New Age Islam
Fri Jul 01 2022, 06:50 AM

Urdu Section ( 18 March 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Emerging Perspective of a Hindustani Muslim on Islam اسلام پر ایک ہندوستانی مسلمان کا ابھرتا ہوا نقطہ نظر

ڈاکٹر بنوئے شنکر پرساد، نیو ایج اسلام

10 جنوری 2022

ہندوستان کے اوسط مسلمانوں کو اپنے آپ کو ہندوستانی مسلمان کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے، جیسا کہ انڈونیشیائی، ملیشیائی اور دیگر مسلمان کرتے ہیں۔

اہم نکات:

ہندوستانی مسلمان عرب، ترکی یا فارسی مسلمان نہیں ہیں۔

ہندوستان کے مسلمان سعودی (سنی) یا ایرانی (شیعہ) کی مالی معاونت کرنے والے گروہوں کے ایجنٹ نہیں ہیں اور نا ہی ہو سکتے ہیں۔

ہندوستانی مسلمان اپنے آپ کو ہندوستانی 'قوم پرست' مسلمان کہنا پسند کریں گے۔

سقراط نے آخر کار کہا تھا کہ غیر تصدیق شدہ مذہب پیروی کے قابل نہیں ہے۔

 -----

Why are they silent? / Quartz India

----

ہندوستان کے اوسط مسلمانوں کو اپنے آپ کو ہندوستانی مسلمان کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے، جیسا کہ انڈونیشیائی، ملیشیائی اور دیگر مسلمان کرتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمان عرب، ترکی یا فارسی مسلمان نہیں ہیں۔ ہندوستان کے مسلمان سعودی (سنی) یا ایرانی (شیعہ) کی مالی معاونت کرنے والے گروہوں کے ایجنٹ نہیں ہیں اور نا ہی ہو سکتے ہیں۔ جو اپنی مادر وطن، ہندوستان اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اور ہاں، وہ خود کو ہندوستانی 'قوم پرست' مسلمان بھی کہنا پسند کریں گے -- انہیں ایسا کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ 1857 کے بعد سے ہندوستانی تحریک آزادی کی تاریخ (آزادی کی پہلی جنگ) ہندوستانی قوم پرست مسلمانوں سے بھری پڑی ہے: مولانا ابوالکلام آزاد، خان عبدالغفار خان، ہمایوں کبیر، ذاکر حسین اور بہت سے لوگ ہندوستانی قوم پرست مسلمانوں کے شاندار نمائندے تھے۔

ہندوستان جیسے کئی ممالک میں سعودی پیٹرو ڈالر کی دراندازی کے بعد ہی مسلم کمیونٹی کے اندر ملک دشمن طاقتیں جنم لینے لگیں۔

عام طور پر ہندوستانی مسلمانوں نے بہت پہلے یہ بہانہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ عرب، پٹھان، مغل یا ترک مسلمانوں کی اولاد ہیں۔ شروع میں جو بھی چھوٹی موٹی تعداد رہی ہو، انہیں یہ معلوم ہے کہ وہ شادی، گود لینے اور رہائش کے ذریعے ہندوستانی آبادی کا حصہ بن گئے تھے -- ہندوستان ان کا مادر وطن بن گیا تھا۔

 مدارِ وطن بھارت ماتا کا اردو ترجمہ ہے۔ پھر ہندوستانی مسلمانوں کو بھارت ماتا کی جئے کہنے میں کوئی اعتراض کیوں ہوگا؟ بدقسمتی سے، ہمارے ملک ہندوستان میں ایک سیاستدان ممبر پارلیمنٹ ہے جس نے اعلان کیا ہے کہ وہ "بھارت ماتا کی جئے" نہیں کہے گا چاہے اس کی گردن تلوار کے نیچے ہی کیوں نہ لائی جائے۔ دوسری طرف، اسی ملک ہندوستان میں تمام پارٹیوں میں ایسے مسلم سیاست داں بھی ہیں جو کبھی بھی بھارت ماتا کی جئے کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

اگر ہم اوسط ہندوستانی مسلمانوں سے پوچھیں کہ وہ کس کی پیروی کرنا پسند کریں گے تو ان کا پر زور جواب ہوگا مؤخر الذکر۔

مسلمانوں کے خودساختہ لیڈروں کی ایک قلیل تعداد ہمارے مسلمان بھائیوں اور بہنوں کی ایک بڑی تعداد کے کانوں میں زہر گھولتی ہے اور انہیں ہندوؤں کے ساتھ غیر ضروری تنازعات میں الجھائے رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی مالی طور پر مضبوط اور پیٹرو ڈالر سے چلنے والی بنیاد پرست اسلامی تنظیمیں ہیں جو اوسط ہندوستانی مسلمانوں کو بنیاد پرست بنانے میں سرگرم عمل ہیں۔

ہندوستانی مسلمان بھی اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ جب تک ان کے پڑوس میں ایک دشمن اسلامی ریاست، پاکستان موجود ہے، جو ہمیشہ اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار ہندوستان کو ٹھہرائے گی اور ہندوستانی مسلمانوں کا دل جیتنے کی کوشش کرے گی۔ ہندوستان میں ہندو مسلم تقسیم کا مستقل خطرہ بنا رہے گا۔

