New Age Islam
Mon Sep 28 2020, 02:52 AM

Urdu Section ( 9 Aug 2015, NewAgeIslam.Com)

Diversity of Thoughts in Akhtar ul Imaan's Poetry اخترالایمان کی شاعری میں تخیلات کی رنگارنگی

 

 

 

 

ڈاکٹر احسان عالم

9 اگست، 2015

اختر الاایمان کی پیدائش 1915ء کو صوبہ اتر پردیش کے نجیب آباد میں ہوئی۔ ان کی ابتدائی تعلیم بجنور میں ہوئی ۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے دہلی روانہ ہوئے اور وہاں ذاکر حسین دہلی کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے فلموں کےلئے مکالمے لکھے ۔ اس کام میں غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل کی ۔ فلم ‘‘ دھرم پترا’’ کے لئے 1963ء میں اور ‘‘وقت’’ کےلئے 1966 ء میں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ ان کو ان کے شعری کلام ‘‘یادیں’’ کے لئے ساہتیہ اکادمی انعام سے سرفراز کیا گیا ۔

جب ہم اختر الایمان کی شاعری کامطالعہ یکسوئی کےساتھ کرتے ہیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی شاعری ایک ایسے موڑ پر کھڑی نظر آتی ہے، جہاں ترقی پسند تحریک دم توڑتی نظر آتی ہے اور جدیدیت کے افکار و عوامل جڑ پکڑ تے اور تندرست و توانا نظر آتےہیں ۔ ترقی پسند تحریک نے جن اہم شاعروں کو جنم دیا انہوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے جو معیار و اقدار وضع کئے وہ ایسے تھے کہ ان سے انحراف کرنے کی صورت میں کوئی دوسرا ان کے آگے بڑھ نہیں سکتاتھا او رنہ اپنی آواز کو ان سے الگ کرکے اپنی شناخت قائم کرسکتا تھا ۔ ترقی پسندوں کے یہاں صرف تاریخ کی بڑھتی طاقتوں کا تذکرہ ملتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ استحصال کے خلاف پست طبقے کی حمایت کا نعرہ بلند ہوتا سنائی دیتا ہے۔ ان کا موضوع روزی ، روٹی، مزدور اور کسان ہے۔ ٹھیک اس کے رد عمل میں حلقہ احباب ذوق و شعرانے خاص طور سےاس موضوع کو اپنایا ان میں انسان کی داخلی احساسات کی نفسیاتی پیچیدگیاں اہم ہیں۔ ترقی پسند تحریک کے یہاں اس زمانے میں غزلوں اور نغموں میں جو فضا ہے وہ بنیادی طور پر اردو کا المیہ شعری ماحول یا یوں کہا جائے غزلیہ فضا ہے۔

اختر الایمان کے یہاں اس غزلیہ فضا سے انحراف کی صورت ملتی ہے وہ رومان کو رد کرنا چاہتے ہیں اور اسے عشق تک محدود کرناچاہتے ہیں۔ رومانیت تخیل پسندی کا نام ہے۔ ان کی شاعری میں تخیل کا بھی ہاتھ رہا ہے۔ ترقی پسند شاعروں میں ان کے ذہنی سفر کی جو صورت ملتی ہے اس میں رومان سےانقلاب کی طرف مڑ نے کاانداز صاف طور پر ملتاہے۔ جمیل مظہری ،سردار جعفری، پرویز شاہدی، فیض احمد فیض کے یہاں واضح طور پر حقیقت نگاری کے تئیں ایک رومانی رویہ ملتا ہے۔ اختر الایمان نے شعوری طور پر خود کو بچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنی جگہ یہ بھی درست ہے کہ رومانیت کے بغیر اچھی شاعری ممکن نہیں۔ تجربہ کو عمل جامہ پہنانے کے لئے تخیل کا زبردست ہاتھ ہوتا ہے۔

اختر الایمان ایسے شاعر ہیں جنہیں تنقید کے سخت سے سخت معیار پر پرکھنے کی کوشش کی گئی اور وہ ہر جگہ کامیاب ہوئے۔ وہ فکر کو جذبہ میں ڈھالنے اور فکر و فن دونوں کو صحیح طور پر برتنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ فراق گورکھپوری نےان کی شاعری پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

