New Age Islam
Fri Sep 25 2020, 07:42 AM

Urdu Section ( 18 Oct 2019, NewAgeIslam.Com)

Sir Syed Ahmad Khan and Hindu-Muslim Unity سرسید اور ہندومسلم اتحاد


ڈاکٹر عرفات ظفر

17اکتوبر،2019

سماج کے ہوش مند اور بیدار مغزافراد نے ہر دور میں ظلم و ناانصافی اور نفرت و تشدد کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور قوم کو اتحاد اتفاق اور محبت و رواداری کادرس دیا ہے۔ تاکہ ملک کے تمام باشندے امن و سکون کے ساتھ زندگی گزاریں، ملک خوشحال ہو اور ترقی کرے۔ مصلح قوم سرسید علیہ الرحمہ (1817-1898ء) نے بھی اپنے عہد میں ہندو اور مسلمان دونوں کو اتحاد و یکجہتی کا بھولا ہوا سبق یاد دلایا۔انہیں تعلیم کو ترقی کا زینہ بنانے کا مشورہ دیا۔ ملک کے نوجوانوں سے اپیل ہے کی کہ وہ تعلیم کی روشنی کو پھیلائیں اور سماج کے اندر سے عصبیت وتنگ نظری اور بغض و عناد کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کریں۔سرسید کے نزدیک مذہب ان اعلیٰ اخلاقی و روحانی اقدار سے عبارت ہے جو ایثار ومحبت اور خدمت خلق کے جذبات کو فروغ دیتے ہیں۔ ہندوؤں سے سرسید کے خاندانی مراسم تھے۔ ان کے نانا نواب فریدالدین خان نے اپنی جائیداد کونہ صرف اپنے بیٹوں میں تقسیم کیا بلکہ برابر کا حصہ اپنے دیوان لالہ ملوک چند کو بھی دیا۔ اسی طرح سرسید ہندوؤں کے تہوار وں میں شرکت کرتے اوراپنے ہندو دوستوں کو اس کی مبارک باد دیتے۔ سرسید نے غازی پور میں جب مدرسہ قائم کیا تو اس کی سنگ بنیاد کے لئے انہوں نے راجہ دیونارائن سنگھ اور مولانا محمد فصیح دونوں کو مدعو کیا۔ اسی طرح یہ واقعہ بھی ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہے کہ سر سید کے پوتے سرراں مسعود سابق وائس چانسلر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی رسم بسم اللہ خوانی ہورہی ہے اور ننھے مسعود اپنے دادا کے دوست راجہ جے کشن داس رئیس مراد آباد کی گود میں بیٹھے ہیں اور اسی حالت میں مولوی صاحب انہیں بسم اللہ اور قل اللہ شریف کا پہلا درس دے رہے ہیں۔ سرسید نے ہمیشہ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ انگریزوں کے دور حکومت میں جب وہ عدالت عالیہ میں ملازم تھے، سبھی طبقات کے مقدمات ان کی عدالت میں آتے تھے لیکن انہوں نے جس بے تعصبی اور کشادہ دلی سے اپنے فرائض انجام دیئے اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ ہندو عوام ان پر بھروسہ رکھتی تھی۔ اور ان کے غیر مسلم معاصرین انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد جب وہ بنارس سے روانہ ہونے لگے تو وہاں کے ہندو مسلم رؤساء اور انگریز حکام نے ان کے لئے الوداعیہ تقریب منعقد کی جس میں ان کی سرکاری اور قومی خدمات کے علاوہ ان کے بے لاگ انصاف اور غیر متعصبانہ فیصلوں کی نہایت تعریف کی۔ سرسید ہندو مسلم اتحاد اور مذہبی رواداری پر مبنی افکارو خیالات کوعام کرتے رہے۔ بنارس میں اپنی ملازمت کے دوران سرسید آریہ سماج تحریک کے بانی سوامی دیانند سرسوتی (1824-1883ء) کو اپنے گھر بلا کر ان سے ویدوں کے اشلوک سنتے تاکہ مذاہب کے تقابلی مطالعہ میں وہ آریہ سماجی تحریک کے افکار سے مستفید ہوں۔ سوامی دیانند سرسید کو ”مہارشی“ کے لقب سے پکارتے اور اکثر علی گڑھ آکر ان سے ملاقات کرتے تھے۔

