New Age Islam
Wed Oct 05 2022, 11:19 AM

Urdu Section ( 23 Feb 2018, NewAgeIslam.Com)

Comment | Comment

Beyond Babri Mosque بابری مسجد معاملہ: مقامی سطح پر صرف ایک حقیقی مخلصانہ بات چیت کے ذریعہ ہی اس کاحل نکالا جا سکتا ہے

ارشد عالم، نیو ایج اسلام

14 فروری 2018

بابری مسجد اور رام جنم بھومی کے اوپر تنازعات کو حل کرنے کے بارے میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے مذہبی علماء کے درمیان جاری اس بحث و مباحثہ کو کس طرح سمجھا جائے ، جن کے درمیان کئی مرتبہ ثالثی کی کوششیں کی جا چکی ہیں؟ بات مزید آگے بڑھانے سے پہلے میں واضح طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان کسی بھی تنازعے کا حل ایک خوش آئند اقدام ہے۔ بابری مسجد تنازعہ کئی دہائیوں پرانا ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے معاشرتی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ 6 دسمبر 1992 کو جو کچھ ہوا وہ درست تھا۔ مسجد کے انہدام کی مذمت کی جانی چاہیئے اور شاید دونوں معاشروں کے درمیان صلح کے لئے کسی بھی بات چیت کا نقطہ آغاز اسی واقعہ کو بنایا جانا چاہئے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ مسجد کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے اور ایک کمیونٹی کی حیثیت سے مسلمانوں کو اس تاریخی اور ثقافتی سانحہ سے جوڑے نہیں رکھا جاسکتا ہے۔ تمام کمیونٹیوں کی طرح مسلمانوں کو بھی آگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اور اسی لئے مصالحت کے لئے بات چیت اہمیت کی حامل بن جاتی ہے۔

یہی طریقہ کار دیگر مقامات پر بھی کارگر رہا ہے: مثال کے طور پر جنوبی افریقہ میں کے اندر نسلی عصبیت کے دور کے بعد ایک سچائی اور مصالحت کمیشن کا قیام کیا گیا جس نے کئی دہائیوں کی تخریبی سیاست اور معاشرتی رجحان سے پیدا ہونے والے جذبات کو ختم کرنے کا کام کیا۔ ہندوستان کے اندر گجرات میں 2002 کے مسلمانوں کے خلاف فسادات کے بعد مذہبی مداخلت کی کوشش کی گئی۔ تاہم، چونکہ اس وقت گجرات ایک قومی مسئلہ بن چکا تھا اور مسلمانوں کے پیشہ ور معاونین منظر عام پر آ چکے تھے اسی لئے مصالحت کی کسی بھی کوشش کو خود مسلمانوں کے اوپر مذاق سمجھا گیا۔ انصاف کے اثرات ہوتے ہیں اور اس کا حصول ضروری بھی ہے لیکن زخموں کا مداوا صرف انصاف سے ہی نہیں ہوتا ہے۔ لہٰذا، اس تناظر میں اس بات کے اندر کچھ وزن ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہونے والا ہے۔ اس مسئلہ کے ایک طویل مدتی حل کے لئے ایک پرخلوص بات چیت ضروری ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ فی الحال بات چیت کا جو عمل جاری ہے اس کا ایک خاص نتیجہ متعین ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے جو لوگ سرگرم عمل ہیں وہ کسی تخلیقی انداز میں اس کا حل تلاش نہیں کر رہے بلکہ ان کا مقصد صرف رام مندر کی تعمیر کے لئے کسی حل کی تلاش ہے۔ یہ واقعی ایک پرخلوص بات چیت نہیں ہے اور اس کا نتیجہ پہلے سے طے شدہ ہے۔ ایک پر خلوص بات چیت کا کوئی پیشگی منصوبہ نہیں ہونا چاہئے۔ اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مذاکرات کے عمل میں شامل جماعتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سب یکساں ہیں نہ کہ اس خیال کے ساتھ بات چیت کی جائے کہ ایک کمیونٹی کو ہمیشہ دوسرے کے لئے قربانی پیش کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ اگر نہیں تو ہم ایک مثالی دنیا میں نہیں رہتے ہیں اسی لئے ہمیں صرف موجودہ حقائق کی روشنی میں ہی بات چیت کو آئیڈیل ماننا چاہئے۔

