New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 02:56 AM

Urdu Section ( 9 Nov 2014, NewAgeIslam.Com)

Present Age and Iqbal's Ideals and Thoughts عہد حاضر اور اقبال کے افکار و نظریات

 

ڈاکٹر مشتاق احمد

9 نومبر، 2014

اکیسویں صدی میں زبان و ادب کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہے کہ آخر ادب کس طرح بدلتے  ہوئے زمانے کےساتھ ہم آہنگی  پیدا کرے۔ عالمیت (Globalization ) کی وجہ سے زندگی کے تمام شعبے میں انقلاب بر پا ہوگیا ہے اور جس کی شدت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔ اب چونکہ دنیا ایک بازار بن چکی ہے ا س لئے  زندگی کے  ہر ایک میدان میں مقابلہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے روایتی زندگی کا توازن بھی یکسر بدل گیا ہے ۔ ادب میں بھی کچھ اس طرح کی تبدیلی رونماہورہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ جب زندگی  جینے کے طریقے بدل رہےہیں تو زندگی کی آئینہ ادب میں بھی ہماری تصویر بدلے گی اور ضرور بدلے گی کہ یہ ایک فطری عمل ہے ۔ عہد جدید میں وہی ادب اپنا وجود قائم رکھ سکتا ہے جو وسیع سے وسیع تر ہوتے بازار  کی طاقتوں کا  مقابلہ کرنے کی قوت رکھتا ہو جو مقبولیت پسندی  پر مبنی فروغ انسانی وسائل کے توسط سےمہارت پیدا کرتا ہے۔

اب  جہاں تک سوال علامہ اقبال کے افکار و نظریات کی عصری معنویت  کا ہے تو ان کی شاعری اور نثری تخلیقات میں وہ علمی اور فکری سرمایہ موجود ہے جس کی مدد سے ہم اکیسویں    صدی یعنی عہد جدید میں بھی ذہنی  سکون حاصل کرسکتےہیں اور ان طاقتوں کو اپنی گرفت میں لاسکتے ہیں جن کے ذریعے اپنی فکری و نظری پسماندگی او ربے کسی کاازالہ کرسکیں ۔ اکیسویں صدی کی یہ دوسری دہائی ہے۔ آج یہ سوال کیا جارہا ہے کہ اس بدلتے ہوئے حالات میں علامہ اقبال کی معنویت کیا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اُن کے افکار و نظریات اب پرانے ہوچکے ہیں  اور آج ہمارے سامنے جو مسائل کھڑے ہیں ان کے سامنے علامہ اقبال کی ‘‘ تھیوریاں ’’ کام نہیں کرسکتی ہیں۔ لیکن سچائی  بالکل اس کےبرعکس ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج بھی علامہ اقبال کے افکار و نظریات ہمارے لئے اتنےہی اہمیت کے حامل ہیں جتنے اس عہد میں تھے۔

غرض  کہ علامہ اقبال کو کسی خاص وقت اور دائرے میں محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ انہوں نے جس ایمانداری سے انسان کی زندگی اور اس کے مسائل کی عکاسی اپنی شاعری میں کی ہے ، اس کی مثال نہ تو ان کے پیش رؤں کے یہاں دکھائی پڑتی ہے اورنہ ہم عصروں کے یہاں اس کی جھلک ملتی ہے۔ یہاں اس حقیقت کا اظہار بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ علامہ اقبال    اپنے پیش رؤوں او رہم عصروں میں منفرد نظر آتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ اس کیلئے انہوں نے شعوری کو شش کی بلکہ اس عہد کی Sensibility کا تقاضا بھی یہی تھا لیکن اس تقاضے کو پورا کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں تھی ۔ بلکہ اس لمحاتی چیلنج کو وہی ادیب قبول کرسکتا ہے جو علامہ اقبال کی طرح وقت کی دکھتی  رگ کو پکڑ نے کا ہنر جانتاہو۔ مختصر یہ کہ علامہ اقبال لمحوں کی کیفیت کے شاعر ہیں ۔ لمحوں  کا ذاتی مشاہدہ کے کلام کی خصوصیت ہے۔اس کی شاعری احساسِ فطرت اور احساس انسانیت کا حسین امتزاج ہے اور احساس فطرت و احساس انسانیت کی شاعری وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتی ۔ علامہ اقبال ایک بالیدہ  شعور اور حساس ذہن کے مالک تھے ۔ انہوں نے نہ صرف مشرق بلکہ مغربی  دنیا کے انسانوں کے مسائل کا گہرا مطالعہ کیا تھا ۔ انہوں نے شعوری طور پر زندگی جینے کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی ۔ انہوں نے محسوس کیا کہ دم توڑتی  انسانیت کے تحفظ  اور خوابیدہ ذہن کو بیدار کئے ہوئے بغیر فلاح انسانیت  کا چراغ روشن رکھنا ممکن نہیں ۔ علامہ اقبال کاعہد، ایک عہد اضطراب  تھا ۔ اس وقت ایک طرف عالمی سطح پر سیاسی بحران تھا تو دوسری طرف بر صغیر میں سیاسی  و سماجی  تحریکات  کے شعلےبھڑک رہے تھے ۔ بالخصوص ملت اسلامیہ کیلئے سخت امتحان کا دور تھا ۔ ہر ایک چہرے پر مایوسی اور الجھن  کے اثرات نمایاں تھے ۔ علامہ اقبال نے ان سب حادثات کونہ صرف محسوس کیا بلکہ بیکس و محروم طبقے کے لوگوں کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی ۔ یہی وہ دور ہے جس میں علامہ اقبال کے فکری سمندر میں طوفان برپا ہوتا ہے۔ اس عہد کی شاعری کے مطالعے سے بیسویں صدی کے ابتدائی ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سماجی اور سیاسی  تبدیلیوں  کی تصویریں سامنے آجاتی ہیں ۔

