New Age Islam
Wed Sep 30 2020, 09:12 AM

Urdu Section ( 8 Jan 2013, NewAgeIslam.Com)

Pakistan: Technology and Economic Development ٹیکنا لوجی اور اقتصادی ترقی

 

ڈاکٹر عطا ء الرحمٰن

جنوری، 2013

عصر حاضر میں وہ واحد عنصر جو ایک قوم کی قسمت اور سماجی و اقتصادی ترقی کا تعین کرسکتاہے، وہ ہے سائنس اور ٹیکنالوجی ۔ یہ سائنسداں اور انجینئر  ہی ہیں  جو اس دنیا کو تبدیل کررہے ہیں۔ اس کا واضح ثبوت ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑے پیمانے پر وجود میں آنے والی اشیاء ہیں جو موبائل فوج سے لےکر کمپیوٹر تک اور ادویات کی صنعت سے لے کر ہوائی جہاز وں کی تیاری تک محیط ہیں۔ بلاشبہ ملکی قیادت اور جمہوریت کی کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار معیاری تعلیم پر منحصر ہے۔ ملکی ترقی کے تمام پہلوؤں پرمعیاری نظام تعلیم ہی براہ راست اثر انداز ہوسکتا ہے ۔ چاہے وہ صنعت زراعت کی ترقی، قانون کے نظام کی انجام آوری ہو، صحت یا سماجی ذمہ داری  کا احساس ہو۔

ہمارے ملک کی  حالیہ پریشانیوں کا سہرا پچھلی اور موجودہ حکومتو کے سر ہے۔ جنہوں نے تعلیم جیسے شعبے کو مجرمانہ حد تک فراموش کیا ہے۔ ہم اپنے GDP کا صرف 1.7 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کررہے ہیں۔ اس طرح ہمار ا شمار دنیا کے ان سات کمزور ترین ممالک  میں ہوتا ہے جو اپنے GDP کا سب سےکم حصہ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ ہمارے ملک کے بچے جہالت کی نذر ہوجاتے ہیں اور اسی وجہ سےبڑے پیمانے پر بے روزگاری جنم لیتی ہے ۔ جس کے ذریعے پیدا ہونے والا انتشار آج  کے ہزاروں جوانوں بالخصوص شہر کراچی  کے نوجوانوں کو ڈکیتیوں ، لوٹ مار اور رہزنی میں ملوث کردیتا ہے کیونکہ ان کے پاس زندہ رہنے کا یہی واحد ذریعہ بچتا ہے ۔ موبائل فون کا پستول کے زور پرچھیننا  اس جرم کی ابتدا ہوتا ہے  او رپھر آسانی سےحاصل ہونے والا پیسہ انہیں گاڑیاں چھیننے اور پھر ڈکیتی اور اغوا تک کے راستے پر لے  جاتا ہے ۔ افسوس یہ ہے وہ راستہ جو پاکستان نے اپنے جوانوں کے لئے  چنا ہے اور اس جرم میں تمام حکمراں اور بڑی سیاسی پارٹیاں برابر کی شریک ہیں جنہوں نے تعلیم کے شعبے کو فراموش کر کے پاکستان کو ایک جیتی جاگتی دوزخ کا نمونہ بنادیا  ہے۔ آج اگر بین الاقوامی سطح پر چناؤ کے ذریعے معلوم کیا جائے کہ وہ کون سا ملک ہے  جہاں جرائم کی وجہ سے رہنا مشکل ہوچکا ہے اور جہاں روزگار اور تجارت کے سب سے کم مواقع ہیں تو افسوس کہ پاکستان اُن میں سب سے آگے ہوگا۔ پچھلی چھ دہائیوں  سے کی جانے والی بدترین چوری اور ہیرا پھیری نے ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر ا س حد تک مجبور کردیا ہے کہ اس کی سلامتی  بھی خطرے میں ہے ۔ اگر ہم اپنی ترجیحات پر غور کر یں اور انہیں تبدیل کرنے کی کوشش کریں تو ان سب کا حل محض ‘‘معیار ی تعلیم و تربیت’’ ہی میں مضمر ہے ۔ جس حیرت انگیز انداز سے سائنس ، ٹیکنا لوجی اور جدت طرازی نے دنیا کے کچھ ممالک میں ترقی کے رخ بدل دیئے ہیں ان کے استعمال سے ہم بھی اپنی اس حالیہ بد حالی سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی چند مثالیں یہاں پیش ہیں۔