ان حقائق میں سے ایک حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو اب یہ احساس ہوجانا چاہئے کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے حق میں ایک سیاسی اتفاق رائے قائم ہو چکی ہے۔ جو لوگ بی جے پی کی مخالفت کرتے ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ لازمی طور پر رام مندر کی تعمیر کے بھی خلاف ہیں۔ سب سے پہلے کانگریس پارٹی نے ہی بابری مسجد کے تالے کھول کر اسے مندر میں تبدیل کرنے کے انتظامات کیے۔ اس کے بعد راجیو گاندھی کے زمانے میں کانگریس پارٹی کی کھلی فرقہ واریت کو کون بھول سکتا ہے جب انہوں نے ایودھیا سے اپنے انتخابی مہم کا آغاز کیا تھا؟ اترپردیش میں ایس پی اور بہار میں آر جے ڈی جیسی علاقائی جماعتوں کو کچل دیا گیا جنہوں نے رام مندر کی تعمیر کی مخالفت کی تھی۔

بائیں بازو کی جماعتوں کے پاس مندر کے مسئلے پر کوئی واضح موقف نہیں رہا ہے۔ اس نے مسجد کے انہدام سے مسلمان ووٹروں کی ہمدردی حاصل کر کے کافی نفع حاصل کیا ہے، لیکن کبھی بھی اس بات کا اظہار نہیں کیا کہ پورے مسئلے کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے۔ کسی بھی بائیں بازو کی پارٹی نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ تباہ شدہ مسجد کی دوبارہ تعمیر اسی مقام پر کی جانی چاہئے۔ یہ دلیل کہ مندر یا مسجد کے بجائے اس مقام پر تمام مذاہب کے لئے مشترکہ عبادگاہ تعمیر کی جانی چاہئے اس مسئلہ کو صرف پیچیدہ کر رہی ہے۔

میں اس بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ بائیں محاذ کی جماعتیں cadre (چھوٹی چھوٹی جماعتوں) پر مبنی تنظیم ہے اور اگر وہ مسجد کے انہدام کو روکنے کے بارے میں سنجیدہ ہوتیں تو انہیں ان لوگوں کے خلاف انسداد تحریک کا مطالبہ کرنا چاہیے جنہوں نے در اصل مسجد کو منہدم کیا تھا۔ اس وقت ان کی خاموشی اور اب ان کا اس مسئلے کو پیچیدہ بنانا صرف اس حقیقت کی طرف غماز ہے کہ مسجد کے انہدام میں ان کی بھی ساز باز شامل تھی۔ اور یہ کہ اس تناظر میں مسلم مسائل پر کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے اور اس ملک کے مسلمانوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا اس مسئلے کو طول دینا چاہئے یا انہیں اس پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنا چاہے۔

فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد رونما ہونے والے فسادات کے سب سے زیادہ شکار مسلمان ہی ہیں ، اور ان میں جان و مال کا سب سے زیادہ نقصان مسلمانوں کو ہی ہوا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس بحث میں سب سے پہلے انہیں ہی رد عمل ظاہر کرنا چاہئے۔ جب خود مسلمان نام نہاد سیکولر جماعتوں کی سیکولر ساخت کے بارے میں یقینی نہ ہوں تو  سیکورزم کا التزام کرنے کی ضرورت نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ مذاکرات کی میز پر ہیں وہ زیادہ پر اعتماد نظر نہیں آ رہے ہیں اور ان کے اندر کسی بھی مفید مذاکرات میں شامل ہونے کی قابلیت نہیں ہے۔ سب سے پہلے سری سری کی ہی بات کرتے ہیں۔ اپنے آرٹ آف لیونگ پلیٹ فارم کے ذریعہ ایک سلطنت قائم کرنے کے بعد اب وہ خود کے لئے غیر معمولی کردار چاہتے ہیں اور ایک ایسے شخص کے طور پر تاریخ کا ایک حصہ بننا چاہتے ہیں جس نے رام مندر ہندوؤں کو دیا ہو۔ حکومت کے ساتھ قریبی طور پر منسلک ہونے کی وجہ سے انہیں غیر جانبدار ثالثی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے علاوہ ان کے بعض نظریات سے مسلمانوں کو ضرور تکلیف ہوگی۔ اب بدنام زمانہ ذاکر نائک کے ساتھ بحث کے بعد سری سری نے اپنے پیروکاروں کو ایک پیغام دیا ہے جس میں انہوں نے اس بات کی وجاحت کی ہے کہ انہوں نے اس بحث میں شرکت کیوں کی۔ اسی طرح انہوں نے یہ بھی کہا کہ کعبہ دراصل ایک شیومندر ہے اور ذاکر نائیک کو شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے اس معاملے کو بحث و مباحثہ میں نہیں اٹھایا۔ اب مکہ میں کعبہ کے بارے میں یہی بات کئی دہائیوں سے قدامت پرست ہندو کہہ رہے ہیں۔ اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ سری سری جو فرقہ وارانہ الحاق سے اوپر ہونے کا دعوی کرتے ہیں جب مسلمانوں کے بارے میں سوچنے کی بات آتی ہے تو وہ خود قدامت پرست ہندو نظریات کے سے متاثر نظر آتے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے سامنے ایک اور دلچسپ کردار ہے جسے سلمان حسینی ندوی کہتے ہیں جنہیں آج ان کے مندر حامی نظریات کی وجہ سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے نکال دیا گیا ہے۔ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت عجیب ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا اس مسئلہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے؛ یہاں تک کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سپریم کورٹ میں چل رہے اس معاملے کا ایک فریق بھی نہیں ہے۔ لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کی یہ نام نہاد محافظ تنظیم کسی بھی ایسے موقع کو گنوانا نہیں چاہتی کہ جس سے اسے کمیونٹی کے اندر داخلی طور پر کوئی جواز حاصل ہو سکے۔ اپنے آغاز سے ہی مسلم مرد اور عورتوں کو ناکام کرنے کے بعد اب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ خود کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق کا محافظ ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اب اس پر مزید باتیں پھر کبھی اور۔

