New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 09:03 PM

Urdu Section ( 27 Apr 2017, NewAgeIslam.Com)

Come out of the Closet, Times have Changed !حجرے سے باہر آئیے حضرت ، زمانہ بدل گیا ہے





ڈاکٹر قمر تبریز

17اپریل،2017

چند سال قبل ایک حضرت مسلمانوں کے جم غفیر سے خطاب کر رہے تھے ۔ تھوڑی تھوڑی دیر میں مجمع میں کوئی ’ نعرہ تکبیر‘کی آواز بلند کرتا اور پھر تمام لوگ ’ اللہ اکبر‘ کا فلک شگاف نعرہ لگاتے۔ ان کے ہر ایک لفظ پر لوگ جھوم اٹھتے ۔ ان کے وہاں پہنچنے سے کئی دن قبل ہی آس پاس کے تمام علاقوں میں پوسٹر لگادیئے گئے تھے کہ فلاں دن وہ حضرت یہاں تشریف لانے والے ہیں۔ اسی لیے وہ حضرت جب وہاں پہنچے تو ایک وسیع و عریض میدان میں اپنے سامنے اتنا بڑا مجمع دیکھ کر بھی حیران ہوگئے ۔ ان کی تقریر سننے کے بعد جب لوگ اپنے گھر کو جانے لگے ، تو سب کی زبان پر ان حضرت کی تعریف کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔ لوگ انہیں قوم کا مسیحا سمجھنے لگے تھے ۔ ان کی شعلہ بیاں تقریروں اور تحریروں سے مسلمان اتنے متاثر تھے کہ ہر کسی کو ان سے ملنے اور ان کی باتیں سننے کا گویا جنون سا طاری ہوگیا تھا ۔

لیکن ، کیا آپ جانتے ہیں کہ جب وہ حضرت تقریر کرنے کے بعد ہوٹل واپس جانے کے لئے اپنی گاڑی میں سوار ہوئے ، تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کیا کہا؟ ’’ دیکھا ، سالوں کو کیسا بیوقوف بنایا!‘‘ ۔۔۔ جی ہاں، آپ کو یہ سن کر حیرانی ہورہی ہوگی، لیکن میں اس بات کا گواہ ہوں ۔ اسی لیے بار بار کہتا ہوں کہ دورِ حاضر میں جتنے بھی لوگ مسلم قوم کا ’ مسیحا‘ اور ’ قائد ‘ ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ، انہیں قوم سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ وہ صرف اپنی دکان چلانے کے چکر میں ہیں۔ اگر ان کا بس چلے، تو قوم کو بیچ کر عیش کریں۔

مجھ سے ، اور ہوسکتا ہے کہ آپ میں سے بھی کسی سے آپ کا کوئی غیر مسلم دوست یہ سوال کرتا ہو کہ جب قرآن کی پہلی آیت ہی ’ اقراء‘ سے شروع ہوئی، جس کا مطلب ہے ’ پڑھ‘ تو پھر مسلمان پڑھتا کیوں نہیں ہے؟ تعلیم سے اسی دوری نے مسلم قوم کو پوری دنیا میں ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا، پھر بھی ان کی بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ ہندوستانی مسلمان اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ملک میں امتیاز برتا جاتا ہے لیکن آپ کو پڑھنے سے کون روک رہا ہے ؟ کیا اگر آپ اپنا کوئی تعلیمی ادارہ بنائیں گے تو کوئی آپ کو اسکول و کالج کھولنے سے بھلا کیسے روک سکتا ہے ؟ قرآن میں سیکڑوں بار کہا گیا ہے کہ ’ اے ایمان والوں ‘ کیا تم غور نہیں کرتے، ۔ لیکن، یہ قوم ہے کہ کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ بچپن میں کہیں پر پڑھا تھا ، ہند و پاک کی تقسیم کے وقت بنگال میں فسادات ہورہے تھے ۔ ہندو او رمسلمان بڑی تعداد میں ایک دوسرے کاقتل عام کررہے تھے ۔ اس وقت مغربی بنگال میں ایک صوفی بزرگ تھے ، جو ہر وقت اپنے حجرے میں بند عبادت و ریاضت میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ پاس میں ہی مسلمانوں کی ایک بستی میں جب آگ لگادی گئی اور ہزاروں قتل کردیئے گئے ، تو ایک مسلمان ان صوفی بزرگ کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ حجرے سے باہر مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے اور آپ عبادت میں مصروف ہیں؟ ان کے لیے کچھ کیجئے ۔