خلیوں کی بڑے پیمانے پرافزائش بھی اب کوئی مسئلہ نہیں رہی ہے ۔ بائیوری ایکٹر کے ذریعے کثیر تعداد میں خلیے پیدا کئے جاسکتے ہیں اور جلد ہی  ایک دن آئے گا جب ہم گوشت کے خلیوں کو بھی بڑے پیمانے پر افزائش کرسکیں گے اور اس طرح یہ استعمال کے لئے  مصنوعی گوشت استعمال ہوسکے گا جو بالکل  اصل گوشت جیسا ہوگا ۔ حال ہی میں کیلفو ر نیا سین ڈیا گو کی کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ اس نے کاروباری بنیادوں پر 3D پر نٹر کی کار کردگی یہ ہے کہ کسی بھی قسم کے خلیوں کا نمونہ مہیا کرنے پر اسی قسم کے مزید خلیے بنا کر پہلے سے بتائے ہوئے طریقہ کار کے ذریعہ یکجا کرتا ہے ۔ یہ ٹیکنالوجی جس کے ذریعے وہ مختلف انسانی اعضاء تیار کرسکیں گے ایک دن نہایت ہی کار آمد ثابت ہوگی ۔

دنیا میں تقریباً 170۔130 بلین لوگ یرقان (ہیپا ٹائٹس سی ) کاشکار ہیں۔ یرقان ایک عام وائرل بیماری ہےجو کہ پاکستان سمیت اُن ممالک میں پائی جاتی ہے جہاں صاف پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہے اور ناقص ذرائع نکاسی ہے ۔ یونیورسٹی آف البرٹا کے مائیکل ہاؤٹن اور ان کے ساتھیوں نے ایک حیرت انگیز دریافت کی ہے، انہوں نے ہیپا ٹائٹس سی کے لئے ایک ایسی  ویکسین تیار کرلی ہے جو کسی بھی قسم کے ہیپا ٹائٹس کے لئے موثر ہوسکتی ہے۔

ایک میڈ رڈ ڈیز ائنر نے ایسا سفر سوٹ کیس تیار کرلیا ہے جو کہ خود بخود اپنے مالک کے پیچھے جاتا ہے ۔ اس میں بیٹری  سے چلنے والا کیٹر پلرٹر یک سسٹم نصب کردیا گیا ہے جو کسی بھی رخ میں گھوم سکتا ہے ۔ اسے اپنے فون کے بلیو ٹوٹھ سے بھی جوڑا جاسکتا ہے ۔ ایک آلہ مائیکرو پروسیسر پہلے سمت کا اندازہ لگاتا ہے اور پھر سوٹ کیس کو اس کے مالک مسافر کی طرف جانے کا اشارہ کرکے روانہ کردیتا ہے ۔

یہ تین جدید ترین مثالیں  ٹیکنالوجی کے میدان میں رونما ہونےوالی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہیں لہٰذا جن ممالک نے جدید ٹیکنا لوجی  کو اپنا یا ہے وہ تیزی سے ترقی کی راہوں پر گامزن ہیں کیونکہ  اس قسم کی ہزاروں دریافتیں  ہر ہفتے رونما ہوتی ہیں  او رجلد ہی کا روباری سطح پر دستیاب ہوجاتی ہیں۔ ان پر تحقیق  یا تو جامعات کے R&D  سینٹر ز میں ہوتی ہے یا نجی کمپینوں میں ۔ لیکن ان تحقیقاتی عوامل کی مزید نشو و نما میں ان ممالک کی حکومتوں کا بہت اہم کردار ہے جنہوں نے اپنی جامعات کو بڑے پیمانے پر فنڈ ز مہیا کر کے مضبوط کیا ہے اور ٹیکنا لوجی پارک قائم کئے ہیں اور نئی کمپنیوں کی بنیادیں رکھنے کے لئے کثیر فنڈ ز مختص کئے ہیں ۔

پاکستان میں ہم نے سائنس او رٹیکنالوجی ، تعلیم اور جدت طرازی کو نہایت ہی کم توجہ دی ہے اور جو کچھ ترقی گزشتہ سالوں میں حاصل کی تھی وہ بھی ہمارے حکمرانوں نے تباہ و برباد کردی ہے ۔ بائیو ٹیکنالوجی کے میدان  میں زراعت و میڈیسن نے بڑی ترقی کی ہے ۔ بھارت نے 1986 میں مرکزی حکومت  کے زیر سایہ شعبہ بائیو ٹیکنا لوجی قائم کیا تھا جو بیشتر بائیو ٹیکنا لوجی کے پروگراموں اور بائیو ٹیکنالوجی کی صنعت کو فنڈ ز فراہم کرتا ہے لہٰذا یہ صنعت  اُن کے یہاں بڑی تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور IT کی صنعت کے نقش قدم پر جو پہلے ہی 60 ارب ڈالر کی سالانہ بر آمد تک پہنچ چکی ہے۔ بائیو ٹیکنا لوجی کی صنعت بھی 3 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے اور 25 فیصد سالانہ کے حساب سے ترقی  کررہی ہے ۔ یہاں میں مشہور نوبیل لاریٹ  کے کچھ الفاظ آپ کے لئے پیش کررہا ہوں۔

