New Age Islam
Fri Aug 12 2022, 06:34 PM

Urdu Section ( 14 Jun 2022, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

The Correctness of Beliefs and Actions Depends On Wisdom Concluding Part عقائد اور اعمال کی صحت کا دارومدار حکمت پر ہے

 حمیدالدین فراہی

آخری حصہ

10 جون 2022

قرآن مجید نے یہ دونوں بنیادی چیزیں (ہمدردی اور شفقت) اس مقام پر بھی بیان فرمائی ہیں جہاں شراب اور جوئے کی نجاست کا ذکر کیا ہے۔ ان کے نجس ہونے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ شیطان شراب اور جوئے کے ذریعے لوگوں میں دشمنی ڈالتا ہے اور ان کو اللہ کے ذکر اور نماز سے روکتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کا ذکر اور انسانوں کا باہمی ہمدردی کا تعلق سارے معاملہ کی شیرازہ بندی کرتا ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے، جن کو اللہ تعالیٰ نے حکمت کے لئے خاص کردیا تھا، یہی حقیقت بیان فرمائی ہے۔ البتہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ذکراللہ اور رحم دونوں کی شرائط اور آداب ہیں جن کا خیال کم ہی لوگ رکھتے ہیں اور وہ لوگ تو بے حد کم ہیں جو ان دونوں صفتوں کو جمع کرتے ہوں۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ جو شخص ذکر اللہ کا خیال رکھتا ہے وہ انسانوں کے ساتھ محبت سے غافل ہوجاتا ہے اور جو انسانوں کا خیال رکھتا ہے وہ ذکراللہ سے غافل ہوجاتا ہے۔

 یہ بات بھی نہایت تعجب خیز ہے کہ جو شخص نماز کے آداب و شرائط کا زیادہ خیال رکھتا ہے وہی اس کی حقیقت سے  غافل بھی ہوجاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظاہر اور باطن دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں۔ جو شخص ظاہر کی فکر میں لگ جاتا ہے وہ باطن کو نظرانداز کردیتا ہے۔ نماز کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے لئے عاجزی، اس کا خوف، اس کی محبت اور اس سے تسکین پانا ہے۔ یہ تمام جذبات دل کو نرم کئے بغیر نہیں رہتے۔ پس ایسے آدمی کے لئے لازم ہے کہ وہ خود رحمدل بھی ہو اور یہ بات بھی یاد رکھے کہ وہ ایک رحیم رب سے سوال کرتا ہے جو دشمنوں کے ساتھ دشمنی بھی رکھتا ہے۔ لیکن شیطان آدمی پر وہاں سے حملہ آور ہوتا ہے جہاں سے وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھ رہا ہوتا ہے۔

دوسری طرف دیکھئے تو بندوں کے ساتھ  فیاضی اور شفقت کرنے والے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ ایسے لوگ کم ہی نماز ادا کرتے ہیں اور یہ گمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی نمازوں سے بے نیاز ہے، پس وہ اپنے بندوں کے ساتھ رحمت و شفقت کو  پسند کرتا ہے۔ایسے لوگ بھی رحم اور فیاضی کی حقیقت سے غافل ہیں کیونکہ رحم کا باطن اللہ کی خشیت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:

’’اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں اتنا کچھ) دیتے ہیں جتنا وہ دے سکتے ہیں اور (اس کے باوجود) ان کے دل خائف رہتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں (کہیں یہ نامقبول نہ ہو جائے)۔‘‘ (المومنون:۶۰)

 قرآن مجید کے بکثرت شواہد اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ذکر الٰہی اور بندوں پر شفقت دونوں ایک ہی اصل سے پھوٹتے ہیں۔ پس جو بندہ عاجزی اور خلوص کے ساتھ خدا کی طرف اور شفقت و ہمدردی کے ساتھ اس کے بندوں کی طرف توجہ کرتا ہے وہ وفاداری اور خداترسی کے دروازے میں داخل ہوگیا اور اس نے اپنے رب کو راضی کرلیا۔ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہی امید ہے کہ وہ اس کے دل کو روشن کردے گا ، اسے اپنی خوشنودی کے راستوں کی ہدایت دے گا اور اس کی نظروں میں وہ چیزیں محبوب بنا دے گا جو اس کو پسند ہیں اور یہی حکمت کی حقیقت ہے، باقی معاملات کی اصلیت کا علم تو خداوندتعالیٰ ہی کے پاس ہے۔