اب ہم سلمان ندوی کی بات کرتے ہیں۔ میرا بھی یہی ماننا ہے کہ مذاکرات ہونے چاہئے اور اس معنی میں سلمان ندوی کا موقف درست ہے کہ صرف ایک عدالت کا فیصلہ کافی نہیں ہوگا۔ لیکن کیا ہندو فریقوں کے ساتھ اس بات چیت کا آغاز کرنے کے لئے ان کی شخصیت موزوں ہے؟ اگر میری یادداشت درست ہے تو پھر سلمان ندوی وہی شخص ہیں جنہوں نے ابو بکر البغدادی کے نام ایک طویل خط لکھا تھا اور اس میں انہوں نے نام نہاد اسلامی ریاست کے ساتھ اپنے اتحاد کا اعلان کیا تھا۔ یہ کافی دلچسپی کی بات ہے کہ دوسرے لوگوں کو صرف داعش سے متاثر ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ سلمان ندوی داعش کے ساتھ اپنے اتحاد کا اعلان کرنے کے بعد بھی آزادانہ طور پر گھوم رہے ہیں اور در حقیقت اب ہندو مسلم اتحاد کے لئے ایک اوتار کی شکل میں ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صرف ہندوستان میں ہی ہو سکتا ہے۔ ندوی وہی شخص ہیں جنہوں نے سعودی عرب کے بادشاہ کو بھی ایک مکتوب میں لکھا تھا کہ شیعہ کا مقابلہ کرنے کے لئے وہ 5 لاکھ جنوبی ایشیائی مسلمانوں کی فوج تیار کرنا چاہتے ہیں۔ اب ذرا غور کریں کہ ایک ایسا فرقہ پرست شخص جو یہ سوچتا ہے کہ شیعہ کافر ہیں اور اس وجہ سے انہیں قتل کر دیا جانا چاہئے، ایک ایسا شخص جس کا ہیرو بغدادی رہ چکا ہو اور جو اس داعش کا مداح ہو جس نے مسلمانوں اور دیگر لوگوں پر وحشتناک بربریت ڈھائے ہوں، اسے آج لبرل ، روادار اور ہند مسلم اتحاد کا علم بردار سمجھا جا رہا ہے۔

ابھی جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس ملک کے عام ہندووں اور مسلمانوں پر صرف ایک بھدا مذاق ہے۔ ایک طویل عرصے تک ایودھیا کا مسئلہ صرف ایک مقامی مسئلہ تھا یہاں تک کہ اس تنازع میں قومی لیڈر شامل ہو گئے جنہوں نے اسے ایک قومی مسئلہ بنا دیا۔ شاید اس کا حل پھر سے مقامی کمیونٹی کو بااختیار بنانے میں مضمر ہے۔ ایودھیا کے مقامی ہندوؤں اور مسلمانوں کی ایک کمیٹی ہونی چاہئے اور انہیں معقول بات چیت کے ذریعہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے بااختیار بنایا جانا چاہئے۔ مرحوم هاشم انصاری نے ایک بار اس طرح کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس وقت کے قومی مسلم رہنماؤں نے انہیں خاموش کر دیا۔ اسی طرح کی کوشش اب نرموہی اکھاڑا کر رہی ہے لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اس طرف کے قومی لیڈر اس مقامی حکمت پر توجہ دیں گے۔

------

URL for English article: http://www.newageislam.com/islamic-society/arshad-alam,-new-age-islam/beyond-babri-mosque--truce-can-only-come-through-a-localised-genuine-dialogue/d/114280

URL: https://www.newageislam.com/urdu-section/beyond-babri-mosque-/d/114391


New Age IslamIslam OnlineIslamic WebsiteAfrican Muslim NewsArab World NewsSouth Asia NewsIndian Muslim NewsWorld Muslim NewsWomen in IslamIslamic FeminismArab WomenWomen In ArabIslamophobia in AmericaMuslim Women in WestIslam Women and Feminism

 

Loading..

Loading..