New Age Islam
Sun Sep 20 2020, 07:18 PM

Urdu Section ( 16 Aug 2013, NewAgeIslam.Com)

Violence against Women Has No Religious Justification خواتین کے خلاف تشدد کا کوئی مذہبی جواز نہیں

 

ڈاکٹر بدریہ  البشر
18
مارچ،2013

(انگریزی سے ترجمہ : نیو ایج اسلام)

اس بر عکس معنی کے ساتھ ایک نعرہ،  یا اس قانون سے بدتر کچھ بھی نہیں ہے جو انصاف نافذ کرنے میں، ابتدائی طور پر  ہی ناکام ہو۔ میرے پاس  اس کی ایک دردناک مثال موجود ہے۔ ایک قاری نے مجھے یہ  کہتے ہوئے خط لکھا: "میرے والد -  خدا ان کی روح کو رحمت بخشے - خدا کی بہت زیادہ حمد و ثنا بیان کرنا پسند کرتے تھے ۔۔۔ وہ کہتے تھے   کہ ،جنت میں ان کے لئے ایک  مقام ہے اور (وہاں) کئی محل ہیں۔ لیکن  وہ میری ماں کے ساتھ انتہائی  ظالمانہ  سلوک کرتے تھے ، وہ انہیں  ان کے بالوں سے گھسیٹتے  تھے جب وہ چلاّتی،میں  یہ مناظر کبھی نہیں بھولوں گی ۔ "
قاری کا مطلب ہے، شاید ، مرد کی نیک نظر اس کے  رویہ میں  نہیں جھلکتی ۔ جماعتیں، مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہوئے ، ہمیں کچھ اور کہتی ہیں ، اور اسی وجہ سے بعض مسلم گروپوں نے اقوام متحدہ کی خواتین کے خلاف تشدد کا مقابلہ کرنے کے اعلان کو ، 131 ممالک کے اس پر اتفاق کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے مسترد کر دیا ہے۔
اسلامی جماعتیں   ہمیشہ ، ان عالمی تنظیموں اور کمیشن کے کام میں سد راہ بنتی ہیں ، جو خواتین کوتشدد سے تحفظ فراہم کرنے کا کام کرتی ہیں، اس عذر کے تحت کہ کچھ تفصیلات میں اسلام کی مخالفت ۔ اس سے پہلے کہ میں بحث میں مشغول ہوں، میں آپ کویاد دلانا چاہوں گی کہ،  غلاموں کو آزاد کرنے کے  اعلان کی بھی مخالفت کی گئی تھی، جب کچھ نے دیکھا کہ لوگوں کو  غلام بناناایک ایساحق تھا جسے  دين کے ذریعہ محفوظ کیا گیا تھا ۔ لیکن اس طرح کے دفاع کی ہمت اب کسی کو نہیں تھی۔
اسلام اور خواتین
خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام کے کام میں، کمیشن اور تنظیمیں حقیقت سے ظاہر ہونے والےواقعات پر انحصار کرتے ہیں، جیسے مالالہ یوسف زئی  کا پاکستان میں اس کے حق تعلیم کے لئے،اقدام قتل، نئی دہلی میں، بس میں سوار ایک کالج  کی طالبہ کی اجتماعی عصمت دری کاواقعہ اور ہندوستان  میں سوئس  سیاح کی اس کے شوہر کے سامنے عصمت دری کا بھی واقعہ۔ جیسا کہ تنظیمیں اور کمیشن ایسا کرتی ہیں، اسلامی جماعتیں ایک بیمار تخیل  پر انحصار کرتی ہیں، جو ایک بچی سے شادی کرنے کےحق کا دفاع کرتا ہے، اس عذر کے ساتھ  کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے  اس وقت عائشہ سے شادی کر لی  جب وہ صرف ایک بچی تھیں۔ وہ یہ بھول  جاتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی شادی حضرت خدیجہ سے اس وقت ہوئی تھی جب وہ45  سال کی تھیں، اور یہ کہ، وہ ان کی موت تک ان کے وفادار رہے ۔ وہ  یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ وہ پہلی عورت ہیں، جب اسلام  کی وحی  صلی اللہ علیہ وسلم  پر نازل ہوئی ، تو مشاورت کے لئے  ان سے مدد لی  گئی تھی۔ تاہم وہ  یہ جانتے ہیں کہ بچیوں کی شادی ، اس زمانے کی رسم و رواج کے اعتبار سے ، ہماری ماؤں کی نسل تک ،ایک جائز  روایت تھی،اور اس  کی اجازت تھی۔ لیکن اب  وہ وقت چلا گیا ، اور اب یہ ممکن نہیں ہے۔