حکمت پانے کیلئے اہلیت ضروری ہے

مذکورہ آیت  یوتی الحکمۃ … الخ میں یہ جو فرمایا کہ ومایذکر الا اوالوالالباب (نہیں نصیحت پاتے مگر اہلِ عقل) تو اس سے مراد یہ  ہے کہ جو اہل عقل نہیں ہیں وہ اس کو نہیں سمجھ سکتے کہ حکمت کیا ہے۔ اگر وہ حکمت کو جانتے ہوتے تو انہیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ حکمت کے اہل کون ہیں اور یہ کہ حکمت اہلِ عقل کے لئے خاص ہے۔ اسی طرح وہ اس حقیقت کو بھی نہیں سمجھتے کہ حکمت خیر کثیر کا ایک خزانہ ہے۔

ہم اوپر واضح کرچکے ہیں کہ حکمت کی اصل ایمان ہے اور ہر بندۂ مومن دوسرے لوگوں کی نسبت زیادہ حکمت کا حامل ہوتا  ہے۔ البتہ نام کا اطلاق عادت کے لحاظ سے کیا جاتا ہے۔ پس حکیم وہ شخص کہلائے گا جس کو حکمت کا وافر حصہ ملا ہو۔ یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح کسی شخص کو اس وقت تک عالم نہیں کہا جاتا جب تک وہ علم کا وافر حصہ نہ رکھتا ہو۔

 قرآن مجید نے یہ صراحت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کتاب اور حکمت کی تعلیم دی  ہے۔ لہٰذا اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ علمائے صحابہؓ نے جس طرح قرآن مجید حاصل کیا اسی طرح انہوں نے آپؐ سے حکمت بھی سیکھی۔ لیکن ایسے صحابہؓ کی تعداد زیادہ نہ تھی۔ بعد میں تعداد اور کم ہوتی گئی۔ جوں جوں امت زمانۂ نبوت سے دور ہوتی گئی اسی اعتبار سے حجابات حکمت کے نور کو ڈھانپ دیتے رہے۔  آئیے دیکھیں کہ حکمت کیسے اٹھالی گئی:

صحابۂ کرامؓ کے  دور کے بعد علم میں مشغولیت کے لحاظ سے امت دین گروہوں میں تقسیم ہوگئی۔ پہلا گروہ ان لوگوں کا تھا جو قرآن مجید پر غور و فکر ، اس کی تلاوت اور تعلیم میں مشغول ہوئے۔ ان کو اس سے ہٹانے والی کوئی دوسری چیز نہ تھی۔ علماء میں یہ لوگ حکمت کا زیادہ حصہ پا سکے اور اس کی حقیقت کو بھی سب سے زیادہ سمجھنے والے ہوئے۔ ان کے درمیان صلاحیتوں کے فرق کے لحاظ سے فرق موجود رہا۔ دوسرا گروپ ان لوگوں کا تھا جو آپؐ کی سنت اور حدیث کی روایت میں مشغول ہوئے۔ ان کی مصروفیت آپؐ کی احادیث اور صحابۂ کرامؓ کے آثار کو جمع کرنے تک محدود رہی۔ انہوں نے اس میدان میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی یہاں تک کہ ہر وہ دروازہ بند کردیا جس کے راستے سے بدعت یا تحریف اسلام میں گھس سکتی تھی ، جس کا تجربہ سابقہ ملتوں کو ماضی میں ہوچکا تھا۔ دین میں ان لوگوں کے عظیم مرتبہ اور ان کے تقویٰ (جو حکمت ہی کا ایک دروازہ ہے) کے باوجود ان کی توجہ حکمت کے دوسرے  دروازوں کی طرف کم رہی لہٰذا ان پر حکمت کا مفہوم گڈمڈ ہوگیا۔ انہوں نے یہ گمان کرلیاکہ آیت یعلمھم الکتٰب والحکمۃ (رسول ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں) میں مراد علم حدیث ہے لہٰذا انہوں نے اس پر اپنی پوری توجہ صرف کردی۔ یہ بات شاید امت کے حق میں بہتر ہی ثابت ہوئی کیونکہ ان علماء نے علم حدیث کی طلب میں جب تمام قوت لگا دی تو وہ اس میدان میں اس بلند مقام تک پہنچے جس کے عشرعشیر تک بھی ان سے پہلے یا بعد کی کوئی امت نہیں پہنچ سکی۔ تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جنہوں نے یونان کے فلسفہ و کلام میں دلچسپی لی اور گمان کرلیا کہ یہ وہ حکمت ہے جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔ یہ لوگ حکمت ِ الٰہیہ سے بالکل فیض یاب نہیں ہوسکے۔

