New Age Islam
Sat Sep 26 2020, 11:19 AM

Urdu Section ( 4 Dec 2014, NewAgeIslam.Com)

Eleven Days in the Spiritual City of Istanbul-Part -16 (روحانیوں کے عالمی پایۂ تخت استنبول میں گیارہ دن ( حصہ ۔ 16

 

 

ڈاکٹر راشد شاز۔ دہلی

پانچ بجے کے قریب ایک ترک لڑکی ہوٹل آگئی۔ لباس اور انداز و اطوار سے بظاہر وہ ہوٹل کا عملہ لگ رہی تھی لیکن آئی باہر سے تھی اور استقبالیہ پر میرے بارے میں پوچھتی  تھی ۔ مصطفیٰ اوغلو جو میرے ساتھ تھے ، انہوں نے اشارہ کیا کہ شاید تمہاری روانگی  کا وقت آپہنچا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ لڑکی میر ی طرف لپکی ، اور ایک دلآویز مسکراہٹ  کے ساتھ بولی : نظربوجک ۔ میں نے بھی جواباً کہا : نظر نوجک ۔ اس کےشانے پر بھی نظر بوجک کی ایک ویسی ہی نیلی علامت آویزاں تھی جیسی  میں نے گلے میں حمائل کر رکھی تھی ۔ اس  نے میرے سراپا پر ایک نظر ڈالی ۔ پھر مجھے ساتھ چلنے کاشارہ کیا ۔ کبھی درختوں  کے بیچ، کبھی واک وے اور کبھی پگڈنڈیوں  پر کچھ دور تک میں اس کے ساتھ چلتا رہا۔ موسم خوشگوار  تھا ۔ جا بجا سیاحوں  کے غول  نظر آجاتے تھے۔ وہ بہت تیز چل رہی تھی ۔ اس کی چال میں ہرنی کے تیور تھے اور میں ٹھہرا معصوم درویش ۔ اولوداغ کے خداشناس  منظر نامے میں مغربی لباس میں ملبوس ایک ترک لڑکی کے پیچھے درویش کی بھاگ دوڑ کابھلا کیا جوڑ تھا ۔  لیکن نظر بوجک سے نظر بوجک مل چکی تھی  ، قسمت نے یاوری کی تھی ۔ قطب الاقطاب کے جلسے میں درویش کی حاضری کو اب چند قدم رہ گئے تھے ۔ اس نے میری  حیرانی دیکھ کر مجھے تسلی  دی۔ کچھ دور اوپر جاکر پگڈنڈی نیچے کی  طرف اترنے لگی ۔ اب جو پیچھے مڑ کر دیکھا تو اولوداغ کا سارا میدانی علاقہ نگاہوں  سےاوجھل تھا ۔

نیچے ایک بہت بڑے خیمے کا دروازہ نظر آرہا تھا  جس پر وہی نظر بوجک کی علامت آویزاں تھی ۔ نیچے اتر نے کا راستہ خاصا تنگ تھا  اور غالباً تنگ ترین مقام پر ایک سیکوریٹی گیٹ کچھ اس طرح نصب  کیا گیا تھا کہ اس سے گزرے بغیر آگے بڑھنے کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ دروازہ بند تھا ۔ اس لڑکی نے مجھے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا ۔ پہلے تو کچھ سمجھ میں نہ آیا ۔ پھر بوجک کے پیچھے لگے الیکٹرونک چپ کی بات یاد آئی ۔ قریب گیا پِک کی آواز کے ساتھ دوازے میں سبز روشنی جلی اور دروازہ کھل گیا ۔ اندر استقبالیہ کا ایک بڑا اسٹال لگا تھا جہاں اسی قسم کی ترک لڑکیاں نظر  بوجک کی علامتیں  لگائے انتظام و انصرام میں مصروف تھیں ۔ مجھے دیکھتے ہی ایک لڑکی میری طرف لپکی ،وفق کے نیچے بٹن کو دبا کر اسےنکال لیا ، ڈوری میرے گلے میں لٹکی رہ گئی۔ کاغذات کا ایک پلندہ اس کے ساتھ تھا ۔ سیریل نمبر 132 کے خانے میں وفق کا ویسا ہی نقشہ مطبوعہ تھا ۔ اس نے میرا وفق لے کر ایک بڑی ٹوکری میں ڈال دیا، کاغذ پر حاضری کی علامت بنا دی او رمجھے خیمے کی طرف بڑھنے کااشارہ کیا ۔ مختلف کاؤنٹر پرمجھ جیسے کچھ اور بھی  درویش نظر آئے ، لیکن اس سے پہلے کہ کسی سے دعا سلام کی گنجائش پیدا ہوتی انتہائی سبک رفتاری   کے ساتھ میری میز بان نے مجھے خیمے کے دروازے تک پہنچا دیا ۔ یہاں بھی اسی قسم کے سیکیوریٹی  گیٹ  سے  سابقہ تھا ۔ مجھے اندازہ  تھا کہ نظر بوجک کی علامت  کے سہارے یہ دورازہ  بھی کھل جائے گا سو اس مرتبہ  بے دھڑک داخل ہوا۔ دروازہ کھلتے ہی  دوسری طرف ایک میزبان خاتون نے مسکراتے ہوئے نظر بوجک کہا اور کمال ِ سرعت  کے ساتھ نظر بوجک کے پیچھے ہک کو دبا کر اسے نکال لیا ۔ ڈوری   پھر میرے گلے میں لٹکی  رہ گئی ۔ پھر شاید پہلے سے طے شدہ اسکیم کےمطابق مجھے ایک نشست پر بٹھا کر رخصت ہوگئی ۔

