New Age Islam
Tue Mar 05 2024, 07:18 PM

Urdu Section ( 26 March 2010, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Charter Granted by The Messenger of Allah To The Christian Monks رسول ؐ اللہ کی عیسائی راہبوں کیلئے تحریری سند

By Dr Muqtadar Khan

The Muslims and the Christians together form the half of the population of the earth. If the two communities are united in peace, it will mean that the world has completed half the journey towards peace and unity. The first step towards this goal would be adopting a positive attitude towards each other by reliving the positive moments of the past instead of denigrating and abusing each other.

I would like to remind both the Muslims and the Christians of the promises made by the Holy Prophet Hadhrath Muhammad (pbuh) during his life to the Christians of his times.

The knowledge of the Charter can have a revolutionary impact on the attitude of the Muslims towards the Christians. The Muslims, as it is, revere the Holy Prophet and try their best to follow in his footsteps.

In 628 AD, a delegation of the monks of St Catherine had visited Holy Prophet Mohammad (PBUH) and demanded a guarantee for the security and peace for the Christians. In response, the Prophet (pbuh) gave them a Charter (a written undertaking) which is being reproduced below. The monastery of St Catherine is situated at the foot of Mount Sinai of today’s Egypt and is the oldest Christian monastery in the world. It houses such a large archive of Christian religious manuscripts which is probably the second largest after that of Vatican. In addition, St Catherine is a sacred place of pilgrimage for the Christians. This monastery is like a precious wealth for the Christians which is being protected by Muslims for the last 14 centuries.

The Charter granted by the Holy Prophet to the Christians:

“This message is from Muhammad (pbuh), son of Abdullah, which has the status of an undertaking for those who have far and near accepted the religion of Christianity that we are with them. In fact, my sub-ordinates, my associates, my companions (sahabas) and my followers will defend them because the Christians are our citizens, and I swear by Allah that I dislike everything which makes them unhappy.

Let there be no compulsion on them. Neither their judges should be removed from their posts nor should their monks be removed from their places of worship. Let no one destroy their places of worship, let no one harm them and let no one take anything from their places of worship to their own homes. Anyone who does so will violate the covenant of Allah. In fact they (the Christians) are My allies and I make this promise unto them: no one will force them to migrate or fight a battle. The Muslims will fight to protect them. If any Christian woman wants to marry, the marriage cannot be solemnised without her will and consent. Such a woman will not be prevented from going to the church for prayers. The respect of the churches is mandatory. Neither there will be any hindrance in the repairs of the churches nor will their sanctity be destroyed. No member of the ummah (Muslim community) will violate this agreement till the day of resurrection (qayaamat).”

The last sentence of this Charter is very important. It has lent the Charter an eternal and universal significance. The Prophet (pbuh) has impressed upon the fact that the Christians living far and near are His allies which clearly suggests that this Charter is not confined to St Catherine. This also means that the Holy Prophet (pbuh) has ruled out any possibility of these privileges getting annulled in future.

The Prophet of Allah (pbuh) has declared that all the Christians were his allies and ruled any kind of misdemeanour against them defiance against Allah. The unique feature of this undertaking is that the Holy Prophet has imposed no preconditions for it. For them, to enjoy these rights, the only criterion was their being Christians. No changes or alterations in their beliefs were demanded, nor was any jeziya (tax) imposed on them in lieu of those rights, nor were any additional duties imposed on them. That was an undertaking in relation to the rights which entailed no duties.  

This document is not any charter of the modern world. It is an undertaking written in 628 AD that, in very clear terms, guarantees the right to property, the right to religion, the right to livelihood and the right to security to the citizens.

I know that every reader of this charter will ask what we should do then. The answer is very simple. Those who promote hatred between the Muslims and the Christians actually promote differences and disputes. And when we keep the promises made to them( in the charter), we are bridging the gap, building communications.

The Charter inspires the Muslims to rise above communal intolerance and leads the Christians who nurture in their hearts misgivings and ill feeling against the Muslims, towards a better understanding of Islam. When I put my sight on Islamic manuscripts, I realise that they are examples of tolerance and co-operation. I feel as if they expect me to become a better human being. I become convinced that goodness and virtue is a quintessential part of our nature. When we ignore these principles, we undoubtedly negate our existence as human beings.(Translated by Sohail Arshad).

Dr Muqtadar Khan is the Director of Islamic Studies in Delaware University, and a Fellow of the Institute for Social Policy, of the US.


