New Age Islam
Wed Oct 21 2020, 02:22 PM

Urdu Section ( 27 Jul 2020, NewAgeIslam.Com)

Definition of Sufism in Today's India آج کے ہندوستان میں تصوف کی تعریف


ڈاکٹر عبدالسمیع بوبیرے

25جولائی،2020

تصوف کوعام طو پرمذہب اسلام کا باطنی پہلوتصور کیا جاتا ہے۔ مادیت سے دور رہتے ہوئے وہ اپنی روح کے بارے میں غوروفکرکرتے ہوئے باطنی مشاہدے اور خدا کی تلاش پر زور دیتا ہے۔ اپنے باطن کو روشن کرنے کا عمل انسان کو دنیاوی مال ومتاع کی فکرسے آزاد کردیتا ہے اور اس کے اندر تقدس اور پاکیزگی پیدا کرتا ہے یہاں تک کہ خدا اور روح کے درمیان کا فرق مٹ جاتاہے۔تصوف طریقت کے اصولوں پر عمل کرنے کا نام ہے۔ طریقت میں کئی سلاسل ہیں، لیکن مقصد سب کا ایک ہی ہے۔

 ہندوستان جیسے کثیر المذاہب ملک کے لئے ایک سیکولر اورتکثیری تہذیب کی تشکیل میں ان سلاسل نے ایک اہم رول ادا کیا ہے۔طریقت نے تحمل، رواداری، اور تکثیریت کو فروغ دیا ہے اوریہ بات بغیرکسی بیرونی کوشش کے انتہا پسندی کی ہر شکل کوختم کردیتی ہے۔آج کے شورش زدہ ہندوستان میں، جہاں سیاست کے میدان پر انتہا پسند نظریات نے قبضہ کرلیا ہے اور مذہبی رواداری اورسیکولرزم کے لئے زمین تنگ ہوتی جارہی ہے، سماجی اختلافات کی خلیج کو گہرا کیا جارہا ہے اور ملک کو پھر ماضی کے تاریک دور کی طرف دھکیلنے کی کوشش ہورہی ہے، تصوف ایک بہترین متبادل فراہم کرتا ہے۔صوفی نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ تصوف نے ہمیشہ ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم تیار کیا ہے۔

