New Age Islam
Wed Jun 19 2024, 06:17 AM

Urdu Section ( 16 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Do Not Entertain Any Defamation of Islam Resolution… ہتک اسلام کی قرارداد کو قابل اعتناء نہ سمجھیں، سلطان شاہین کااقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ

 

ہتک اسلام کی قرارداد کو اس وقت تک قابل اعتناء نہ سمجھیں جب تک کہ خود اسلامی ممالک میں جہادی ادب کی شرانگیزی سے اسلام کو محفوظ نہیں کر لیا جائے، سلطان شاہین کااقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ

سلطان شاہین ، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام

 

September 16, 2013

 

اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل

چوبیسویں نشست  (9 سے 27 ستمبر 2013)

ایجنڈا آئٹم 3: ترقی کے حق سمیت شہری، سیاسی، اقتصادی، سماجی ،  ثقافتی اور تمام انسانی حقوق کا تحفظ اور فروغ ۔

سلطان شاہین ، ایڈیٹر، نیو ایج اسلام کا تقریری بیان

ورلڈ انوارنمٹ اینڈ ریسورسیز کونسل (WERC) کی طرف سے

16ستمبر 2013

جناب صدر،

ہم اس دنیا کے مسلمان،  کم از کم ہماری حکومتیں، اسلام کو بدنامی سے محفوظ کرنے کے لئے کی گئیں ہماری کوششوں پر  1999 کے بعد سے ہی اقوام متحدہ پر ضرب کاری لگا رہی ہیں ۔ لیکن کیا  وہی اسلامی ممالک جو مسلمانوں کی ترجمانی کا دعویٰ کرتے ہیں اسلام کو  بری طرح بدنام کرنے والے نہیں ہیں؟

اسلام کو دہشت گردی سے مربوط  کرنے کا مطلب  اسلام کو بدنام کرنا سمجھا جاتا ہے۔ کوئی یہ فرض کر سکتا ہے کہ سب سے پہلے  مسلم ممالک کو اپنے ممالک میں دہشت گردی کے نظریات کے ذریعہ اسلام کو بدنام کرنے کی ممانعت کرنی ہوگی ۔ تاہم، معاملہ بالکل برعکس ہے ۔ وہ ذرائع ابلاغ ہی ہیں جو ان اسلامی دہشت گردی کے نظریات کی تردید کر رہے ہیں  اور ان پر پابندی لگائی جا رہی ہے  جیسا کہ ایک دو ماہ قبل  ایک ویب سائٹ نیو ایج اسلام کے ساتھ پاکستان میں کیا گیا  تھا۔

دہشت گردی کے  ترجمان نوائے  افغان جہاد کے مسلسل فروغ پارہے انتہا پسندانہ نظریات کی نیو ایج اسلام نے تردید کی ۔ طالبان کے جس فتویٰ کی نیو ایج اسلام نے تردید کی ا س کا عنوان یہ تھا: 'ان حالات کا بیان جن میں  کافروں کے ساتھ بے گناہ لوگوں کا بھی قتل جائز ہے’ ۔ اسلام کے لئے توہین آمیز اس طرح کے مضمون پر کوئی بھی غور سکتا ہے ۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں ۔ یہی وہ  ویب میگزین (نیو  ایج اسلام) تھی جس نے اس کی تردید کی طرف قدم بڑھایا لیکن اسے بلاک کر دیا گیا ۔

 جناب صدر اس وقت  ہم مسلمانوں نے اپنا ذہن تیار کیا ہے، یہ سمجھنے کے لئے کہ آخر اسلام کیا ہے: ایک مطلق العنان ، فسطائی، تفوق پرست اور دنیا پر فتح حاصل کرنے  کے لئے  تجرد  پسند سیاسی نظریہ یا اخروی نجات حاصل کرنے کے لئے ایک روحانی راستہ  ؟