‘‘نئے شاعروں میں سب سے گھائل آواز اختر الایمان کی ہے۔ اس میں جو چلبلا پن ، تلخی اورجود ہک اور تیز دھار ہے وہ خود بتادے گی کہ ہندوستان کے نوجوانوں کی زندگی کا المیہ کیا ہے۔’’

ہر شاعر اپنے مخصوص ذہن اور جذباتی رجحان کے مطابق اپنے شعر کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتاہے۔ کسی کے یہاں تخیل کی رنگارنگی ہے تو کہیں احساسات کی ۔ کسی کی شاعری میں نزاکت کا رنگارنگ ہے تو کہیں جذبات کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ اختر الایمان کے یہاں رومانیت کی گہری آنچ اور خلش کا شدید احساس ملتاہےانہوں نے دھیرے دھیرے روح کے تاروں کو چھیڑ نے کا جو ہنر اختیار کیاہے وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ یہ ان کا منفرد طریقہ ہے۔ ان کی شاعری شعور کی لطافت اور دل و دماغ کو ایک مخصوص انبساط پہنچانے کا آلہ ہے ۔ اختر الایمان کی شاعری کا کوئی ایک رخ نہیں ہے۔ اس لئے آسانی سےان پر کوئی لیبل لگانا آسان نہیں ۔ ان کے یہاں خارجی زندگی کا ادراک بھی ہے اور فرد کی داخلی زندگی کے پیچیدہ مسائل بھی ہیں۔ سیاسی اور اجتماعی محرکات بھی ہیں اور جنسی و عشقیہ بھی ۔ ان کی نظموں کا پہلا مجموعہ ‘‘ گرداب’’ ہے جو 1944ء میں شائع ہوکر منظر عام پر آیا۔ اس مجموعے کی خاص نظمیں مسجد، پرانی فصیل ، تنہائی موت، جواری اور پگڈنڈی ہیں۔ ان تمام نظموں میں انہوں نے علامتی اسلوب اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو مناظر ان نظموں میں رونما ہوئے ہیں وہ دور رس اور حقائق پرمبنی ہیں ۔ ملاحظہ ہوں ‘‘پرانی فصیل’’ کے چند اشعار :

وہاں سہمی ہوئی ، ٹھٹھری ہوئی راتوں نے دیکھے ہیں

غلاظت آشنا، جھلسے ہوئے انسان کے چلے

یہ وہی ہیں جو نہ ہوتے کوکھ پھٹ جاتی مشیت کی

تمنا ؤں میں ان کی رات دن کھینچے گئے چلے

اختر الایمان نے انسانی تہذیب کا بخوبی جائزہ لیا ہے اور اس کرب کو محسوس کیا ہے او راسے اپنی نظم ‘‘تنہائی ’’ میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے:

ایک دھند لگا سا ہے دم توڑ چکا ہے سورج

شب کے دامن میں ہی دھبے سے سیہ کاری کے

اور مغرب کی فنا گاہ میں پھیلا ہوا خون

دبتا جاتا ہے سیاہی کی تہوں کےنیچے

اختر الایمان کے یہاں مخصوص انداز او رلہجہ ہے اور جس نے ان کی نظموں کو انفرادیت بخشی ہے وہ دور سے پہچانی جاسکتی ہیں ۔ اس کی ابتدا ‘‘تاریک سیارہ’’ کی بعض نظموں سے ہوتی ہے۔ ان نظموں پر ان کے انداز کا عکس نمایاں ہے۔ ان نظموں میں جہاں تہہ داری ، ندرت، تازگی اور گہرائی ہے وہاں سادگی او ربے ساختگی بھی ہے جو قاری کو اپنی طرف کھینچنے کی قوت رکھتی ہے۔ یہاں علامتی شاعری کی معنویت او رہمہ گیری بھی ہے اور شاعری کی وضاحت بھی ہے۔ ان نظموں کے ذریعہ اختر الایمان نے اظہار و اسلوب کے جو پیرائے دریافت کئے ہیں ان سے جدید اردو نظم میں کئی سمتیں پیدا ہوئی ہیں۔ نظم کے چند اشعار ملاحظہ ہوں :