صوفی بزرگ نے کہا ، ’’ کوئی انسان بھی مارا گیا ہے کیا؟ ‘‘ اس شخص کو حیرانی ہوئی کہ ہزاروں لوگ مار دیئے گئے اور صوفی صاحب کہہ رہے ہیں کہ کوئی انسان نہیں مرا۔ لہٰذا ، اس نے غصے میں ان صوفی حضرت سے کہا کمال ہے، انسانوں کی موت پر بھی آپ مذاق کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ تب ان صوفی بزرگ نے اس مسلم کے اوپر ایک چادر ڈال دی او رکہا کہ آنکھیں بند کر و اوردیکھو کوئی نظر آرہا ہے؟ اس آدمی نے کہا کہ اندھیرے میں کیا نظر آئے گا۔ صوفی بزرگ نے کہا، دیکھو دیکھوں نظر آئے گا۔ تھوڑی دیر میں اس آدمی کو واقعی میں دکھائی دینے لگا آگ لگی ہوئی ہے او رلوگ پریشانی کے عالم میں جان بچا کر ادھر ادھر بھاگ رہے ہیں ۔ لیکن آگ میں مرنے والے سبھی جانور ہیں، انسان کوئی بھی نہیں ۔ اس آدمی نے بڑی کوشش کی یہ دیکھنے کی کہ کوئی انسان بھی آگ کے لپیٹ میں آیا ہو، لیکن اسے جتنی بھی لاشیں نظر آئیں وہ سب کے سب جانوروں کی تھیں ، انسان کی ایک بھی نہیں تھی ۔ تب اس نے چادر ہٹا کر صوفی بزرگ سے صحیح واقعہ جاننا چاہا، تو ان بزرگ نے بتایا کہ فسادات میں جتنے بھی مسلمان مارے جا چکے ہیں ، ایمان کے لحاظ سے ان سب کی حیثیت جانوروں جیسی تھی ۔ اگروہ واقعی میں ایمان والے ہوتے ، تو ان کے اوپر ایسا عذاب کبھی نازل نہیں ہوتا، اسی لیے میں عبادت میں مصروف ہوں۔

کہنے کامطلب یہ ہے کہ آج کامسلمان نہ تو دنیاوی اعتبار سے مضبوط ہے او رنہ ہی دینی لحاظ سے ۔ حالانکہ اس کرۂ ارض پر پیدا ہونے والے ہر انسان کو خدائے عز وجل نے یہ موقع عطا کیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنی دنیابھی سنوار سکتا ہے اور دین بھی ۔ اور یہ ساری باتیں قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ لیکن، جس رب العالمین نے انسانوں کو اشرف المخلوقات بنایا، وہی آج اپنی ذلت وحقارت کروارہا ہے او رالزام دوسروں کو دے رہا ہے ۔ صبح سے شام تک درجنوں مسلمانوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ کوئی سبزی بیچ رہا ہے، تو کوئی پھل ۔ کوئی پان کی دکان چلا رہا ہے ، تو کوئی چائے کی ۔ کسی نے کھانے کی دکان کھول رکھی ہے ، تو کوئی گاڑیوں کی مرمت کررہا ہے۔ یعنی محنت کرنے میں مسلمان کسی بھی قوم سے پیچھے نہیں ہے۔ لیکن، جب ان سے پوچھتا ہوں کہ کیا تم نے بچوں کو داخلہ اسکول میں کروایا، تو جواب ملتا ہے ، ’’ سر، آدھار کارڈ نہیں ہے اس لیے اسکول والے ایڈمیشن نہیں لے رہے ہیں ۔ جب پوچھتا ہوں کہ آدھار کارڈ بنوانے میں تمہیں کیا دقت ہے ،تو جواب ملتا ہے ’’سر، بنے گا ہی نہیں ، میں مسلمان جو ٹھہرا‘‘۔ دو چار کو اپنے ساتھ لے کر گیا اور آسانی سے آدھار کارڈ بنوا دیا ، تب جاکر ان حضرت کی غلط فہمی دور ہوئی ۔مسلمانوں کی سب سے بڑی دقت یہی ہے کہ وہ کوشش نہیں کرتا او ربڑی آسانی سے ہار مان لیتاہے اور پھر کہتا ہے کہ اس ملک میں مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ بھید بھاؤ ہورہا ہے۔ حالانکہ ، حقیقت یہ ہے کہ آپ اپنے ہی حقوق سے لاعلم ہیں ۔ یہ کہاوت تو شاید سب کو معلوم ہوگی کہ ’ پیاسا کنویں کے پاس جاتاہے ، کنواں پیاسے کے پاس نہیں آتا ‘ ۔ مسلمان کوشش ہی نہیں کرتے اور اپنی قسمت کا رونا روتے رہتے ہیں ۔

