New Age Islam
Fri Sep 18 2020, 12:45 PM

Urdu Section ( 16 Sept 2013, NewAgeIslam.Com)

Mahatma Gandhi's Lessons for Al-Qaeda القاعدہ کے لئے مہاتما گاندھی کے اسباق

 

 کرسٹوفر جے لی

13 ستمبر 2013

 

 

 

 

 

 

 

 

جنوبی ایشیا 1947 میں تقسیم کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان لمبی کشیدگی ، اور  حال  ہی میں  القاعدہ کے ذریعے انتہا پسند اسلام کی ایک نئی عالمی سیاست کے ساتھ سیاسی طور پر دنیا کے پیچیدہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے ۔

آکسفورڈ کے ایک مؤرخ فیصل دیوجی نے کتابوں کی ایک سیریز میں مختلف سیاسی تواریخ کو پیش کیا ہے ، انہیں میں ایک کتاب  (Landscapes of the Jihad (2005 ہے،  جو کہ 11/9 کے  نتیجے میں القاعدہ کی وضاحت میں سب سے پہلی سنجیدہ کوششوں میں سے ایک تھی۔ اور ایک کتاب (Muslim Zion: Pakistan as a Political Idea (2013 تھی ، جس میں پاکستان اور  اسرائیل کے درمیان خلاف قیاس روابط کو بیان کیا گیا ہے ۔

افریقہ میں وٹواٹرس رینڈ یونیورسٹی کے  سینٹر فار انڈین اسٹڈیز میں ایک مہمان  خصوصی کے طور پر حال ہی میں دیوجی  نے  اسلام پر غور و فکر کے  موضوع پر دو خطبات دئے ۔

آپ نے اپنی پہلی کتاب ، (Landscapes of the Jihad (2005 ، میں اسلامی سیاسی سوچ اور معاصر عالمگیریت کے خلا کے تناظر میں القاعدہ اور اس کے محرکات کی  وضاحت کرنے کی کوشش تھی ۔ کیا 2005 کے بعد سے آپ کے خیالات تبدیل ہو گئے ہیں؟ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد تنظیم کے مستقبل کے بارے میں آپ کے کیا  تاثرات  ہے ؟

11/9 کے فوری شاخسانہ میں ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ  نے نئے دور کے آغاز پر نقب زنی  کر دیا ، جہاں تک عالمی عسکریت پسندی کا تعلق تھا، یہی ایک وجہ تھی  کہ امریکہ نے خاص کر  یکساں طور پر انسداد دہشت گردی کی افسانوی شکل میں اتنی بھاری سرمایہ کاری کی کہ اس نے اپنے شہریوں کی آزادیوں کی ساخت کو توڑ دیا اور اس طرح امریکی جمہوریت کو خطرے میں ڈال دیا ۔ لیکن اس کے باوجود  القاعدہ کے بہت سے دلائل اور طرز عمل نئے تھے، اور مستقبل میں ان میں سے بہت کو  دیگر تحریکوں کے ذریعہ دیگر مقاصد کے کئے اپنا لیا گیا جن کا اسلام کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں، خود اس  نیٹ ورک کو عالمی سطح پر نمائش اور حمایت کے سلسلے میں تقریباً نابود ہونے تک کہ خطرات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ ایسا اس وجہ سے نہیں ہوا  کہ " دہشت گردی کے خلاف جنگ" نے اس کی  صلاحیتوں کو اس قدر گھٹا دیا کہ مسلم ممالک میں اس کے لئے حمایت کا نقصان ہو گیا ۔

ایسا لگتا ہے کہ القاعدہ ایک عبوری رجحان ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ  نیٹ ورک کا قیام  1979 کے بعد سوویت یونین کے قبضے کے خلاف افغانستان میں سرد جنگ کی آخری جنگ کے دوران ہوا تھا  ۔ سرد جنگ کے تناظر میں، یہ بات اب واضح نہیں  رہی کہ عالمی سیاست کیسی ہے ، اور دیگر جماعتوں  کی طرح القاعدہ ، غیر تشدد پسندانہ  غیر سرکاری تنظیموں سمیت،  اپنی  مخصوص غیر ریاستی طریقوں کے ساتھ اس خالی عالمی میدان پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ اسامہ بن لادن کی موت کے بعد سے ، جو لوگ  القاعدہ کا نام لیتے ہیں  وہ اپنے  نیٹ ورکس اور تصورات میں بہت کم عالم گیر ہیں ،جو نہ صرف یہ  کہ علاقائی جدوجہد پر دھیان دے رہے ہیں بلکہ "مغرب" کے بجائے  مسلمانوں کے درمیان تنازعات پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔

ایک تازہ ترین کتاب، (The Impossible Indian (2012، تشدد پر اپنے خیالات پر گفتگو کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کے  مقبول نظریات کو  چیلنج کرتی  ہے۔ کیا تشدد پر آپ کے پہلے کے کام اور سیاسی اسلام کے ساتھ کوئی ربط  ہے؟

گاندھی نے ہمیشہ یہ موقف اختیار کیا کہ تشدد اور عدم تشدد با ہم مربوط ہیں اسی وجہ سے  ایک کو دوسرے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا  کہ خود برائی اچھائی  پرانحصار کرتی ہے ، مثال کے طور پر انتہائی  خودغرض  اور غدار رہنما کو بھی اپنی طاقت کا استعمال کرنے کے لئے اپنی فوج کے درمیان وفاداری ، دوستی اور قربانی جیسی خوبیوں پرانحصار کرنا پڑتا ہے ۔ لہٰذا معاملہ شر سے اچھائی کو واپس نکالنے کا تھا اور اس طرح اس کے زوال  کی وجہ سے گاندھی نے عدم تعاون کہا۔ القاعدہ کی کارروائیوں اور بیانات میں جو بات  میری دلچسپی کی وجہ بنی وہ باقاعدہ دوستی، وفاداری اور قربانی جیسی صفات پر ان کا انحصار تھا، عسکریت پسندی پر لکھی گئی  دو کتابوں میں میں نے جس کی تحقیق و تفتیش  کرنے کی کوشش کی ہے ، جو دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی طرح  گاندھی سے متاثر ہیں ۔