اس کے بعد، اپنے ہندو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ، متوسط روشن خیال مسلمان بھی اپنے عقیدے اور برادری میں اصلاحات کے بارے میں سوچتے ہیں۔ سب سے پہلے، ان کے پاس اس حقیقت کے بارے میں شیخی بگھارنے کی ہر وجہ ہے کہ 300 ملین ہندوستانی مسلمان اب بھی دنیا بھر کے تمام مسلمانوں سے بہتر ہیں - خاص طور پر او آئی سی کے 57 رکن ممالک کے مسلمانوں کے مقابلے میں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو دنیا کے ہر حصے میں ان کی شانت مزاجی اور اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے بہت زیادہ عزت ملتی ہے۔

نوجوان، تعلیم یافتہ، روشن خیال اور سائنسی مزاج رکھنے والے ہندوستانی مسلمان، اپنی کشادہ ذہنیت کی مشترکہ ثقافت کی وجہ سے، اس بات سے اتفاق کریں گے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کی تقریباً تین قسمیں ہیں۔

-----

پہلی قسم میں، ایسے (لا ادریہ، ملحد وغیرہ) مسلمان ہیں جو اپنی مقدس کتاب قرآن کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ انتخابی، غیر منظم، متروک، تضادات سے بھری ہوئی، نسلی بالادستی کی تعلیم دیتی ہے اور اس لیے بے معنی ہے۔ راستبازی کی تعلیم دینے والی چند آیات کے باوجود، وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن معاشروں کے درمیان پرتشدد تنازعات کی بیج بوٹا ہے۔ وہ اسلام کی کسی بھی بنیاد پرست تعلیم سے متفق نہیں ہیں۔ وہ یقیناً 21ویں صدی میں محمد کے اندر ان صفات کو نہیں پاتے جن کی تقلید کی جائے۔

مسلمانوں کا یہ گروہ 9/11 کے بعد کی نسل کے نوجوان یونیورسٹی کے پڑھے لکھے، ہوشیار، واضح عقلیت پسند ہیں۔ وہ استدلال کرتے ہیں کہ اگر اسلام پسند حکومتیں اپنے جبری طریقے (مثلاً مرتدوں کو قتل کرنا) کو ختم کر دیں تو نہ صرف شریعت پر مبنی اسلامی حکومتیں بلکہ اسلام بذات خود منہدم ہو جائے گا۔ اس طرح وہ یا تو ملحد، مارکسسٹ یا سابق مسلمان بن چکے ہیں۔

مسلمانوں کی دوسری قسم مقدس کتاب اور مذہب کو "سیاق و سباق کے سانچے" میں ڈھالنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ وہ اس عقیدے کے مخالف نہیں ہیں جس پر وہ پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنے غیر مسلم دوستوں کو اس بات پر قائل کرنے کی پوری ایمانداری سے خواہش اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ اسلام کو ایک خوفناک، کٹر یا عدم برداشت مذہب نہ مانیں۔ اسلام کو زیادہ قابل قبول بنانے کے لیے، وہ قرآن میں بڑے پیمانے پر انتباہات، تصحیحات یا حواشی کو متعارف کرانے کے خلاف نہیں ہیں۔ مجموعی طور پر، وہ چاہتے ہیں کہ اسلام کا احترام دنیا کے دیگر مذاہب کے ساتھ مساوی طور پر کیا جائے، اس کا تعلق علیحدگی پسندی یا دہشت گردی سے نہیں ہونا چاہیے۔

مسلمانوں کا تیسرا طبقہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ قرآن خدا کی نازل کردہ کتاب ہے، اس کا ہر لفظ ناقابل تغیر، ناقابل تردید اور مقدس ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ ہر گز چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہیے۔ وہ ہر ایک کو مسلمانوں کی پیروی کرنے کی تلقین کرتے ہیں جن کا مقدس فرض ہے کہ وہ اپنی تعلیم یا خواندگی کا آغاز قرآن کے ذریعے "تعلیم دین" سے کریں۔ ان کا عقیدہ (شاید یہ قرآن کی تعلیم ہے) انہیں بتاتا ہے کہ دنیا میں ہر وہ شخص جو ایک مختلف عقیدے کی وجہ سے گمراہ ہوا تھا وہ بالآخر اسلام میں واپس آجائے گا۔ ہر ایک انسان مسلمان پیدا ہوا ہے۔ وہ ہر اس شخص کو 'اسلامو فوب' کہتے ہیں جو ایماندارانہ شکوک و شبہات یا سوالات اٹھاتا ہے۔

ہندوستانی مسلم مصنفین اور اسلامی اسکالرز کی ایک بڑی تعداد ہے جو دوسرے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کم از کم یہ کہنے کی ہمت پیدا کرنے کے لیے ان کی ستائش کی جانی چاہیے کہ مسلمانوں کو اپنے صحیفے پر ایک بار پھر نظر ثانی کرنی چاہیے اور ساتویں صدی سے گلوبلائزڈ اور مکمل طور پر بدلی ہوئی دنیا کی روشنی میں ان کی دوبارہ تشریح کی جانی چاہیے۔ سقراط نے کہا تھا کہ غیر تصدیق شدہ مذہب پیروی کے قابل نہیں ہے۔

یہ آزاد خیال، ترقی پسند ہندوستانی مسلمان، اپنے بین الاقوامی ساتھیوں کی صحبت میں، زیادہ زور آور ہوتے جا رہے ہیں اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان (ایم بی ایس) کی ظاہری مذہبی حمایت اور تائید کے ساتھ وہ اسلام کو ایک مختلف سمت میں لے جانے کے لیے تیار ہیں۔

 جب ایسا ہوگا تو ’نیو ایج اسلام‘ جیسی تحریکوں کی مسلسل کوششیں رنگ لائیں گی۔

English Article: Emerging Perspective of a Hindustani Muslim on Islam

 URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/hindustani-muslim-islam/d/126603

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..