سرکاریں بھی مسلمانوں کے لیے کچھ کرناچاہتی ہیں، لیکن کوئی ان کے پاس جانے کو تیار ہی نہیں ہے۔ نریندر مودی نے وزیر اعظم بنتے ہی کہا تھا کہ مسلمان اپنے مسائل لے کر ان کے پاس آئیں گے، تو رات کے بارہ بجے بھی ان کا دروازہ کھلا رہے گا ۔ کتنے مسلمان اپنے مسائل کو لے کر آج تک ان کے پاس گئے؟ اس ملک میں ہندوؤں کی اکثریت مسلمانوں سے ہمدردی رکھتی ہے ۔ چندمٹھی بھر لوگ ہیں، جو مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں جس کی وجہ سے بعض دفعہ خون خرابہ ہوجاتا ہے ۔ لیکن ہندوؤں کی اکثریت سیکولر ذہنیت کی حامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے، اس کی مخالفت میں پرزور آواز ہندوؤں کی طرف سے ہی اٹھتی ہے۔ لیکن ،مسلم قوم کو ہی زمانے کی رفتار کے ساتھ چلنا پسندنہیں ہے، تو اس کا کیا کیا جاسکتا ہے ۔

علم ایسی چیز ہے، جسے کوئی چرا نہیں سکتا ، کوئی چھین نہیں سکتا، کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔ علم کے بغیر ترقی کا تصور نا ممکن ہے ۔ اس کا کوئی شارٹ کٹ طریقہ نہیں ہے۔ محنت مزدوری کرکے آپ پیسہ تو کما سکتے ہیں ، لیکن اس پیسے کو صحیح مصرف میں اس وقت تک نہیں لگاسکتے، جب تک کہ آپ کو اچھے برے کی تمیز نہ ہو ۔ اور اسلام یہ کہتا ہے کہ ہر بالغ مرد وعورت کو اتنا علم سیکھنا فرض ہے، جس سے اسے حرام و حلال کی تمیز ہوجائے ۔ اب آپ خود ہی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیجئے کہ آپ اپنے مذہب پر کتناعمل کر رہے ہیں۔ اگر آپ کی ذلت و رسوائی خود آپ کے اعمال کی وجہ سے ہورہی ہے ، تو اس میں دوسروں کو قصوروار ٹھہراناکہاں تک درست ہے ؟ اس لئے اپنا محاسبہ کیجئے ۔ جس دن آپ ایسا کرلیں گے تو دنیا میں کوئی بھی طاقت آپ کو پرواز کرنے سے نہیں روک سکتی ۔یہی ہمارا ایمان کامل ہے۔

17اپریل،2017 بشکریہ : روز نامہ میرا وطن ، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-qamartabrez/come-out-of-the-closet,-times-have-changed--!حجرے-سے-باہر-آئیے-حضرت-،-زمانہ-بدل-گیا-ہے/d/110935

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism,


Loading..

Loading..