New Age Islam
Tue Aug 03 2021, 10:02 AM

Urdu Section ( 2 Sept 2020, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Six most misunderstood Verses of the Quran قرآن کریم کی چھ آیتیں جن کے بارے میں سب سے زیادہ غلط فہمیاں ہیں


ڈاکٹر اسرار احمد

(آڈیو تقریر تحریری شکل میں ) 

یہ چھ آیتیں (سورہ توبہ کی پہلی چھ آیتیں) وہ ہیں جو آج پوری دنیا میں لوگوں کو بہت زیادہ کھٹک رہی ہے ۔سورہ توبہ کی ان آیتوں کو ویسٹ تلا ہوا ہے کہ انہیں قرآن سے نکال دیا جائے ۔پوری قوت کے ساتھ۔جہاں تک جو نصاب میں اگر کہیں آ گئی ہیں ان کو تو نکلوا دیا ہے انہوں نے ۔کیونکہ اس میں بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے  کہ مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے یہ حکم دے دیا گیا ہے کہ کافروں کا ، مشرکوں کا قتل عام کرو ، حالانکہ یہ بات غلط ہے ۔یہ مشرکوں کے لیے خاص معاملہ تھا ، عرب کے مشرکین کے لیے ، امیین عرب ، حضور کی بعثت خصوصی ہوئی تھی امیین عرب کے لیے ، ھو الذی بعث فی الامیین منھم ، انہی میں سے تھے آپ ، امیین میں سے تھے ، بنی اسماعیل میں سے تھے، تو آپ کی اصل بعثت ، پرائمری بعثت بنی اسماعیل کی طرف تھی ، البتہ آپ کی بعثت عمومی پوری دنیا کی  طرف تھی ، تو یہ قاعدہ جو ہمیشہ سے چلا آرہا تھا  اللہ تعالی کا کہ اگر کسی رسول کو بھیج دیا جائے کسی قوم کی طرف اور وہ رسول کا انکار کردے ، ان کی دعوت پوری سامنے آنے کے بعد تو وہ قوم پوری ہلاک کر دی جاتی تھی ، قوم نوح ہلاک کی گئی اسی قاعدے کی تحت ، قوم صالح ، قوم ہود ، قوم شعیب ، آل فرعون غرق کیے گئے اسی قاعدے کی غرض سے ، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت خصوصی تھی اہل عرب کی طرف ، مشرکین عرب  کی طرف ۔لہذا ان کے بارے میں یہ قانون تھا کہ اب اگر یہ ایمان نہیں لائیں گے تو یا تو اللہ تعالی کسی اور عذاب کے ذریعے سے انہیں ختم کرتا ، یا دوسری شکل یہ کی گئی کہ اہل ایمان سے کہہ دیا گیا کہ انہیں چار مہینے کی مہلت دے دو ، اس چار مہینے کے اندر اندر ایمان لے آئے تو جان بخشی ہے ورنہ چار مہینے ختم ہوں گے ، تو پھر ان کا قتل عام کرو ، جہاں چاہو، جہاں پاو ،  قتل عام کرو،یہ آیت قرآن مجید کی سخت ترین آیات میں سے ہے۔

اللہ تعالی فرماتا ہے (بَرَاءَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ) (سورہ توبہ ۱) یعنی اللہ اور اس کا رسول بری ہے ان  مشرکین  سے جن کے ساتھ تم نے  معاہدے کیے ہیں ۔

پچھلے درس میں جو بات آئی تھی وہ یہاں اور کھل کر آ گئی ہے ۔ فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ۔تو اب یہ مشرکین سے کہا جا رہا ہے کہ زمین میں گھومو پھرو چار مہینے ۔ (وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّـهِ) جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکو گے ، (وَأَنَّ اللَّـهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ) اور اللہ تعالی ان کافروں کو لازما رسوا کر کے رہے گا ،ذلیل کرکے رہے گا ۔(سورہ توبہ ۲)

وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّـهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ ۚ۔اور یہ اعلان عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمام لوگوں کو ، ‘‘یوم الحج الاکبر’’ یعنی حج اکبر کے دن ۔ حج اکبر سے جو عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ جو جمعہ  کو حج ہے  وہ حج اکبر ہے ۔ نہیں یہ غلط ہے ، قرآن کی رو سے جو حج اکبر ہے وہ حج ہے اور جو حج اصغر ہے وہ عمرہ ہے ۔ عمرہ کو حج اصغر کہتے ہیں ۔ حج اکبر جو ہے وہ حج ہے ۔ تو یہ حج تھا جو سنہ ۹ ہجری میں جب ہو رہا ہے تو اس میں یہ اعلان کرا دیا گیا  ۔یہ آیات نازل ہوئیں ہیں جبکہ حضور نے قافلہ روانہ کر دیا تھا ، آپ خود نہیں گئے تھے۔حضرت ابو بکر کی قیادت میں اور عبارت میں قافلہ حج روانہ ہو چکا تھا۔ جب قافلہ جا چکا تو یہ چھ آیتیں نازل ہو گئیں۔ پھر حضور نے حضرت علی کو بھیجا ، کہ جا و علی اور جاکر یہ اعلان عام کر دو ۔ جب مکہ میں حج کے موقع پر تمام عرب جمع ہوں گے یہ اعلان عام کردو۔ میری طرف سے تم اعلان کر دو ۔ حضرت علی منزل بر منزل تیزی سے دوڑتے ہوئے آگئے ۔ابھی راستہ میں ہی تھا قافلہ ۔حضرت علی  پہنچ گئے ۔حضرت ابو بکر نے جب ان کو دیکھا تو دیکھتے ہی ایک سوال کیا ۔

ذرا نوٹ کیجیے کس قدر وہاں نظم اور ڈسیپلین کی بات ہوتی تھی ۔ حضرت ابو بکر پوچھتے ہیں  ‘‘امیر ’’ یا  ‘‘مامور’’ یعنی علی تم امیر کی حیثیت سے آئے ہو یا مامور کی حیثیت سے ؟ یعنی آیا اللہ کے رسول نے مجھے معزول کرکے تمہیں امیر بنا کر بھیجا ہے آج ؟ اگر ایسا ہے  تو ٹھیک ہے میں تمہارے تابع ہوں ۔تم نشست سنبھالو ۔ یا  یہ کہ تم مامور ہی رہوگے تو یہ جو ذمہ داری ہے  امیر حج کی تو وہ میرے ہی پاس رہے گی ۔ حضرت علی کہتے ہیں ‘‘مامور’’ یعنی میں مامور بناکر بھیجا گیا  ہوں۔ میں امیر بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں ۔

لیکن چونکہ اہل عرب کا یہ اصول تھا کہ کسی بڑے شخص کی طرف سے کوئی اعلان عام ہو تو اس کا قریبی عزیز ہی کر سکتا ہے ۔ لہذا یہ حج کے موقع پر یہ آیات پڑھ کر سنائی ہے حضرت علی نے ۔ (وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّـهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ) ۔یعنی اللہ تمام مشرکین سے بری ہے ۔اللہ تعالی کا کوئی عہد ، کوئی معاہدہ نہیں ہے ، اور ‘‘رسولہ’’ یعنی اس کے رسول بھی بری  ہیں تمام مشرکین سے ۔(فَإِن تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ) تو اب اگر تم باز آجاو ، توبہ کر لو   اور ایمان لے آو تو تمہارے لیے خیر اسی میں ہے ۔

 (وَإِن تَوَلَّيْتُمْ) یعنی اگر تم منھ موڑو گے،  تو  (فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّـهِ)تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے ۔

اور (وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ) یعنی اے نبی ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی ہے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دے دیجیے ۔سورہ توبہ ۳۔ (إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدتُّم مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَىٰ مُدَّتِهِمْ) سورہ توبہ ۴ ۔یعنی سوائے ان مشرکین کے جن سے تم نے عہد کیا تھا تو پھر انہوں نے کوئی کمی نہیں کی ہے تمہارے عہد میں ۔اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ہے ۔نہ کسی اور کا ساتھ دیا ہے ۔تو پوری کر دو ان کی مدت عہد ان کے لیے ۔اگر وہ پانچ سال کا ہے تو ٹھیک ہے ، دو سال کا ہے تو ٹھیک ہے ۔جس کے ساتھ معاہدہ ہے ، موقت ہے یعنی وقت کا تعین ہے اور انہوں نے کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے ۔تو معاہدہ پورا کیا جائے گا ۔(إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ)  یعنی اللہ تعالی متقیوں کو پسند کرتا ہے  (سورہ توبہ ۴)۔ 