ایسا سمجھا جاتا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اسلامو فوب سے اسلام کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے  ۔ لیکن اسلامو فوب  اسلام کی تصویر کشی اسی طرح کرتے ہیں جس طرح جہادی عناصر اسلام کی تصویر پیش کرتے ہیں ۔ جہادی عناصر ایسا اسے جواز فراہم کرتے ہوئے کر رہے ہیں اور اسلامو فوب  اسے ناپسند کرتے ہیں  اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔ اگر اسلامو فوب  کے ذریعہ  پیش کی گئی  اسلامی روایتیں ہتک آمیز ہیں اور وہ یقینا ایسی ہی ہیں تو جہادی جماعتوں کے ذریعہ پیش کی گئی روایتیں بھی ایسی ہی ہیں جن کے نظریات  مسلم دنیا میں فروغ پا رہے  ہیں۔ دونوں متشدد، پدرانہ، رجعت پسندانہ ، زن  بیزار ہیں  اور بیمار مردوں کے جنسی خواہشات پر مبنی ہیں۔ یہ وہی روایات ہیں جو  ہمارے اکثر اسکولوں،  کالجوں اور مدارس میں پڑھائی جاتی ہیں ۔

مجھے  امید ہے کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ہتک اسلام کی قرارداد کو قابل اعتناء نہیں سمجھے گی  جب تک کہ سب سے پہلے  خود اسلامی ممالک میں جہادی ادب سے اسلام کو بدنامی سے محفوظ نہیں کر لیا جاتا۔

اسلام کو دہشت گردی کے مذہب کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہئے اور یقینا اسلام ایسا نہیں ہے ۔

لیکن یہ جہادی لٹریچر ہی ہیں اور حافظ سعید جیسے دہشت گرد ماسٹر مائنڈ کے خطابات ہیں جن کے سر پر  10 ملین امریکی ڈالر کا انعام ہے، جنہیں  ملک بھر میں عالمی سطح پر جہاد کی دعوت دیتے ہوئے پورے طمطراق کے ساتھ  گھومنے کی اجازت  جو کہ اسلام کی بدنامی کا سب سے بڑا باعث  ہے ۔

حال ہی میں بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین نشر کے مطابق، آزادانہ طور پر پاکستان کے تمام شہروں میں تقسیم کئے جانے والے  اسلامی عسکریت پسندوں کے روزنامچے یہ ہیں : " ماہانہ الشریعت "، " آذان  "، " نوائے  افغان جہاد "، " ہاتین "، " مرابتون " ، " القلم "، " ضرب مومن "، " الہلال "، " صدائے مجاہد "، " جیش محمد " اور " راہ وفا ۔

واضح طور پر وہ ممالک جو اسلام کو بدنامی سے روکنے کے لئے تدبیر کرنے کے لئے یہاں آتے ہیں  وہ اپنے ممالک میں راتوں دن  کثیر السان اسلامی ویب سائٹ نیو ایج  www.NewAgeIslam.com) پر دستیاب ) جیسے ذرائع ابلاغ کو بلاک کرتے ہوئے  مسلسل اسلام کو بدنام کرنے  کی اجازت دے رہے ہیں ، دراصل یہ ہے بدنامی سے اسلام کی حفاظت کی کوشش  ۔

جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا  یہ اور بھی دوسرے  مناسب سوالات کو جنم دیتا ہے: اگر جہادیوں کے لئے دنیا کو فتح کرنے کی خاطر اسلام کو ایک سیاسی نظریہ قرار دینا صحیح ہے  تو پھر اسلاموفوب کے لئے بالکل ایسا ہی کرنا کیوں  غلط ہونا چاہئے، ؟ مثال کے طور پر، اگر ابن تیمیہ ، محمد ابن عبد الوہاب، ابوالعلیٰ مودودی  اور سید قطب کو اسکولوں میں پڑھایا  جا سکتا ہے، تو پھر گیرٹ  وائلڈرز کی فتنہ پر اپنی چیخیں  کیوں  بلند ہوتی ہیں ۔

 برطانیہ میں بدنام زمانہ جہادی کارکن عمر بکری نے اگر کبھی سچ بات کہی ہے تووہ یہ ہے کہ  " اگر ہم پہلی تصاویر کو   اور پھٹتے ہوئے صفحات کی  آواز کو چھوڑ دیں  ، تو وہ [ فتنہ ] [ اسلامی ] مجاہدین کی ہی ایک فلم ہو سکتی ہے ۔ "

انٹرنیٹ پر دنیا بھر میں تقسیم کئے جانے والے اسلاموفوب ادن کا مطالعہ کریں  ۔ تو آپ اسلاموفوب اور اور جہادیوں کے ذریعہ  اسلام کی تشریح اور جہاد جیسی روحانی اصطلاحات میں  بمشکل ہی کوئی  فرق پائیں گے ۔ دونوں دنیا کو فتح کرنے اور خلافت قائم کرنے کے لئے ایک عسکریت پسند اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں  ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جہادی اس عسکریت پسند اسلام کو تسلیم کرتے ہیں  اور ایک خلیفہ کے تحت ہر جگہ اسے اقتدار میں لانے کے لئے مسلمانوں کو عالمی سطح پر سرگرم ہونے کے لئے امادہ کرتے ہیں جب کہ اسلامو فوب پرامن شہریوں میں اسلام کا خوف پھیلانے کے لئے اسی اسلام کا  استعمال کرتے ہیں ۔