وطن دوستی اور قومی یکجہتی کے تعلق سے سرسید کے بعض اقوال ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ وہ بار بار دہرائے جاتے ہیں۔ امتداد زمانہ کے باوجود ان کا حسن اور ان کی معنویت برقرار ہے۔ایک موقع پر تقریر کرتے ہوئے سر سید نے فرمایا: ”ہندوستان ایک دلہن کے مانند ہے۔ جس کی خوبصورت اوررسیلی دوآنکھیں ہندواور مسلمان ہیں“۔ اسی طرح اتحاد و اتفاق، آپسی بھائی چارگی، خلوص و ہمدردی اور اخوت و محبت سے متعلق اپنے جذبات کااظہار سرسید نے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا ہے۔ ”میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو مثل اپنی دو آنکھوں کے سمجھتا ہوں۔ اس کہنے کو بھی میں پسندنہیں کرتا کیونکہ لوگ علی العموم یہ فرق قرار دیں گے کہ ایک کو دائیں آنکھ اور دوسری کو بائیں آنکھ کہیں گے۔ مگر میں ہندو اور مسلمان دونوں کو بطور ایک آنکھ کے سمجھتا ہوں۔ اے کاش میرے صرف ایک ہی آنکھ ہوتی کہ اس حالت میں، میں عمدگی کے ساتھ ان کو اس ایک آنکھ سے تشبیہ دے سکتا۔ ہندو مسلم اتحاد کی اس سے بہتر ترجمانی نہیں ہوسکتی۔ یہ تشبیہ محض ایک جذباتی تقریر نہیں ہے بلکہ سرسید کے اس بنیادی فکر کی آئینہ دار ہے جسے وہ ملک کے اتحاد وسالمیت کے لئے ناگریز سمجھتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اتحاد، ایثار اور تحمل کے بغیر ملک کو آزادی اور استحکام نصیب نہیں ہوسکتا۔ہمارے اسی افتراق،تنگ نظری اور مفادپرستی کے باعث انگریز ہمیں غلام بنانے میں کامیاب ہوئے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ سرسید نے ہندوستانی مسلمانوں کی جہالت، پستی اور زبوں حالی کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور یہ محسوس کیا کہ جدید تعلیم کے بغیر اس سے نکلنے کا او رکوئی راستہ نہیں اور پھر مسلم معاشرہ کی اصلاح و ترقی کو انہوں نے اپنا مطمح نظر بنا لیا۔ چند کوتاہ بیں لوگوں نے ان کی انہیں کوششوں کو غلط فہمی کی بنیاد پر ہندو مخالف سمجھ لیا اور ان پر فرقہ پرست ہونے کا الزام لگایا۔ حالانکہ سرسید کی تمام تحریریں اور تقریریں اس شائبہ سے نہ صرف پاک ہیں بلکہ ان میں قومی یکجہتی، اجتماعی فلاح و بہبود او راعلیٰ انسانی اقدار کا پیغام ملتاہے۔ سرسید نے اپنی اس تقریر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں بھائی یعنی ایک ماں کی دو اولاد سے تعبیر کیا ہے۔ یہ ان متعصب مؤرخین اور سیاستدانوں کے لئے غور کرنے کامقام ہے جو سرسید کو فرقہ پرست یا علیحدگی پسندکہتے ہیں۔ مسلمان صدیوں تک ہندوستان کے حکمراں رہے ہیں۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی تعمیر و ترقی میں انہوں نے نا قابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ اردو جیسی شیریں زبان ان دونوں قوموں کے اختلاط سے وجود میں آئی۔ سرسید کی قومی یکجہتی او ران کے کالج کے سیکولر کردار کی اس سے عمدہ مثال کیا ہوسکتی ہے کہ اس کے دروازے تمام مذاہب کے طلبہ کے لئے یکساں کھلے رہے ہیں۔ کالج کا پہلا گریجویٹ ایشوری پرشاد ایک ہندو تھا اور دوسرے اعلیٰ تعلیم سے بہرہ ور فارغ التحصیل امبا پر شاد تھے۔ کالج کے ہیڈ ماسٹر سڈنس اور نائب ہیڈ ماسٹر لالہ بیج ناتھ پرشاد تھے۔ اساتذہ میں شری جادو چندر چکر ورتی ریاضی کے استاد تھے اور شری شیو شنکر سنسکرت پڑھاتے تھے۔ یہی نہیں کالج کی انتظامیہ میں بھی تمام مذاہب کے لوگ شامل تھے۔ کالج کے کیمپس میں ہندو اساتذہ او رطلبہ بغیر کسی بھید بھاؤ کے رہائش پذیر رہتے ہیں۔ اس پس منظر میں اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس کالج کا بنیادی مقصد اگرچہ مسلمانوں میں جدید تعلیم کو عام کرنا تھا، تاہم اس کے دروازے سے بلا امتیاز مذہب و ملت سب کے لئے تھے۔ فرقہ پرست او رناعاقبت اندیش عناصر سے بے پرواہ ہوکر سر سید نے ایثار واخلاص اور قومی یکجہتی کے اپنے پیغام کو پھیلانے کے لئے ہر سو جتن کیے۔ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ ہندوستان کی ترقی اسی صورت میں ممکن ہے جب کہ ہندو او رمسلمان متحد ہوکر رہیں۔ وہ کسی ایک فرقے کی ترقی کو ملک کی ترقی نہیں سمجھتے تھے۔ وہ جب تک زندہ رہے اپنے قول و عمل سے اس کی گواہی دیتے رہے۔