‘‘مستقبل میں صنعتی  ترقی کے لیے بائیو ٹیکنا لوجی کی افادیت پر بہت کچھ کہا جاچکا ہے، بائیو ٹیکنا لوجی کے روشن مستقبل اور حالیہ طاقت کے مد نظر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ ترقی پذیر ممالک بائیو ٹیکنا لوجی کے مقام کو مضبوط کرنے کے لئے صف بستہ نہ ہوں ..... یہ ایک المیہ سے کم نہ ہوگا کہ جنیات’ حیاتیات او رکیمیاء کے اس قدر وسیع نظریات ترقی یافتہ ممالک (یعنی صرف دنیا کی مختصر آبادی کے بڑے سینٹر ز ہی  تک محدود ہوکر رہ جائیں ’’۔

2001 ء میں جب میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنا لوجی تھا تو میں  نے پاکستان میں نیشنل کمیشن برائے  بائیو ٹیکنا لوجی قائم کیا تھا ۔ اس کمیشن کے تحت بڑی تعداد میں پروگراموں کا انعقاد کیا گیا ۔ اس طرح بائیو ٹیکنا لوجی کی بنیادیں ڈالنا شروع ہی ہوئی تھیں کہ ملک دشمن  عناصر حرکت میں آگئے ۔ آنے والی حکومت نے ‘‘نیشنل کمیشن آف بائیو ٹیکنا لوجی ’’ کو بند کردیا اور اس کے تحت ہونے والے تمام پروگرام بھی بند کردیئے گئے ۔ سائنس کا ایک دوسرا  شعبہ بڑی تیزی سے پنپ رہا ہے وہ ہے نینو ٹیکنا لوجی ۔ چین ’ بھارت اور دوسرے بہت سے ممالک اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کررہے ہیں کیو نکہ  اس شعبے کے زیر اثر طاقتور کمپیوٹر ، الیکٹرو نک آلات ، زراعت و ادویات کی صنعت اور انجینئر  نگ کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی صنعتوں پر اثر ہورہا ہے ۔2001 ء میں  ، میں نے نیشنل کمیشن آف نینو ٹیکنا لوجی بھی قائم کیا تھا اور اس  شعبے کی ترقی کے لئے وزارت سائنس و ٹیکنا لوجی سے فنڈ ز بھی  مہیا کئے تھے لیکن صد افسوس کہ اس کے ساتھ بھی وہی ہوا جو بائیو ٹیکنا لوجی کمیشن کے ساتھ ہوا تھا ۔ نیشنل کمیشن آف ٹیکنا لوجی کو بھی آنے والی حکومت نے بند کردیا اور اس کے تحت شروع ہونے والے پروگرام بھی بند کردیئے گئے ۔ ہا ئر ایجو کیشن کمیشن (HEC) کو برباد کرنے کے لئے بدعنوان سیاستدانوں کی طرف سے کئے گئے پے در پے وار بھی اسی افسوسناک کہانی کا ایک حصہ ہیں۔ اس کا بجٹ بھی آدھا رہ گیا ہے اور اس کے بیشتر پروگراموں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بند بھی کرادیئے گئے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے دشمن تو خود اسی ملک میں موجود ہیں ، جنہوں نے پکاارادہ کرلیا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی شعبے میں ترقی نہیں کرنے دیں گے تاکہ وہ ایک ناکام ریاست بن جائے جب کہ خود لوٹ مار کر کے تمام ملکی  اثاثے بیرون ملک بنکو ں میں جمع کر کے خود بھی بیرون ملک روانہ ہوجائیں گے۔

جنوری ،2013  بشکریہ : طلوع اسلام ، پاکستان

URL:

 http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-ataur-rahman-ڈاکٹر-عطا-ء-الرحمٰن/technology-and-economic-development-ٹیکنا-لوجی-اور-اقتصادی-ترقی/d/9924

 

 

Loading..

Loading..