New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 02:56 AM

Urdu Section ( 21 Nov 2019, NewAgeIslam.Com)

How to Love with Minorities or Majority: Learn from Sirah اقلیت یا اکثریت میں کس طرح رہیں؟ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھئے


ڈاکٹرجہاں گیر حسن مصباحی

8نومبر،2019

آج ہم جس ملک،معاشرہ اور ماحول میں جی رہے ہیں، اگر اس تعلق سے غور کریں تو واضح طور پر یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ دنیا میں ہم دو حیثیتوں سے اپنی زندگی بسر کررہے ہیں، ایک اقلیتی حیثیت سے، اور دوسری اکثریتی حیثیت سے۔ جہاں ہم اقلیت میں ہیں وہاں ہر طرح کی آزادی حاصل ہونے کے باوجود بہت سے معاملات میں ہمیں محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہی مصلحت اوروقت کا تقاضا ہے، جبکہ ان ملکوں میں جہاں ہم اکثریت میں ہیں، انصاف، غیر جانبداری او رمحبت و اخوت کوفروغ دیناانتہائی ضروری ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ جہاں ہم اقلیت میں ہیں وہاں اکثریتی اندازمیں جینا چاہتے ہیں، یا اپنی نا سمجھی،بے صبری اور پریشان حالی کی بنا پر سخت اضطراب میں ہیں۔ اس کے باوجودہم اس پہلو پر غور و فکر کرنے کیلئے تیار نہیں کہ اقلیت میں ہونے پر زندگی گزارنے کے تعلق سے پیغمبراسلام نے کیا رہنمائی فرمائی ہے؟ اس کے برخلاف جہاں ہم اکثریت میں ہیں وہاں اپنی آمرانہ قوت کے گھمنڈ میں چور ہونے کی وجہ سے مشکل میں ہیں، اوریہ معلوم کرنے کے لئے تیار نہیں کہ اکثریت میں ہونے پر پیغمبراسلام نے کس انداز اورطرز سے زندگی بسرفرمائی ہے؟

ہم چاہے ا قلیت میں ہویا اکثریت میں، عالمی سطح پر اپنی پہچان کھوتے جارہے ہیں۔ حالانکہ اس سلسلے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہماری کامل رہنمائی کرتی ہے، یعنی جہاں ہم اقلیت میں ہیں وہاں مکی سیرت ہمارے لئے بہترین رہنما کی حیثیت رکھتی ہے او رجہاں اکثریت میں ہیں وہاں مدنی سیرت ہمارے لئے عمدہ رہبر کی حیثیت رکھتی ہے۔

جس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نبوت کااعلان فرمایا اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اقلیت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ جانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دین اسلام دیا گیا ہے وہ اپنی صداقت او ربرحق ہونے کے اعتبار سے تمام مذاہب پر فوقیت رکھتا ہے، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت خاموشی سے اسلام کو آگے بڑھا یا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے ان افراد تک اسلام کو پہنچا یا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے زیادہ قریبی تھے۔ پھر جیسے جیسے موقع ملتا گیا دین اسلام کو عام کرتے گئے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی قبول اسلام کے لئے جبرو تشدد، یا زبردستی کی راہ اختیار نہیں فرمائی اور اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو ہمیشہ سامنے رکھا کہ دین اسلام میں کوئی جبرنہیں۔ (بقرہ:256) بلکہ جب بھی کسی سے دین اسلام کی کوئی بات کہی، تو بڑی نرمی اورپیار و محبت بھر ے اندازمیں کہی اور اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو برابر سامنے رکھا کہ لوگوں کو حسن تدبیر اور حسن کلام سے اپنے رب کی طرف بلاؤ اور ان سے بحث بھی کرو توبہتر انداز سے (نحل:125)

چنانچہ اگر سامنے والا مان جاتاتو ٹھیک، اور اگر کوئی بدسلوکی کرتا، تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ عظیم حسن اخلاق کا مظاہرہ فرماتے۔حالانکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہتے تو کفار ومشرکین کے خلاف محاذ کھول سکتے تھے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس قبیلہ اورجس خاندان سے تعلق رکھتے تھے وہ مکہ میں نہایت ہی اعلیٰ و اشرف قبیلہ اوربہادر خاندان تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تو صرف اس لئے کہ ایسا کرنا دعوتی اعتبار سے بہترنہ تھا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اقلیت کی حالت میں جینے کے لئے ایسے انمول نقوش چھوڑے ہیں جنہیں اپنا کر ہم آج بھی ایک مثالی زندگی گزار سکتے ہیں جو پوری انسانی برادری کیلئے مفید تر ہیں او رکسی بھی طرح کے تشدد بھرے ماحول میں بھی امن و امان قائم رکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اقلیتی حیثیت سے زندگی بسر کرلی تو ایک دن وہ بھی آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت مدینہ کا حکم دیا گیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثریتی ماحول میں اپنی زندگی کاآغاز فرمایا۔ مہاجرین وانصار جوایک دوسرے کے لئے بالکل نئے اور اجنبی تھے، ان کے درمیان مواخات کا رشتہ قائم کیا۔ یہ بظاہر مہاجرین و انصار کے درمیان ایک اخوت کا رشتہ تھا مگر حقیقت میں یہ پیغام پوری انسانی برادری کے لئے تھا، لیکن ہم نے اس سبق کوبھی یکسر فراموش کردیا ہے۔

