New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 12:25 AM

Urdu Section ( 4 Jan 2017, NewAgeIslam.Com)

Muslims Need To Introspect Abandoning Thier Negative Mindset مسلمانوں کو منفی ذہنیت ترک کر کے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت





 ڈاکٹر محمد منظور عالم

4 جنوری ، 2017

گزشتہ کئی دہائی سے دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص عالم اسلام میں جس طرح افتراق و تفریق ،بے چینی اور عدم اطمینان کی کیفیت پائی جارہی ہے اس نے ان ملکوں کا سکون اور امن و امان غارت کر رکھا ہے جس کی وجہ سے مسلم ممالک آپس میں بر سر پیکار ہیں اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں،ظلم و ستم کررہے ہیں او ریہ سب کچھ ایک اللہ ایک قرآن کے حاملین کے ذریعہ انجام دیا جارہا ہے جس کی وہ رات دن دہائی دیتےہیں ۔ یہ صورتحال جہاں دہشت گرد تنظیموں کے ذریعہ دیکھنے کو مل رہی ہے جن کی سفا کی اور سنگدلی نے مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ معصوموں کو نشانہ بنانا اور بے قصوروں کو جہاد کے نام پر موت کے گھاٹ اتار کر اپنے گھناؤنے فعل کو حق بجانب ثابت کرنا۔ اسی کے ساتھ خود عام مسلم گروہوں میں بھی اس قسم کے مناظر دکھائی پڑتے ہیں جہاں بر تری اور غلبہ کی خواہش نے معاشرے کو بری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے ۔ خو دکو بر تر اور اعلیٰ بتانے کے تصور نے دوسرے کو حقیر اور کمتر بنا دیا ہے ۔ اس کی وجہ سے دنیا میں ہماری پہچان ایک لڑاکو اور خونخوار قوم کے طور پر کی جارہی ہے ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ پہچان کا یہ سایہ مضبوط اور قوی ہوتا جارہا ہے ۔ بات چاہے مسجد میں بم دھماکے کی ہو یا یورپ کے کسی بازار میں بے گناہ او رنہتے لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ہو۔ ہر جگہ مسلم نام نمایاں طور پر دکھائی پڑتا ہے ۔ یہ بات مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں بلکہ اقلیت میں ہیں وہاں بھی ان میں اتحاد نہیں پایا جارہا ہے۔ایک دوسرے کو کافر او ربھٹکا ہوا بتانے سے کسی کو پر ہیز نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے عام مسلمانوں میں اتفاق کے بجائے اختلافات کا عنصر زیادہ دکھائی پڑتا ہے ۔ ایک فریق دوسرے فریق کو طنز و تشنیع کانشانہ بناتا ہے اور ایسا وہ حق سمجھ کر کرتا ہے جس سے قدم پیچھے ہٹانا اس کے لیے یقین و ایمان کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔ مذہب کےنام پر جس طرح تشدد پروان چڑھ رہا ہے وہ اپنے آپ میں ایک بڑا سنگین اور نازک مسئلہ ہے۔

اس تناظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ مسلمانوں میں جس قسم کا باہمی انتشار پایا جاتاہے اس کی نوعیت کیا ہے؟ کیا وہ فروعی مسائل ہیں یا پھر فقہ ہیں آراء کو لیکر ہے یا پھر بنیادی مسائل میں اختلاف ہے جس کی وجہ سے ایک فریق دوسرے فریق کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے اور کفر کا فتویٰ لگانے میں دیر نہیں کرتا ہے۔ یہ صورتحال محض ایک دو دن کی پیداوار نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں کا سفر ہے جس نے مسلمانوں کے ذہنوں کو پوری طرح زہر آلودکردیا ہے اور وہ اس مخصوص ذہن سےباہر نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں اس سے مسلمانوں کی جو تصویر اقوام عالم میں بنی ہے وہ نہایت خونخوار اور ڈراونی ہے۔ اسے یہ کہہ کر مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ تو اغیار کی سازش کانتیجہ ہے بلکہ خود اس میں ہمارا بھی رول ہے جس پرغور کرنے کی ضرورت ہے۔ اختلاف نہ تو کوئی نئی بات ہے او رنہ ہی یہ غیر مطلوب بلکہ علماء کرام کے اختلاف کوباعث رحمت بتایا گیا ہے۔ خود فقہاء میں کسی ایشو کو لیکر آراء کا اختلاف رہا ہے لیکن اس سے نہ تو ان کی عظمت او رکردار پر کوئی حرف آیا او رنہ ہی اس بنیاد پر کسی نےانہیں لعن تعن کیا بلکہ اختلاف کرنے والوں نےاپنے عمل اور کردار سے جو ثبوت دیا وہ رواداری ،قوت برداشت اور احترام کا جیتا جاگتا نمونہ ہے جو ہم سب کے لیے بہتر ین مثال ہے۔ اس کے باوجود ان کی آراء کو لے کر ہم آپس میں اس قدر متشدد ہیں کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے سےبھی بازنہیں آرہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ اپنے بزرگوں کی تعلیمات کے برعکس ہمارا یہ رویہ کیونکر ہے؟