اب جو میں نے خیمے کا جائزہ  لیا تو پتہ  چلا کہ اس کی ہیئت ایک طرح کے اوپن ایئر تھیٹر کی ہے۔ پہاڑی  کے نشیب و فراز نے کچھ اس طرح کی صورت حال پیدا کر رکھی تھی کہ تھیٹر کے انداز سے  ناظرین کی کرسیاں ایستادہ تھیں ۔ نیچے خالی پلیٹ فارم تھا جس کے بالمقابل قدرے بلند پہاڑ ی  پر ایک اسٹیج بنایا گیا تھا ۔ اسٹیج کے  پیچھے ایک بہت بڑی سفید اسکرین لگائی گئی تھی اور اسٹیج  کے دونوں  طرف تقریباً آدھے حصے تک اسی  طرح اسکرین  سے اسے گھیر دیا گیا تھا۔ دونوں  جانب اسکرین  کے باہر اولمپک انداز کی بری بڑی دیو ہیکل  مشعلیں  جل رہی تھیں جس سے غالباً بیک وقت روشنی اور گرمی دونوں کاکام لیا جارہا تھا ۔ کھلے آڈیٹوریم میں جا بجا مختلف  کناروں پر چھوٹی چھوٹی مشعلیں آویزاں تھیں ۔ گویا ماحول نیم روشن  تھا ۔ اسٹیج کے قریب بڑی مشعلوں سے روشنی  کے جاہ و جلال کا سماں تھا اور اس پس منظر میں اسٹیج پر بیٹھے لوگ ایک طرح کی سریت اور نور کے ہالے میں گھرے  نظر آتے تھے۔ اندازہ ہوا کہ کاروائی  اب شروع ہوا چاہتی ہے کہ مجلس حاضرین سے تلے اوپر تھی ۔ اچانک بانسری  کی ایک لَے کے ساتھ اسٹیج پر لگے وسیع اسکرین پر مختلف رنگوں کے گو ل دائرے طلوع  ہونے لگے ۔ دائرے گھٹتے بڑھتے اور پھیلتے سکڑتے رہے ۔ پھر بجلی  کی کڑک کے ساتھ تیز روشنی کا منظر دکھایا گیا پھر تاریکی چھا گئی  اور تب ہی اسٹیج  پر بیٹھے ایک شخص نے اللہ ہوکا نعرۂ مستانہ بلند کیا ۔ کلمۂ ہو کا بلند ہوناتھا کہ چہار  جانب سے ہو ہو کی صدا بلند ہونے لگی ۔ اسی دوران موسیقی  کے آلات بھی ہوگی اس ترنگ ( symphony) میں شامل ہوگئے ۔ کچھ دیر میں یہ نغمہ اللّٰھم صل علی میں بدل گیا پھر آیت قرآنی  ألا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون کی تلاوت میں جڑتی رہیں ۔ اختتام آیت نور پر ہوا، جس کے بعد کچھ دیر تک فضاء  یا نوُر یا نُور کے نعروں  سےمعمور رہی ۔ پھر ختم خواجگان کے سے انداز میں طروق تصوف کے ستّر سلسلوں  پر صلوٰۃ و سلام کا سلسلہ  چلتا رہا ۔ اس عمل میں کوئی  آدھ گھنٹہ صرف ہوگیا ۔