ڈاکٹر مقتدر خان

مسلمان اور عیسائی مل کر دنیا کی نصف آبادی کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر ان دوعظیم فرقوں میں اتحاد کانصف سفر طے کرلیا ہے۔ اس سفر کی طرف پہلا قدم اس طرح اٹھایا جاسکتا ہے کہ دونوں فرقے ایک دوسرے کومطعون کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے بارے میں مثبت رویہ اختیار کریں اور ماضی کی مثبت حقیقتوں کو یاد کریں۔

میں مسلمانوں اورعیساؤں کو اس وعدے کی یاد دلانا چاہتا ہوں جو اللہ کے رسول حصرت احمد مجتبیٰ ،محمد مصطفی ؐ نے اپنی حیات مبارکہ کے دوران اپنے عہدے کے عیسائیوں سے کیا تھا۔ اس وعدہ کا علم عیسائیوں کے ساتھ مسلمانوں کے طرز عمل پر زبردست پیمانہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے ۔مسلمان یوں بھی اپنی زندگی میں رسولؐ اللہ کی پیروی کرنے کو اپنے لئے باعث برکت سمجھتے ہیں اور رسول ؐاللہ کی ایک ایک بات کی دل کی گہرائیوں سے عزت کرتے ہیں۔ مسلمان سنت رسول ؐ کی پیروی کواپنی زندگی کا حاصل اور مقصد سمجھتے ہیں۔

628عیسوی میں سینٹ کیتھرین کے راہبوں کا ایک وفد رسول ؐ اللہ کے پاس آیا اور ان سے عیسائیوں کے لئے امن وسلامتی کی ضمانت مانگی۔ اللہ کے رسول ؐ نے جواب میں انہیں ایک تحریری سند (Charter) پیش کی ۔ جسے میں ذیل میں من وعن پیش کررہاہوں۔ سینٹ کیتھرین کی خانقاہ موجودہ مصر کے جبل سنائی کے قدموں میں واقع ہے اور دنیا کی قدیم ترین عیسائی خانقاہ ہے۔ اس میں عیسائی مذہبی مخطوطات کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے ، جو شاید ویٹیکن کے پاس موجودذخیرہ کے بعد دوسرا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ اس کے سوا سینٹ کیتھرین دنیا بھر کے عیسائیوں کے لئے ایک مقدس زیارت گاہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ یہ خانقاہ عیسائیوں کے لئے ایک ایسے خزانے کی حیثیت رکھتی ہے، جس کی مسلمان چودہ سو سال سے حفاظت کررہے ہیں۔

سینٹ کیتھرین کے راہبوں کی دی جانے والی تحریری سند ’’یہ پیغام ہے محمدؐ ابن عبداللہ کی طرف سے ، جو ایک عہد نامہ کی حیثیت رکھتا ہے،ان کے لئے جنہوں نے نزدیک و دور عیسائیت کوبطور دین اختیار کیا ہے، کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ درحقیقت میرے خدام میرے معاونین ،میرے صحابہ اور میرے مقلدین ان کا دفاع کریں گے، کیونکہ عیسائی ہمارے شہری (رعایا) ہیں اور اللہ مجھے ہر وہ چیزناپسند ہے جو انہیں ناخوش کرے ۔ ان پرکوئی جبر نہ ہو۔ نہ ان کے قضاۃ (Judges) اپنے عہدوں سے ہٹائے جائیں ،نہ ان کی راہبوں کو ان کی عبادت گاہوں سے ہٹا یا جائے ۔کوئی شخص ان کی عبادت گاہوں کو تباہ نہ کرے ، نہ انہیں نقصان پہنچائے ،نہ ان کی عبادت گاہوں سے کوئی چیز اٹھاکر اپنے گھر لے جائے۔ جو ایسا کرے گا وہ اللہ اورف اس کے رسول سے کئے ہوئے عہد کی نافرمانی کرے گا۔ درحقیقت وہ میرے اتحادی ہیں اور جن باتوں سے وہ نفرت کرتے ہیں، ان کی بابت بھی میں انہیں عہد دیتا ہوں ۔ انہیں کوئی نہ ہجرت پر مجبور کرے گا،نہ جنگ کرنے پر ۔مسلمان ان کی حفاظت کے لئے جنگ کریں گے۔ اگر کوئی عیسائی عورت کسی مسلمان سے عقد کرنا چاہے تو یہ عقد اس کی (عورت کی)مرضی اور رضا مندی کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔ایسی عورت کو عبادت کے لئے کلیسا جانے سے نہیں روکاجائے گا۔کلیسا ؤں کی تعظیم لازمی ہے ۔ انہیں نہ ان کی مرمت سے روکا جائے گا ، نہ ان کی تقدیس کو پامال کیا جائے گا۔ امت کو کوئی فرد تاقیامت اس عہد کی نافرمانی نہیں کرے گا۔‘‘

