New Age Islam
Tue Jan 18 2022, 09:46 AM

Urdu Section ( 25 Nov 2021, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

" Corona - The Fact Not A Drama" Islam And Modern Science Guides کورونا حقیقت ہے ڑرامہ نہیں اسلام اور جدید سائنس میں ہے رہ نمائی

بلال احمد پرے، نیو ایج اسلام

26 نومبر 2021

چین کے شہر ووہان میں ۲۰۱۹ء کے آخر میں پیدا شدہ عالمی وباء جیسے کورونا وائرس نے پوری دنیا کو دیکھتے ہی دیکھتے اپنی گرفت میں لے لیا تھا - جہاں اس وائرس کے متعلق اکیسویں صدی کے لوگ بہت کم علم رکھتے تھے وہی اس چھوٹے سے وائرس کے مدمقابل سبھی انسان بے یارومددگار نظر آئیں - رفتہ رفتہ دنیا نے اس کے ہوتے ہوئے بھی جینا سیکھ لیا - لیکن اس کے مخالفت ابھی تک دنیا سو فیصد مؤثر ادویات تیار کرنے میں قاصر رہی ہے - اب تک عالمی سطح پہ اس سے کئیں لاکھ لوگوں کی قیمتی جانیں چلی گئی ہے - جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے -

ہندوستان میں کورونا کے عالمی وباء کا پہلا کیس ۳۰ جنوری ۲۰۲۰ء کو پایا گیا ہے جس کے بعد یہ رفتہ رفتہ ملک کے طول و عرض میں اپنا زور پکڑتا گیا - پرنٹ میڈیا کے مطابق ملک میں تادم تحریر تین کروڑ 45 لاکھ 44 ہزار 882 متاثرین کی مجموعی تعداد پہنچ گئی ہیں جب کہ ملکی سطح پر متوفین کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 66 ہزار  980 ہو چکی ہے - جب کہ ایک ارب 19 کروڑ 38 لاکھ 44 ہزار 741 افراد کو کورونا مخالف ویکسین کی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں -

اسی طرح اگر ریاست جموں و کشمیر کی بات کریں گے تو اعداد و شمار ملکی سطح سے مختلف نظر نہیں آرہے ہیں - یہ الگ بات ہے کہ صورتحال قابو سے باہر نہیں ہے لیکن ریاست کے ۲۰ اضلاع میں اس وباء نے اپنا وجود دکھایا ہے - ۲۵ نومبر ۲۰۲۱ء تک ریاست میں متاثرین کی مجموعی 33 لاکھ 60 ہزار 63 تک پہنچ چکی ہیں اور متوفین کی مجموعی تعداد 4466 بنی ہوئی ہیں - اعداد و شمار کے مطابق اس وباء کی حقیقت ہمارے سامنے عیاں ہے -

حقیقت جاننے کے باوجود بھی لوگ اس وباء کے خلاف انتظامی سطح پر نافذ کردہ احتیاطی تدابیر کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں - دوسری جانب ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے جو اس وباء کو صرف ایک ڑراما سمجھتے ہیں - ایسے لوگوں کے لئے کورونا کے مخالف انتظامیہ کی طرف سے دی گئی احتیاطی تدابیر کوئی معنی نہیں رکھتی ہے - اگر دین اسلام کی طرف رخ کر کے اس وباء کی رہ نمائی حاصل کی جائے تو بے سود نہیں ہوگا - موجودہ دور میں طبعی میدان کافی وسیع اور بصیرت افروز ہو چکا ہے - جدید ٹیکنالوجی کے بدولت اس وقت کسی بھی قسم کی نئی بیماری کا ادویہ تیار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے -

قرآن کریم و احادیث نبوی ﷺ کا نقطہ نظر -

طاعون ایک نہایت موذی بیماری ہے جو کسی عذاب الٰہی سے کم نہیں- اسلام نے قبل از وقت ایسی مہلک وبائی بیماریوں یا طاعون جیسے عذاب الٰہی سے آگاہ کر دیا ہے۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ

" فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلاً غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ -" (البقرہ: ۵۹)

"پس ان ظالموں نے اس قول کو دوسرے قول سے بدل دیا، پھر اتاری ہم نے ان ظالموں پر آفت الٰہی (طاعون، وباء یا مہلک بیماری) باوجود ان کے اس نافرمانی کے ۔" (القرآن؛ البقرہ ؛ 59)

سورة البقره کی اس آیت مبارکہ میں لفظ "رجز" آیا ہے  یعنی بصورت طاعون ،وباء یا مہلک بیماری والا عذاب بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل ہوا تھا ۔ جنہوں نے اللہ کے حکم (حطتہ = اللہ بخش دے) کو اپنی من مانی قول (حنطتہ = گندم ) سے بدل دیا جس پر انہیں آفت سماوی نے بری طرح سے گھیر لیا -

بقول مفسرینِ قرآن " لفظ رجز کے معنی وہ چیز ہے جس سے لوگ نفرت کرے اور طبیعت اس سے متنفر ہو جائے۔ اس مہلک وباء سے قوم بنی اسرائیل کے کم و بیش ستر ہزار لوگ ہلاک ہوگئے تھے"- (التفسير المظہری ج/1، ص/74)

