New Age Islam
Wed Sep 23 2020, 02:41 AM

Urdu Section ( 13 May 2019, NewAgeIslam.Com)

Taraweeh for the Sake of Taraweeh? کیا تراویح صرف نام کی تراویح رہ جائے گی؟



ڈاکٹر غلام زرقانی

11مئی،2019

 صد شکرکہ ہمیں سال کے سب سے عظمت وبزرگی اور علو وشرف والے مہینہ میں سانس لینے کی مہلت مل رہی ہے ۔ یہ وہ ماہ مقدس ہے ، جس میں باران رحمت کے چھینٹے ہمہ وقت برستے رہتے ہیں ۔ اس مہینہ میں نفلی عبادتیں فرض کے مساوی اجروثواب رکھتی ہیں اور فرض عبادتیں ایسی ہوجاتی ہیں ، جیسے رمضان المبارک کے علاوہ کسی دوسرے مہینہ میں سترفرائض کی ادائیگی سے سبکدوش ہوئے ہوں ۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے ، جس میں اللہ کے بندے کھانے ، پینے اور جنسی خواہشات سے دور رہ کرصرف اور صرف اپنے معبود حقیقی کی رضاکے متلاشی ہوتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابن آدم کوئی نیکی کرے ، تواس کی جزادس گناسے لے کر سات سوگناتک یا سات سوسے دوگنی، تاہم اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے اور روزہ میرے لیے ، لہذا میں خود روزے کی جزا دوں گا، یا یہ کہ میں خود روزے کی جزابن جاؤں گا،کہ روزہ دار میرے لیے کھانے، پینے اور خواہشات نفسانی سے دوررہتاہے ، توروزہ میرے لیے ہے اور میں اس کی جزادوںگا۔ (مسند بزاز، ۹۱۲۵)

بہرکیف، رمضان المبارک میں مسلمان پہلے سے کہیں زیادہ عبادت وریاضت ، تسبیح وتہلیل اور تلاوت قرآن میں منہمک ہوجاتے اور ہونا بھی چاہیے کہ جب تھوڑے عمل پر اجروثواب زیادہ مل رہاہے ، توکیوں نہ زیادہ سے زیادہ عمل کرکے ، اوربھی زیادہ سے زیادہ اجروثواب اپنے دامن میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے ۔اس سلسلے کی ایک کڑی رمضان المبارک کی راتوں میں پڑھی جانے والی نماز تراویح بھی ہے۔ کوئی شک نہیں کہ لوگ جوق درجوق نماز تراویح پڑھنے کے لیے مساجد آتے ہیں اور ایک امام کے پیچھے کھڑے ہوکر قرآن مقدس کی تلاوت سماعت کرتے ہیں۔ تاہم کہتے ہیں نا کہ جب عام دنوں میں بے عملی کی عادت ہوجائے ، تووہ رمضان المبارک کے مہینہ میں پورے طورپر کیوں کر ختم ہوسکتی ہے۔ لہذا بھائی لوگوں نے نماز تراویح کی ہیئت بھی بہت حدتک تبدیل کردی ہے ۔ پہلے یہ ہوتاتھا کہ لوگ بڑے انہماک کے ساتھ نماز تراویح اداکرتے تھے اوراب یہ بھی آہستہ آہستہ صرف نام کی تراویح ہوکر رہ گئی ہے ۔ یقین نہیں آتاتوچند صدیاں پہلے اہل مکہ کی نماز تراویح پر ایک نگاہ ڈالیے ۔ خانہ کعبہ کے چاروں طرف نماز تراویح پڑھنے والے چاررکعات کے بعد ایک طواف کرتے اور دورکعت نماز طواف اداکرتے ، پھر دوبارہ تراویح شروع ہوجاتی ۔یوں ہر چاررکعت تراویح کے بعد ایک طواف اوردورکعت نماز واجب الطواف اداکرتے ۔

 اس طرح بیس رکعات نماز تراویح کے ساتھ ساتھ اضافی طورپر دس رکعات واجب الطواف اور پانچ مرتبہ طواف بھی کرتے ۔ اسی طرح اہل مدینہ بھی کسی سے کیوں پیچھے رہتے ۔ وہ طواف تونہیں کرسکتے تھے ، اس لیے ہر چاررکعات کے بعد اطمینان ویکسوئی کے ساتھ تسبیح واستغفارکرتے اور اختتام پر چاررکعت نفل پڑھتے ۔ اس طرح وہ بیس رکعات تراویح کے ساتھ ساتھ سولہ رکعات نفل ادا کرتے ۔ کتب تاریخ میں ان کے اس عمل کو ستہ عشریہ سے موسوم کیا جاتاہے ۔اب ذرا اس آئینے میں اپنے قرب وجوار کی مساجد میں ہورہی نماز تراویح کا جائزہ لیجیے ۔ مجھے یقین ہے کہ حیرت واستعجاب سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیںگی۔ یہ ایک مسجد، جس میں تین روزہ تراویح ہورہی ہے، کہیں دس روزہ تراویح ہورہی ہے، کہیں پندرہ روزہ تروایح اور کہیں ایک ہی رات میں پوراقرآن پڑھا جارہاہے ۔ اور اگر کہیں پورے ۲۷ دنوں تک تلاوت کے بعد شب قرأت میں اختتام قرآن کا پروگرام توہے ، تاہم ہر دن آدھے گھنٹے کے اندر اندر بیس رکعات تراویح پڑھی جارہی ہے ۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ بہت کم ایسی مساجد ملیں گی ، جہاں تجوید وقرأت کی رعایت کے ساتھ آرام سے قرآن پاک پڑھنے کی روایت قائم ہو۔