اس تحریری سند کا آخری جملہ بے انتہا اہم ہے۔ اس جملہ نے اس عہد نامہ کو کائناتی اور ابدی حیثیت عطاکردی ہے۔ اللہ کے رسولؐ نے اس بات پرزور دیا ہے کہ نزدیک ودورکے عیسائی ان کے اتحادی ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ تحریری سند صرف سینٹ کیتھرین تک محدود نہیں ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے مستقبل میں بھی ان رعایات کو رد کئے جانے کی کوشش کوبھی خارج از امکان قرار دیا ہے۔ عیسائیوں کے یہ حقوق جزولاینفک اور ابدی حیثیت رکھتے ہیں۔

اللہ کے رسول ؐ نے تمام عیسائیوں کو اپنا اتحادی مانا ہے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی بدسلوکی کو اللہ کی نافرمانی کے برابر قرار دیا ہے۔ اس تحریری سند کی نادر ترین خصوصیت یہ ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے ان رعایات کے لئے عیسائیوں پر کوئی شرط نہیں عائد کی ہے۔ ان رعایات کے لئے صرفر ان کاعیسائی ہونا کافی سمجھا گیا۔ ان سے ان کے اعتقاد ات میں کسی ردبدل کا مطالبہ نہیں کیا گیا، ان سے ان رعایات کے عوض کوئی جزیہ طلب نہیں کیا گیا اور ان پر کوئی فاضل فرائض بھی نہیں عائد کئے گئے۔ یہ ان حقوق کے لئے عہد نامہ تھا، جن کے ساتھ فرائض منسلک نہیں تھے۔

یہ سند آج کے زمانے کا انسانیت کا کوئی چار ٹر نہیں ہے، 628عیسوی میں لکھی جانے والی تحریر ہے، جو واضح طور پر حق جائداد ،مذہبی آزادی ، کاروبار کرنے کی آزادی اور ہر شہر ی کی حفاظت کی عظیم ترین ضمانت ہے۔ میں جانتا ہوں کہ اس سند کو پڑھنے والا ہر فرد یہ پوچھے گا کہ پھر ہم کیاکرنا چاہئے؟ جواب بہت آسان ہے۔ وہ لوگ جو مسلمانووں اور عیسائیوں کے درمیان منافرت پیدا کرتے ہیں ، وہ تنازعات اور تفرقات کو بڑھا وا دیتے ہیں ،لیکن جب ان وعدوں کو پورا کیا جائے گا، تو اس کا مطلب ہوگا کہ دونوں کے بیچ رابطوں کے پل بنائے جارہے ہیں۔

یہ تحریری سند مسلمانوں کو فرقہ وارانہ عدم رواداری سے اوپر اٹھنے کی تحریک عطا کرتی ہے اور ان عیسائیوں کو راہ راست دکھاتی ہے، جن کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض وعداوت کا جذبہ موجزن ہے۔ میں جب اسلامی مخطوطات پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ یہ رواداری اور تعاون کی نادر ترین مثالیں ہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ مثالیں مجھ سے بہتر انسان بننے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ نیکی اور اچھائی ہماری سرشت میں پوشیدہ ہے ۔ جب ہم ان مثالوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو بلاشبہ ہم اپنے اندر موجود جذبۂ انسانیت کی نفی کرتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ان مثالوں کے تحت ہم اپنے اندر دوسروں کی تاریخ اور ثقافت کے لئے احترام کا جذبہ پیداکریں گے۔ یہی اللہ کے رسولؐ کا پیغام ہے۔

نوٹ: ڈاکٹر مقتدر خان ڈیلاویئر یونیورسٹی ،امریکہ میں اسلامک اسٹڈیز کے ڈائرکٹر اور انسٹی ٹیوٹ فارسوشل پالیسی کے فیلو ہیں۔

URL for this article: