New Age Islam
Wed Dec 08 2021, 08:51 PM

Urdu Section ( 11 Nov 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Maulana Abul Kalam Azad مولانا ابولکلام آزادکی شخصیت کسب فیض کا منبع

ڈاکٹر کلیم اللہ

11 نومبر 2020

تاریخ کی اوراق گردانی سے معلوم ہوتاہے کہ ملک کے کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ میں حروف زریں سے لکھے جاتے ہیں۔ ہندوستان کی جدو جہد آزادی کا دور اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس دور میں ہندوستان کے سیاسی افق پر ایسے ایسے ستارے نمودار ہوئے جن کی ضیا پاشی آج بھی فیض کا منبع ہے۔

مولانا ابولکلام آزاد ان ہی  روشن ستاروں میں سے ایک تھے جن کی شخصیت خواہ مذہبی ہو یا ادبی، سیاسی ہو یا سماجی ہر میدان میں انمٹ چھاپ چھوڑ گئی ہے ۔ آزاد۱۸۸۸ء میں مولانا خیر الدین کے گھر عالیہ کے بطن سے پیدا ہوئے جو اپنے عہد کے مشہور و معروف عالم دین، مبلغ ، مفکر ،مقرر، مفسر اور پیرو مرشد تھے۔ ان کا دائرہ اثر برصغیر کی سرحدوں تک محدود نہ رہ کر جزیرۃ العرب تک بسیط تھا۔ ان کا علمی وقار، دینی فضیلت اور اصلاحی تفکر بے مثل تھی۔ ان کے مریدوں کی تعداد ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں تھی لہٰذا مولانا آزاد کو مداحوں اور ثنا خواہوں کا ایک وسیع طبقہِ ارض موروثہ کے طور پر ملا جس کیلئے  اس وقت کے ابنائے علما ہی نہیں بلکہ آج کے بھی متمنی ہیں۔ ان کے والد محترم انھیں اپنے سانچے میں ہی ڈھالنا چاہتے تھے کیوں کہ ان کی نظر میں اُسی دینی علم واحد کے ذریعے اُخروی اور دینوی کامیابیوں سے ہم کنار ہوا جا سکتا ہے۔ لہٰذا آزاد کو عربی اور فارسی کی تعلیم دلوائی گئی اور انگریزی تعلیم جو۱۸۳۷ءکے فرمانِ حکومت کے بعد فارسی کے بجائے سکہ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کر رہی تھی، سے انھیں دور رکھا گیا۔ وجہ ان کے والد کی انگریزی قوم اور اس کی زبان سے جگ ظاہر دشمنی تھی کیو ں کہ۱۸۵۷ءکے غدر یا ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی میں انگریزوں کے ہاتھوں انھیں زک اٹھانی پڑی تھی۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فطرت مولانا آزاد کے معاملے میں بڑی فیاض تھی۔ ان کی طبیعت میں جو فطری صلاحیتیں ودیعت کی گئی تھی ان کا نمودان کے زمانہ طالب علمی سے ہی ہونے لگا۔موروثی عقائد کے جمود اور تقلیدی ایمان کی پابندیاں انھیں راس نہ آئیں بلکہ انھوں نے اپنی ڈگر کا انتخاب از خود کیا جو عام ر وش سے ذرا ہٹ کے تھی۔ بقول آزاد’ جو عقیدہ کھویا تھا وہ تقلیدی تھا اور جو عقیدہ اب پایا وہ تحقیقی تھا‘۔ آزاد ۱۵؍برس کی عمر میں درس نظامی جو اس دور کا تعلیمی نصاب تھا، سے فارغ ہو گئے اور اس کے بعد خود سے تعلیم و تعلم کے سلسلے کو جاری رکھا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ان کے اندر بے پناہ استعداد پوشیدہ تھی لہٰذا ان کا ظہور جستہ جستہ ہونے لگا۔ ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کی ادارت، ’ترجمان القرآن‘، ’تذکرہ‘ اور ’غبار خاطر‘ کی اشاعت ان کے مختلف النوع ذہن کی غمازہیں۔یوںتو افتاد طبع کے اعتبار سے وہ گوشہ نشیں طبیعت کے حامل تھے تاہم عالمی اور ملکی سیاست، مذہبی اور ثقافتی منظر نامے سے خود کو باخبر رکھتے تھے۔ ان حالات سے خود کو الگ کرنا ان کے فطری مزاج کے خلاف تھا۔ لہٰذا انھوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے جہاں ایک طرف بالخصوص مسلم عوام کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کی کوشش کی وہیں دوسری طرف اسلام کی صحیح روح کو ان میں منتقل کرنے کی سعی بھی کی۔ مسلم قوم کو امت واحدہ سے متعارف کرانے اور اس کا جز ولا ینفک بننے کی پر زور وکالت کی۔عالم اسلام کے ُاس وقت کے منظر نامے کو عوام کے سامنے پیش کیا تاکہ یہاں کے عوام اس سے واقف ہوکر اس کے احیاء کے لیے جدوجہد کر سکیں۔ درحقیقت عملی طور پر از خود وہ اس کے لیے کچھ کر سکے نہ ہی مسلم قوم۔ اِس کے برعکس انھوں نے خود کو ملکی سیاست میں جھونک دیا اور سرسید احمد خاں کی انگریزوں سے مفاہمت کی روش کے برعکس انگریزی نظام حکومت سے آزادی کے لیے جدو جہد کرنے لگے۔یہ تاریخ کا وہ دور تھا جب مسلم خواص سرسید کے زیر اثر ملک کی سیاسی جدو جہد سے گریزاں اور انگریزی نظام کے حامل نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی اس روش کو آزاد نے اپنی تحریروں، تقریروں اور عملی تگ و دو سے شدید مخالفت کی اور یہاں تک کہہ گئے کہ ملک کو غلامی سے آزاد کرانا مسلمانوں کا سیاسی ہی نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ بھی ہے۔ مولانا کی اس آواز پر بہت سے مسلمانوں نے لبیک کہا اور وہ انڈین نیشنل کانگریس کے کارکنان کی حیثیت سے دوسرے فرقوں کے ساتھ شانہ بشانہ جدو جہد کرنے لگے۔

مولانا ابولکلام آزاد کی جہدِ مسلسل اور خود سپردگی کے باعث۱۹۲۳ء میں انھیں محض ۳۵؍برس کی عمر میں انڈین نیشنل کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا۔ ان کی شب و روزیہ کوشش تھی کہ غیر مسلمانوں کو مسلمانوں کے تئیں ہمدردانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے اور ان کا دل جیتنے کے لیے ہر نوع کا جتن بھی۔ ان کی یہ امید بر آئی۔ اب ہندو قائدین مسلمانوں کے تئیں نرم دل ہوئے اور بنگال کے صف اول کے قائد سی آر داس نے مسلمانوں کو سرکاری ملازمت میں ۵۰؍ فیصد تک کا ریزرویشن دینے کی وکالت کی تاکہ وہ دوسری قوموں کے برابر آسکیں۔آزاد کی جاذب شخصیت، علمی تبحر اور عملی اقدامات کے سبب علما حضرات بھی کانگریس میں شامل ہونے لگے جو اس سے قبل شش و پنج کا شکار تھے۔ ان حضرات نے مولانا آزاد کے ملکی و حدت کے نظریہ کی دلائل و براہین سے پر زور تبلیغ کی جس کے سبب دوقومی نظریے کو دھچکا لگا۔۱۹۳۷ءکا الیکشن ملک کی تاریخ میں کلیدی کردار کا حامل تھا کیوں کہ اس کے نتیجے میں ۷؍ ریاستوں میں کانگریسی حکومت کی تشکیل عمل میں آئی جب کہ مسلم لیگ کو ملکی سطح پر زک اٹھانی پڑی۔ اسلام کے نام پر مسلم ملک کے تصور کو وہ پذیرائی حاصل نہ ہوئی جس کی مسلم قیادت جذبات کے نام پر متمنی تھی۔کانگریسی حکومتوں کے کچھ اقدامات بشمول زمیندارانہ نظام کا خاتمہ نے مسلم خواص کے اندرشک و شبہات پیدا کئے جس کی مسلم لیگی قیادت نے نمک مرچ لگا کر خوب تشہیر کی۔ مسلم عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ کانگریسی نظام حکومت میںآپ کا اسلامی وتہذیبی تشخص خطرے میں ہے جس سے ان کے جذبات میں اشتعال پیدا ہوا۔ پھر کیا تھا عوام کے رخ کو دیکھ کر مسلم قیادت کو اپنی احیاء کا موقع ہاتھ آیا اور انھوں نے از سر نو وہی پرانے راگ الاپنے لگے جو عوام کے عقل و شعور کے بجائے وقتی جذبات کو مشتعل کرتے ہیں یعنی نظام مصطفوی کی تشکیل۔ خلافت راشدہ کے احیا کی باز گشت ملک کے طول و عرض میں مسلم قائدین اور ان کے ہم نوا علمائے کرام کی زبانی سنائی دینے لگی۔ کسی اللہ کے بندے نے عوام کو اس وقت یہ گوش گزار نہیں کیا کہ اس نظام کی تشکیل کے لیے جن لاہوتی صفات کے حامل افراد کی ضرورت ہے وہ کون ہیں؟ کیا محمد علی جناح جو لیاقت علی کے اصرار پر لندن سے ہندوستان آکر پھر مسلم عوام کی قیادت کے لیے تیار ہوئے،ان اوصاف حمیدہ سے متصف تھے جو نظام محمدی کے لیے لازم و ملزوم ہیں تو اس کا جواب یکسرنہ میں ہے۔ یہی نہیں اس قیادت کے دوسرے قائدین کا بھی کم و بیش یہی حال تھا۔ مولانا آزاد ہندوستانی عوام بالخصوص مسلمانوں کو اِس سے انتباہ کرتے رہے لیکن ان کی آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی۔نتیجتاًمسلم عوام بھیڑ کے مانند مسلم لیگی قائدین کی راہ پر چلنے لگی۔۱۹۴۰ءمیں جب لاہور کے سیشن میں مسلم لیگ نے باقاعدہ پاکستان علاحدہ ملک کا اعلان کیا تو آزاد اور ان کی ہم جماعت نے اس کی پرزور مخالفت کی کیوں کہ ان کی نظرمیں ملک کی تقسیم حیات معنوی کے لیے مرض الموت کے مانند تھی، جو۱۹۴۷ءمیں ملک کی تقسیم کے بعد سچ ثابت ہوا۔ یہ شخص جو ذاتی مفاد سے بے نیاز ہوکر اپنے قول و فعل سے قوم کو قوت اور وحدت بخشنے کی کوشش کی اسے لعن و طعن سے نوازا گیا۔ اسے کانگریس کا’شو بوائے‘تک کہا گیا۔ مولانا نے قوم کے اس بے حس رویے پر خون کے آنسو بہائے۔ ایسے پیغمبری وقت میں جہاں قوم میں وحدت کی ضرورت تھی، وہاں انتشار ہی انتشار نظر آتا ہے۔ دو قومی نظریہ کی تشکیل اور ان کی تبلیغ و اشاعت بر صغیر کے مسلم عوام کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ مولانا آزاد صبح آزادی کے نتیجے میں جو قیامت صغرا برپا ہوئی اس سے بے حد پثر مردہ نظر آتے ہیں اور اجتماعی زندگی سے بیزار تاہم ضرورت وقت کے تحت خلجانی حالات کو معمول پر لانے کی تگ و دو کرتے ہیں۔ شکست خوردہ عوا م کی چیخ و پکار جب آسمانوں میں گونج رہی تھی اور ہندوستان کی سر زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی تھی تو انھوں نے ۲۴؍اکتوبر۱۹۴۷ءکو جامع مسجد دہلی کے پاک صحن سے دل گیر آواز میں قوم سے پھر خطاب کیا جن کے ماضی کے کارناموںسے از حد نالاں تھے۔ انھیں ان کے ماضی کی تابندہ تاریخ کی یاد دلاتے ہوئے موجودہ منظر نامہ سے نا امید نہ ہونے کی تلقین کی۔ اس تقریر کا سامعین کے دل و دماغ پر جو اثر ہوا وہ جگ ظاہر ہے۔ قوم کی اضمحلالی کیفیت میں اطمینان آیا، قنوطیت کی جگہ رجائیت نے لی، اور تاریکیِ حال میں روشن مستقبل کی امید نظر آئی۔

گویا اس مرد مجاہد کی شخصیت جو علمی تفضل،سیاسی بصیرت اور مستقبل شناسی کا پیکر تھی، آج بھی مینارہ نور ہے جس کی روشنی سے عموماً عوام الناس اور خصوصاً قوم و ملت کے قائدین تمنائی کو کسب فیض کرنا چاہیے۔

drkalimullah3@gmail.com

11 نومبر 2020،بشکریہ:انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/maulana-abul-kalam-azad-/d/123445


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..