انہیں اس طرح کی سزا دی گئی ہے کہ آسمان سے عذاب الٰہی نازل ہوا جس سے 'رجز' کہا گیا ہے ۔ مفسرین کے نزدیک " یہ عذاب طاعون تھا جو ان کے گناہوں اور اللہ تعالٰی کی نافرمانی کے سبب ان پر نازل ہوا تھا ۔" (تفسیر المنیری ج/1، ص/183)

غور طلب بات ہے کہ ان کی اس ایک نافرمانی کے سبب انہیں اس طرح کا عذاب نے آگیرا ہے تو آئے روز ہم سے کتنی نافرمانیاں ہو رہی ہیں - ہم سے اللہ رب العالمیین کے کئیں احکامات کی نافرمانی شعوری و غیر شعوری طور پر ہوتی رہتی ہیں - لیکن اس کے باوجود بھی رب الزوجلال کا ہم پر نہایت احسان، فضل و کرم ہے کہ اپنے حبیب پیغمبر آخر الزمان، امام الانبیاء، ختم الرسل حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کی امت پر ایسی آفت نازل نہیں فرماتا نہیں تو ہماری داستان بھی نہ ہوتی داستانوں میں -

فَقَالَ : أُسَامَةُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    الطَّاعُونُ رِجْسٌ أُرْسِلَ عَلَى طَائِفَةٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَوْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ : لَا يُخْرِجْكُمْ إِلَّا فِرَارًا مِنْهُ -

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ "طاعون ایک بصورت عذاب ہے جو بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر نازل ہوا تھا، لہذا جب تم کسی علاقے میں اس کے متعلق سنو تو وہاں مت جاؤ اور اگر کسی علاقے میں طاعون پھوٹ پڑے تو فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو -" (سنن أبي داؤد، کتاب الجنائز، باب الخروج من الطاعون 3103 اور صحیح المسلم، کتاب السلام، باب الطاعون: 2218)

" قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا عَدْوَى -"

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ "کوئی مرض ( اپنی ذات سے) مُتعدی نہیں ہوتا۔" (بخاری: 5773)

اس حدیث سے واضح ہوا کہ رب الزوجلال کا جس پہ منشا ہو گا اس سے بیماری لگ سکتی ہے اور جس سے اس کا منشا نہیں ہوگا وہ ہرگز بیماری کا شکار نہیں ہو سکتا ہے - چہ جائیکہ اس سے ایسے بیماروں کے ساتھ ہی کیوں نہ کام کرنا پڑے -

صحابہ کبار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا وباء کے خلاف طرزِ عمل

اسلامی تواریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہو جاتا ہے کہ سن ۱۸ ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں بیت المقدس کی فتح کے بعد فلسطین کے قصبے میں طاعون کی وبا پھیلی، یہ وبا کس قدر شدید تھی اس کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ شام کے دورے پر آئے، سرحد تک پہنچے تو طاعون کی وبا پھیل جانے کی اطلاع آ گئی، آپؓ نے واپسی کا اعلان کر دیا، یہ خبر حمص پہنچی تو لشکر اسلام کے سپہ سالار حضرت ابو عبیدہ بن جراح گھوڑے پر بیٹھے اور سیدھے خلیفہ کے سامنے پیش ہو گئے، مسکرا کر خلیفہ کو دیکھا اور کہا: عمرؓ تم اللہ کی رضا سے بھاگ رہے ہو ۔ حضرت عمرؓ نے ان کی طرف دیکھا، تھوڑی دیر سوچا اور پھر فرمایا: یہ بات اگر تمہاری جگہ کوئی اور کرتا تو مجھے قطعاً افسوس نہ ہوتا، وہ رکے اور پھر فرمایا: ہاں میں اللہ کی رضا سے اللہ کی رضا کی طرف بھاگ رہا ہوں، حضرت عمر فاروقؓ نے یہ بھی فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے وبا کے علاقے میں داخل ہونے سے منع فرمایا تھا ۔

حضرت عمرؓ نے ابو عبیدہ بن جراح کو مدینہ چلے آنے کا نہ صرف مشورہ دیا بلکہ ایک مکتوب بھی لکھا وہ مکتوب صرف مکتوب نہیں تھا بلکہ اپنے وقت کے خلیفہ کا حکم تھا اور اس حکم میں حضرت عمر فاروق نے فرمایا تھا: یہ خط اگر تم رات کو پاؤ تو صبح سے پہلے روانہ ہو جاؤ اور اگر تمہیں یہ خط دن کو ملے تو شام سے پہلے مدینہ کی طرف روانہ ہو جاؤ ۔