بہر حال جن کے ساتھ  غیر موقت تھا تو چار مہینے دے دیے گئے ۔یہ نہ ہو کہ   اچانک کہہ دیں کہ ہمارا سارا معاملہ تم نے   خراب   کر دیا ہے ۔four months چار مہینے کی مہلت ہے ۔لیکن اس کے بعد جو یہ سخت ترین آیات ہین جس پر کہ خون کھولتا ہے پوری دنیا کا  (فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ) یعنی  جب یہ اشہر حرم ختم ہو جائیں گے یعنی چار مہینے جس میں مہلت دی گئی ہے (فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ) تو قتل کرو ان مشرکوں کو جہاں بھی تم پاؤ (وَخُذُوهُمْ) اور انہیں پکڑو (وَاحْصُرُوهُمْ) اور ان کا گھیراؤ کرو (وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ) اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو، پوری پکڑ کرو ان کو مارنے کے لئے۔ (فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ)  پس اگر وہ توبہ کر کے نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ پھر وہ تمہاری طرح مسلمان ہیں تمہارے شریک ہیں اسلامی ریاست میں برابر کے شہری ہیں (إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ بے شک اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ اور اے نبی مشرکین میں سے اگر کوئی شخص تمہارا پڑوس چاہے تمہارے پاس آنا چاہے ف(َأَجِرْهُ) تو آپ اسے امن دیجئے پناہ دیجئے (حَتَّىٰ يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ) یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ جب یہ وارننگ دے دی گئی تو ظاہر سی بات ہے اس سے  پہلے تو بہت سے لوگوں  نے پرواہ ہی نہیں کیا ہوگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا کہہ رہے ہیں کیا نہیں کہہ رہے ہیں۔ لیکن جب یہ چیلنج آ گیا now you have only four months to decide this way or that way لہٰذا اب ان میں سے کچھ لوگ چاہیں گے کہ آخر سمجھیں تو کہ بات کیا ہے آپ کیا منوانا چاہ رہے ہیں؟ آپ کا دین کیا ہے؟ تو فرمایا کہ اے نبی  (وَإِنْ أَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ) یعنی  اے نبی! مشرکین میں سے اگر کوئی شخص، تمہارا پڑوس چاہے تو آپ اسے پناہ دیجئے (حَتَّىٰ یسمع کلام اللہ) ینعی یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ سمجھ جائے  کہ دعوت کیا ہے۔ (ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ) یعنی  پھر اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچا دیجیے۔ ایسا نہیں کہا گیا کہ اب تم نے سن لیا ہے تو ایمان لاؤ ورنہ تمہارا گلا اڑا دیا جائے گا۔ نہیں بلکہ یہ فرمایا کہ اسے اس کی امن کی جگہ تک پہنچا دو۔ جس قبیلے سے وہ چل کر آیا تھا، آپ نے امان دی آپ کے پاس وہ ٹھہرا آپ نے دین کی دعوت دی اب اسے فیصلہ کرنے کے لئے آزاد چھوڑ دو اور اسے واپس جانے دو اپنے امن کی جگہ تک پہنچا دو (ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُونَ)  (سورہ توبہ 6 ) یہ اس لئے کہ یہ لوگ جانتے نہیں ہیں، لہذا ان کے ساتھ رعایت کیجئے۔

یہ آیات قرآن مجید کی سخت ترین آیات میں سے ہیں ۔اور ان سورہ توبہ کی آیات کے آغاز میں آیت بسم اللہ نہیں ہے۔ ایک سو چودہ سورتوں کے اندر صرف یہی ایک سورت ملے گی جس میں آیت بسم اللہ نہیں ہے۔ اس میں بہت سی رائے ہیں۔ ایک قول کے مطابق  حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ سورت تو تلوار ہاتھ میں لے کر نازل ہوئی ہے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم  میں اللہ تعالیٰ کے رحمان اور رحیم کے نام ہیں اسی مناسبت سے اللہ کا انتقام  اللہ کا غضب وہ جو کہ نمایاں ہے، اس لئے اس سورت سے پہلے آیت بسم اللہ نہیں لکھی گئی۔ لیکن پھر وہی بات نوٹ کر لیجیے کہ یہ ایک خاص حالات کے اندر یہ آیت تھی۔ اس لئے یہ آیت مستقل نہیں ہے۔ دائمی نہیں ہے۔ ہمیشہ کے لئے نہیں ہے، بلکہ اس کی application حضور کی ظاہری زندگی میں ہی تھی بعد میں ختم ہو گئی۔ لیکن اس کے بعد  ہمیشہ کا قاعدہ یہ ہے کہ  مسلمان اگر طاقت میں ہیں اوروہ کسی ملک میں جاکر حملہ کرتے ہیں تو وہ تین آپشن  دیں گے۔پہلا یہ کہ  اگر تم ایمان لے آؤ تو تم ہمارے بھائی ہو۔ تم برابر کے ہو۔ پھر ہم یہ نہیں کہیں گے کہ ہم سینئر ہیں تم جونیئر ہو۔ نہیں بلکہ  you are equal to us اخوانکم فی الدین یعنی تم دین میں ہمارے بھائی ہو۔ اور اس کی علامت کیا ہے؟ تو  اسلام، نماز، زکاۃ، تو کم از کم یہی تین باتیں ہیں ۔ اچھا اگر یہ تمہیں منظور نہیں ہے تو تم نیچے ہو کر رہو اور جزیہ دو اس لئے کہ سب سے بالا دست اونچا نظام اللہ کا ہو گا (يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ)