ایک بات اکثر دیکھی گئی ہے کہ لوگ فقہی مسائل کےسلسلےمیں براہ راست علماء سے رجوع کرنےکےبجائے سڑکوں پر اس مسئلہ کو موضوع گفتگو بناتے ہیں او رہر کوئی اپنی سمجھ کے اعتبار سے اس میں حصہ لیتا ہے اور صحیح غلط کی تمیز کرتا ہے۔اس کا یہ انداز دراصل اپنے قائدین کی اس سوچ کے مطابق ہوتا ہے جس سے حوصلہ پاکر وہ اسے عوامی بنادیتے ہیں ۔ بحث و مباحثہ کی تکرار اور اعلیٰ وار فع کی خواہش کسی کوبھی پیچھے ہٹنے نہیں دیتی ہے جس کی وجہ سے دونوں فریق کسی ایک مسئلہ پر آمنے سامنے آجاتے ہیں او رائمہ کی قوت برداشت کی روایت کے عکس آپس میں ہی الجھ جاتےہیں ۔نماز اسلام کا ایک اہم رکن ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسےاپنی آنکھوں کی ٹھنڈک بتایا ہے او رنماز ہی مسلم اور غیر مسلم میں تمیز کرتی ہے اس کےباوجود کچھ لوگ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھتے ہیں تو کچھ ہاتھ کھول کر ، تو کچھ سینے پر ہاتھ باندھ کر اس کی ادائیگی کرتےہیں ۔ اس کےباوجود سب کی نماز صحیح ہے اور ہر کوئی اپنے ائمہ کے مطابق پیروی کرتا ہے ۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ جو لوگ ہاتھ نہیں باندھتے یا سینے پر ہاتھ باندھتے ہیں ان کی نمازنہیں ہوتی ، بلکہ سب کا اجماع ہے کہ نماز ہوگی ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا اتنی پسند تھی کہ انہوں نے اپنی زندگی میں جس طرح بھی نماز پڑھی اللہ تعالیٰ نے اسے ائمہ کےذریعہ تا قیامت محفوظ کردیا ۔ جس پر عمل کرنا عین سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔

مسلمانوں میں 72 فرقوں کی بات کہی جاتی ہے او ربتایا جاتا ہے کہ ایک فرقہ بر حق ہے باقی سب ناحق ہے۔ اس بحث سے قطع نظر کہ کون سا فرقہ جنت میں جائے گا کیونکہ اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کرے گا لیکن بحیثیت داعی امت کے ہمارا نظر یہ کیا ہونا چاہئے او راس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات کیا ہے۔ کیا ہم ان دیگر فرقوں سے ایشوز کو لے کر نبردآزما ہوجائیں اور ساری قوت اس بات پر صرف کردیں کہ ہم حق پر ہیں اور دوسرا حق پر نہیں ہے۔ ظاہر سی بات ہےکہ یہ اسلامی تعلیمات اور انسانی سوچ کے خلاف ہے ۔ کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہی ہوگا جو ان دنوں پوری دنیا میں مسلمانوں کے درمیان دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن اگر اس کےبر خلاف ہم دوسرے فریق کے تئیں قوت برداست رواداری کا مظاہرہ کرتےہوئے اسےبھی عزت واحترام دیں تو اس بات سے انکار نہیں کہ ان کے دلوں کو جیتا جاسکتا ہے اور بر سر پیکار ہونےکی جو کیفیت ہے وہ ختم ہوسکے۔ یہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مثال دینا غلط  نہ ہوگا جب اللہ تعالیٰ نے فرعون وقت کے پاس بھیجا کہ جاؤ اس کو نصیحت کرو شاید کہ وہ سدھر جائے۔اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے اسے فرعون کا رویہ معلوم تھا اس کےباوجود اس نے اپنے پیغمبر کو نصیحت کی کہ نرمی سےبات کرنا شاید وہ سدھر جائے ۔ اللہ تعالیٰ کی اپنےنبی کو یہ ہدایت کیا ہمارے لیے یہ پیغام نہیں ہے کہ ہم اپنی بات کو پیار، نرمی اور محبت سے پیش کریں اور دوسرے کو حقیر و کمتر نہ سمجھیں بلکہ اسےبھی وہی عزت و احترام دیں جس کا وہ حقدار ہے ۔ یہ ایک ایساہتھیار ہے جو بغیر کسی بجٹ کے کام کرتا ہے اوراپنے اثرات کے لحاظ سے بہت پائیدار ہوتا ہے۔ جس پر عمل کرکے ہر کوئی مشاہدہ کرسکتا ہے، شرط صرف امرسلیقہ میں ہے۔

دنیاکےبدلتےہوئےتناظر میں جہاں علما کو وقت کے چیلنجر ، زمانے کےتغیرات ، اندورنی کمزوری اور مضبوطی ،اغیار کے طریقہ کار اور سازشوں کو سمجھنے ان کی حکمت عملی پر غور کرنے، بہتر طریقہ ٔ کار اختیار کرنےکے راستے ہموار کرنےکی ضرورت ہے وہیں دانشوروں کوبھی گہرا ئی سے سوشل اور سائیکالوجیکل پہلو کو سمجھنے ، مسلمانوں کے انتشار کی فطرت کوسمجھنے اور حالات کے مطابق بہتر حکمت عملی بنانے ، علماء اور دانشوروں میں اچھے تال میل کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ اسی کےساتھ آج کے نوجوان خواہ دینی علوم سےمنور ہورہے ہوں یا عصری علوم سے مستفید ہورہے ہوں، انہیں ان چیلنجز کو علم، سمجھ ، فہم، حالت کی نزاکت، مختلف ادیان کی فطرت ، اغیار کی حکمت عملی کو سمجھنے، اسلامی جذبہ کو بیدار کرنے اور جذباتیت سے بچتے ہوئے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ آج کا صغار کل کا غبار ہے ۔

4 جنوری، 2017 بشکریہ : روزنامہ جدید خبر ، نئی دہلی

URL:

http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-mohammad-manzoor-alam/muslims-need-to-introspect-abandoning-thier-negative-mindset-مسلمانوں-کو-منفی-ذہنیت-ترک-کر-کے-اپنا-محاسبہ-کرنے-کی-ضرورت/d/109601

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..