پروگرام چونکہ میرے بیٹھتے ہی شروع ہوگیا تھا اور اس کے بعد کبھی موسیقی  کی ترنگ او رکبھی یا نُور کے نعروں نے پوری طرح  مشغول کرلیا تھا اس لیے ابتداً ماحول کابھر پور جائزہ  نہ لے سکا تھا ۔ اب جو یہ سلسلہ تھما تو میں نے اپنے قرب و جوار کا جائزۃ لینے کی کوشش کی ۔ اب تک آنکھیں  نیم تارک ماحول کی عادی ہوچکی تھیں لیکن پھر بھی اسٹیج پر بیٹھی   شخصیات کے چہرے بشر ے کچھ تو دوری  کے سبب اور کچھ مخالف سمت سے مشعل کی روشنی  اور اسٹیج  کے آدھے حصے پر نیم تاریکی  کے سبب، واضح طور پر دکھائی نہ دیتے تھے ۔ ہاں اتنا پتا چل رہا تھا کہ پہلی صف میں  کل سات کرسیاں ایستادہ ہیں جن  پر مختلف  صوفیانہ لباس میں غالباً سات اقالیم کے قطب بیٹھے  ہیں ۔ البتہ ایک شخص جس کی نشست قطب الاقطاب کے بائیں جانب تھی مغربی طرز کے سوٹ میں داڑھی  مونچھ  سے مبّرا تھا ۔ قطب  الاقطاب  کی مرکزی کرسی دوسری  کرسیوں سے قدرے نمایاں  تھی ۔ ان کے سر پر پگڑی کے بجائے  اونچی  دیوار کی ٹوپی تھی  جس پر دور سے مختلف قیمتی  پتھروں کے ٹکے ہونے کا گمان ہوتا تھا ۔ان کے عصاء کے دستہ سے اس وقت روشنی  سی پھوٹتی جب وہ اسے خاص زاویے  پر گھماتے ۔ اسے دیکھ کر بزرگوں کی وہ کرامتیں  یاد آئیں کہ کس طرح وہ اپنے عصاء سے اندھیرے میں روشنی کا کام لیا کرتے تھے ۔

جلسہ کی نظامت خود قطب الاقطاب کے ہاتھوں  میں تھی ۔ اب کلیدی  خطبہ کی باری تھی ۔ مغربی  سوٹ  میں ملبوس  وہی قطب ، جو اب تک قطب الاقطاب کے پہلو میں بیٹھا  تھا، اپنی جگہ سے اٹھا ، ڈائس پر آیا ۔ ایک ہاتھ سے چشمے کو درست کیا اور دوسرے ہاتھ سے خطبے کی کاپی اپنے سامنے رکھی ۔ پھر حاضرین پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بولا: یا علی رضی اللہ عنہ مدد۔ اس کے جواب میں  مختلف قسم کی آوازیں  آئیں ۔ بعض گوشوں سےنعرہ حیدری  بلند ہوا اور اگلی صفحوں سے کچھ لوگ اچھل اچھل کر علی دم دم دے اندر کا دھمال ڈالنے لگے۔ کچھ  دیر تک افراتفری  کا ماحول رہا۔ جب شور تھما تو فاضل مقرر نے اپنے خطبے کی باقاعدہ ابتدا کی ۔ فرمایا!

بزرگو اور دوستوں ! یہ مولا علی رضی اللہ عنہ کا  کرم ہے کہ چالیس برس کے بعد ہم اپنے سالانہ اجتماع کے لیے ایک بار پھر لستم پوخ کی سر زمین پر جمع ہوئے ہیں ۔ لستم پوخ سے ہمیں پیار ہے اور لستم پوخ ہم سے پیار کرتا ہے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ چالیس سال پہلے بھی لستم پوخ میں کلیدی خطبہ کا قرعہ میرے ہی نام نکلا  تھا ۔تب میں نوجوان تھا اور میری بہت سی تجاویز کو اس وقت کے بزرگوں نے حیرت اور تشویش کے ساتھ دیکھا تھا ۔ میں شکر گزار ہوں ان بزرگوں کاکہ انہوں نے اپنے تحفظات  کے باوجود ہماری بعض تجاویز کو قبول کیا ۔ تب میں نے بڑی شد و مد  کے ساتھ  یہ بات رکھی تھی کہ مشاعخیت کے مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ اسے خدمت خلق کے کاموں  سے جوڑ اجائے ۔ آج میں پھر اس بات کو دہرا ناچاہتا ہوں کہ وہ دن گئے جب صاحب قبر کے فیض کے بھروسے خلقت ہمارے پیچھے چلا کرتی تھی ۔ اب ہمیں زندہ رہنا ہے تو فیض کو ایک زندہ  اور محسوس شکل دینی ہوگی۔ تعلیمی  اور فلاحی اداروں کا جال بچھا نا ہوگا، شفاء خانے قائم کرنے ہوں گے۔آرٹ، شاعری اور موسیقی کی خدمت اور اسلامی تہذیب کے فروغ کے پردے میں اہل بیت اظہار کی فضیلت کا غلغلہ بلند کرنا ہوگا۔ ہمیں  خوشی  ہے کہ صوفی تحریک نے نئے دور کے تقاضوں کو سمجھا ہے او ربہت سے سجادہ  نشینوں نے اپنی آمدنی  کا ایک معقول حصہ فلاحی کاموں پر خرچ کرنے کی اسکیم بنائی ہے۔ بعض ممالک میں مشائخ کانفرنسوں  کے ذریعہ بھی  یہ پیغام   عام ہوا ہے کہ  ہر درگاہ او رمزار سے ملحق کوئی مدرسہ یا تعلیمی  ادارہ ضرور قائم کیا جائے تاکہ اہل صفا کے دامن پر نذرانوں اور فتوح کی وصولیابی کا داغ کچھ ہلکا ہوسکے۔

یاد رکھئے! دنیا تیزی سے بدل رہی ہے ۔ اب صرف جبّہ و دستار کے مظاہرسے یا خود کو اہل قرار دے کر ہم بہت دنوں  تک اپنا بھرم قائم نہیں رکھ سکتے ۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں نسل پرستی کو عیب سمجھا جاتا ہو ہم خود کو سادات بتا کر لوگوں کو اپنی اتباع کےلیے مجبور نہیں کرسکتے ۔ ہاں! خدمت خلق کے سہارے  ہم ان کے اندر پلنے والی بغاوت کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔

لستم پوخ کے اس اجلاس میں آپ حضرات کے لیے میں ایک خوشخبری لایا ہوں ۔ آنے والے دنوں میں اہل صفا کے سماجی اور سیاسی قد کاٹھ کو بلند کرنے کے لیے اہل بیت کی بعض حکومتوں کے تعاون سے ہم نے مغرب کی بعض دانشگاہوں میں ایسی  فہرستوں کے اجراء کا انتظام کیا ہے جو دنیا کی مؤثر شخصیات  میں ہماری شمولیت کا خاص طور پر اہتمام کریں گی۔ دنیا میں اس وقت صرف دو حکمران سلسلۂ اہل بیت سے اپنا رشتہ جوڑتے ہیں ، ہمیں اس سلسلے کو وسعت دینے کی کوشش     جاری رکھنی ہے۔ بعض حکمرانوں  سے ہمارے مشائخ کی راہ  و رسم بڑھی ہے اور بعض جگہوں پر بڑی کامیابی  کے امکانات ہیں ۔ میں چاہوں  گا کہ آئندہ اطلاقی پروگراموں میں اسے ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا جائے۔

یاد رکھئے! مغرب ہمارے لیےبڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ نہ صرف اس لیے کہ اس کے اثرات فی زمانہ ساری دنیا پر مرتب ہوتےہیں بلکہ اس لیے بھی کہ مغرب میں غیر عقلی  رویّے ( unreason) کا جو عمومی ماحول پایا جاتا ہے ا س میں تصوف ، قبالہ، tarrot card  اور اس قسم کی دوسری چیزوں کےلیے خاصی گنجائش ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ گزشتہ  چالیس سالوں میں مغرب کے اس  سازگار ماحول سے ہم نے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا ہے لیکن اب بھی کرنے کو بہت کچھ باقی ہے ۔ میں ابتدا ہی سے اس بات کا قائل رہا ہوں کہ جدید مغربی تعلیم ہمارے مقاصد سے مغائر نہیں ہے بلکہ یہ تعلیم جو روحانی خلاء پیدا  کرتی ہے اس میں ہمارے لیے کام کا بڑا امکان ہے ۔ شرط یہ ہے کہ ہم اس امکان سے خاطر خواہ فائدہ اٹھائیں ۔

آنے والے دنوں میں مشرق میں اتھل پتھل کے اندیشے ہیں ۔ ہمیں جاننا چاہئے کہ جمہوریت اور حریت فکری  کے نعرے ہمارے مقصد سے مغائر ہیں۔ ہمیں زیر زمین  پنپتی ان تحریکوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیناچاہئے ۔ توقع  ہے کہ اطلاقی اجلاس میں ان امور پر کھل کر گفتگو ہوگی ۔ ایک اور بات جس کی طرف میں آپ حضرات کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ تصوف کے نئے تنظیمی ڈھانچے سے متعلق ہے۔ بعض صوفی سلسلوں نے بیسوی صدی کی ابتداء میں مغربی انداز کے تنظیمی  فرنٹ قائم  کیے ، اس سے ہمارے ماننے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، دین کی صوفیانہ تعبیر عامۃ الناس کی رگ و پے میں سرایت کر گئی ۔  (جاری ہے)

دسمبر، 2014  بشکریہ : ماہنامہ صوت الحق ، کراچی  

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-rashid-saz/eleven-days-in-the-spiritual-city-of-istanbul-part--16--(روحانیوں-کے-عالمی-پایۂ-تخت-استنبول-میں-گیارہ-دن-(-حصہ-۔-16/d/100331

 

Loading..

Loading..