لشکر اسلام کے اس عظیم سپہ سالار نے اپنے خلیفہ سے موصول شدہ مکتوب کی خلاف ورزی ہرگز نہیں کی بلکہ آپ ؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو جواب میں ایک حدیث تحریر کر کے ارسال کر دی کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے اگر " کسی علاقے میں وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے ہرگز نہ نکلو "- چنانچہ ان حالات میں اپنا لشکر نہیں چھوڑ سکتا ہوں - جب حضرت عمر فاروق ؓ نے خط پڑھا تو آنسو آگئے، دیکھنے والوں نے پوچھا: اے خلیفۃ المؤمنین کیا ابوعبیدہؓ انتقال فرما گئے ہیں، جواب دیا نہیں ابھی نہیں لیکن جلد فرمائے جائیں گے اور اس کے بعد حضرت عمرؓ نے جوابی خط لکھا، اللہ کے بندے پھر مہربانی کرو اور کسی اونچی جگہ پر منتقل ہو جاؤ ۔ ابو عبیدہ بن جراحؓ نے یہ حکم مان لیا اور حمص سے نکل کر جابیہ چلے گئے، یہ علاقہ وادی اردن اور گولڈن ہائیٹس کے درمیان واقع ہے۔ اگرچہ صحت بخش مقام ہے لیکن موت ان کے تعاقب میں تھی چنانچہ ۶۳۹ میں طاعون کی لپیٹ میں آئے، چند دن بیمار رہے اور بیماری کے عالم میں انتقال فرما گئے، آپؓ کے بعد حضرت معاذ ابن جبل ؓ نے فوج کی کمان سنبھال لی اور چند دن بعد وہ بھی طاعون کا شکار ہوگئے اور واقدی کے مطابق اسلامی لشکر کے تقریباً پچیس ہزار اور بعض کے نزدیک تیس ہزار جانثاران اسلام اس وبا کا شکار ہوئے ہیں - ان میں بےشمار جید صحابہؓ بھی شامل تھے جن میں ابو عبيدة بن الجراح ؓ، ومعاذ بن جبل ؓ، ويزيد بن أبي سفيان ؓ، وسهيل بن عمرو ؓ، وضرار بن الأزور ؓ، وأبو جندل بن سهيل ؓ وغيره کے نام سر فہرست ہیں، اولوالعزم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے اس درجہ بڑے انسانی نقصان کی وجہ سے اُس سال کو " عام الرمادہ " کا نام دیا گیا، اس کے بعد لشکر اسلام کی کمان عمرو بن العاص ؓ نے سنبھالی اور یہ وہ وقت تھا جب مصر اور شام کے تمام ماہرین، طبیب اس وبا سے عاجز آگئے تھے ان حالات میں حضرت عمر فاروق ؓ  نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ اس بلا سے چھٹکارے کی سبیل کیجیے، حضرت عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ میں نے غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ لوگوں کے اجتماع سے پھیلتی ہے تو میں نے لوگوں کو پہاڑوں میں محصّور کر دینے کا مشورہ دیا، چنانچہ سرکاری سطح پر لوگوں کو گھروں میں پابند (Lockdown) کیا گیا تو تین دن میں ہی یہ وبا ختم ہو گئی - یہ حضرت صحابہ کبار رضوان اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کا وبا کو شکست دینے کا طرزِ عمل تھا ۔ یہ کارآمد عمل یہی ثابت کرتی ہے کہ موت بے شک اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن زندگی کی حفاظت کے لیے احتیاطی تدابیر انسان کے بس میں ہے -

کرونا وائرس جیسی وبا سے بچاؤ کی خاطر تنہائی یعنی آئسولیشن اختیار کرنا ہی ملت اسلامیہ اور انسان کے وسیع تر مفاد میں سے ایک غیر معمولی احتیاطی تدابیر ہے - حضرت عمر فاروق ؓ کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی دوسرے شہر، علاقے، گاؤں، قبیلہ، کمیونٹی میں ہرگز مت جایا کریں اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے مقام کو مت چھوڑیں، جہاں پر بھی ہیں وہاں ہی سکونت اختیار کریں اور عمرو بن عاص ؓ کے طریقہ پر عمل کرتے ہوئے اجتماع / مجمع (Crowding) سے بچیں اور تنہائی یعنی آئسولیشن اختیار کریں، اپنے گھروں میں محصور ہو جائیں، یاد رہے کہ حضرات صحابہ کبار رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور اکرم ﷺ کی اتباع اور پیروی میں ایسا کیا اور ہمارے لئے بھی نشان منزل کا تعین فرما دیا - آپ ﷺ کے اسوہ زندگی میں ہی ہماری بھلائی کا راز مضمر ہے- اللہ رب العالمیین ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور اس مصیبت زدہ وباء سے نجات دے - آمین یا رب العالمین

------

جناب بلال احمد پرے نیو ایج اسلام کے ایک مستقل کالم نگار ہیں ۔ آپ کا تعلق  ریاست جموں و کشمیر کے جنوبی علاقہ ترال سے ہے ۔ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے اسلامیات میں ماسٹرس کیا ہے۔ آپ  کے مضامین  اکثر اسلامی سماجی مسائل پر ریاست کے متعدد روزناموں میں انگریزی و اردو زبان میں شائع  ہوتے رہتے ہیں۔)

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/corona-fact-drama-islam-modern-science/d/125846

New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism


Loading..

Loading..