مجھے اس بات کی  وضاحت کرنے دیں  کہ اسلامی ممالک کے لئے   اسلام کے بارے میں کون سی باتیں قابل قبول اور جائز ہیں اور جب انہیں باتوں کو اس وسیع تر دنیا میں اسلاموفوب کے ذریعہ پیش کی جاتی ہے تو وہ ناقابل قبول ہو جاتی  ہیں:

جہاد پر اپنے  مضمون میں جماعت اسلامی کے بانی نظریہ ساز مولانا مودودی نے کہا کہ: "اسلام ان تمام ریاستوں کو تباہ کرنا چاہتا جو اسلامی نظریات   اور اسلامی منصوبوں کی مخالفت کرتے ہیں ۔۔۔۔ اسلام صرف ایک حصہ نہیں بلکہ پوری روئے زمین کا مطالبہ کرتا ہے  ۔ اگر یہ اسلام کی بدنامی نہیں تو اور کیا ہے؟ لیکن مودودی کی کتابیں آزادانہ طور پر دستیاب ہیں اور مسلمان نوجوانوں کی منفی ذہین سازی کے لئے آزادانہ طور پر استعمال کی جا رہی ہیں ۔

چونکہ اسلام تمام چیزوں کا احاطہ کرتا ہے اسی لئے مودودی کا  یہ ماننا تھا کہ اسلامی ریاست کو صرف اس کے " مادر  وطن " تک ہی محدود نہیں رکھا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ یہ پوری دنیا کے لئے ہے ’’۔ 'جہاد' کو غیر اسلامی حکومتوں  کو ختم کرنے اور دنیا بھر میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے لئے استعمال کیا جانا چاہئے  ۔

میں  اس تناظر میں ایک اقتباس نقل کرتا ہوں :

"اسلام روئے  زمین پر ان تمام ریاستوں اور حکومتوں کو تباہ کرنا چاہتا ہے جو اسلامی نظریات اور منصوبوں کی مخالفت کرتی ہیں، اس ملک یا قوم سے قطع نظر جو ان پر  حکمرانی  کرتی ہے ۔ اسلام کا مقصد اپنے نظریات اور اور منصوبوں پر مبنی ایک ریاست قائم کرنا ہے اس بات سے قطع نظر کہ کون سا ملک اسلام کے معیاری علمبردار کے کردار کا حامل ہے یا کس ملک کی حکمرانی  نظریاتی طور پر اسلامی ریاست کے قیام کے عمل میں کمزور  ہے۔ اسلام صرف ایک حصہ نہیں بلکہ پوری روئے زمین کا مطالبہ کرتا ہے  ۔۔۔۔ پوری انسانیت کو  اسلامی نظریہ اور اس کے فلاح و بہبود کے منصوبوں  سے فائدہ حاصل کرنا چاہیے ۔۔۔ اس مقصد کے حصول میں اسلام ان تمام قوتوں کے استعمال کا متمنی ہے جو ایک انقلاب پیدا کر سکے  ان تمام قوتوں کو استعمال کرنے کے لئے ایک جامع اصطلاح 'جہاد' ہے ۔ ۔۔۔۔ اسلامی 'جہاد' کا مقصد ایک غیر اسلامی نظام حکومت کو ختم کرنا  اور اس کی بجائے ریاستی حکومت کے لئے ایک اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ "

(مودودی، الجہاد فی الاسلام )

اس بات کی جستجو کہ اسلام کی بدنامی سے کیا مرتب ہوتا ہے ضرور اھم  ہے۔ لیکن اس کے لئے ایک  گہرے مطالعہ کی ضرورت ہوگی۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سابق صدر دورو رومولس کوسٹیا نے فی الواقع او آئی سی کے مندوبین کی مداخلت پر شریعت پر کسی بھی طرح کی بحث کو  ممنوع قرار دیا تھا اور یہ توضیح  پیش کی تھی کہ ہمیں  " غیر پیشہ وارانہ دینیات گری " سے پرہیز کرنا  ضروری ہے ۔

