New Age Islam
Thu Sep 24 2020, 07:42 PM

Urdu Section ( 21 Sept 2016, NewAgeIslam.Com)

There Are No Muslim Terrorists کوئی مسلمان دہشت گرد نہیں ہے:دلائی لامہ

 

 

 

کیرول کروولا

21/09/2016

دلائی لامہ نے کہا کہ تشدد کا جواز پیش کرنے کے لئے مذہب کا استعمال کرنا بالکل مذہبی عمل نہیں ہے۔

گزشتہ جمعرات کے دن یورپی پارلیمنٹ دورے کے دوران تبت کے بودھسٹ روحانی رہنما نے کہا کہ چونکہ تمام مذاہب امن کی تعلیم دیتے ہیں اسی لیے کسی ایک شخص کو "مسلم دہشت گرد" یا "بودھسٹ دہشت گرد" کہنا ایک کھلا ہوا تضاد ہے۔

"بدھسٹ دہشت گرد اورمسلم دہشت گرد جیسےالفاظ ہی غلط ہیں۔ "14ہویں دلائی لامہ نے سٹراسبرگ،فرانس میں خارجہ امور پر پارلیمنٹ کی کمیٹی کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران کہا کہ: "جو شخص تشدد میں ملوث ہونا چاہتا ہے وہ ایک حقیقی بدھ مت کا پیروکاریا حقیقی مسلمان نہیں رہتا، اس لیے کہ اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جب کوئی ایک بار خونریزی میں ملوث ہو جاتا ہے تو پھر وہ اسلام کا حقیقی پیروکار نہیں رہتا۔"

دلائی لامہ نے یہ باتیں میانمار میں روہنگیا مسلم برادری کے اوپر ظلم و ستم کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہیں،جسے قوم پرست بودھ راہبوں نے انجام دیاتھا۔

جی ہاں!اس کا نتیجہ جنگ ہو سکتا ہے۔ معیشت متاثر ہوسکتی ہے۔ بین الاقوامی دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔راقم الحروف مثالی جواب کے طور پر بے عملی کا مشورہ دے سکتا ہے۔ مصنف کی مدلل دلیل فوری طور پر اچھی لگ سکتی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔یکساں طور پر کوئی یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ پاکستان سُستی اور جمود و تعطل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔راقم الحروف یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اس کا واحد متبادل صرف جنگ اور تنازعہ ہے۔نہیں اس کے لیے بہت سے دوسرے طریقےبھی ہیں۔تدبیر کی گنجائش پیدا کرنے والی آپ کی دلیل محدود ہے اور کسی بھی اسٹریٹجک بنیاد سے مبرا ہے۔ سادہ پابندیاں ایک طویل مدت تک کار آمد ہو سکتی ہیں۔نیز جنگ بھی ایک اچھا راستہ ہے اگر اس کے ساتھ ایسی پابندیاں بھی ہوں۔ معیشت اور فوج کے ساتھ ایک زوردار حملہ زیادہ معنیٰ خیز ہوگا۔

ماضی میں بھی دلائی لامہ نے ان دونوں گروہوں کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لئے میانمار کے رہنماؤں سے اپیل کی ہے اور یہ کہا ہے کہ مہاتما بدھ ملک کے مسلمانوں کی حفاظت کریں گے۔

انہوں نے جمعرات کے دن بین المذاہب تعاون اور ہم آہنگی کے اس پیغام کو دوبارہ پیش کیا۔

انہوں نے کہاکہ "تمام اہم مذہبی روایات ایک ہی پیغامدیتے ہیں اور وہ محبت، ہمدردی، بخشش، رواداری، قناعت، ضبط نفس ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام باتیں "ان کی مشترکہ بنیاد اور مشترکہ معمولات میں سے ہیں۔"اس سطح پر ہم باہمی احترام، باہمی تعلیم و تعلم کی بنیاد پر ایک حقیقی ہم آہنگی کی روایت قائم کر سکتے ہیں۔"

نوبل انعام یافتہ شخصیت دلائی لا مہ نے بین المذاہب مفاہمت اور ہم آہنگی کو اپنی زندگی کا ایک اہم مقصد بنایا ہے۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ جب دلائی لامہ نے مسلمانوں کے ایک اتحادی کے طور پر بات کی ہے۔جب ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ میں داخل ہونے سے مسلمانوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا تو دلائی لامہ نے کہا کہ اگر چہ یہ امیدوار اپنی باتوں کا خود ذمہ دار ہے،لیکن چند لوگوں کی بد اعمالیوں کا ذمہ دارتمام مسلمانوں کو ٹھہرانہ "غلط" ہے۔انہوں نے کہاکہ:"آپ اس میں عمومیت پیدا نہیں کر سکتے" ۔

ماخذ:

huffingtonpost.in/entry/dalai-lama-muslim-terrorist_us_57e17038e4b0071a6e09d2cb?utm

URL for English article: http://www.newageislam.com/interfaith-dialogue/carol-kuruvilla/dalai-lama--there-are-no-muslim-terrorists/d/108622

URL for this article: http://www.newageislam.com/urdu-section/carol-kuruvilla,-tr-new-age-islam/there-are-no-muslim-terrorists--کوئی-مسلمان-دہشت-گرد-نہیں-ہے-دلائی-لامہ/d/108630

New Age Islam, Islam Online, Islamic Website, African Muslim News, Arab World News, South Asia News, Indian Muslim News, World Muslim News, Womens in Islam, Islamic Feminism, Arab Women, Womens In Arab, Islamphobia in America, Muslim Women in West, Islam Women and Feminism,

 

Loading..

Loading..