یہودیوں سے مجوسیوں سے ہندوؤں سے، ایرانیوں سے ، نصرانیوں سے۔ ہر ایک سے یہی معاملہ کیا  جائے گا ۔ لیکن اگر تم تابع ہو کر رہنا منظور کرو گے تو پھر تم ہندو، یہودی، مجوسی، جو چاہو بن کر رہو، لیکن نظام اللہ کا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کی حکومت ہوگی۔ پوری کائنات کا حاکم وہ ہے اور یہاں بھی حکومت اسی کی رہے گی۔ اچھا اگر یہ بھی تمہیں منظور نہیں ہے تو پھر آؤ تلوار تمہارے اور ہمارے درمیان فیصلہ کرے گی۔ میدان کے اندر وہاں یہ نہیں تھا کہ تم لازماً ایمان لاؤ ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا۔ یہ صرف اہل عرب کے مشرکین کے لئے تھا۔ جن میں حضور کی اصل اور اولین بعثت تھی۔ اور اس میں بھی ایک چوئس  تھا کہ اگر تم ایمان نہیں لانا چاہتے اور قتل سے بھی بچنا چاہتے ہو تو تم یہاں سے ہجرت کر جاؤ۔ چلے جاؤ۔ چنانچہ ابو جہل کا بیٹا عکرمہ  وہ بھی بہت سے لوگوں کے ساتھ اب ہجرت کرنے جا رہا تھا۔ حبشہ کی طرف، اور رات کا وقت تھا کہ طوفان آ گیا۔ اور طوفان میں جتنے بھی مشرکین تھے سب نے اللہ کو پکارنا شروع کر دیا۔ کسی نے نہ لات کو پکارا نہ عزا کو پکارا ،  نہ منات  کو پکارا ، نہ ہبل کو پکارا ۔ تو اس پر سب نے کہا کہ جب ہماری فطرت میں یہی ہے تو پھر ہم کہاں جا رہے ہیں۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تو ہمیں اسی کی دعوت دے رہے ہیں۔ وہ واپس آ کر ایمان لے آئے اور بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ اور جو نئے جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوئے تھے  وہ  جنگ یمامہ میں شہید ہوئے ہیں۔ اور  انہوں نے بہت بہادری کا ثبوت دیا ہے اسلام کی دفاع  میں ۔

تو یہ آیتیں ایک خاص  ، مخصوص پس منظر کی آیات ہیں ۔اسے ان لوگوں تک واضح کرنا چاہیے ۔یہ دائمی نہیں ہے ، ہمیشہ کے لیے نہیں ہے ، یہ ابدی قانون نہیں ہے ، یہ صرف مشرکین عرب کے لیے تھا ، جن پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت آخری درجے میں ہو چکی تھی ۔اب یا تو انہیں کسی آفت سماوی سے ختم کیا جاتا ، یا یہ ہے کہ ان کے اوپر زلزلہ آتا ، کچھ اور آتا ۔ اللہ تعالی نے اس کی شکل یہ اختیار کی ۔اور واقعہ یہ ہے کہ ایک بھی مشرک کا خون نہیں بہا۔ سب ایمان لے آئے ۔(ورایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجا ، سورہ نصر آیت ۲) یعنی تم نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ فوج در فوج ایمان لے آئے ۔جو کچھ لوگ  جن کی گردنیں اکڑی رہیں تو وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے ۔

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/dr-israr-ahmad/six-most-misunderstood-verses-of-the-quran-قرآن-کریم-کی-چھ-آیتیں-جن-کے-بارے-میں-سب-سے-زیادہ-غلط-فہمیاں-ہیں/d/122781


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..