مسلکی اختلافات کے لئے کوئی جگہ نہیں مسلک جہاں مذہبی اور ہے۔ تصوف نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ تکثیریت کے ساتھ جینےکے اصولوں پر عمل کیا جائے۔ اور اس کےماننے والوں نے انہی اصولوں پر عمل کیا ہے۔ ہندوستان کے پس منظرمیں تصوف نے تمام مذاہب کے احترام پر زور دیا ہے۔ ’ہندوستان میں صوفیوں نے ماضی میں جتنے بھی سلاسل قائم کئے ہیں، ان میں ایک بات سب سے زیادہ نمایاں ہے اور وہ ہے تمام عقائد کے درمیان اسلام کا نظریہ امن۔‘ تصوف پیغمبر اسلام  صلى الله عليه وسلم کا ورثہ ہے ۔ آپ صلى الله عليه وسلم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کبھی غصہ یا ناراض نہیں ہوتےتھے، بلکہ لوگوں کو معاف کردیتے تھے۔ یہاں تک کہ جن دشمنوں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو بے انتہا اذیتیں دی تھیں آپ صلى الله عليه وسلم نےانہیں بھی معاف کردیا۔ تاریخی اعتبار سے مسلمانوں نے ہندوستان میں تمام مذاہب کے ساتھ خوشگوار تعلقات رکھے ہیں۔تصوف کا بنیادی نظریہ بھی یہی ہے کہ امن اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے۔ تصوف اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ ذاتی روحانی ترقی کے ذریعہ انسانیت کی خدمت کی جائے۔ ہندوستان میں اس نظریہ کو قبولیت اس لئے ملی کہ یہ مختلف مذاہب کے درمیان موجود دراڑ کو کامیابی کے ساتھ بھر رہا تھا۔ اسے اسلام کے ایک مسلک کے بجائے ایک نظریہ زندگی کی حیثیت سے قبول کیا گیا۔اس کے علاوہ مختلف ثقافتوں کو اپنےاندرجذ ب کرنے کی اس کی صلاحیت ہندو مسلم اتحاد کی بنیاد فراہم کرسکتی ہے، جس کی اس وقت زبردست کمی ہے۔ حالانکہ تصوف مختلف مذہبی عقائد کے درمیان نظریاتی اختلافات کی موجودگی کو تسلیم کرتاہے لیکن وہ یہ بھی مانتا ہے کہ ان اختلافات کوباہمی افہام و تفہیم کی بنیاد پر پرامن طریقے سے دور کیا جا سکتا ہے۔ہندوستان کے موجودہ سیاسی ماحول میں مختلف عقائد کے ماننے والوں، خصوصاً ہندو اور مسلمانوں کوچاہیے کہ وہ پھر سے افہام وتفہیم اور امن کے اصولوں پرعمل کریں تاکہ جمہوری اقدار اور ہم آہنگی کو برقرار رکھا جاسکے۔ ’’تصوف امن، بقائے ہاہمی،رحم دلی، اور مساوات کی آواز ہے۔ یہ عالمی اخوت کی پکار ہے۔‘ )ہندوستانی وزیر اعظم نریندرمودی(صوفی نظریات سارے ہندوستان میں ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ تصوف کے ماننے والوں اور صوفیوں نے ہمیشہ جنونی اور انتہا پسندنظریات کی مخالفت کی ہے خواہ ان کا تعلق اسلام سے ہویا کسی اور مذہب سے۔ ان کی توجہ ہمیشہ بین المذاہب اتحاد پررہی ہے،جو کہ ہندوستان کی سالمیت، ہم آہنگی اور تکثیریت کی بقا کے لئے بہت ضروری ہے۔

تصوف مسلمانوں سے اس بات کی توقع کرتاہے کہ اختلافات کوبھلاکر ایک ہو۔ اسلام کے امن کے پیغام پرعمل کریں اور ساری دنیا میں اسے عام کریں۔صوفی تحریک کی مقبولیت کو ہندوستان کی مذہبی رواداری کے تناظر میں دیکھنا چاہئے۔ راقم الحروف نے ہندوستان اور بیشتر ممالک کے مشائخ ، صوفیاء اکرام اور دانشوروں پرمشتمل عالمی صوفی مجلس الحمد اللہ اپنے رفقاء کے تعاون سے اسی مقصد کے پیش نظرقائم کی ہےتا کہ ہندوستان اور دنیا کے صوفیاء کرام نے انسانیت کاجو درس اور پیغام دیا ہے،اسے ایک تحریک کے ذریعہ مبسوط انداز میں عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ صوفی اقدار کی جڑیں جتنی گہری اور مضبوط ہوں گی ملک اور دنیا کے لئے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ مادہ پرستی اورتنفر کی جو وبا پھیلتی جا رہی ہے اس کی تطہیر کی جائے۔ مذہبی رواداری اور اہل القلوب کا وہ دور لانا ہو گا جس کی آج ملک اور ایک عالم کو ضرورت ہے۔ صوفیائےہند نے سسکتی انسانیت کے درد کا مداوا کیا ہے ۔ہمیں عزم کرنا ہے کہ ہم صوفیاء کی تعلیمات کو عام کریں ۔

عزم محکم ہو تو ہوتی ہیں بلا ئیں پسپا

کتنے طوفان پلٹ دیتا ہے ساحل تنہا

25جولائی،2020، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/dr-abdul-sami-bobere/definition-of-sufism-in-today-s-india-آج-کے-ہندوستان-میں-تصوف-کی-تعریف/d/122478


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..