افرادِ امت کی فرائض نبویؐ سے مطابقت

رسول اللہ ﷺ کے فرائض منصبی سے مطابقت کے لحاظ سے دیکھا جائے تو افرادِ امت میں قاری اور حافظ قرآن پہلی صفت …تلاوت ِ آیات… کا مظہر ہیں۔ صوفیاء اور ان کے ہم مشرب، ایسے عابد و زاہد لوگ جو کتاب و سنت کا دامن پکڑے رہتے ہیں ، دوسری صفت ’’تزکیہ‘‘ کے حامل ہیں۔ احکام شریعت پر غور کرکے استنباط مسائل کرنے والے فقہاء اور راویانِ حدیث ، تیسری صفت ’’تعلیم کتاب سے نکلنے والی فرع‘‘ ہیں ۔ رہی چوتھی صفت ’’تعلیم حکمت‘‘ تو صحابہ کرامؓ کے بعد اس کے حامل بہت کم ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ جب امت مسلمہ پر دنیا کے دروازے کھل گئے تو باہمی جھگڑوں اور بحثوں نے ان پر غلبہ پالیا۔ اس کے نتیجہ میں خلافت اور حکمت ان سے سلب کرلی گئی اور ان کے بجائے خلافت کی جگہ ملوکیت اور حکمت کی جگہ فلسفہ دے دیا گیا۔

اس صورت ِ حال کی طرف اشارات قرآنِ مجید  میں بھی پائے جاتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام صفات میں تعلیم حکمت کے ذکر کو مؤخر کیا گیا ہے۔ دوسرے ، سورۂ جمعہ میں ارشاد ہے:

’’اور (اس رسول کی بعثت) اُن دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں ۔اللہ زبردست اور حکیم ہے یہ اس کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔‘‘(الجمعہ:۳،۴)

یہاں اہلِ حکمت کی طرف اشارہ واضح ہے کیونکہ حکمت کے لئے بھی اسی طرح کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، فرمایا:

’’وہ جس کو چاہتا ہے حکمت بخشتا ہے اور جسے حکمت ملی اسے خیر کثیر کا خزانہ ملا۔‘‘ (البقرہ:۲۶۹)

نبی کریمﷺ نے اس امت کی مثال ان الفاظ میں دی:

’’میری امت کی مثال یوں ہے جیسے بارش، جس کے متعلق معلوم نہیں ہوتا کہ اس کا ابتدائی حصہ زیادہ اچھا ہوگا یا آخری حصہ۔‘‘

(جامع ترمذی، کتاب الامثال، باب۶)

          یہ مضمون قرآن مجید میں اہل جنت کے طبقات کے بیان میں ان الفاظ میں آیا ہے:

          ’’ان میں بڑی تعداد اگلوں کی ہوگی اور تھوڑے پچھلوں میں سے ہوں گے۔‘‘

(الواقعہ:۱۴۔۱۳)

خلاصۂ بحث

عقائد اور اعمال کی صحت کا دارومدار حکمت پر ہے۔ حکمت عقائد اور اعمال کو مرتب کردیتی ہے۔ ہر چیز کو اس کا جائز مقام دیتی ہے اور اس کو حاصل کرنے کا طریقہ واضح کرتی ہے۔ لہٰذا یہ تمامع لوم اور اعمال کا نظام اور ان کو وجود میں لانے کا ذریعہ ہے۔ حکمت کے بغیر دین کا زیادہ تر حصہ غائب ہوجاتا ہے بلکہ خالی صورت کے سوا اس میں کچھ نہیں پہنچتا ، حتیٰ کہ کبھی وہ اس طرح پارہ پارہ ہوجاتا ہے کہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں رہ جاتی جس پر دین کے نام کا اطلاق کیا جاسکے۔ چنانچہ دین کی جگہ انکار اور ایمان کی جگہ کفر لے لیتا ہے۔

10 جون 2022، بشکریہ: انقلاب، نئی دہلی

Part: 1- Wisdom Is One of the Greatest Rewards of Allah Almighty حکمت اللہ تعالیٰ کے سب سے بڑے انعاموں میں سے ایک ہے

URL: https://newageislam.com/urdu-section/correctness-beliefs-depends-wisdom-concluding-part/d/127249

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..