اس بھرے شہر میں کوئی ایسا نہیں

جو مجھے راہ چلتے کو پہچان لے

اور آواز دے اوبے اور سرپھرے

دونوں اک دوسرے سے لپٹ کر وہیں

گرد و پیش اور ماحول کو بھول کر

گالیاں دیں، ہنسیں ہاتھا پائی کریں

پاس کے پیڑ کی چھاؤں میں بیٹھ کر

گھنٹوں اک دوسرے کی سنتیں او رکہیں

اور اس نیک روحوں کے بازار میں

میری یہ قیمتی بے بہا زندگی

ایک دن کےلئے اپنا رخ موڑ لے

اختر الایمان نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ ان کےنظموں کی زبان الفاظ کے موضوع کی مناسبت سے ہو۔ مواد اور پرایہ بیان اس طرح ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں کہ پوری نظم ایک اکائی کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہو۔ انہوں نے نظم کی وحدت او راس کی فنی تکمیل پر خاص طور سے توجہ دی ہے۔ انہوں نے خارجی مشاہدات اور تجربات کو بھی اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے۔ ساتھ ہی داخلی واردات او رذاتی کیفیات کوبھی اس میں جگہ دی ہے۔ آج جب دنیا تیزی کےساتھ آگے بڑھ رہی ہے اور اخلاقی اقدار سے آزاد ہوتی جارہی ہے ، ضمیر کا خاتمہ ہونے لگا ہے اور سماج کے اصولوں کا خوف دل سے اٹھتا جارہا ہے ایسے حالات میں اخترالایمان نے اپنے تجربوں کو جس رعنائی او ردلکشی کے ساتھ پیش کیا ہے اسے کوئی بھی دانشور قاری نظر انداز نہیں کرسکتا ۔

نیند سے اب بھی دور ہیں آنکھیں گوکہ نہیں ہیں سب بے خواب

یادوں کے بے معنی دفتر خوابوں کے افسردہ شہاب

سب کے سب خاموش زباں سےکہتے ہیں اے خانۂ خراب

گذری بات صدی یا پل ہوکر گذری بات ہے نقش برآب

اختر الایمان نے اپنے شاعری کے سلسلے میں خود ہی کہا کہ ان کی شاعری ایک بازیافت ہے اور ان میں بھولی بسری یادوں کے نقوش ہیں۔ ایسے نقوش جو آج ان کی عظمت کی دلیل بن چکے ہیں۔

اختر الایمان تلخ سماجی حقائق کے بیان میں جارحانہ انداز اختیار کرنے کے بجائے نرم اور متوازن لب و لہجہ میں اپنی بات کہہ جاتے ہیں اور بغاوت پر اکسانے کے بجائے مایوس نہ ہونے کی تلقین کرتےہیں ۔ خاص طور سے ان نظموں کے وہ حصے زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں جہاں متضاد کیفیات و جذبات کے اظہار نے ڈرامائی انداز اختیار کرلیا ہے۔ فنی اعتبار سے بھی ان کی نظمیں پوری طرح کامیاب ہیں۔ موضوع اور ماحول کے اعتبار سے ہم آہنگ الفاظ استعمال کرتےہیں، ان کا لہجہ نرم ہوتا اور بڑے دھیمے لہجے میں دل کی آنچ کو باہر لانے کی کوشش کرتےہیں ۔

مجموعی طور پر اختر الایمان کی شاعری عہد جدید کے ادبی سرمائے میں ایک اہم اضافہ ہے۔

9 اگست، 2015 بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: http://newageislam.com/urdu-section/dr-ahsan-alam/diversity-of-thoughts-in-akhtar-ul-imaan-s-poetry--اخترالایمان-کی-شاعری-میں-تخیلات-کی-رنگارنگی/d/104220

 

Loading..

Loading..