سرسید نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو قریب لانے اور انہیں ایک لڑی میں پرونے کاکوئی ایک موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ تعلیم کے ساتھ قومی اتحاد کو بھی وہ اپنے مشن کا حصہ سمجھتے تھے۔ ایک موقع پر ہندوؤں او رمسلمانوں کو خطاب کر کے یوں فرماتے ہیں:

”اے عزیز و! جس طرح ہندوؤں کی شریف قومیں اس ملک میں آئیں اسی طرح ہم بھی اس ملک میں آئے۔ ہندواپنا ملک بھول گئے، اپنے دیش سے پردیش ہونے کا زمانہ ان کویاد نہیں رہا اور ہندوستان ہی کو انہوں نے اپنا وطن سمجھا۔ ہم نے بھی ہندوستان کواپنا وطن سمجھا او راپنے سے پیش قدموں کی طرح ہم بھی اس ملک میں رہ پڑے۔ پس اب ہندوستان ہی ہم دونوں کا وطن ہے۔

سرسید کے یہ الفاظ اس تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کے ساتھ ساتھ ہندو مسلم اتحاد کی ناگریز یت پر دال ہیں۔ سرسید نے نہ صرف اس اتحاد واتفاق کی پرزور حمایت کی ہے بلکہ اس کی حصولیابی کے لیے وہ خدائے بزرگ وبرتر کے سامنے دست بدعا بھی نظر آتے ہیں۔ ملاحظہ ہوں ان کے یہ الفاظ: ”مجھے امید ہے کہ ہندوستان میں جس میں خدا نے ہم کو او رہماریہ ہندو بھائیوں کو آباد کیا ہے جس سے اس کا منشا یہ پایا جاتا ہے کہ ہم دونوں گروہ بھائی ہو کر اور ایک دوسرے کو بھائی سمجھ کر ایک دوسرے کی مدد کریں۔......... میری دعا ہے کہ خدا ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی مدد کا خیال پیدا کرے او رایک کو دوسرے کا حامی کرے“۔ اتحاد و مفاہمت کی جتنی ضرورت عہد سرسید میں تھی اس سے کہیں زیادہ اس کی حاجت آج کے ہندوستانی معاشرہ کو ہے۔

17اکتوبر،2019، بشکریہ:انقلاب،نئی دہلی

URL: http://www.newageislam.com/urdu-section/dr-arafat-zafar/sir-syed-ahmad-khan-and-hindu-muslim-unity--سرسید-اور-ہندومسلم-اتحاد/d/120029

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism



Loading..

Loading..