشتغال کرتے، بلکہ اپنی فنکار انہ مہارت کے سبب اسے خوب تر بنانے کی کوشش جاری رکھتے،مسلمانوں کا یہ علمی ورثہ خود ان کے لیے آج کتنا اجنبی بن گیا ہے؟ میں جوں جوں اس کتاب کے اوراق الٹتا گیا ، اپنے قدیم علمی ورثے کی اس تابانی پر میری حیرت میں اضافہ ہوتا گیا ۔ کبھی وہ دن تھے جب ہم قطب سےمدار شمس کا زاویہ معلوم کرتے ۔ تب لیل و نہار  کی ہر گردش پر ہمیں  اپنی گرفت محسوس ہوتی ۔ آج ہم قطب و ابدال کے جال میں پھنسے خود کو گردشِ ایام کے رحم و کرم پرپاتے ہیں۔ روحانیوں نے رفتہ رفتہ  ہمارے اکتشافی ذہن کو کچھ اس طرح متاثر کیا کےہم نے قرآن کی دعوتِ اکتشاف سےمنھ توڑ کر مکاشفے اور مجاہد ے کو اپنا ہدف قرار دے ڈالا ۔ دین کے نام پر ایک ہلوسہ ہمارے تعاقب میں رہا۔ نتیجتاً حقیقی دنیا میں ہم اقوام عالم پر اپنی سبقت بر قرار نہ رکھ پائے۔ بحیثیت  امت سیادت کے منصب سے ہماری معزولی عمل میں آگئی۔ روحانیوں کی سلطنت اپنی تمام تر جاہ و حشم کے ساتھ آج بھی قائم ہے بلکہ اس کی فتوحات کے سلسلے مسلسل وسیع  ہوتے جارہے ہیں ۔ البتہ اسلام کی آفاقی دعوت اور مسلمانوں  کا اکتشافی ذہن صدیوں سے منجمد اور معطل ہے۔

جب تک عام  مسلمانوں پر یہ حقیقت منکشف نہیں ہوتی کہ دینی زندگی کے مروجہ مظاہر، روحانیوں کی بیعت و کرامت کے سلسلے، دراصل اسلام نہیں بلکہ اسلام کی نفی کے پختہ انتظامات ہیں، جب تک رسالہ محمدی  کی بازیافت کے لیے ایک عمومی بے چینی پیدا نہیں ہوتی، ایک نئی ابتداء کا سامان کیسے ہوسکتا ہے؟ حقیقت پر التباسات کی دھند مسلسل گہری ہوتی جاتی ہے۔ عرصہ سے وحی کے صفحات بند ہیں ۔ عقل مکاشفوں کی زد میں ہے، اور تاریخ  کے روایتی مطالعہ میں یہ دم خم نہیں  کہ وہ اسلام پر روحانیوں کے شب خون سےپردہ اٹھا سکے۔

مقبول عام تاریخ  جب یہ بتانے قاصر ہوکہ اہل صفا کی تمام دوڑ دھوپ بلکہ ان کا ظہور دراصل  سیاسی اقتدار کے استحکام کے حوالے سےہوا تو پھر تاریخ کے ایک عام طالب علم کو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ شمس کے پردے میں رومی دراصل اپنے اسمٰعیلی امام شمس الدین کی اتباع کا دم بھرتے ہیں جو سقوط الموت کے بعد اپنی اصل شخصیت پر پردہ ڈالنے پر مجبور تھے ۔ مقبول عام تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ صوفیاء ہمیشہ سیاسی اقتدار سے گریزاں رہے، حاکم وقت سے انہوں نے دوری بنائے رکھی ۔ لیکن تاریخ کاگہرا مطالعہ اور تاریخی وثائق کا تحلیل و تجزیہ ہمیں اس بات پر مطلع کرتا ہے کہ فرقہ مولویہ کے صوفیاء کے ترک خلفاء سے قریبی تعلقات رہے ہیں بلکہ بعضوں نے ان سے قراب داری کے رشتے بھی پیدا کیے۔