اس کے بعد میثاق مدینہ کا واقعہ پیش آیا جس میں تین جماعتوں کے درمیان آپسی عہد وپیمان کیا گیا کہ مسلمان،کفار و مشرکین او ریہود سیاسی و سماجی اعتبار سے ایک دوسرے کے معاون ومددگار او رمحافظ ہوں گے۔ اس وقت پیغمبراسلام مدینے میں تھے او رمکہ کے برعکس اکثریت میں بھی تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تو اقلیتی طبقات پر اپنا دین مسلط کر سکتے تھے،مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقہ پسند نہ فرمایا اور اکثریت میں ہونے کے باوجوداقلیتی طبقہ سے معاہدہ کیا او رنہ صرف اہل مدینہ او راس کے باشندوں کے لئے پر سکون ماحول اور ترقی کی راہیں ہموار کیں بلکہ کفار و مشرکین کو بھی سیاسی و معاشرتی تحفظ فراہم کیا او راپنے بہترین نظام حکمرانی سے پوری انسانی برادری کے لئے قابل رشک نمونہ پیش فرمایا۔ اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر باوجود کہ پیغمبر اسلام اکثریت میں تھے، پھر بھی صلح کی راہ اختیار فرمائی، اور وہ بھی یکطرفہ شرائط پر، محض اس لئے کہ کچھ برسوں تک ہی سہی امن و امان توقائم ہوگا۔

فتح مکہ کے موقع پر جب مکہ کا ہر فرد پیغمبر اسلام کے قبضے میں تھا، اس وقت ہوناتو یہ چاہئے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں فاتحانہ اور حاکمانہ شان سے داخل ہوتے لیکن اس کے برخلاف آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں انتہائی عجزو انکساری کے ساتھ داخل ہوئے۔ انکساری کا یہ حال تھا کہ فاتح ہونے کے باوجودآپ صلی اللہ علیہ وسلم کاسرجھکا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی جس قصوا نامی اونٹنی پر سوار تھے اس کے اگلے حصے سے لگ رہی تھی۔ مشرکین مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے ساتھ جو رویہ اپنا رکھا تھا اس کا بدلہ گن گن کر لیا جاسکتا تھا مگرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا، بلکہ آپ اپنے اور اپنے اصحاب کے جانی دشمنوں سے انتقام لینے کے بجائے ان کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اور انسانیت کی بقا وتحفظ کو یقینی بناتے ہوئے یہ فرمایا کہ آ ج تم سے کوئی مواخذہ نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے کہ وہی معاف فرمانے والا ہے، جاؤ! آج کے دن تم سب آزاد ہو۔ (زرقانی علی المواہب)

ایک دن وہ تاریخی موقع بھی آیا جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر طرح کی غیر انسانی حرکتوں پر پابندی عائدفرمادی، اور ایک ایسا نظام قائم کیا کہ جس اقلیت واکثریت کے درمیان احساس برتری کے نشان ہی کو مٹا ڈالا کہ اب نہ کوئی عربی رہا نہ کوئی عجمی او رنہ کوئی سفید رہا نہ سیاہ، بلکہ سب کے سب انسانیت کے ایک اٹوٹ دھاگے میں بندھ گئے۔

ہمارے خیال میں مواخات مدینہ، میثاق مدینہ، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے مواقع پر پیغمبر اسلام نے انسانیت کی بقا و تحفظ میں جو بنیادی کردار ادا کیا، دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے نہ صرف عاجزو بے بس ہے، بلکہ اس کا احسان، انسانیت کبھی نہیں چکاسکتی۔ غرض کہ ہم چاہے اقلیت میں رہیں یا اکثریت میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں بطور خاص سبق لینے کی ضرورت ہے۔

8نومبر،2019، بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی       

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-jahangir-hassan-misbahi/how-to-love-with-minorities-or-majority--learn-from-sirah--اقلیت-یا-اکثریت-میں-کس-طرح-رہیں؟-سیرت-نبوی-صلی-اللہ-علیہ-وسلم-سے-سمجھئے/d/120329

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..