علامہ اقبال ایک دین انسانی کے مبلغ اور حد درجہ انسان دوست شاعر تھے ۔ ان کا مسلک بہبود بشر تھا ۔ وہ ہر حال میں حقوق انساں کی حفاظت چاہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ہر طرح کے ظلم و ستم ، استحصال  ، غیر مساوات ، نسل پرستی اور تو ہم پرستی کے خلاف آواز بلند کی ۔ علامہ اقبال کاماننا  تھا کہ ایک شاعر کا کام صرف شعر تخلیق  کرنا ہی ہے بلکہ اس پر حالات کو بدلنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ  وہ صرف منطقی قوت اور دانشورانہ فکر کا مالک  ہی نہیں ہوتا بلکہ  اس کے اندر  اتنی صلاحیت  ہوتی ہے کہ وہ کسی خوابیدہ  احساس کو جگاسکتا ہے او رنیم جان جسم کے اندر اتنی حرکت پیدا کرسکتا ہے کہ وہ خود کے ہونے کا مطلب  سمجھ سکے۔ علامہ اقبال کے نظریہ انسانیت کو سمجھنے  کے لئے ضروری ہے کہ علامہ اقبال کی شعری تخلیقات کے علاوہ جو نثری  کار نامے ( لکچر ز، خطوط، ڈائری کے اوراق اور مضامین)  ہیں ان کا سنجیدگی  سےمطالعہ کیا جائے ۔ انہوں نے تحفظ انسانیت او رعالمی برادری کی فلاح و بہبود  کے لئے صرف شاعری  میں ہی نسخۂ کیمیا پیش نہیں کیا ہےبلکہ نثر میں بھی فکر و احساس کے گوہر آبدار بکھیرے ہیں۔ یہاں ان کی صرف ایک چھوٹی سی نظم ‘‘ فرہان خدا’’ کو ذہن میں رکھئے ۔ انہوں نے سرمایہ  دارانہ نظام کو انسانیت کے لئے قدر مضر قرار دیا ہے۔ کیا یہ نظم آج اپنی معنویت کھو چکی ہے ۔؟ میرے خیال  میں آپ کا جواب نفی میں ہی ہوگا۔ مختصراً کہا جاسکتا ہے کہ علامہ اقبال کا سفر دراصل انسان کے استحصال ، محرومی، کشمکش اور جد وجہد کی تاریخ ہے ۔ کیونکہ انہوں نے محض خیالی اور طلسمی فضامیں  گم ہونے کے بجائے حقیقت  کی دنیا آباد کی اور اس دنیا میں جینے والے انسان کو عظمت آدم کا احساس کرایا ۔ عشق  کے راز سے آشنا کیا، خودی کی روشنی سے دل کی تیرتی مٹائی اور ہر طرح  کی محرومی سےنجات پانے کی راہ دکھا کر مومن کی زندگی جینے کا حوصلہ بخشا۔ اس لئے علامہ  اقبال صرف ایک شاعر ہی نہیں ہیں بلکہ وہ ایک اانقلابی مفکر، سماجی مصلح اور دین الہٰی  کے مبلغ یعنی حقوق انسانیت کے محافظ  ہیں ۔

اب جیسا کہ یہ عقدہ اجاگر ہوچکا ہے کہ اقبال کی فکر و نظر کا سر چشمہ قرآن کریم اور حدیث مبارکہ ہے ۔ بقول پروفیسر حامدی کا شمیری ‘‘ قرآن حکیم ان کے باطن کی عمیق گہرائیوں میں سرایت کر گیا ہے ۔ یہاں تک کہ قاری ہوتے ہوئے بھی وہ خود قرآن بن گئے ۔’’  اور ایک عاشق  اقبال محمد بدیع الزماں  کی نگاہ میں ‘‘ اقبال کا کلام قرآن کی منظوم تفسیر  ہے’’۔ قرآن آخری  کتاب الہٰی  ہے اور اس کا علم تا قیامت دنیا  کی رہنمائی کا سامان فراہم کرتا رہے گا۔ اس لئے خود علامہ اقبال نے اس بات کی  تلقین کی تھی کہ ۔

