New Age Islam
Sat May 08 2021, 01:33 PM

Urdu Section ( 10 Nov 2016, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Destroyers of the Islamic Monuments are Afraid of Its Protectors آثار مٹانے والے عناصر آثار کی حفاظت کرنے والوں سے خوف زدہ ہیں

 

روز نامہ صبح نامہ اردو

10 نومبر ، 2016

نئی دہلی 9 نومبر ( پی ایس آئی) آثار مٹانے والے عناصر آثار کی حفاظت سے کرنے والوں سے خوف زدہ ہیں ۔ مکہ معظّمہ پرحملہ جس کسی نےبھی کیا ہو وہ مسلمان نہیں ۔ یہ انتہائی قابل مذمت حرکت تھی ۔ لیکن اس حملہ کی آڑ میں مسلکی اختلافات اٹھانے کی کوشش کے پیچھے صرف یہ خوف ہے کہ وسیلہ ، شفاعت ، تعظیم ، یا توسل ، استغاثہ اور زیارت پر عمل کرنے والے لوگ پوری دنیا میں ایک نہ ہوسکیں ۔ ان خیالات کا اظہار کل رات تریپورہ کے اگرتلہ سے دہلی واپسی کے بعد میڈیا کارکنوں سے بات کرتے ہوئے یہاں آل انڈیا علماء مشائخ بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی نے کہی ۔ ان سے مکہ مکرمہ پر حالیہ حملہ، یمن کی ایک تنظیم پر حکومت سعو دی عرب کےالزام او راسی طرح کے سوالات پوچھے گئے جن کےجواب میں سنی صوفی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم آل انڈیاو مشائخ بورڈ کے صدر اور بانی نے کہا کہ ایک انتہا پسند فکر نے پورے عالم اسلام میں اپنی برتری کی خاطر سماجی و سیاسی تحریک سےلے کر تشدد اور ہشت تک تمام ہتھکنڈوں کا استعمال کرنے کا طریقہ اپنارکھا ہے اور تشدد و تباہی کی ہر واردات کے پیچھے ہاتھ اسی فکر کاہے جس کی سر پرست سعودی عرب کی حکومت ہے۔ انہوں نے شیعہ سنی اختلافات کوبڑھاوا دینے کی حالیہ وارداتوں سے متعلق ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ شیعہ سنی اختلاف کی بات ہی بے بنیاد ہے۔

شیعوں کے ساتھ اختلاف سنیوں کا نہیں ، وہابیوں کا ہے۔ شیعہ عید میلاد النبی میں جلوس محمدی نکالتے ہیں اور سنی عزا واری میں شریک ہیں۔ یہاں مشترک چیز وسیلہ ہے لیکن وہابیوں کو حنفی اور جعفری ققہ کے ماننے والوں سے جوڑنے والی یہی مشترکہ کڑی غائب ہے۔ آثار کو قائم رکھنے اور اسلامی تہذیبی نشانیوں کوبرقرار رکھنے کی مشترکہ خواہش سنیوں اور شیعوں دونوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہابیوں اور سلفیوں نے سارے اسلامی ممالک میں مستحکم معیشتوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی ۔ وہ دیگر ممالک کے علاوہ تیونس میں ، لیبیا میں، شام میں ، عراق میں ، مالے میں اور اب یمن میں بھی کامیاب ہوئے ۔ صرف ایک ملک مصر ایسا ہے جس کے عوام نے تاناشاہی کے خلاف جد و جہد کے ذریعہ اخوان المسلمین کو اقتدار تک آنے دیا مگر جیسے ہی اخوان کا سلفی ایجنڈا سامنے آیا عوامی رد عمل شروع کردیا گیا ۔ تحریر اسکوائر پر حسنی مبارک کا تختہ الٹنے کے لئے جتنی بڑی بھیڑ آئی تھی او رمحمد مرسی کی حکومت سازی کا سبب بنی تھی اس سے دو گنی بھیر مرسی کے خلاف اسی مقام پر آئی اور اس نے لفیت کی نفی کااعلان کرتے ہوئے مرسی کی کرسی چھین لی۔ مصر نے پوری دنیا کو راہ دکھائی کہ اسے اپنا صوفی کردار سماجی تبدیلی اور سیاسی انقلاب کی قربان پر بھینٹ نہیں چڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگ رہاہے کہ اس وقت اگر دنیا کےمسلمانوں کے سامنے اسلامی قیادت کے لیے سعودی عرب او رایران میں سے کسی ایک کو چننے کا مرحلہ آیا تو 90 فیصد مسلمان ایران کی قیادت کاساتھ دیں گے۔

10 نومبر ، 2016 بشکریہ : روز نامہ صبح نامہ اردو، لکھنؤ

URL:http://newageislam.com/urdu-section/daily-subahnama-urdu/destroyers-of-the-islamic-monuments-are-afraid-of-it-s-protectors--آثار-مٹانے-والے-عناصر-آثار-کی-حفاظت-کرنے-والوں-سے-خوف-زدہ-ہیں/d/109066

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..