ان کی ایماء پر حساس عہدوں پر تقرریاں عمل میں آتی رہیں ۔ حتیٰ کہ خلافت کے آخری ایام میں مولوی بٹالین  نے مسلح جد وجہد کی اپنی سی سعی بھی کر ڈالی۔ حلّا ج سے شہاب الدین مقتول تک کبار صوفیاء کے قتل کے پیچھے نظری سے کہیں زیادہ سیاسی اسباب کار فرما تھے ۔ سرمد ، مخالف سیاسی کیمپ میں ہونے کے سبب تختہ دار تک پہنچے اور سلاطین دہلی کو نظام الدین اولیاء سے جو پر خاش تھی، اس کے پیچھے بھی سیاسی کار فرما تھے ۔ کہا تو یہ جاتا ہے کہ غزالی پر جب دنیا کی بے وقتی ظاہر ہوگئی تو انہوں نے نظامیہ بغداد کی کرسی چھوڑ کر تصوف کے دامن میں پناہ لی۔ غزالی نے المنقذ من الظلال میں یہی تاثر دینے کی کوشش کی ہے۔ البتہ اس عہد کے مختلف سیاسی و ثائق پر  جن لوگوں کی گہری نظر ہے وہ اس بات سے واقف ہیں کہ غزالی کا ترک دنیاا ور نظامیہ بغداد سے ان کی کنارہ کشی دراصل اچانک تبدیل ہوتے ہوئے سیاسی منظر نامے کے سبب تھی ۔ غزالی فضائع الباطنیۃ کے مصنف تھے ، اسمٰعیلیوں کے خلاف ان کے قلم نے بڑے جو ہر دکھائے تھے ۔ جب ان کے مربی نظام الملک اسمٰعیلی  فدائین کے ہاتھوں اپنی جان کھو بیٹھے تو غزالی کے لیے ایسی صورت میں بغداد سے فرا ر ہونے کے علاوہ اور کوئی چارا نہ تھا ۔ وہ حج کے بہانے ترکِ دنیا کا پروپیگنڈہ کرتے ہوئے بغداد سے نکل گئے ۔ اس سفر میں وہ مکہ تک تو نہ پہنچے البتہ ان کے زہد و تقویٰ اور ترک دنیا کا وہ چرچا ہوا کہ فریق مخالف کے لیے ان کی ذات میں کوئی دلچسپی باقی نہ رہی ۔ حقیقت کیا کچھ ہوتی ہے اور نظر کیا کچھ آتی ہے۔ بارا الٰہا! یہ کیسا بھید ہے۔

ابھی میں ان ہی خیال میں کھو یا تھا کہ اسپیکر پر لاسٹ کال کی صدا بلند ہوئی ۔ ائیر لائنز کے ایک کارند ے  نے میرا شانہ تھپتھپایا بورڈنگ مکمل ہوچکی ہے ، آپ آخری مسافر ہیں ۔

میں چونک کر اٹھا ، تیز تیز قدموں سے جہاز تک آیا۔ استنبول چھوڑتے ہوئے میری نگاہوں میں وہ گیارہ دن اور ان سے ملحقہ گیارہ صدیاں جھلملا نے لگیں ۔ لاسٹ کال کے اعلان پر اگر میں بروقت بیدار نہ ہوا ہوتا او رکوئی میرا شانہ نہ تھپتھپا تا تو شاید میرا جہاز چھوٹ جاتا ۔ کاش کہ یہ خوابیدہ امت بھی لاسٹ کال کا بروقت اعلان سن سکے۔ کوئی اس کا شانہ تھپتھپائے او رکہے کہ مراقبہ او رمکاشفہ میں صدیاں گزریں ، اگر اب بھی بیدار نہ ہوئے تو ایک بار پھر سیادت و امامت کا جہاز چھوٹ جائے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تمت

قارئین کرام ! لستم پوخ اختتام پذیر ہوا آخر گیارہ دن کی روداد تھی ،مگر اس مختصر روداد میں ہم نے بہت کچھ پایا ۔ ہمیں معلوم ہواکہ جن خرافات کو ہم سینے سےلگائے ہوئے ہیں، اور اُسے دین اسلام سمجھ کر بیٹھے ہیں، دوسرے خطے میں رہنے والے ہمارےمسلمان بھائیوں کی حالت اس معاملےمیں ہم سے مختلف نہیں ہے۔ ہم اگر ناف تک ڈوبے ہوئے ہیں تو وہ گلے گلے تک ڈوبے ہیں ۔ اس غرقابی  سے بچنے کے لیے ہم تنکوں کا سہارا لیتے ہیں، ان سہاروں  کے متعلق رب کا فرمان ہے کہ تار عنکبوت سےزیادہ نا پائیدار اور کمزور گھر دنیا میں او رکوئی نہیں ہے۔ اگر ڈوبنے سے بچنا ہے تو ( اعْتَصِمُوْا بحَبْل اللہِ جَمِیْعًا) اللہ کی رسی ( قرآن کریم ) کو مضبوطی سے تھام لو اپنے گرد لپیٹ لو بچ جاؤگے ۔ یہ حبل ‘‘رسی’’ ایک ہے احبال نہیں ہیں ۔ ہم نے اپنے گرد احبال ‘‘رسیاں’’ لپیٹ رکھی ہیں ہمارے ہاتھوں سے اللہ کی رسی چھوٹ چکی ہے ہم ہوا میں جھول رہے ہیں ۔ ہماری نجات  صرف حبل اللہ میں ہے۔ علامہ اقبال بھی کہہ چکے ہیں ۔

گر تو می خوا ہی مسلماں زیستن

نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن

رب نے فرمایا ہے کہ لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ..... (7:179) ان کے دل ہیں ان سے کام نہیں لیتے ۔ ان کی آنکھیں ہیں ان سے بصارت کاکام نہیں لیتے ان کے کان ہیں مگر ان سے سننے کاکام نہیں لیتے ۔ یہی  ہیں جانور بلکہ ان سے بھی بڑھ کر ۔إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ( 17:36) یقیناً کان آنکھ اور دل سےباز پرس ہوگی ۔ رب نے یہاں تک فرمایا ہے کہ  أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا یہ قرآن پر غور کیوں نہیں  کرتے کیا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں؟

فروری، 2015  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part--18--(روحانیوں-کے-عالمی-پایۂ-تخت-استنبول-میں-گیارہ-دن-(-حصہ-۔-18/d/101802

 

Loading..

Loading..