تعجب کی  بات یہ ہے کہ وہ  اسلامی جماعتیں جو خواتین کے تحفظ کی مخالفت کرتی ہیں ، ایک نعرہ  لگاتی ہیں جو یہ ہے "اسلام نے خواتین کی عزت ، آزادی اور ان کی قدر بڑھا دیا ہے۔" دوسری طرف، وہی  جماعتیں توہین، استحصال کی سطح پر، خواتین کے خلاف واقعات کی پہلی حمایت کرنے والوں میں ہیں ،شادی کے مسائل، ختنہ، غیر اعلانیہ طلاق کے لیے شادی  اور جبری شادی کے لئے ۔
اس وقت، کچھ مخالف، اسلامی جماعتوں نے  تفصیل کے ساتھ یہ تبصرہ کیا  ہے کہ اس کے بارے میں ان کے تحفظات تھے ۔ انہوں نے  یا تو اشارے میں یا  واضح طور پر اس نظریہ کے حوالے سے ، اپنے  موقف کا انکشاف  کیا ہے کہ، ‘‘ایک عورت کو اس کے شوہر کے ساتھ سونے پر مجبور کرنا تشدد ہے۔ ’’ وہ اسے تشدد کے طور پر نہیں بلکہ ایک حق کے طور پر دیکھتے ہیں!  وہ کون سی چیز ہے جو اسلام پسند ہمیں صاف صاف بتا رہے ہیں؟ بیوی شوہر کی جائداد ہے، اور اگر وہ اس کے ساتھ سونے سے انکار کر دے ، تو وہ اسے اس کے بال سے کھینچنےکا حق  رکھتا ہے، اور اس طرح وہ اپنے آپ کو اس پر مجبور کر سکتا ہے ؟ یا جیسا کہ بعض قانون دان اسے  رکھتے ہیں ،  جب جہیز کی وضاحت، بیوی  کو شوہر کی طرف سے، اس کے جسم کے کرائے کے بدلے ادا کی جانے والی رقم کے طور پر کرتے ہیں؟ کیا ایک انسان اس طرح   کے نظریہ  کی تصدیق کر سکتا ہے ، جو کہ شوہر اور بیوی کے درمیان انسانی تعلق کو گھٹا تا ہے ، خدا کے ذریعہ  اسے "محبت اور رحمت" بنانےکے بعد ؟ یقیناً یہ جماعتیں درمیان میں کھڑی ہوں گی۔ ان کے اندر  اس تشدد کی  توثیق  کی ہمت نہیں ہے ،  بلکہ وہ اس سے خطاب کرتے ہوئے قانون کے ذریعہ لڑیں گے، اس خدشہ کی وجہ سے  کہ اپنی بیوی پر ایک آدمی کا حق محدود ہے ۔
ایک لڑکی فقیہہ، جس نے  مراکش ذاتی حیثیت کے قوانین کی تشکیل میں اہم کردار ادا  کیا ،  اس نے مجھے بتایا کہ بعض قانون دان، جب انہوں نے ان  کی بیویوں کے بارے میں سوچا، ان  قوانین کی منظوری میں ہچکچا رہے تھے،  لیکن اس جب  انہیں یاد دلایا  گیا کہ ایک دن اس تشدد کا ہدف ان کی  بیٹیاں بن سکتی ہیں ، تو انہوں نے فوری طور پر  اسے منظوری دے دی ۔ یہی وجہ ہے کہ میں کہتی ہوں، اپنی بیٹیوں کے بارے میں سوچو اور آدھے راستے  میں کھڑے مت رہو۔ چلو، لیکن براہ مہربانی آگے بڑھو!
ڈاکٹر بدریہ البشر  مختلف  ایوارڈ یافتہ سعودی کالم نگار اور ناول نگار ہیں۔ امریکن یونیورسٹی  آف بیروت کی ایک پی ایچ ڈی گریجویٹ، اور یو ایس اسٹیٹ  ڈپارٹمنٹ  انٹرنیشنل وزیٹر پروگرام کی ایک  طالبہ ہیں ۔ ان کے  مضامین میں  سعودی عرب میں خواتین اور سماجی مسائل پر زور دیا جا تا ہے ۔اور  وہ اس وقت کنگ سعود یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف سوشل اسٹڈیز میں  لیکچرر ہیں ۔
ماخذ:  http://english.alarabiya.net/en/News/2013/03/18/Violence-against-women-has-no-religious-justification.html

URL for English article:

 http://www.newageislam.com/islam,-women-and-feminism/dr-badria-al-bishr/violence-against-women-has-no-religious-justification/d/10804

URL for this article:

http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-badria-al-bishr,-tr-new-age-islam/violence-against-women-has-no-religious-justification-خواتین-کے-خلاف-تشدد-کا-کوئی-مذہبی-جواز-نہیں/d/13061

 

Loading..

Loading..