معاف کیجیے گا، اس میں قصور صرف حفاظ کرام کانہیں ہے ، بلکہ عوام کا زیادہ ہے ۔ میں مشاہدات کی بنیادپر کہہ سکتاہوں کہ اگر کہیں حافظ صاحب نے آرام سے مزے لے لے کر تلاوت قرآن کرنا شروع کردیاتوپیچھے سے آوازیں آنے لگتی ہیں کہ صبح کام پہ جاناہے ، بہت تاخیر ہورہی ہے ، کھڑے کھڑے پاؤں دکھ رہے ہیں ، ذرا جلدی پڑھیے ۔ اور اگر نمازیوں میں سے کوئی صاحب اثر ورسوخ یا مسجد میں زیادہ چندہ دینے والے نے آواز نکال دی ، توانتظامیہ کے سارے افراد حافظ صاحب کے گلے پڑجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حافظ صاحب کچھ کیجیے ورنہ فلاں صاحب اگر ناراض ہوگئے ، تومسجد کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے۔ لہذا چاروناچار حافظ صاحب کو اپنی رفتار بڑھانی پڑتی ہے ۔

 اسی طرح تجارت پیشہ افراد بھی چاہتے ہیں کہ کسی طرح ایک قرآن پاک تراویح میں سن لیں اور اس کے بعد تجارت میں مصروف ہوجائیں ۔ اس لیے وہ ، یک روزہ ، سہ روزہ ، دس روزہ اورپندرہ روزہ تراویح کا انعقاد اپنے اپنے طورپر کرتے ہیں ۔ عام طورپر علاقے کے تاجر جمع ہوجاتے ہیں اور ایک قرآن پاک تراویح میں سن کر وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نماز تراویح کے فضائل ونعم سے پورے طورپر بہرہ ورہوگئے ۔

 یہ بات کہنے کی نہیں ہے ، بلکہ عام مشاہدے میں ہے کہ عام طورپر سہ روزہ، دس روزہ اور پندرہ روزہ تراویح میں قرآن اس قدر تیزی سے پڑھا جاتاہے کہ صرف اختتام آیت کے بعض الفاظ کی بازگشت ہی سنائی پڑتی ہے ، باقی درمیان کی عبارت یا توحلق میں رہ جاتی ہے ، یا زبان وہونٹ کے درمیان اس طرح خلط ملط ہوجاتی ہے کہ کچھ بھی واضح نہیں ہوپاتا۔ اس سے ایک قدم اور آگے بڑھ کر کہنے دیجیے کہ اس تیزی میں بسااوقات درمیان کے بعض الفاظ تک حذف ہوجاتے ہیں اور سامعین کو بھنک تک نہیں لگتی۔ یادرکھیے کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اتنا متوجہ ہوکر کسی چیز کو نہیں سنتا، جتنا قرآن کو متوجہ ہوکر سنتاہے ، جب پیغمبر اسے اونچی آواز میں خوش الحانی سے پڑھتے ہیں ( بخاری ، ۷۵۴۴)۔ اسی طرح آپ نے فرمایاکہ جو قرآن کو خوش الحانی کے ساتھ نہیں پڑھتا، وہ ہم میں سے نہیں ہے (بخاری ، ۷۵۲۷)۔اور سب سے بڑھ کر قرآن جس کی کتاب ہے ، وہی تلاوت کے آداب بھی سکھاتے ہوئے فرمارہاہے کہ ’’ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً‘‘ ( سورۂ مزمل ، آیت:۴) یعنی قرآن مقدس کو آہستہ آہستہ تجوید کی رعایت کے ساتھ پڑھو۔

 صاحبو! الاماں والحفیظ ، یہ کہتے ہوئے اشک ندامت سے پلکیں جھکی جارہی ہیں کہ تیزی سے قرآن پڑھنے کی روایت کی وجہ سے ہندوپاک میں قرآن کے ساتھ کس قدر بھیانک سلوک کرنے پر مجبورکردیاہے ؟ کیا تراویح کی شروعات اسی لیے ہوئی تھی کہ قرآن کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے؟ اور کیا تراویح صرف چند رکعات کی گنتی سے عبارت ہے ؟ اور کیا تراویح میں ایک قرآن پاک ختم کرنا اس قدر ضروری ہے کہ تجوید وقرأت کی رعایت سے پڑھنے کی کوئی پرواہ نہ کی جائے؟میں پورے یقین کے ساتھ کہتاہوں کہ اگر استطاعت نہ ہو، توپورا قرآن تراویح میں سماعت کرنے کی بجائے ، سورۂ تروایح یا چند مقامات کی تین چار آیات پڑھ کر ہی بیس رکعتیں مکمل کرلیں ، تویہ تیزی کے ساتھ قرآن پڑھنے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بہتر ہے ۔ اور رہی بات اجروثواب کی ، توخیال رہے کہ اللہ تعالیٰ اخلاص نیت اور انہماک وتوجہ کی بنیاد پر بدلہ عطافرماتاہے ۔ یہ بہت ممکن ہے کہ ٹھہرٹھہر کر آرام سے قرآن پاک پڑھتے اور سماعت کرتے ہوئے خشوع وخضوع کے ساتھ بیس رکعتیں پڑھی جائیں ، توگرچہ چند آیات ہی کیوں نہ ہوں، اجروثواب کے اعتبارسے جلدی جلدی تیزی سے پورا قرآن پاک ختم کرنے پر سبقت لے جائے ۔

11مئی،2019  بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-ghulam-zarqani/taraweeh-for-the-sake-of-taraweeh?--کیا-تراویح-صرف-نام-کی-تراویح-رہ-جائے-گی؟/d/118584

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..