New Age Islam
Mon Sep 21 2020, 02:24 AM

Urdu Section ( 11 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

Our Obligations to the Holy Quran قرآن کریم کے تئیں ہماری ذمہ داریاں

 

ڈاکٹر اسرار احمد

12اگست 2016

دنیا بھر میں امت مسلمہ کی یہ قابل رحم اور تباہ کن صورت حالت قرآن کریم کی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہے۔مسلسل بے حسی کا ہمارا یہ رویہ اور ہماری منافقانہ فطرت اللہ کی آیتوں کے ساتھ تضحیک کے مترادف ہے۔ اس کے بجائے ہمیں واضح طور پر قرآن مجید کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کوسمجھنا اور ان کو پورا کرنے کی اپنی پوری کوشش کرنی چاہئے۔جب تک ہم قرآن کریم کی تمام ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتے تب تک ہم نہ تو اپنے دنیاوی معاملات میں کسی بھی بہتری کی توقع کر سکتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں نجات کی امیدکر سکتے ہیں۔

قرآن ہر مسلمان سے جن پانچ چیزوں کامطالبہ کرتا ہے وہ درج ذیل ہیں: (1)ایک مسلمان کو قرآن پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔ (2) اسے اس کی تلاوت کرنا ضروری ہے۔ (3) اسے اس کو سمجھنا کرنا ضروری ہے۔ (4) اسےاس کی تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔(5) اسے اس کا پیغام اوراس کی تعلیمات دوسروں تک پہنچانا ضروری ہے۔اور قرآن مجیدپر ایمان رکھنے کا مطلب یہ ہےہم زبانی طور پر یہ اقرار کریں کہ قرآن مجید اللہ تعالی کا کلام ہے جو اس نےاپنے فرشتے جبرئیل امین کے ذریعےاپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا ہے۔یہ کسی بھی شخص کومسلم معاشرے کا ایک رکن بننے کے لیے قانونی طور پر ضروری ہے۔

تاہم، یہ سب کر لینے کےبعد ہمیں قرآن مجیدپر کامل اور پختہ یقین رکھنا بھی ضروری ہے۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے زبانی اقرار میں حقیقی یقین کی ایسی کیفیت پیدا ہو جائے کہ اس کا اثر ہمارے دل و دماغ پر بھی چھا جائے جس کے نتیجے میں ہمارے اندر اس مقدس کتاب قرآن کی حقیقی عقیدت اور محبت پیدا ہو جائے۔اور اسی کیفیت کی عدم موجودگی کا نتیجہ ہے کہ نہ تو ہمارے دل میں قرآن مجیدکی کوئی تعظیم ہے اور نہ ہی اس کا مطالعہ کرنے کا رجحان ہمارے اندر پایا جاتا ہے اور نہ ہی اس کے معانی پر غور کرنے میں ہمارے اندر کوئی دلچسپی بچی ہے اور نہ ہی ہم کبھی اپنی زندگی کے معاملات میں اس کی ہدایت و رہنمائی تلاش کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں۔اگر اخلاص کے ساتھ حقیقت کی تلاش میں اس کتاب کا مطالعہ کیا جاتا اور اس کے معانی پر غور و خوض کیا جاتا تو تاریکی کے تمام پردے ہمارے دلوں سے اٹھا لیے جاتے۔

یہ سوال کیا جا سکتا ہےکہ ہمارے لیے سچا اور حقیقی ایمان حاصل کرنے کا طریقہ کیا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایمان کا مصدر و منبع خود قرآن کریم ہے۔اگر اخلاص کے ساتھ حقیقت کی تلاش میں اس کتاب کا مطالعہ کیاجائے گااور اس کے معانی پر غور و خوض کیا جائے گاتو تاریکی کے تمام پردے ہمارے دلوں سے اٹھا لیے جائیں گےاور باطن - روح - حقیقی ایمان کی روشنی سے چمک اٹھے گی۔یاد رکھیں کہ ایمان کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے باہر سے ہمارے اندر نصب کیا جا سکے۔یہان بنیادی حقائق کی معرفت کا نام ہے جو پہلے سے ہی ہمارے اندر موجود ہے۔قرآن مجید کی آیات پر غور کرنے کا عمل ان حقائق کوہمارے شعور کی سطح پر لانےکا کام کرتا ہے۔