 انہوں نے کہا کہ مذہب کے بارے میں گفتگو " انتہائی پیچیدہ، اور انتہائی حساس ہے اور انتہائی شدید ہوگی صرف مذہبی علماء کو ہی اس طرح کے سوالات میں الجھنا  چاہئے اور یہ کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لئے ‘‘مذہبی’’ کا ذکر غیر مفید ہوگا ۔ انہوں نے اس بات کو قبول کیا کہ  یہاں اس مجلس میں ہمارے ایمان، اسلام اور شریعت پر تبادلہ خیال کرنا ان کی توہین ہوگی ۔ لیکن وہی ممالک جو یہ سمجھتے ہیں کہ انسانوں کے  ذریعہ بنائے گئے  شریعت کے بارے میں اس کے لئے الہی حیثیت کا دعوی کرتے ہوئے  گفتگو کرنا اسلام  کی توہین کرنا ہے، ایک مختلف  طریقے سے انسانی حقوق کونسل میں شریعت کو  پرآگندہ کر رہے  ۔

انسانی حقوق کے نام نہاد قاہرہ منشور  کے مسئلہ کو ہی لے لیں  ۔ اس میں  شریعت کو 15 مرتبہ ذکر کیا ہے۔ اسے  پر مقصد ہو کر پڑھیں۔ تو یہ سمجھنا مشکل نہیں ہو گا یہ در اصل انسانی حقوق کو کچلنے کے لئے ایک پرعزم کوشش ہے ۔ ایک مطالعہ ہے کہ کس طرح  اسلامی حکومتیں تفوق اور تجرد پسندی کے میدان میں عالمی ناظرین کے سامنے اپنا  رویہ اپناتی ہیں جب کہ ہم اسلامی تفوق اور تجرد پسندی کے لئے صرف اسلاموں فوب اور  جہادی نظریات کو ہی  ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔ اس دستاویز کے کچھ حصے اس بات کی وضاحت کریں گے کہ  کیوں میں انسانی حقوق کے نام نہاد قاہرہ منشور   کو اسلامی تفوق پرست سمجھتا ہوں ، اور یہ عالمی پیمانے پر مقبول انسانی حقوق کی بین الاقوامی گفتگو میں بالکل ہی کا آمد نہیں ہیں :

آرٹیکل 10: اسلام صحیح و سالم فطرت  کا مذہب ہے۔ انسان پر کسی بھی قسم کاجبر کرنا یا  اسے کسی دوسرے مذہب کو قبول  کرنے اور اسے ملحد  بنانے کے لئے اس کی غربت یا جہالت کا فائدہ اٹھانا ممنوع ہے۔

آرٹیکل 12: ہر انسان کے پاس شریعت کی شکل میں آزادانہ طور پر نقل و حرکت کرنے ،رہائش گاہ کے لئے  اپنی جگہ منتخب کرنے کہ  آیا وہ  ملک کے اندر رہے  گا یا باہر ، کے لئے  حقوق حاصل ہوں گے ، اور اگر اس پر ظلم کیا جاتا ہے تو وہ اس بات کا حقدار ہے  کہ وہ کسی دوسرے ملک میں پناہ حاصل کرے  ۔ پناہ دینے والا ملک اسے محفوظ ہو جانے تک اس کے تحفظ کو یقینی بنائے گا  جب تک پناہ کا محرک ایسا عمل نہ ہو جو شریعت کی نظر میں ایک جرم ہے ۔

(د) اسی چیز کو جرم یا سزا شمار کیا  جائے گا جسے شریعت نے جرم یا سزا شمار کیا ہے ۔

آرٹیکل 22 : (ا) ہر شخص کو اس  انداز  میں آزادانہ طور پر اظہار رائے کا حق حاصل ہوگا جو کہ شرعی اصولوں کے خلاف نہ ہو  ۔

(ب) ہر شخص کو سچائی کی  وکالت کرنے کا حق حاصل ہوگا، اور اچھائی کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہوگا، اور اس چیز کے خلاف خبردار کرنے کا حق حاصل ہوگا جو اسلامی شریعت کے معیار کے مطابق غلط اور برائی ہے ۔