قرآن میں ہو غوطہ زن اےمرد مسلمان

اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار

اس لئے علامہ اقبال کے فکری  امور کی تفہیم اور تخلیقی  اوصاف  سے واقفیت  کے لئے قرآن کریم کے ازلی اور ابدی پیغامات  اور واقفیت شرط اول ہے۔ ورنہ اقبال کے فکری  تخیلات اور تصورات  تک رسائی ممکن نہیں ۔جیسا کہ علامہ اقبال نے فرمایا ہے

تھا ضبط بہت مشکل اس سیل روانی کا

کہہ ڈالے قلندر نے اسرارِ کتاب آخر

جیسا کہ  میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں  کہ علامہ اقبال کی شاعری  ماضی ، حال اور مستقبل کے متوازن مطالعے  کانام ہے۔ اقبال کی شاعری زندگی کی تا بناکی اور حرکت و عمل کی تفسیر ہے۔ انہوں نے زندگی سےگریز نہیں کیابلکہ زندگی کی مشکلوں پر اپنی شاعری کی بنیاد رکھی ہے۔ ان کی شاعرانہ توجہ کامرکز انسان ہے۔ان کی شاعری میں قنوطیت اور مایوسی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وہ انسان کی کامیابی  اور خاموش شجاعت  کا اظہار باربار کرتے نظر آتےہیں اور انسان دوستی کو اپنی بصیرت و بصارت کے ذریعے فروغ دیتے نظر آتےہیں ۔ انہوں نے انسان کی زندگی کو ایک مکمل اکائی کی صورت میں دیکھا ہے اور اس کا تجزیہ کیا ہے۔ اس لئے ان کی شاعری کو خاص عہد تک محدود نہیں کیا جاسکتا ۔ انقلاب زمانہ کے ساتھ ساتھ  دانشور اقبال کے افکار و نظریات ، انسان کو غیر یقنینیت اور غیر محفوظیت کے احساس سےنجات دلاتےرہیں گے اور ان کی شاعری  کی معنویت ہمیشہ ہمیشہ  برقرار رہے گی۔ آخر میں آپ اہل فکر و نظر حضرات کے سامنے علامہ اقبال کایہ شعر پیش کرنا چاہتا ہوں ۔

حقیقت ابدی سے مقام شبیری

بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

یہ شعر اسلامی تاریخ کی ایک صداقت پر مبنی ہے لیکن جو بات کہی گئی ہے کیا وہ عہد واقعہ کربلا یا پھر صرف مسلمانوں تک محدود ہے۔ آج  دنیا کا نقشہ  اٹھا کر دیکھئے حق و صداقت  کی جنگ نہیں لڑی جارہی ہے۔ اپنی آزادی  اور تحفظ دین و نسل  آدم کے لئے لوگ قربان نہیں ہورہے ہیں اگر حق  و صداقت کے لئے قربانی کا سلسلہ جاری ہے تو دانشور اقبال کی فکرکی معنویت بھی برقرار ہے۔ یا پھر علامہ اقبال کا یہ مشہور شعر

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

خدا بندے سےخود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

کو کسی خاص عہد کے دائرے میں محدود کیا جاسکتاہے۔ میرے خیال میں بدلتے عہد کے ساتھ ساتھ  اس شعر کی معنویت بھی بڑھتی جائے گی۔ شاید اسی سچائی  کو قبول  کرتےہوئے سردار جعفری نےکہا تھاکہ :

 ‘‘ یہ شعر اقبال کی بہت بڑی دین ہے اور بیسویں صدی کے مزاج کا ترجمان ہے’’۔ ( اقبال شناسی ، دیباچہ ۔ ص 19) علامہ اقبال کا سرمایہ فکر کم و بیش بیس ہزار شعر پر مشتمل  ہے اور اشعار کی زیادہ تعداد ایسی ہے جسے کسی خاص عہد کے تناظرمیں ہی نہیں سمجھا جاسکتا۔  سچائی یہ ہے کہ علامہ اقبال کے اشعار معنوی  اعتبار سےاپنے عہد میں جتنے اہم تھے  اتنے ہی آج بھی  ہیں اور آج  سے کہیں زیادہ اہمیت  کے  حامل وہ کل ثابت ہوں گے۔

9 نومبر، 2014  بشکریہ : روز نامہ ہندوستان ایکسپریس، نئی دہلی  

URL:

http://newageislam.com/urdu-section/dr-mushtaq-ahmad/present-age-and-iqbal-s-ideals-and-thoughts--عہد-حاضر-اور-اقبال-کے-افکار-و-نظریات/d/99937

 

Loading..

Loading..