آپ کی نئی کتاب پاکستان کے بارے میں ہے۔ بے شک آپ اپنی تحریروں میں  تنظیمی سیاست سے انفرادی اور قومی ریاست کی طرف آگئے ہیں ۔ کیا یہ سیاسی مشغولیت اور اظہار کے مختلف مقامات کی تحقیق  کے لئے ایک عمداً  منتقلی تھی  ؟

پاکستان پر میری کتاب میں پہلے کی گزشتہ تین کے مقابلے میں زیادہ  روایتی تاریخیں ہیں ۔ میں ان طریقوں پر غور کرتا ہوں جس طریقے سے آل انڈیا  مسلم لیگ کے ساتھ پہلی بار اسلام کو  ایک جدید سیاسی شکل میں تبدیل کر دیا گیا تھا ۔ جس نے اس میں میری  دلچسپی پیدا کی وہ یہ ہے کہ کس طرح   تحریک پاکستان بند برطانوی آئین پسندی اور  ہندوستانی سیاست سے، بین الاقوامی لحاظ سے اس کے کردار کا تصور پیش کرنے کے لئے  فرار ہونے میں کامیاب ہو سکا ۔ اگر چہ وہ بین الاقوامی میدان جس میں مسلم سیاست نے فروغ پائی ہے  وہ  کمیونزم اور فاش ازم کی تحریکوں کے ذریعہ تیار کیا گیا تھا ،میں  اس کے لئے صیہونیت کی طرف  ایک مسلسل ماڈل کےطور  پر توجہ مرکوز کرتا ہوں ، اور بے شک، ہم یہ جانتے ہیں کہ اسرائیل اور پاکستان کا قیام کا ایک دوسرے کے ایک سال کے اندر اندر ہمارے زمانے کے انتہائی اہم "مذہبی " ریاست کے قیام کے لئے کیا گیا تھا ۔ در اصل اسرائیل کا قیام اقوام متحدہ میں پاکستان کے ذریعہ مقررکرہ  قانونی مثال کی بنیاد پر کیا گیا تھا ۔

زنجیبار  سے ہونے کے ناطے، افریقہ میں اسلام اور سیاست پر آپ کے تاثرات کیا ہیں؟ کیا آپ اس سلسلے میں جنوبی ایشیا اور افریقہ کے درمیان کوئی ربط  دیکھتے ہیں؟

ایک تنزانوی ہونے کے ناطے ، میں یقینی طور پر افریقہ میں دلچسپی رکھتا ہوں، لیکن اس ایک مضمون کے علاوہ  میں نے  کئی سال پہلے جولیس نائیرئر پر کشواہلی میں  شیکسپیئر کا ترجمہ شائع کیا ہے، میں نے اس موضوع پر نہیں لکھا ہے ۔ لیکن چونکہ میں نسلی اعتبار سے ہندوستانی تھا، لیکن ہندوستان میں میری پرورش نہیں ہوئی ، لیکن مجھے اس با ت کا اندیشہ تھا کہ میں آسانی کے ساتھ  ہندوستانی یا پاکستانی تاریخ تک رسائی  حاصل کرنے کے قابل تھا اور ان معاشروں کے بارے میں بنیادی سوالات پوچھنے کے قابل تھا  جنہیں دوسروں نے  عطیہ دینے کے لئے  تسلیم کر لیا تھا ۔ بالکل یہی معاملہ اسلام کا ہے جو جنوبی ایشیا یا مشرق وسطی کے مقابلے میں افریقہ کے مشرقی ساحل سے بہت مختلف محسوس ہوتا  ہے ۔ ایسا اس لئے ہے کہ  جب امریکی سفارت خانے پر القاعدہ کے ذریعہ بمباری کی گئی تھی تو میں دارالسلام میں تھا اور میں  عسکریت پسندی کی  اس کی نئی شکل کے بارے میں سوچ کر چونک گیا تھا ۔ لیکن میں افریقہ پر کچھ اور کام کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہوں، خاص طور پر تنزانوی  اتحاد پر نائرئر کی آخری نظم پر  اور زنجیبار کے  انقلاب پر بھی  جو کہ سب صحارا افریقہ میں اپنی نوعیت کا سب سے پہلا منفرد کام ہوگا ۔

(انگریزی سے ترجمہ : مصباح الہدیٰ ، نیو ایج اسلام)

کرسٹوفر لی جے بین الاقوامی تعلقات پڑھاتے ہیں  اور وٹس یونیورسٹی میں سینٹر فار انڈین اسٹڈیز ان افریقہ میں کام کرتے ہیں ۔ اور وہ  Making a World After Empire: The Bandung Moment  and Its Political Afterlives 2010کے ایڈیٹر ہیں

ماخذ: http://mg.co.za/article/2013-09-12-gandhis-lessons-for-al-qaeda

URL for English article: http://www.newageislam.com/spiritual-meditations/christopher-j-lee/mahatma-gandhi-s-lessons-for-al-qaeda/d/13480

URL for this article:

-القاعدہ-کے-لئے-مہاتما-گاندھی-کے-اسباق/d/13542

 

Loading..

Loading..