درست تلفظ کے ساتھ قرآن پاک کو رک رک کر اور سمجھ کرپڑھنے کو عام طور پر تلاوت اور تجویدکہا جاتا ہے۔یاد رہے کہ تلاوت نہ صرف یہ کہ عبادت کی ایک اہم شکل ہے بلکہ یہ مسلسل ہمارے ایمان کو تازہ کرنے کا ایک مؤثر طریقہ بھی ہے۔ قرآن کوئی ایسی کتاب نہیں ہے جسے صرف ایک بار پڑھا جائے بلکہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے بار بار پڑھے جانے کی ضرورت ہے۔ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کا مطالعہ توجہ کے ساتھ کریں،اس کے پیغام پر غور و فکر کریں اور ہمیشہ اپنی زندگی میں اس سے ہدایت طلب کریں۔جس طرح ہمارے مادی جسم کو مسلسل خوراک کی ضرورت پیش آتی ہے اسی طرح ہماری روح کو بھی ہمیشہ غذا کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور ہمارے جسم کے لئے خوراک زمین سے حاصل کی جاتی ہے جبکہ ہماری روح کے لئے غذائیت اللہ کے کلام قرآن کریم سے حاصل کی جاتی ہے۔تلاوت نہ صرف یہ کہ عبادت کی ایک اہم شکل ہے بلکہ یہ مسلسل ہمارے ایمان کو تازہ کرنے کا ایک مؤثر طریقہ بھی ہے۔

اس کے علاوہ، قرآن مجید کی تلاوت کے لیےایک باقاعدہ اور مسلسل پروگرام کی بھی ضرورت ہےاس لیے کہ یہ ہمارے ایمان کی تازگی کو بحال کرنے کا ایک ذریعہ ہے، اور اللہ کے راستے میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو سر کرنے کا ایک ہتھیاربھی ہے۔اس مقدس کتاب کی تلاوت کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ بندہ آدھی رات کے بعداپنے رب کے سامنےنماز میں کھڑا ہو جائےاور اس کی آیتوں کو آرام سے رک رک کرتلاوت کرے تا کہ دل پر اس کے اثرات مرتب ہو سکیں۔قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہےکہ اسے سمجھا اور اس پر غور کیا جا سکے۔حالانکہ یہ سچ ہے کہ مختلف افراد کے اندر ان کی عقل و شعور کے مطابق مختلف سطح کی سوچھ بوجھ اور فہم و فراست ہوتی ہے۔

زودفہمی اورگہرے غور و فکرکے ساتھ قرآن مجید کے مطالعہ کو تدبر کہا جاتا ہے۔قرآن کے مطالعہ میں اس کی حکمت کے سمندر کی اتھاہ گہرایوں تک جانا بھی شامل ہے۔قرآن مجید کی ایسی تفہیم اور اس کی تعلیمات کی ایسی معرفت کا حصول اس وقت تک ناممکن ہے جب تک کوئی اپنی پوری زندگی کا مکمل علم و ہنر اور شعور و آگہی اور اپنی تمام تر توانائیاںصرف اور صرف قرآن کو سمجھنے کے لیے وقف نہ کر دے۔ ظاہر ہے کہ ہر انسان قرآن کی ایسی بصیرت اور فہم و فراست حاصل کرنے کے لیے اس درجہ کے خلوص اور محنت و لگن کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ لیکن ہر زمانے میں لوگوں کے ایک ایسے نمائندے کا ہونا ضروری ہے جواس عمل میں ہمیشہ مصروف ہو۔

ماخذ:

http://pakobserver.net/2016/08/12/our-obligations-to-the-holy-quran/

URL for this article: http://www.newageislam.com/islamic-society/dr-israr-ahmed/our-obligations-to-the-holy-quran/d/108265

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-israr-ahmed,-tr-new-age-islam/our-obligations-to-the-holy-quran--قرآن-کریم-کے-تئیں-ہماری-ذمہ-داریاں/d/108535

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..