(ج) معلومات معاشرے کی  ایک اہم ضرورت ہے۔ ایسے طریقے سے استحصال یا اس کا غلط استعمال نہیں کیا جاسکےجس طرح  انبیاء کے تقدس اور وقار کی خلاف ورزی کی جاسکتی ہے،  اخلاقی اور معنوی اقدار کو کمزور  نہیں کیا جا سکتا  یا معاشرے کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا یا اسے پارہ پارہ نہیں  کیا جا سکتا یا  اس کے ایمان کو کمزور نہیں کیا جا سکتا ۔

واضح طور پر اسلامی دنیا کو خود پر  اور بڑے پیمانے پر  پوری دنیا پر یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ  اسلام کیا ہے اور اس کی بدنامی سے کیا مرتب ہوگا ۔ اگر اسلام کی اسلاموفوب ‘روایتیں’ توہین آمیز ہیں تو یہی حال  جہادی جماعتوں کی روایتوں کا ہے جن کے نظریات پوری  مسلم دنیا میں پھیل رہے ہیں ۔ جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ  دونوں متشدد، پیدرانہ ، رجعت پسندانہ، زن بیزار  ہیں اور بیمار مردوں کے جنسی خواہشات پر مبنی ہیں ۔ ان دونوں کی اسلامی  روایتوں میں بمشکل ہی کوئی فرق ہے اگرچہ ایک  تسلیم کر سکتے ہیں اور دوسرے اسے  ناپسند اور اس کی مذمت کر سکتے ہیں۔ اور وہ بالتکرار اس بات کو دہرا رہا ہے کہ وہ اسلاموفوب ہے  اور جہادی روایتیں بھی  مسلم ممالک کے ہمارے  بیشتر  مدارس اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی جاتی ہیں ۔

اقوام متحدہ کو  اس کے ایک مذہبی گفتگو ہونے  کے خوف سے اس  بات کی  تحقیق  کرنے میں عار نہیں محسوس کرنا چاہئے کہ اسلام کیا ہے اور  اس کی بدنامی سے کیا مرتب ہوگا۔ اگر انسانی حقوق کے سنجیدہ  منشورات کو ایسی قراردادوں میں  شامل کیا جا سکتا ہے  جو کہ گہرائی کے ساتھ  مذہبی ہیں اور وہابیت  جیسے نظریات کی بنیاد کی تشکیل کرتی ہیں  جو  کہ عام طور پر دہشت گردی اور اسلامی معاشروں میں طاقت کے ساتھ منسلک  ہیں  تو پھر کیا دنیا کے پاس مذہبی تحقیق و  تفتیش میں مشغول ہونے کے علاوہ کوئی  اور راستہ رہ جاتا ہے ؟

میں اس مقام  پر قرآنی آیت امر بالمعروف  و النہی عن المنکر(بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا) کا حوالہ پیش کر رہا ہوں  جن پر  طالبان اور بوکو حرام کے جبر و تشدد  اور غیر انسانی معمولات کی محل تعمیر ہے  جن کانظریاتی  منبع و مصدر سعودی عرب اور پاکستان میں ہے ۔ نام نہاد قاہرہ انسانی حقوق کے اعلامیہ کا آرٹیکل 22 بی محض آیت امر بالمعروف و النہی عن المنکر  کا ایک توسیع شدہ ترجمہ ہے۔ میں نے پہلے ہی یہ  ذکر کیا ہے کہ اس منشور میں 15 مرتبہ شریعت کا ذکر ہے ۔ لہٰذا اگر قاہرہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ بین الاقوامی مباحثہ  کا ایک حصہ ہو سکتا ہے تو قرآن، حدیث اور شریعت کیوں نہیں ؟ مکمل دیانت داری کے ساتھ میں یہ  کہنا چاہوں گا کہ بین الاقوامی برادری اسلامی فقہ پر ایک گہرے غور و فکر  سے دامن نہیں بچا سکتی ، جب کہ وہ اسلامی ممالک میں انسانی حقوق کے مسائل یا مذاہب  کی بدنامی خاص طور پر اسلام کی بدنامی  پر قراردادوں پر تبادلہ خیال کرتی ہے ۔

(انگریزی  سے ترجمہ: مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

URl of English article :  https://www.newageislam.com/radical-islamism-and-jihad/sultan-shahin,-editor,-new-age-islam/do-not-entertain-any-defamation-of-islam-resolution-until-islam-is-protected-from-defamation-by-jihadi-literature-in-the-islamic-world-first,-sultan-shahin-asks-un-human-rights-council/d/13507

URL: https://newageislam.com/urdu-section/do-entertain-any-defamation-islam/d/13520

 

Loading..

Loading..